تیری ماں اور تیری بیوی۔۔ کی ایسی کی تیسی۔۔۔عارف خٹک

ہم پاکستانیوں کے بارے عموماً یہی سوچ ہے کہ دنیا سے بالکل الگ اور الٹ سوچتے ہیں۔ اگر مسئلہ کشمیر پر قومی یکجہتی کی بات ہو رہی ہو، تو 100 میں سے70 پشتون بھائی فوراً  دخل در معقولات کرکے آپ کو جتائیں گے  کہ کشمیر کی جنگ آزادی میں پہلا دستہ قبائلی پشتونوں کے ساتھ  جاکر لڑا مرا تھا۔اور بدلے میں پورے پشتون پٹی کو آپ نے خاک و خون میں  نہلا دیا۔ اب ہم جیسے گل خان دانشور جاکر ان کو سمجھاتے ہیں کہ بچہ، مرے ہوئے کو کون زندہ کرے، آؤ  زندوں کو بچاتے ہیں۔ بات کرتے ہیں۔۔ تو آگے سے فوراً گالی دیکر خاموش کردیا جاتا ہے کہ دفع ہو تیری ماں تیری بیوی کی۔۔۔ ایسی کی تیسی۔

دوسری اقوام اس “دہشت گردی” کی  جنگ کو پشتونوں کے  لالچ سے تعبیر کرتی  ہیں، کہ ڈالر لیکر کبھی مذہب کارڈ کھیلتے ہیں،کبھی قوم پرستی کے پتے پھینک دیتے ہیں اور تماشا  پھر پورا پاکستان دیکھتا ہے۔ تم بھی پشتون ہو تیری ماں تیری بیوی کی۔۔۔۔ ایسی کی تیسی۔

کسی پنجابی بھائی سے بات کرلو کہ بھیا آپ بڑے ہو۔ ۔لہذا قربانی آپ کو دینی پڑے  گی۔ چھوٹی قوموں کی  آپ کو سننی پڑے گی۔۔ تو آگے سے پہاڑی کہہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ جس قوم میں چرس کے سودےعین شرعی اصولوں کے مطابق کیے جاتے ہوں ،ان سے بھلا بات کون کرے۔ دفع ہو تیری ماں ،تیری بیوی کی۔۔۔ ایسی کی تیسی۔

شام کو کوئی چالیس پچاس ہزار فالورز والا ولی اللہ جو اندر سے شیطان سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ ایک مضمون پھینک دیتا ہے کہ مولانا آزاد نے ستّر، اسّی سال پہلے پیشن گوئی کی تھی کہ پاکستان ٹوٹے گا۔ لو اب ٹوٹنے جارہا ہے۔ تو وہاں مذہبی بھائی آکر مقدمہ ء آزاد لڑنے پہنچ جاتے ہیں۔ آپ پوچھو بھیا اگر آج پاکستان نہیں ہوتا تو آپ گائے کو ماں سمان پوجتے اور گوشت آپ پر حرام کیا جاتا۔ آگے سے وہ کہتے ہیں دفع ہو جا بے غیرت انسان، آزاد دیو بند کے سرتاج ہیں۔ تیری ماں تیری بیوی ۔۔۔ کی ایسی کی تیسی۔

صبح و شام اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوکر جب بیوی کے سامنے دسترخوان پر روٹی کھانے بیٹھ جاتا ہوں،تو آگے سے نمناک اور شکایتی نظروں سے پوچھتی ہے کہ آج میری شلوار تیری وجہ سے پورے سوشل میڈیا پر لہرا رہی تھی۔۔ آپ کو سکون آگیا؟

اب اپنی معصوم شیربانو کو کیسے سمجھاؤں کہ بیگم شلوار کیلئے ہماری پاکستانی قوم آج کل اقبال کے شاہین بنی پھر  رہی ہے۔ اگر ان کو آپ کی شلوار نہ ملے تو ستر سالہ اماں کی بھی کھینچنے  لگ جاتے ہیں۔ یہ نظریات کی لڑائی نہیں ہے۔ بلکہ فطری اَنا کی لڑائی ہے۔ جس میں دونوں فریقین کی نظریں ہی شلواروں پر ٹکی ہوئی ہیں۔ آپ ٹینشن نہ لیں۔ روز پنجاب، سندھ اور پختونخوا  میں ایک دو سال کی بچیوں اور بچوں کی بوسیدہ ہڈیاں بھی برآمد ہورہی  ہیں۔ جن کو شلوار کا مفہوم ہی نہیں معلوم۔

ہم بطور قوم اتنے لذت پسند واقع ہوئے ہیں۔۔ کہ اگر ہمیں  سڑک پر کاغذ کے بوسیدہ ٹکڑے پر دو چشمی “ھ” لکھی نظر آجائے۔ تو فوراً  کاغذ اٹھا کر باتھ روم بھاگ جاتے ہیں۔
پگلی آپ کو اپنی شلوار کی پڑی ہے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *