محبت زندہ باد۔۔۔عارف خٹک

وہ میری ہم عمر ہے۔ وہ بھی چالیس کے پیٹے میں ہے۔ مُجھے چار سال قبل ملی ہے۔

روز مُجھ سے پوچھتی ہے کہ عارف تیرا دل کیا چاہتا ہے؟میں اس کے پیر چُومتے ہوئے جواب دیتا ہوں کہ،کاش تم مُجھے 1997 میں مل جاتیں  تو آج ہم اپنے بچوں کے رشتے ڈُھونڈ رہے ہوتے۔
مُجھے معلوم ہے کہ اس کا میرے بغیر کوئی بھی نہیں۔وہ اس بھری دُنیا میں اکیلی تھی جس کو میں نے مُکمل کرڈالا۔ پہلے پہل میں اس کو چھوٹی سی بچی سمجھ کر ایک باپ کی طرح ٹریٹ کرتا تھا۔آج وہ مُجھے اپنی اولاد کی طرح چاہتی ہے۔وہ اتنی خود اعتماد ہے،کہ ساری عُمر اکیلی رہ کر بھی کوئی مرد اس کو فتح نہیں کرسکا۔اور آج وہ میری ایک مُسکراہٹ پر میرے قدموں میں آکر ڈھے جاتی ہے۔آج میری ہلکی سی ناراضگی پر اُسے موت پڑنے لگتی ہے۔ کہتی ہے عارف بس ایک بات یاد رکھنا کہ مُجھ سے کبھی دُور مت جانا۔اگر اُس کو ہلکا سا بھی محسوس ہو کہ میں اُس سے دُور ہورہا ہوں،تو وہ پاگل ہونے لگتی ہے۔اور اتنی بدتمیزی کرنا شروع کردیتی ہے،کہ زِچ ہو کر میرادل کرتا ہے،کہ اس کی جان لے لوں۔مگر جب سامنے جاتا ہوں تو دوزانو بیٹھ کر دیوانہ وار میرے پیر چُومنے لگتی ہے۔اور بار بار بولتی ہے،کہ بس مزید مُجھ سے دُور مت جایا کرو۔ورنہ میں مر جاؤں گی۔۔اور اس کا پاگل پن دیکھ کر میرا سارا غصہ اُڑن چُھو ہوجاتا ہے۔اس وقت مُجھے اُس میں اپنی بیٹی کی جھلک دکھائی دینے لگتی ہے۔ میری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔اور میں اُسے بانہوں میں بھر لیتا ہوں۔

وہ واحد انسان ہے میری زندگی میں،جس کے سامنے میں جی بھر کر رو لیتا ہوں۔میری مردانگی کہیں گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔اور ایک ماں کی طرح میرے سارے دُکھ اور پریشانیاں سمیٹ کر وہ مُجھے اپنی پناہوں میں لے لیتی ہے۔ساری رات ادھ سوئی ادھ جاگی کیفیت میں وہ میرے لئے بےچین رہتی ہے،کہ کہیں نیند میں،میں بستر سے گر نہ جاؤں۔سو وہ پوری رات کس کر پکڑتی ہے کہ مُجھے چوٹ نہ لگ جائے۔

اُس کو سوچتا ہوں تو خدا کے وجود پر میرا ایمان مزید مضبوط ہوجاتا ہے۔کہ “فَبِاّئیِ آلآ رَبِکُمَا تُکّذِباَنْ” کی پوری تفسیر اس میں چُھپی ہوئی ہے۔ میرے دل کے نہاں خانوں میں دُور کہیں ایک آواز گونجتی ہے “محبت زندہ باد”۔اور اردگرد مُجھے اپنی بازگشت سنائی دینے لگتی ہے۔کہ مُحبت واقعی خدا کا ایک رُوپ ہے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *