کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط19

سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیرمعمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاًافسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مزکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں
قسط نمبر 18کا آخری حصہ
میں نے کہا گڈی جارہی ہے تمہارے گھر جو تم نے گھر پر نیوز اسٹینڈ کی کمائی کا کیش Stash(ٹھونس) کر رکھا ہے۔ اس میں سے میری رقم اپنے ابو سے بات کرکے میرے حوالے کرو۔ ورنہ تم جانتے ہو کہ یہ dark money ہے میں Her Majesty’s Revenue and Customs (HMRC)کو ایک درخواست دوں گی تو اسکا ٹ لینڈ یارڈ کے ٹیکس والے شرطے آدھےگھنٹے میں تمہارے گھر بھیج دے گی بمشکل بیس ہزار پاؤنڈ پر رضامند ہوا مگر مجھ سے میری مرحوم امی کی قسم لی کہ اس کے بعد میں اس حوالے سے کبھی زبان نہیں کھولوں گی۔حنا کو اعتبار نہ تھا لہذا سامان اور کیش دینے وہ خود آئی۔ میں نے گڈی کو ایک اچھا سا پینڈنٹ بطور نشانی کے دیا اور اسے کھانے پر Bottega Restaurant جس کا شمار برمنگھم کے بہت عمدہ ریستورانٹس میں ہوتا ہے۔وہاں لے گئی۔
قسط نمبر 19 کا آغاز
وہاں سے نکل کر ہم کچھ دیر Blue Monkey Lounge میں بیٹھے رہے۔ گڈی ناچی بھی مگر میں نے بس ٹکیلا کا پیگ لگایا۔واپسی پر جب ہم باتیں کررہے تھے گڈی نے پوچھا کہ میری کہانی کیا ہے۔میں نے گڈو سے اپنی ملاقات اور محبت کا ذکر کیا تو اس نے بہت آہستہ سے Baby you are besotted(تم عشق میں ِگھر گئی ہو)۔شوقی کا سن کر ہنسی اور اسے ایک اور سعید سے تشبیہ دی۔
مجھے جتایا کہ میری زندگی کا ہر بڑا دکھ، میرے رشتہ داروں کی وجہ سے ہے۔میرا فیصلہ کیا ہے وہ یہ جواب سننے کی منتظر تھی۔میں نے اپنا جواب دینے سے پہلے ارسلان سے اس کی دو گھنٹے کی ملاقات کے حساب سے اس کا نسوانی ادراک جاننا چاہا تو وہ کہنے لگی کہ وہ اپنی رائے پر قائم ہے۔ملنا بھی دکھ ہے ۔کچھ کیے بغیر جانے دینا بھی کچھ کم خسارہ نہیں۔ ۔سیاست کے حوالے سے اسے میں نے زیادہ نہیں بتایا۔ بس اتنا کہا کہ میں شاید اپنی جاگیرداری کی وجہ سے بہت ممکن ہے مقامی سیاست میں Suck in(کسی چیز کا منہ  میں ہوا کے ذریعے نگلا جانا) ہوجاؤں۔اس حوالے سے وہ بالکل فکر مند نہ  تھی۔

وہ کہنے لگی گڈو بہت آزاد منش آدمی ہے۔ بہت سی عورتیں  بھی گھٹکا چکا ہوگا۔ وہ میری پہلی محبت ہوسکتا ہے۔ نیلو تو مان لے کہ تو اس کی پہلی محبت نہیں۔اس کی نگاہوں میں وہ عاشقی نہیں۔ وہ تڑپ وہ بے تابانہ لگاؤ، اس کی جھلک مجھے نہیں دکھائی دیتی۔شاید وہ خود بھی واضح نہیں کہ اس تعلق میں اس کے لیے کیا ہے ۔ سیاست میں آنے کی وجہ سے میرا مزاج بہت آزاد،میری زندگی بہت غیر معمولی ہوگی۔

ایک کامیاب عورت اور دوسرا کیرئیر کا دلداہ ایک مرد ۔دونوں ہی سرکاری پاور سے جڑے لوگ۔ مجھے تعلق رنگین تو لگتا ہے مگر دیرپا نہیں۔پیار کی طلب ہے تو اسے لبھانا ہوگا۔ وہ تم سے عمر میں دس پندرہ سال بڑا ہے۔ ٹھنڈا ہے۔ جب وہ رخصت ہورہا تھا اس نے ایک دفعہ بھی مڑ کر نہیں دیکھا۔اسے بہت پختہ یقین ہے کہ تم اس کی ہو۔قابل بھروسہ ہے۔ دنیا داری بھی رج کے ہے۔شوقی کے ساتھ اگر سیکس مسئلہ نہ ہو تو بطور شوہر وہ گڈو سے زیادہ بہترچوائس ہوگا۔آل ان فیملی،ڈیڈ ہیپی، پھاپھو جی ہیپی، میاں امپریسڈ۔تم کو جتنا میں جانتی ہوں گڈو تم میں Embed (رچ بس جانا) ہوگیا ہے۔تم کیا چاہتی ہو۔ میں نے جب کہا ایک بیٹا یا بیٹی تو گڈی اچھل کر کھڑی ہوگئی۔ کس کی؟ یہ اس کا اگلا سوال تھا۔ میں نے بہت آہستہ سے کہا’ His ‘۔میرا یہ روپ اور بے باکی گڈی کے لیے بھی نئے تھے۔ بے چاری نے تصدیق کے لیے پوچھ لیاکہ کیا میں واقعی گڈو کا کہہ رہی ہوں اس کا شک رفع کرنے کے لیے میں نے یقیناً  کے ساتھ بہترGene Pool کا اضافہ کردیا۔میرا خیال تھا کہ وہ اس پر اچھل جائے گی وہ تا دیر مجھے بے اعتباری سے دیکھتی رہی۔وہ بہت شدت سے ہمیشہ سے اس بات کی قائل ہے کہ جنس مذہب پر حاوی ہے۔جنس گھوڑاہے اور مذہب سوار۔مذہب، جنس کو سدھاتا اور پالتا ہے۔ جنس مذہب سے پہلے وجود میں آئی۔ رام، بدھا اورگرو نانک سے پہلے بھی بچے ہوتے تھے۔ دنیا کی ہر شے جنس سے واسطے رکھتی ہے مگر خود جنس کو طاقت پسند ہے۔ جسم کی، مال کی، شہرت کی اور شاید ذہانت کی طاقت ۔ مذہبی لوگ ہی سب سے بڑے جنسی بھیڑیے ہوتے ہیں۔ گڈی اور ہماری گفتگو کا حوالہ سری رجنیش، برمنگھم یونگ، حسن بن سبا، راسپتوین جیسے سب ہی مذہبی لوگ تھے۔

پیرس کا گارڈے نور
پیرس کا گار ڈے لی اون
پیرس سے ٹرین
فرنچ فلرٹ مرد
ریل کا سفر
سوئزرلینڈ کا سفر
سوئزرلینڈ ٹرین سے باہر کا منظر
سوئرزلینڈ کا ہوٹل
سوئزرلینڈ  ہوٹل کا کمرہ

سلمیٰ ہائیک
میڈونا،مدھوبالا
رومن ہالی ڈے

کیتھولک چرچ کے پادریوں کی بچوں سے زیادتی اور ان کے والدین کو ہرجانے ادا کرنے کی وجہ سے کنگال ہونے کے موضوعات تواتر سے عام تھے۔اس حوالے سے اس کی تصدیق کی جستجو غیر ضروری تھی۔جنس پر اسے کوئی اعتراض نہ تھا۔ میرا شوقی کی بیوی ہوکر بھی ارسلان کو جنسی طور پر راضی رکھنا گڈی جیسی آزاد منش بوہیمین عورت کے لیے کوئی غیر معمولی بات نہ تھی۔ اس کا جواز وہ یہ کہہ کر ہمیشہ سے دیتی رہی کہ تقریباً سبھی مرد Two -Timer ہوتے ہیں۔مواقع، سہولت اور پارٹنر کی رضامندی کا اہم رول ہوتا ہے۔وہ مل جائے تو دوسری عورت چپکے سے کوشر یعنی حلال ہوجاتی ہے۔ میں آپ کو بتاتی چلوں کہ کہیں دور جاکر بچوں کے معاملے میں گڈی بہت بڑی اخلاق گزیدہ ( Moralist)ہے۔ وہ کہنے لگی کیامیں اپنے بچے کو اس کے باپ کے بارے میں اور باپ کو اس کے بچے کے بارے میں بتاؤں گی۔میں نے اس سوال کو ٹال دیا تو وہ کہنے لگی کہ اس کے علاوہ مجھے اس میں کوئی دشواری نہیں دکھائی دیتی۔شوقی کو شاید تم سنبھال لوگی۔

دو دن بعد میں Gare du Nord (گار بمعنی اسٹیشن اور نورڈ بمعنی شمال) پر گڈو کی منتظر تھی۔میں آپ کو جھوٹ نہیں کہتی اکیلا دیکھ کر کئی مرد میرے پاس آئے۔فرینچ مرد فلرٹنگ کے بارے میں بہت hardwired ہیں۔میں آپ کو کیا کہوں مجھے گڈو کتنا اچھا لگتا ہے۔سو بے چارے آس پاس منڈلاکر ادھر ادھر ہوگئے۔انگلستان کا گورا مرد ذرا ڈرپوک ہے۔یہ فرانسیسی مردوئے ہر وقت گیم ڈھونڈتے ہیں۔ان سے بچنے کے لیے میں اپنی کافی کا گلاس لے کر The Big Ben bar areaمیں چلی گئی۔چند منٹ ہی گزرے ہوں گے تو گڈو نے بہت پیار سے میرا نام لیا۔ ہم گلے لگے۔پیرس میں اگر ہمارے جیسے عشاق بھی وحشت میں ایک دوسرے کو نہ چومیں تو کہاں لالہ موسی میں چومیں گے۔سفید صوفے پر میں اس کی گود میں چڑھ کر بیٹھ گئی۔ تمام روداد، اپنی گڈی کی باتیں، مائنس بچے کی بات سب کچھ ہی سنادیا۔مجھے کہنے لگا مجھ میں سیاست دان کی ہر خوبی ہے۔
دس بجے صبح والی TGV-Lyria high-speed train ہمیں LAUSANNEکے لیے مل گئی۔جہاں قریب کے پہاڑی قصبے Leysin میں واقع Hôtel Le Grand Chalet میں سفارت خانے والوں نے ہماری بکنگ کی ہوئی تھی ۔پانچ بجے ہم اپنے کمرے میں تھے۔میں سوئرزلینڈ پہلی دفعہ آئی ہوں۔عجب نشہ آور دنیا ہے۔ مجھے اس لیے بھی بہت کیف آگین لگی کہ میرا مرد بے دریغ و بے محابا مجھے دستیاب تھا۔اب مجھے اس سے بس دو باتیں کرنی ہیں۔

پہلے  شوقی سے اپنی شادی کی۔مجھے یقین ہے سمجھاؤں گی تو سمجھ جائے گا ۔ فہیم اور معاملہ ساز مرد ہے۔ وہ مان لے گا کہ میں اپنے ابو کو دکھ نہیں پہنچا سکتی۔میں ان کی اکلوتی اولاد ہوں۔ان کی مرحوم بیوی کی واحد جیتی جاگتی نشانی۔ میں اسے دل کی یہ بات بھی بتادوں گی کہ شادی کے ادارے سے میرا یقین اٹھ چکا ہے۔ اس کی تقدیس ،اس میں مرد کی تعظیم مجھے سب مشکوک لگتے ہیں۔میں اس کے لازمی ہونے سے انکار نہیں کرتی۔ایسا نہ ہوتا تو مدھوبالا، ایشوریا، انجلینا جولی نے تین دفعہ،سلمہ ہائیک، مڈونا دو مرتبہ شادی کیوں  کرتیں۔ ان خواتین کو تو سیکس سمیت زندگی کی ہر آزادی اور آسائش میسر تھی۔

شادی سے میں یوں بھی بددل ہوگئی ہوں کہ سوچیں نا مجھے طلاق دینے سے پہلے ہی سعید نے دوسری لڑکی تاک کر رکھی تھی۔ میرا یہ کشمیری سسرال جس کے ساتھ میں چھ سال سے اوپر برطانیہ رہی ہوں یہ تو مال اور پیسے کے معاملے میں Psychopaths (وہ جرائم پیشہ افراد جن کا احساس جرم بہت ہی پست درجے کا اور نفسیاتی عارضہ مانا جاتا ہے) جیسا سخت دل ہے۔ اس نے اسلام آباد میں میری خاموشی کی قیمت بھی میرے مہر سے ہی ایک چوتھائی سے بھی کم رقم سے ادا کی اور اپنے گھر پر اسکاٹ لینڈ یارڈ والوں کے چھاپے کے ڈر سے گڈی کے گھر پر بیس ہزار پاؤنڈ پہنچائے۔

میرا مسئلہ یہ  ہے کہ میرا دل پہلی دفعہ کسی مرد پر آیا ہے۔اسکی پول ائیرپورٹ پر میں کسی شانت ندی کی طرح بہتی بہتی راضی بہ رضا اس کی بانہوں میں یوں آئی کہ کاپوڈوکیا میں ایک بستر اور ایک سانس اور اسلام آباد میں گرم جوش آغوش کہیں بھی دوری اور اجنبیت کا احساس نہیں ہوا۔میں اس کا کیا کروں۔مجھے نہیں پتہ دیگر خواتین  مجھ سے اتفاق کریں گی یا نہیں مگر میں اپنے نہاں خانہء وجود میں اس کے بچے کی ماں بن چکی ہوں۔ میری اس سپردگی اور قبولیت کی ابتدا کاپوڈوکیا میں اس بڑی بی کی یور وائف۔ ”یس“۔ ۔”پریگنینٹ“؟ (حاملہ ہو؟) ”یس تھرڈ منتھ“(جی ہاں تیسرا مہینہ ہے) والے مکالمے سے ہوگئی تھی۔

جتنا بڑا سحر اس کی شخصیت کا   دوران انتظار مجھ پر ہالینڈ کے ایئر پورٹ پر طاری ہوا تھا ویسا ہی سحر عظیم اس چینی خاتون کی بچے والی بات سے ہوا۔اس بات کو سنتے ہی مجھے اپنے تولیدی سسٹم میں بھونچال محسوس ہوا۔کرسی پاس نہ ہوتی تو میں گر پڑتی۔بمشکل میں نے نشست تھامی۔مجھے ان مردوں کو جو میرے احترام میں کھڑے ہوئے تھے شکریہ ادا کرنابھی یاد نہ رہا تھا۔

لیساں
لیساں میں جمیلہ کا ریستوراں
لیساں کا ہوٹل
لیساں کا ہوٹل گرانڈ شیلے
صائمہ اور مانیکا مالی،نیویارک
لیساں کے جلوے
جمیلہ جیسی
جمیلہ کا بنڈانا
مچھلی چاول فلے ڈی پرش
رائی بریڈ
کن نور ہماچل پردیش
کن نور ہماچل پردیش

دروپدی اور پانڈو برادران
سفید سنہری شراب کا جام

میں اس بچے کا کیا کروں۔میں نے سوچا ہے میں شوقی والی بات اسے اسلام آباد پہنچ کر بتاؤں گی۔مجھے یقین ہے اس راز کا ، اس وقت اظہار کرنا ایک Dampener (خوشیوں پر اوس پڑنا) ایک Kill -joy یعنی خوشیوں کا قاتل ثابت ہوگی۔میں ایک بڑی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے اپنا اسکول۔ گرل۔رومانس، اپنا رومن۔ ہالی ڈے پورا کرلوں (آپ کو تو علم ہوگا کہ رومن ہالی ڈے ہالی ووڈ کے
دو مشہور اداکاروں گریگری پیک اور آڈرے ہیپ برن کی ایک فلم سن 1953 میں ریلیز ہوئی تھی ۔کمال سادہ فلم تھی۔ایک شہزادی پرنسس این کو جو محل کے گھٹن زدہ ماحول سے تنگ آئی ہوئی تھی اسے اپنے طور پر روم گھومنے کی سوجھتی ہے۔وہ لانڈری کے ٹرک میں چھپ کر نکل جاتی ہے۔ ایک امریکی رپورٹر جو۔بریڈلے سے اس کی پارک میں ملاقات ہوتی ہے اور وہ اس کے ویسپا اسکوٹر پر روم گھومتی ہے۔ ایک دن ایک رات پر مشتمل یہ ایک کمال فلم تھی۔ لائبریری آف کانگریس نے اسے بہت بڑی فلم کا درجہ دے کر اسے بطور قومی ثقافتی ورثہ محفوظ کرلیا ہے۔

شاور لے کر باہر آئی تو حضرت باتھ روم کے دروازے پر نگاہیں جمائے بیٹھے تھے ،میں نے بھی شرارتاً کہا ہیلو جو بریڈلے۔ہنس پڑے سوئس ہالی ڈے۔بانہیں پھیلائیں اور مجھے پرنسس این کہا تو میں سمٹ گئی، تب مجھے احساس ہوا کہ میں نے باتھ روب کے نیچے کچھ نہیں پہنا۔جلدی سے دامن چھڑا کر واپس باتھ روم میں جاکر کپڑے تبدیل کیے۔حضرت کا مطالبہ تھا کہ میں سامان میں ساڑھی اور چھوٹے بلاؤز ضرور رکھوں۔جب پوچھا کہ کیا پہنوں تو سرخ ساڑھی اور سیاہ چولی بلاؤز کا جھٹ سے مطالبہ ٹھوک دیا۔بُرا تو لگا جب میں نے کہا محبت میں سردی سے ٹھٹھرکر مرنا میری پسندیدہ موت نہیں۔کمرے میں واپس آن کر جو کہو گے پہن لوں گی۔ I have full arsenal and I am all your’s۔(میرے اسلحہ ڈپو میں سب کچھ ہے میں تمہاری ہوں)باہر برف پڑرہی ہے۔

میرے جواب سے جو بے یقینی پیدا ہوئی وہ میں نے اپنے حوالے سے کسی مرد کے چہرے پر کبھی نہیں دیکھی۔ جان لیں اتنی سپردگی بھی گڈو کے علاوہ کسی اور مرد کو میری ذات کے حوالے سے میسر نہ ہوئی ہو۔یوں یہ مشاہدہ ایک دوسرے سے پیوست ہے۔ سرخ چھوٹا سا  ہالٹر اور احتیاطاً اونی مفلر ساتھ لے لیا ایک لمبا کوٹ اور جینز پتلون پہن کرجب میں تیار ہوئی تو بہت دیر اپنی بانہوں میں سمیٹ کر کھڑے رہے۔اچھا لگتا ہے نا کوئی آپ کو بلا تکان آئی لو یو اور بی مائن کہے،کان کی لو پر گرم سانسوں کی پھوار، گردن پر ہلکے سے پھسلتے ہونٹ۔میرا یہ پہلا موقع  ہے سو میں نے جواباً یا توصرف آئی ایم(یعنی میں ہوں نا) یہ ایک گھٹی گھٹی سی سسکیوں والی اوں اوں پر اکتفا کیا جو شاید میرا فطری رد عمل ہے۔

ہم ہوٹل سے باہر آئے تو ہلکی دھوپ نے ہوا میں آنچل لہرا یا ہوا تھا۔ایک بی بی ذرا دور اپنے گھر کے باہر گھڑ سواری کررہی تھی۔کوہ الپائن کے دامن میں لیساں ایک قدیم گاؤں ہے۔ جس کی اونچی نیچی پہاڑیوں اور چھوٹی چھوٹی وادیوں میں سورج دل کھول کر چمکتا ہے۔ چار ہزار افراد کے اس چھوٹے سے قدیم گاؤں میں پانچ بین الاقوامی اسکول ہیں۔ہم نے اونچی نیچی ڈھلوانوں پر ایک گھنٹے تک خوب واک کی۔حضرت نے پوچھا کہ میں نے شادی کے بارے میں ابو سے بات کی۔
میں نے بھی تنگ کرنے کو کہا ۔ہاں کی۔۔
”پھر ان کا کیا ارادہ ہے؟“۔وہ بے تاب ہوکر پوچھ بیٹھا
”ابو کو گواہ اور نکاح کی فکر تھی“۔میرا جواب اسے مزید الجھا گیا۔
وہ کیوں؟‘۔ مجھے لگا ارسلان نہ سمجھ پارہا ہے نہ اس کی نگاہیں مجھ پر سے ہٹ رہی تھیں۔
میں نے جواب دینے کی بجائے تنگ کیا کہ دونوں رشتوں کے بارے میں انہیں اچھی بری سب باتیں بتادیں۔
ٍ ”دوسرا کون؟“۔وہ پوچھنے لگا۔
”پہلا کون؟“ وہ نہیں پوچھا
”دونوں ساتھ ہی بتادیں؟“اللہ یہ مرد کتنے بے صبرے ہوتے ہیں

گڈی اور چھوٹم۔ میرا دل کرتا ہے اب سیم۔سیکس میرج کرلوں۔مجھے لگتا ہے میں Male Material نہیں ہوں۔میرے اس جواب پر مجھے دیکھنا تھا کہ اس کا ردعمل کیا ہے۔بدقسمتی سے عین اسی لمحے میں واک کرتے کرتے ریستوراں آگیا۔ میرا ہی مطالبہ شدید بھوک کی وجہ سے کچھ کھانے پینے کا تھا۔انہی  لمحات میں مجھے اپنے آپ کو اس کے سونپنے کا اہتمام ،کیوں، کیسے ہو، اس کا فیصلہ کرنے کا تھا۔La Farandole نامی اس چھوٹے سے فیملی۔رن اسٹائلش ریستوراں میں جمیلہ نام کی ایک لڑکی کاؤنٹر پر موجود تھی۔مست و منچلی۔جس کے بے باک سینے پر ڈوریوں سے بندھے ہالٹر پر اسکول گرل جیسی دو ربن سے گندھی محنت سے بنی چوٹیاں دو دوستوں کی مانند لہراتی تھیں۔۔بے حد باتونی اور عرب۔ میں اسے حسین کہوں گی۔مراکش کی تھی۔ریستوراں کسی خاتون کا تھا۔ کہنے لگی میڈم آپ Filet de Perche کھائیں،وہائٹ وائن کے ساتھ۔آپ کی خاطر ہوٹل کی مالکن جھیل جینوا کی تازہ مچھلی گھر کے بنے ہوئے مکھن میں تلی ہوئی۔میں مچھلی کی مقدار بڑھا دوں گی۔ آپ چاول ساتھ لیں۔ اچار اور ٹارٹر ساس بھی ہم گھر پر بناتے ہیں۔ہماری رائی بریڈ بھی کمال ہے۔ یہ بھی ہم گھر میں ہی بناتے ہیں۔ بتارہی تھی کہ ماں مراکش کی ہے۔اس کے ابو نے چھوڑ دیا۔ اسے رکھ لیا۔ وہ یہاں رہتی ہے ابو کے پاس۔۔قصبے میں Swiss Hotel Management School ہے۔ وہاں وہ کلن ری آرٹس یعنی کھانے بنانے کے پروگرام میں طالب علم ہے۔ہمارا علاقہVaud پورے سوئٹزر لینڈ میں سب سے بہترین شراب بناتا ہے۔

مجھے اس کی گفتگو میں  کوئی دل چسپی نہیں۔ارسلان کو بھی شاید نہ ہو۔ہم عورتوں کو اچھا نہیں لگتا جب ہمارے مرد کے درمیان کوئی عورت بلاوجہ حائل ہو۔مجھے لگا کہ ارسلان کو اس کے سینے کی عریانی اور اس پر محنت سے گندھی ہوئی چوٹیوں میں دل چسپی ہے۔وہ یہ بھی سوچ رہا ہوگا کہ بستر میں جب بدن پر لباس حدت لمس سے برف کی طرح پگھل کر بہہ جاتا ہوگا تو یہ ربن یہ ناگن چوٹیاں کیا کیا کھلواڑ کرتی ہوں گی۔کیسی لگتی ہوں گی۔اس کا تقریباً ہاتھ  گھسیٹ کر میں اسے ایسے کونے میں لے گئی ،میری کوشش ہے جمیلہ اسے وہاں سے دکھائی نہ دے۔نشست افروز ہونے کے بعد میرا ایجنڈا اتنا سا ہے کہ وہ کھانا لے کر بھی آئی تو میں اسے جلد بھگا دوں گی۔
ارسلان کچھ سیریس ہے۔اسے شاید میرا گڈی اور چھوٹم کے حوالے سے سیم سیکس والا مذاق اچھا نہیں لگا۔ اس نے اپنی زندگی میں میرے حوالے سے آئندہ کا کوئی منصوبہ بنایا ہواہے۔کرید لیتے ہیں۔گو مجھے یقین ہے اس کی مرضی مجھے اپنی دلہن بنانے کی ہے۔ Both for the second time والے دلہن اور دولہا۔ ہاؤ رومانٹک۔

میں نے کہا سیم سیکس میرج میں یہ کہاں منع ہوگا کہ میں تمہیں دستیاب نہیں رہوں گی۔ گڈی کہتی تھی راجہ پنچالا کی بیٹی دروپدی کی شادی پانچ پانڈو بھائیوں سے ہوئی تھی۔بھارت کے علاقے کنور (Kinnur) جو ہماچل پردیش کا حصہ ہے وہاں لڑکیوں کی تعداد کم ہے سو وہاں ایک عورت کے ایک سے  زیادہ شوہر ہوتے ہیں اسے انگریزی میں Polyandry کہتے ہیں۔ کمال مرد ہے مجھے بہت آہستہ سے لاجواب کردیا
You are far too precious and beautiful to be shared even in dream.(تم اتنی خوبصورت اور قیمتی ہو کہ تمہیں خواب میں بھی کسی اور کے ساتھ بانٹنے کا نہیں سوچا جاسکتا)۔ میں اپنے خیالات کے بلیک فارسٹ میں کھوگئی ۔اللہ ارسلان تم کہاں تھے جب میں جوان ہوئی۔جواب سن کر مجھے ایسا لگا کہ میں ماؤنٹ الپس کی کسی برفیلی ڈھلان پر Ski کرتی ہوئی جب جمپ لگاتی ہوں تو نیچے سے برفیلے طوفان کی وجہ سے چٹان ہی کھسک جاتی ہے۔ جانے میں کب تک نرم برف پر پڑی رہی۔شکر ہے مجھے چوٹ نہیں لگی جب ہسپتال میں میری آنکھ کھلی۔
ارسلان کی یہ بات اچھی ہے کہ وہ مجھے سنبھلے کا موقع دیتا ہے۔شکریہ کہہ کر میں اس کے حسن بیاں اور اپنے تفاخر کو کم نہیں کرنا چاہتی۔میں اسے مزید چھیڑتی ہوں تاکہ مجھے مستی طاری ہو۔جمیلہ کھانے کی ٹرے اٹھائے چلی آتی ہے۔اس کے جانے کے بعد میں ایک جام گھٹکا لیتی ہوں۔بلبلے اٹھاتی سفید شراب میں ایک ہلکا سا برف پر سورج کی کرنوں کا سا ہمکتا ہوا سنہری پن ہے۔ ویسا ہی جو اس وقت ہماری نشست سے باہر دکھائی دیتا ہے۔وہ دو سرے گلاس میں جب شراب انڈیلنے  کی کوشش کرتا ہے تو میں اسے انگریزی میں یہ کہہ کر روک دیتی ہوں کہ بطور میاں بیوی ہمارا ایک اصول ہے کہ ہم شراب ایک گلاس سے پئیں  گے۔۔شراب بہت اچھی ہے۔منہ  سے سینے اور میری Ovary(بیضہ دانی) میں دھوم مچاتی مستی لٹاتی۔میں اسے ضد کرتی ہوں کہ مذہبی مسئلہ نہ ہو تو میری خاطرچند گھونٹ۔گھبراؤ مت مجھے اپنے کمرے تک کا راستہ یاد ہے۔میں تمہیں سنبھال کے لے جاؤں گی۔گلاس بڑھایا تو میری نگلیاں چوم کر پہلا گھونٹ لیا۔مذہبی نہیں۔۔آپ جیسی نشیلی خاتون کی موجودگی میں دوسرا نشہ میرے نزدیک اللہ میاں پر عدم اعتماد کا ووٹ ہے۔کفران نعمت ہے۔شریا گھوشال کی موجودگی میں حدیقہ کیانی سے گانے کی فرمائش کرنے جیسا۔

میں نے بہت آہستہ سے پوچھا ہمیشہ سے ایسے ہی قاتل ہو کہ مجھے دیکھ کر ہوگئے ہو۔بیوروکریٹ کی طرح اسے اپنے بارے میں بات کرنا پسند نہیں۔بالخصوص ایسی کوئی بات جو اسکے اندر کے دریچے وا کردے۔شیطان کہنے لگا ایک نوجوان پنجابی گرل فرینڈ نے اپنے ادھیڑ عمر سندھی وڈیرے دوست سے پوچھا’سائیں تسی جیب وچ پستول رکھیا ای کہ میں نوں ویخ کے خوش ہو۔‘ مجھے اتنی زور کی ہنسی آئی کہ اگر منہ  پر ہاتھ نہ رکھتی تو نوالہ پلیٹ میں گر پڑتا۔ کہنے لگا کہ آپاں تہاڈے نال بوت خوش آں۔ اب تو ہاں کردو۔

اسے چھیڑنے کا میرا فل موڈ ہے دیکھوں تو گریڈ انیس کا چالیس برس کا سرد و گرم چشیدہ بیورو کریٹ مجھ سے کیسے نمٹتا ہے۔میں اس جو لائی کی چار تاریخ کو اٹھائیس برس کی ہوجاؤں گی۔ٹیبل صاف ہوگئی تومیں اس کے پاس آن کر بیٹھ گئی۔میرا دل کررہا ہے اسےSnuggle(مزے سے جسم جوڑ کر بیٹھنا) کروں۔اسے سونگھوں۔پوچھ لیا”بہت شوق ہے مجھ سے شادی کا۔میرے ماضی کا کچھ پتہ ہے۔میں کئی مردوں کے ساتھ رہی ہوں،ہر قسم کا نشہ بھی کرتی ہوں،شراب، شیشہ اور سگریٹ تو تم نے دیکھ لیے۔ ہم اور چھوٹم ساتھ ہوں تو چرس بھی پیتے ہیں۔بتاؤ کیا کوئی ایسی عورت جس میں اتنی خرابیاں ہوں تمہیں بطور بیوی قبول ہے؟

میری بات سے اسے کرب بھی ہوا۔ بہت ممکن ہے اسے مجھ پر یقین بھی نہیں آیا ہوگا۔چپ ہے۔۔اس خاموشی میں بھی ایک چس ہے۔ میں نے پوچھ لیا شادی والے ارادے پر قائم ہیں کہ فرار ہوگئے۔ میرا دوسرا گلاس ختم ہوا تو تیسرا بھر کر میں اس سے چپک کر اس کے لبوں تک لے گئی۔ میری شراب ایسے پیتے ہو تو میری شادی کا زہر کیسے پیوگے۔ جواب نہیں دینا تو چپ رہو مجھے ہولڈ
کرو۔ حکم کی تعمیل ہوئی۔اس آغوش میں ایسا لگا صدیاں گزریں۔جب میرے بدن میں مزید طلب کی لہر بیدار ہوئی تو مجھے اندازہ ہو ا کہ اس کی دی ہوئی گھڑی جو میرے ہاتھ پر بندھی تھی۔وہی جو اس نے مجھے واپسی پر جہاز میں دی تھی۔اسے دیکھا تو کچھ نہ کہو کچھ نہ سنو کیا کہنا ہے والے گیت کی مانند کل تین منٹ کا یہ عرصہ تھا۔

میں نے پوچھا تو آپ مجھ سے یہ سب سن کر بھی شادی کرنا چاہتے ہیں تو اپنا خودکشی کا شوق ضرورپورا کریں۔انگوٹھی بھی میں خرید کر دوں گی۔ یہ سن کر بہت آہستہ سے جیب میں ہاتھ ڈال کر حضرت نے انگوٹھی کا ڈبہ نکالا۔میں نے تقریباً جھپٹ کر اسے اپنی ٹی شرٹ میں گریباں کے اندر انڈیل لیا۔اس بدتمیزی کے دو فائدے ہوئے۔میں اس لمحے اس طلسماتی انگوٹھی کے سحر سے ایک دم آزاد ہوگئی دوسرے امیر مقام بھی کچھ دویدا(الجھن) میں پڑ گئے۔یقین جانیں اپنے سینے پر وہ انگوٹھی کا ڈبہ ایسا لگا جیسے ماں کی چھاتی پر بچے کے منہ  کا دودھ کے لیے پہلا گیلا لمس ۔میرے آنسو بہتے تھے اور وہ تکے جاتے تھے۔خاموش، احسان مندی کے آنسو۔کون کسی کو اتنا جلدی اتنا سارا پیار کرتا ہے۔ میں خاموشی سے ٹائلیٹ کی طرف چلی گئی۔جمیلہ کو میں نے درخواست کی کہ ان کی بار میں ٹکیلا ہو تو وہ بھی ایک بوتل میری سفید وائن کی بوتل کے ساتھ پیک کردے۔

کریڈٹ کارڈ دیا تو اسے کہہ بھی دیا کہ وہ اپنے لیے پچیس فرانکس کی ٹپ بھی بل میں جوڑ کررکھ لے۔وہ بہت حسین ہے۔ میں ساتھ نہ ہوتی تو اس کا غالب امکان تھا کہ میرے میاں کا دل اس پر آجاتا۔وہ کھل کھلا کر ہنس پڑی شیطان کہیں کی مجھے کہنے لگی”میں آپ کا میاں ہوتی تو آپ کو گود سے نہ اتارتی۔

ان بے ضرر حربوں سے میں نے ٹوائلیٹ میں رو رو کر اپنے جذبات پر بمشکل قابو پایا ہے۔دل نے بہت ضد کی کہ میں انگوٹھی نکال کر دیکھ لوں۔ایک دفعہ ڈبہ نکالا بھی مگر سوچا ہوٹل میں پہنچ کر اسی سے نکلواؤں گی تب اس کی انگلیوں کو اپنے سینے کی برفانی ڈھلوانوں کی مستانی گدراہٹ اور ملائی کی نرماہٹ کی ہلکا سا پائلٹ( تعارفی پروگرام )دکھاؤں گی۔ہلکا سا پف اور لپ اسٹک لگا کر نکلی تو جمیلہ
کاؤنٹر پر موجود نہ تھی۔ ممکن ہے میری بوتلیں لینے گئی ہو۔ ان دنوں لیساں میں ٹورسٹ سیزن مدھم ہے۔کونے میں حضرت البتہ کپ سے اٹھتے کافی کے دھوئیں کو تک رہے تھے۔

میں نے آہستہ سے کہا گڈو آپ اتنے اچھے ہیں کہ میں آپ کو سب کچھ سچ بتادینا چاہتی ہوں۔مجھے آپ کی محبت اور آپ کے خلوص نیت پر کوئی شک نہیں۔ایک منٹ کو بھی ایسا نہیں لگا کہ ہم کوئی دو وجود ہیں۔ ایک عورت کا منہ  سے یہ کہنا کہ وہ کسی سے پیار کرتی ہے، ایک مشکل اعتراف ہے۔میں یہ اعتراف اسمبلی فلور پر وزیر اعظم کی موجودگی میں بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں کرسکتی ہوں۔میں کھڑی ہوئی تو وہ کھڑا ہوگیا اسکی بانہوں میں سمٹ کر لبوں پر لب رکھ کر میں نے کہا آئی۔ لو۔یو، آئی۔ ایم۔آل۔یورز۔

میں دوبارہ جب اپنی نشست پر بیٹھی تو اس کے ہونٹ پر میری لپ اسٹک کا ایک خفیف سا نشان رہ گیا تھا۔ میں جب اٹھوں گی تو اسے اپنی چھوٹی انگلی کی پور سے صاف کروں گی ۔میں نہیں چاہتی کوئی دوسرا میری بد احتیاطی پر میرے مرد کی جانب دیکھ کر تمسخر سے ہنسے۔۔۔۔

میری سانس بحال ہوئی تو میں نے کہا یا ارسلان آغا ، سیدی ، میری جان، میرے جگر۔ غور سے میری بات سن لیں۔ میں آپ سے شادی کر بھی لوں تو میں آپ کی عزت نہیں کر پاؤں گی۔میں اس وقت ایک ایسی عورت ہوں جو چار حصوں میں ٹکڑے ہوکر تقسیم ہوچکی ہے۔
سب سے پہلا حصہ ایک انا پرست باپ کا ہے جس کی میں بیٹی ہوں۔اب تک وہی میری زندگی کی سب سے بڑی مردانہ سچائی ہے۔ جب وہ بہت صحت مند تھا تب بھی میں نے اس کا حکم نہیں ٹالا۔ اس کے حکم پر سر جھکا کر ایک مرد جو میرا کالج کرش تھا چھوڑ کر سعید گیلانی سے بیاہ کر چلی گئی۔تم نہیں جانتے اس رضامندی میں اب چھ سال بعد مجھ پرکئی الزام محض اس لیے عائد ہوئے کہ میں نے اپنی سوتیلی امی کی بات ابو کا حکم جان کی مانی تھی۔

میرا دوسرا حصہ ایک بے لطف اور بے کیف مرد کا ٹھکرایا جانا ہے۔ تم نہیں جانتے عورت ٹھکرائے جانے سے کیسی کرش ہوتی ہے۔بزدل مرد کی طلاق بھی ہیجڑوں کی گالی جیسی گھناؤنی اور غلیظ ہوتی ہے۔

تیسرا حصہ یہ ہے کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے ہوس کے سانپ نے ڈس لیا ہے۔ جو اب دنیا سے اپنے آپ کو منوانے کے کسی اقدام سے بھی گریز نہیں کرے گی۔اب میری اخلاقیات کا معیار انسانی اور مذہبی نہیں، خالصتاً سیاسی ہے۔

چوتھا اور آخری حصہ مجھے بہت عزیز ہے۔ یہ میرا سب سے بڑا راز ہے۔ جب کاپوڈوکیا میں مجھے تمہاری بیوی کہہ کر میرے حمل پر سوال ہوئے تو اس وقت سے میری کوکھ مچل رہی ہے۔ یہ بچہ کب اور کہاں میرے پیٹ میں آئے گا اس کا فیصلہ میں نے ابھی تک نہیں کیا۔ یہ میری برداشت کا سوال ہے کہ میں اسے کتنا ٹال سکتی ہوں۔ہوسکتا ہے میں تمہارا ہاتھ  پکڑ کر اس وقت ہوٹل کی طرف بھاگوں کہ Gimme my baby. My lil Guddo.(مجھے میرا بچہ دو۔ میرا چھوٹا سا گڈو)
You are too noble to be my husband. I will certainly marry you. Not the way everyone marries. I will marry you my way.(تم بہت باوقار ہو۔تم میرے شوہر نہیں ہوسکتے۔ میں تم سے یقیناً  شادی کروں گی۔ ویسے نہیں جیسے ہر کوئی شادی کرتا ہے۔ میں تم سے اپنے انداز میں شادی کروں گی۔)۔ہلکی ہلکی برف گر رہی تھی۔ ایک اور جوڑا بھی ریستوراں میں آگیا تھا۔ میں نے ایک اور گلاس بھرا تو وہ پریشان ہوا۔ اب تک چونکہ میری گفتگو اور حرکات و سکنات میں نشے کے اثرات ظاہرنہیں ہوئے تھے۔ میرے سرور و سرمستی نے البتہ میرے بیانیے کو ایک عجب سی  اثر انگیزی دی تھی جس کو وہ حیرت سے سنُے جاتا تھا۔۔

لہذا اس نے کہا میرا جام بھرتے دیکھ کر One for the road (جب ماضیء قدیم میں شرابی کسی سرائے یا مئے خانے کو چھوڑتے تھے تو آخری جام کو اس نام سے پکارتے تھے)میں اپنی نشست سے کھڑی ہو گئی۔ اس کے پاس گئی۔ گلاس سے ایک گھونٹ بھرا۔ اس کی گود میں بیٹھ کر بوسے کے لیے جب لب ملائے تو وہ ساری شراب اس کے منہ  میں بھردی۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *