خطّے کو جنگ سے بچا سکتے ہیں؟۔۔۔اسلم اعوان

امریکہ اور طالبان کے درمیان کم و بیش سات ماہ تک جاری رہنے والے امن مذاکرات فی الوقت اس پیچیدہ جنگ کی حرکیات میں ڈوب گئے ہیں،مذاکرات کے دوران سال رواں کی پہلی شش ماہی میں جنگ سے منسلک واقعات میں چار ہزار سے زیادہ سویلین ہلاک ہوئے،طالبان کے حملوں میں ستائیس فیصد اضافہ  دیکھنے کو ملا۔اگرچہ دوحہ میں ہونے والی بات چیت کو امن مذاکرات کا نام دیا گیا لیکن مذاکرات میں غیر ملکی فورسز کے انخلاءکے سوا افغانستان کو خانہ جنگی سے بچانے کی کوئی قابل عمل تجویز زیر غور نہیں آئی،یعنی اگر یہ بیل منڈیرے  چڑھ بھی جاتی تو صورت حال جوں کی توں رہتی،افغانستان میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوتا۔

مغربی میڈیا سے وابستہ صحافی کہہ رہے ہیں،امریکہ کےلئے افغانستان سے جلد نکلنا ممکن نہیں،ایک تو میدان جنگ سے پسپائی اُس پوری مہذب دنیا کی شکست تصور ہو گی جس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی حمایت کی تھی دوسرے امریکہ نے افغانستان میں جدیدترین ٹیکنالوجی سے مزین جس جنگی مشین کا استعمال کیا،اسے یہاںچھوڑنا ممکن ہے نہ ایسی ہائی ٹیک مشینری کو یہاں سے نکالنا آسان ہو گا،مکمل وار ٹیکنالوجی کو واپس امریکہ پہنچانے کا خرچہ اسکی اصل قیمت سے بڑھ جائے گا اور اگر واشنگٹن نے مرحلہ وار فوجیں نکالنے کا فیصلہ کیا تو افغانستان میں رفتہ رفتہ اسکی حربی طاقت گھٹتی جائے گی،جو اس حساس ٹیکنالوجی کی محفوظ منتقلی کو زیادہ دشوار بنا دے گی۔خود امریکی مقتدرہ اور پالیسی ساز ادارے امن مذاکرات سے مطمئن نہیں تھے،خارجہ امور کی قائمہ کمیٹی کے ریپبلکن رکن،رابرٹ کنسنگر کہتے ہیں،کیمپ ڈیوڈ ملاقات مکمل تباہی تھی اور ایسا سرے سے ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔

اس پیش دستی نے مجھے سیخ پا کر دیا،حتی کہ جو لوگ افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں وہ بھی اس ملاقات سے نالاں تھے،وہ مزید کہتے ہیں کہ،مجھے کچھ اندازہ نہیں کہ اس ملاقات سے نہ صرف خیالات کی حد تک بلکہ حقیقی معنوں میں کیا برآمد ہوتا،میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ ایسا کبھی نہیں ہو گا“۔

اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان سے نکلنے سے قبل امریکہ اس خطہ کی روایتی قوتوں کو کسی نئی مشکل میں الجھانے کی منصوبہ بندی ضرور کرے گا۔کشمیر ایشو پہ پاک،بھارت تنازعہ میں شدت اور مڈل ایسٹ میں سعودیہ کے ساتھ ایران کی کشیدگی،شاید مشرق میں ابھرتی ہوئی اقتصادی قوتوں کو  پابازنجیر بنانے کی سکیم کا حصہ ہو گی۔دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ عام طور پہ جنگوں کا محرک اقتصادی مفادات بنتے ہیں کیونکہ معاشی برتری ہی بلآخر سیاسی بالادستی کی راہ ہموار بناتی ہے۔

یونان ٹرائے کی فتح اور ایجین پہ تسلط کے بعد ابھرا۔رومی سلطنت نے کارتھیج کی شکست اور بحیرہ روم پہ غلبہ پانے کے بعد عروج حاصل کیا۔اسی طرح مغرور لوگوں کی سرزمین اٹلی میں احیاءعلوم کی تحریک اس لئے کامیاب ہوئی کہ اسکی بندرگاہیں یورپ اور مشرق کے درمیان تجارت کا وسیلہ تھیں۔اب چین مغرب کا حریف بن کے اقتصادی شاہراہوں اور آبی گزرگاہوں کا خریدار بنا تو یورپی تہذیب کی چکاچوند ماند پڑ سکتی ہے،اس لئے مغربی طاقتیں مشرق کی معاشی بالادستی کی راہ روکنے کےلئے مڈل ایسٹ اور جنوبی ایشیا میں جنگوں کی ایسی آگ بھڑکانا چاہتی ہیں جو غیر معمولی جغرافیائی تقسیم پہ منتج ہو۔جس طرح دوسری جنگ عظیم کی بنیادی وجہ مغربی طاقتوں کے مابین کالونیز پہ تصرف قائم رکھنے کا تنازعہ تھی لیکن جنگ کو اخلاقی جواز کے لبادے پہنانے کی خاطر ہولوکاسٹ ٹریجڈی تخلیق کرنا پڑی،اِسی طرح امریکہ اپنے اصل عزائم کو چھپانے کےلئے کشمیر سمیت کئی دیگر انسانی المیوں کو بروکار لانے کی کوشش ضرور کرے گا۔

تیس کی دہائی میں مغربی افق پہ ابھرتے ہوئے جرمن نازیوں نے برطانیہ اور فرانس سے افریقی اور ایشیائی کالونیز میں سے حصہ طلب کیا توغالباً 1936 میں برطانیہ نے اتھوپیا کو جرمنی کے حوالے کر دیا،اس بندر بانٹ کے خلاف اُس وقت کے اتھوپین کنگ Haile Selassie لیگ آف نیشن جا پہنچے جہاں تمام کالونی ہولڈرز موجود تھے،لیگ آف نیشن سے خطاب کے دوران بادشاہ ہیل سلاسی نے شرکاءسے سوال کیا،اتھوپیا کو ہٹلر کے حوالے کیوں کیا گیا؟ تو ساری کالونیز ہولڈرطاقتیں خاموش رہیں،جس پر کنگ سلاسی نے کہا تھا،کھلی ناانصافیوں پہ دنیا کی بے رحم خاموشی کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ بننے والی ہے۔

اس واقعہ کے تین سال بعد 1939 میں دوسری جنگ عظیم شروع ہو گئی جو بلآخر نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ کا سبب بنی۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس عہد میں بھی استعماری طاقتیں کمزور قوموں کے وسائل پہ قبضہ کرنے کی خاطر کئی سیاسی اور نفسیاتی حربے استعمال کرتی ہیں،بالکل ایسے جیسے مڈل السٹ میں تیل کی دولت پہ تصرف پانے کی خاطر کیمیائی ہتھاروں کی موجودگی کو جواز بنا کے عراق جیسی مستحکم ریاست کو برباد کے پورے بلاد عرب کو خانہ جنگیوں کی آگ میں دھکیل دیا گیا اور براعظم ایشیا کی تجارت پر تسلط پانے کی خاطر مفروضہ دہشتگردی کو جواز بنا کے جنوبی ایشیا کے گیٹ وے،افغانستان،میں امریکی فوجیں بیٹھا دی گئیں۔

حقیقت یہی ہے کہ افغانستان پہ امریکی جارحیت کے مقاصد دہشتگردی کے خاتمہ تک محدود نہیں تھے بلکہ اس پیشقدمی کا اصل ہدف پاکستان،چین،انڈیا اورایران سمیت پورے جنوبی ایشیا کا اقتصادی گھیراؤ  ہو گا،تاہم پاکستانی مقتدرہ کی کانفلکٹ مینجمنٹ اسٹریٹیجی عالمی طاقتوں کے عزائم کی راہ میں حائل ہو گئی لحاظہ سوویت یونین کی طرح اب امریکہ کی افغانستان سے واپسی بھی دراصل اس خطہ پہ عالمی طاقتوں کی بالادستی سے دستبرداری کے مترادف ہو گی۔اس لئے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا کہ امریکہ کوئی گزند پہنچائے بغیر جنوبی ایشیا کو چھوڑ دے گا،جنوبی ایشیا کےلئے نئی امریکی پالیسی اس خطہ میں نئی جنگوں اورجغرافیائی تبدیلیوں کی اساس تلاش کر رہی ہے۔

ماضی گواہ ہے کہ طویل جنگوں سے متاثر ممالک کاجغرافیہ برقرارنہیں رہ سکتا،پہلی جنگ عظیم کے نتیجہ میں سلطنت عثمانیہ ٹوٹی تو مڈل ایسٹ اور مشرقی یورپ میں کئی نئی ریاستیں ابھریں،دوسری جنگ عظیم کے نتیجہ میں اسرائیل اور پاکستان جیسی نظریاتی ریاستوں کو وجود ملا،بعنیہ اسی طرح جنگ دہشتگردی کے نتیجہ میں ستائیس ہزارمربع کلو میٹر پہ محیط قبائلی علاقہ پاکستان کاحصہ بن گیا اوراسی جدلیات کی بدولت بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ضم کر کے اس خطہ میں طاقت کا توازن تبدیل کردیا،شایداسی طرح کے چند نئے جقائق براعظم ایشیا میں وسیع تر جغرافیائی تبدیلیوں کا محرک بن جائیں۔

چند سال قبل جنرل حمید گل مرحوم نے کشمیر سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ،مسئلہ کشمیر اس دن حل ہوجائے گا جس دن امریکن فورسزافغانستان چھوڑ دیں گی،انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں نیلم وادی تو مل جائے گی لیکن پورا کشمیر نہیں ملے گا،انہوں نے اپنی گفتگو میں کشمیر میں امریکی مداخلت کے اشارے بھی دیئے“۔آج مقبوضہ کشمیر میں مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال کے باعث یہاں امریکی مداخلت کے امکان کو رد نہیں کیا  جا سکتا،یہ عین ممکن ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین ثالثی کی شکل میں یا اقوام متحدہ کی امن فورس کی آڑ میں امریکہ کشمیر میں اپنی فوجی موجودگی کا جواز ڈھونڈ لے،اگر ایسا ہوا تو یہ پیشقدمی تزویری لحاظ سے چین اور روس سمیت جنوبی ایشیا کے اقتصادی مفادات کو امریکی کنٹرول میں دھکیلنے کا وسیلہ بن جائے گی۔ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ انڈیا اور پاکستان کی قیادت اس خطہ میں ابھرنے والے نئے حقائق کا درست ادراک کرتے ہوئے علاقائی تنازعات کو پرامن طریقوں سے حل کرنے کی راہ نکال لیں گے۔اگر یہاں کی علاقائی قوتوں کے مابین تعلقات میں متوازن قائم نہ رہا تو حالات کی یہی کروٹیں شاید جنوبی ایشیائی ممالک کےلئے افغان تنازعہ سے بھی زیادہ اذیت ناک ثابت ہوں گی۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *