کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط18

سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مذکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں!

معاہدہ قبل از شادی

قسط نمبر سترہ کا آخری حصہ
اب نئی شادیوں میں ایسے معاہدے پہلے طے ہوجاتے ہیں کہ طلاق ہوئی تو کیا ہوگا۔ میرے منھ سے طلاق کا لفظ ادھورا ہی نکلا تھاکہ چھوٹم آگئی۔پھوپھو کہنے لگیں اس کو سمجھاؤ۔ابھی تو میرے بیٹے کی شادی کی انگوٹھی بھی انگلی میں نہیں آئی اور یہ ایسے اشبھ (منحوس) کلمات منھ سے نکالتی ہے۔میرے بھائی کو کتنا دکھ ہوگا۔ہندوستانی ٹی وی ڈراموں اور فلموں سے ہر وقت نظرین جوڑ کر رکھنے کی وجہ سے ان کی نوک زباں پر ایسے ہندی الفاظ ہر وقت موجود رہتے تھے۔چھوٹم انہیں دوسرے کمرے میں لے گئی اور کہنے لگی۔بہت ڈسٹرب ہے۔ رات بھر روتی رہی ہے۔ حلیہ نہیں دیکھا۔ نہائی نہیں۔بال بھی جیسے تیسے بنائے۔ میرے کہنے پر تین لاکھ مہر بھی نہیں مانگا فی الحال تو آپ اس کو اگنور کریں۔ عورت کے لیے طلاق کے کاغذ پر دستخط کرنا کوئی معمولی سانحہ نہیں۔آپ فی الحال کہروڑ پکا چلی جائیں۔ابھی بچے وغیرہ کی بات نہ کریں ورنہ ہتھے سے اکھڑ جائے گی۔میں سب کھڑکی سے لگی سن رہی تھی۔شوقی بھی نیچے موجود تھا۔
نئی قسط نمبر 18
شام کو کرنل مسعود کا پیغام آگیا کہ اجازت ہو تو کل وہ اپنی کزن اور اس کے بیٹے کو لے آئیں۔
رات کو سائیں ہمیں ڈنر پر لے گئے۔ان کی مرضی تھی کہ ارسلان بھی آتے مگر چھوٹم نے مجھے بطور آبزرور لیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ میں اس کی ڈنر ڈیٹ گڈو کی موجودگی کی وجہ سے بلاوجہ رومانوی تناؤ کا شکار ہوجاؤں گی۔تقابل اور تحقیق کے تالاب میں بلاوجہ غوطے لگاؤں گی اس لیے بہتر ہے کہ مبصر کو عاشق کے دیدار سے پرے رکھا جائے۔ہم دونوں میں رومانس کا نیا نیا معاملہ ہے تو شدت بھی بہت ہوگی۔اسے ایک آزادانہ رائے درکار ہے۔یہ سب مجھے کیوں ماموں بنانا چاہتے ہیں۔چھوٹم سائیں سے شادی کا فیصلہ پہلے کرچکی ہے۔اب اسے اپنے اس فیصلے  کی عمارت پر میری منظوری کا رنگ و روغن چڑھانا ہے۔ میکاولی نے کہا کہ نہیں یہ مجھے علم نہیں مگر سیاست میں سب زیادہ آپ کو قریبی افراد ہی آپ کو یوز کرتے ہیں۔ ایسے تمام اقربا جو آپ کی مہربانی اور حسن اخلاق کا فائدہ اٹھا کر آپ کی تذلیل چاہتے ہوں ان کے بارے میں آپ کی کامیابی کا راز اس امر میں پوشید ہے کہ ان کو چوہوں کی طرح پنجرے میں اندر لاکر ان پر گرم پانی ڈال کر ماریں۔

ٹرانسفر
ٹرانسفر
واٹر گن
نہاری
مٹن کنا
پہاڑی چشمہ
کالا جامن
بارہ کہو
بارہ کہو والا سکول
لانے،لے جانے والی گاڑیاں
وین میں گود کی بندوق

سائیں سرکار کے ساتھ واپسی کے بعد پینگے میں ہلکورے لے لے کر رات چسکیاں جوڑ جوڑ کر میری رائے جو میں نے چھوٹم کو بتائی وہ  آپ بھی سن لیں۔”میں نے سمجھایا کہ سائیں اچھے انسان ہیں۔شادی چلے گی مگر تھوڑی بھیڑ رہے گی۔ان کی طرف عورتوں کی آوک جاوک رہے گی مگر چھوٹم کا اپنا اسٹیٹس سپر پاور والا ہی ر ہے گا۔ بچہ جلدی پیدا کرنا اور Pre -Nuptial جلدی اور سمجھ داری سے سائن کرالینا۔ ڈرافٹ ارسلان سے منظور کرالیں گے۔میں نے وہ آخری کلاز جو میرے اور سعید کی طلاق میں شوقی کے ہاتھ سے شامل ہوئی اس کا کریڈٹ بھی ارسلان کو دے دیا۔ اپنے مرد کی دھاک تو بٹھانا ہوتی ہے۔ میرے ابو کہتے ہیں سیاست دان لالچی اور خود فریب ہوتے ہیں۔ فوجی اور سویلین بیوروکریٹ، وائرس کی طرح کمپیوٹرز اور لوگوں کو برباد کرنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ سو ان کے تجربے اور ذہانت کا فائدہ اٹھانا ہمارا حق ہے۔ پچاس فی صد سے اوپر کی کامیاب شادی میرے نزدیک کوالی فائینگ شادی ہے۔ چھوٹم تیری یہ شادی تو مجھے ستر فیصد کامیاب لگتی ہے۔کبھی کبھار کا جواں تسکین بخش میاں جو ویاگرا خریدتے وقت اس کی قیمت نہ پوچھے۔ہر وقت کی دولت، سینٹر شپ۔مشرقی عورت کے تو جان میری سب خواب، دنیا ہی میں پورے ہوگئے۔یہی تو وہ زندگی ہے جس کی فلمی باپ رخصتی کے وقت یہ گا کر دعاکرتے ہیں کہ میکے کی کبھی نہ یاد آئے جا ایسا  سکھی سنسار ملے۔

چھوٹم میری جان شادی میں جہاں مال ہے وہیں کمال ہے۔پیسے کی تجھے ضرورت نہیں۔ عورتوں کی اسے کمی نہیں۔ فیصلہ یہ کرنا ہے کہ اس شادی کا مقصد کیا ہے؟۔وہ کہنے لگی وہ میری ذہانت سے متاثر ہیں۔ میں ان کے بڑے پن سے۔ اس کا جوہر خاص فیاضی ہے۔ دونوں طرف ایک جذبہء رفاقت بھی ہے“۔اس نے یہ الفاظ بھی کہے کہ میں بہت Lethal (مہلک) ہوگئی ہوں۔میں نے اسے جتایا کہ میری   شادی میں پہلا    سٹریس  سعید گیلانی کے والدین کا یہ احساس عدم تحفظ تھا کہ ان کے پاس گوروں جتنی دولت نہیں۔

ناشتے کی میز پر ارسلان کے دفتر سے فون آگیا کہ وزارت خارجہ کے پروٹوکول والے صاحب کے دفتر آگئے تھے گاڑی ان کے ساتھ آپ کو اور صاحب کو پک کرنے نکل چکی ہے۔
صاحب کے ساتھ آپ نے سفارت خانے ویزہ کے لیے جانا ہے۔وہ سیکرٹری صاحب کے ساتھ ہیں۔آج کیبنٹ میٹنگ ہے۔وہ سفارت خانے ڈائریکٹ آئیں  گے۔ ان دنوں ویزہ کے لیے پرسنل
حاضری لازم تھی۔Schengen ممالک کی فہرست میں سوئٹزر لینڈ بعد میں شامل ہوا
آپ کی ٹکٹ کی کاپی دے دیں تو ہمارا بندہ دونوں ٹکٹ بک کرالے گا۔ سفارت خانے پر رش نہ تھا۔پاکستانیوں کے لیے سوئزرلینڈ کوئی آسان جگہ نہیں۔وہ دوبئی بنکاک کوالالمپور اور لندن کے مسافر ہیں۔زیادہ دیر نہ لگی۔ راستے سے میں نے کھلونا کاریں، پانی کی بندوق اور transforming robot toy بھی لے لیا۔میں نے کہا تھا نا فرمان خوری کہتے تھے دشمنوں سے بھی دوستوں کی سی قربت اور لحاظ رکھو۔بے بسی سے دیکھتا رہا۔سمجھ گیا کہ یہ سب اوشا کے بیٹے ماہر کے لیے ہے۔

ارسلان کے سترہ میل والے گھر پر پہنچے۔ ماہر تو ابھی اسکول تھا مگر وہ اوشا ویسے ہی دھلی دھلی لگ رہی تھی۔چینوٹی کنے اور دہلی والوں کی نہاری کی طرح رات بھر کی پکی ہوئی، چٹخارے دار جسے چس لے کر رج کے ساتھ کھایا گیا ہو۔میں نے اس اجلے پن کا پوچھ لیا۔ارد گرد کا منظر دکھاتے ہوئے مجھے کہنے لگی”میم یہ برساتی نالہ پہاڑیوں سے بہتا بہتا،یہاں مڑکر ہمارے گھر کے نیچے آجاتا ہے۔ آنے جانے کے لیے یہ ڈیڈ اینڈ ہے بس ایک سرنگ ہے جس میں یہ راستہ بناکر آگے نکل جاتا ہے۔ نیچے بیٹھ کر نہانے کا مزہ بالکل گاؤں کی ندی جیسا آتا ہے۔مجھے نہیں معلوم کہ یہ غسل معمول تھا یا
گڈو کی وجہ سے واجب۔ سردی نہیں لگتی میں نے پوچھا۔ نہیں میں یوگا کرتی ہوں۔سانس پر کنٹرول ہوجائے تو پھر مسئلہ نہیں ہوتا۔مجھے بھی سکھاناصاحب اور میں بھی تمہارے ساتھ نہائیں گے اور یوگا کریں گے۔اسے یہ سب ایک اورجی(orgy کئی افراد کا جنسی فعل) لگا تو شرما کر کالا گلاب جامن بن گئی۔اس کو میں نے ماہر کے لیے لائے ہوئے ٹرانسفارمر کھلونے دے دیے۔اس کی ضد تھی کہ میں خود دیتی تو اچھا رہتا ۔ وہ آپ کا شکریہ ادا کرتا۔ مجھے اچھا لگتا۔ مجھے اس شائستگی پر ہلکا سا جھٹکا لگا۔میں اسے ملازمہ سے آگے کا درجہ نہیں دینا چاہتی مگر مجھے لگتا ہے اوشا مالکن نہ سہی مگریقیناکچھ اونچے درجے پر ہے۔
خلائی مخلوق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوشا بے چاری نے بہت محبت سے کافی بناکر میز پر رکھی ہی تھی کہ کرنل مسعود کا فون آگیا کہ ساڑھے بارہ بجے ملاقات ہے۔یہاں بارہ کہو میں ایک سیف ہاؤس ہے۔ وہاں ملیں گے۔انہوں نے مجھے لینے گاڑی انجم کے گھر روانہ کردی ہے۔میں نے کہا کہ میں تو اس وقت کہیں دور ہوں۔ وہ مجھے بارہ کہو کا پتہ دے دیں میں خود پہنچ جاؤں گی۔ کرنل صا حب نے کہا یہ شاید مناسب نہ ہو ۔ایک نمایاں مقام چن لیتے ہیں۔ مین روڈ پر گلابی رنگ کی ہری کھڑکیوں والی ایک عمارت کی نچلی منزل پر ایک اسپرٹ اسکول ہے۔میں اگر وہاں پہنچ جاؤں تو ان کے کپتان صاحب مجھے لے لیں گے۔

ایک ٹویوٹا ہائی ایس ہے۔جس نے پاکستان پوسٹ آفس کی وین کا روپ دھارا ہوا ہے۔کپتان صاحب سے رسمی گفتگو کے علاوہ مزید کوئی سوال جواب نہیں کرنا۔میں نے جب انہیں کہا کہ چھوٹم کے کزن میرے ساتھ ہیں۔ ان کی ہمشیرہ میری کاروباری پارٹنر بھی ہے۔وہ ساتھ ہوں گے۔ میں اجنبی جگہوں پر اکیلی نہیں جاسکتی۔پاکستان ۔از۔اے۔ ڈینجریس۔پلیس۔ کرنل صاحب تھوڑے جزبز ہوئے۔جتانے لگے کہ وہ میرے ابو کے ماتحت اور احسان مند ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے کسی جانب سے مجھے عدم تحفظ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ میں نے جب تنہا آمد سے انکار کرکے فون رکھنا چاہا تو انہوں نے ڈرامہ کیا کہ وہ اس کی کلیئرنس لے لیں۔وہ دو منٹ بعد مجھے فون کرکے درست صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ انتظار کی درخواست ہے۔ فون آیا تو کہنے لگے بڑے صاحب سے بمشکل اجازت ملی ہے۔ مجھے ڈرانے لگے کہ بات باہر نکلی تو میرے سیاست میں قدم رنجہ فرمانے کا ہر خواب نیند کے پہلے گھنٹے میں ختم ہوجائے گا۔ان صاحب کی ہمشیرہ بھلے آپ کی دوست ہوں مگر وہ ہماری نگاہ میں راز افشانی کی وجہ سے غدار ٹھہریں گے۔ ہمارے کراچی کے محترم دوست کا فرمان ہے کہ ”قائد کا جو غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے“۔یہ سمجھیں کہ آپ اپنے ساتھ کسی خودکش بمبار کو لے کر گھوم رہی ہیں۔بارہ کہو، مشرف دور اور کرنل صاحب کی مصروفیت کے حساب سے مجھے یہ دھمکی چائے کی پیالی میں  نقلی مٹھاس کی گولی جیسی بے ضرر لگی۔

ارسلان کے ڈرائیور نے اپنی گاڑی دو ر روکی۔ ہم دونوں اسکول کے سامنے میاں بیوی کی طرح ایسے کھڑے ہوگئے جیسے اپنے بچے کے کسی معاملے سے نمٹنے اسکول آئے ہوں۔دس منٹ بعد جب پاکستان پوسٹ آفس کی وین آئی تو ۔کپتان صاحب نے سردی کی مناسبت سے اونی چادر اور چترالی ٹوپی پہنی تھی۔ گاڑی بھی وہی چلارہے تھے۔ساتھ ہی ایک آدمی بھی بیٹھا تھا۔پچھلی نشست پر ہم بیٹھ گئے تو کپتان صاحب کے ساتھی کی گود میں جدید آٹومیٹک رائفل پڑی تھی۔نشست کے وقت میں نے دیکھا کہ آگے پیچھے بھی دو عدد موٹر سائیکل والے چل رہے تھے۔انہوں نے گاڑی رکتے ہی اورہمارے سوار ہوتے وقت اپنی اسپیڈ بھی کم کی تھی۔دس پندرہ منٹ کی اندھیاری ڈرائیو کے بعد وین ایک بنگلے میں داخل ہوگئی۔ ہمارا سفر اس  لیے اندھیروں کی مسافت تھا کہ وین میں پچھلی نشست پر براجمان مسافروں کے لیے سیٹ کے سامنے شیشے کے آر پار دیکھنا محال تھا۔ ڈرائیونگ سیٹ کی پشت پر لگا  شیشہ  سٹیل کے ایک فریم میں ا س طرح لگایا گیا تھا کہ سامنے گاڑی چلانے والے کو پیچھے بھی نظر آتا تھا۔ ایسا ہی انتظام ہماری سیٹ کے پیچھے بھی موجود تھا۔ممکن ہے اس کے عقبی حصے میں بندوق بردار محافظ نشانہ تاک  کر بیٹھے ہوں۔مجھے لگا کہ جس بند گلی میں ہم داخل ہوئے اس کے سامنے کا سارا منظر کیمروں سے مانیٹر ہوتا تھا۔

ارسلان چالاک تھا مجھے کہنے لگا۔۔یہ تم سے گیم کریں گے۔ان کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ فرشتہ نما انسان اگر تم سے رابطہ کریں تو انہیں تمہاری ضرورت ہے ورنہ بطور ادارہ یہ بہت پرفیشنل لوگ ہیں۔ کراچی کے بڑے تاجروں جیسے۔جب آپ کو ان کی ضرورت ہوگی تو جس طرح تاجر کا دھندہ آپ کو جب بھی مالی تعاون کی ضرورت ہو وہ ہر وقت مندا بتایا جاتا ہے۔ ان کا بھی مخصوص جواب یہ ہوتا ہے کہ ہمیں سویلین معاملات میں مداخلت کرنے سے سختی سے روکا گیا ہے۔ جنرل کی پالیسی ایک دم کلیئر ہے۔ Politics is a filth. All of us to keep away.۔(سیاست نری غلاظت ہے۔ ہم سب کو اس سے دور رہنا ہوگا۔) مارشل لاء کے زچہ خانے کے باہر والے لیبر روم میں لیٹے سیاست کرنے والے ، ولادت کے منتظر ان فرشتوں کا ایک بہت بڑامسئلہ ہے۔ان کی بساط پر یا تو پیادہ اہم ہے یا بادشاہ۔ پیادے رپورٹیں بناتے ہیں اور بادشاہ ان کی بنیاد پر حکم چلاتا ہے۔بیچ میں تو سب کنیز ان دلربا اور غلامان مغرور کی مانند بس ادھر اُدھر دوڑیں لگاتے
رہتے ہیں۔ان کا بادشاہ سویلین اقتداد پر قبضہ کرتے ہی طاقت کا ایک ایسا جام گھٹکا لیتا ہے کہ وہ اور اس سے مطلقہ افراد یہ سوچتے ہیں کہ دانش کا سر چشمہ ان کی بندوق کی طاقت ہے۔ حکمت و فہم کا سر چشمہ شانے پر دمکتے ستارے تلواریں ہیں۔ ان کا یہ ایمان ہے کہ طاقت کا بڑا گینڈا سیاست کے چھو ٹے چوہے سے زیادہ ذہین،متحرک اور لائق احترام ہے۔

مجھے لگاا گڈو کے اس تجزیے میں سول سروس کا ایک احساس تفاخر بھی تھا اورتجربے اور پبلک لائف سے دیرینہ وابستگی سے کشید کردہ حکمت بھی۔مجھے سجھاؤنی دی کہ وہ اصرار کریں گے کہ ان سے آپ کی ملاقات کے وقت میں موجود نہ ہوں۔ ایسا ہو تو آپ نے بہت ردو کد کے ساتھ مان لینا ہے۔مجھے لگتا ہے کہ آج وہ آپ کو ڈرائیں گے کہ اگر آپ نائب ناظمہ کے لیے نہیں مانتیں تو آپ کا سیاسی کیرئیر ٹیک آف سے پہلے ہی رن وے پر پرواز کے لیے دوڑتے ہوئے برباد ہوگیا۔اس وقت آپ نے یہ کہنا ہے کہ مجھے اپنے بڑوں سے ملائیں۔ اسی نے مجھے انگریزی کا یہ مقولہ سکھایا کہ Nothing is better than non -sense(کچھ نہ ہونا خرافات سے بہتر ہے)۔

ساڑھے بارہ بجے دوپہر کا وقت ہونے کے باوجود بھی کرنل مسعود کا جذبہء میزبانی اپنے جوش پر تھا۔فوراً ہی ہم سے ناشتے کا پوچھا۔ارسلان کا بصد احتیاط جائز ہ بھی لیا۔اس میں یعنی گڈو میں ایک کمال ہے کہ چپ ہو تو ایسا لگے گا جیسے کوئی سمجھدار بینکر ہے۔جسے صرف اپنے جسم کو پالنے کا بہت شوق ہے۔ملاقات میں ایسا ہی ہوا۔کرنل صاحب نے گڈو کو کسی میجر صاحب کے پاس بٹھادیا۔ ہماری ملاقات میں سو حوالے اور خواب دکھائے کہ میں نائب ناظمہ کا عہدہ قبول کرلوں۔سونے کی طشتری میں نام اور مال بنانے کا موقع مل رہا ہے۔برطانیہ میں اپنا لاکھوں پاؤنڈ کا کاروبار بھول جاؤں گی۔جس سیاسی پارٹی سے وہ میرا تعلق جوڑیں گے اس کے بڑے پہلے پولیس کے معمولی کانسٹبل تھے مگر قیام پاکستان کے بعد کاروبار اور سیاست میں ایسا نام نکالا کہ کیا کہنے۔ میں نے انہیں آف بیلنس کرنے کے لیے جب جتایا کہ میں پاکستان ایک صاٖف ستھری زندگی گزارنے اپنے ابو کی صحت اور خاندانی جائداد سنبھالنے آئی ہوں۔ یہ سستے خواب مجھے اچھے نہیں لگتے۔آپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کا مینڈیٹ اس کی اجازت نہیں دیتا کہ مجھے آپ صوبائی سطح پر مخصوص نشست دیں تو کوئی مسئلہ نہیں۔میں نے بہت دھیمے  سے ہنستے ہنستے ان کے ہوش اڑانے کے لیے گڈو کے دانائی بھرے اس تجزیے کا بھرپور فائدہ اٹھایا کہ طاقت کا بڑا گینڈا اپنے تئیں اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ سیاست کے چھو ٹے چوہے سے زیادہ ذہین،متحرک اور لائق احترام ہے۔ میں ایک ادا سے میز پر جھکی تو کرنل صاحب کی نگاہیں میرے گریباں اور لاکٹ سے الجھ گئیں۔ اس دید بانی میں جب ان کے ہونٹوں پر رال کے بلبلے جمع ہونے لگے۔انگریزی میں اس کے لیے لفظ ہے drooling۔اردو میں قریب ترین منہ  میں پانی بھر آنا ہے۔ اردو کے محاورے ”منہ  میں پانی بھر آنا“ مگر وہ مولوی مدن کی سی بات کہاں جو انگریزی کی ڈرولنگ میں ہوس و شہوت کے سانپ پھنکارتے ہیں۔رات کے  کسی پہر جب ہم دونوں  لباس کی قید سے یکسر آزاد اور ہمارے جذبات سرگرم   تھے، مجھے لگا کہ ارسلان کی بہت سی رال میرے بدن پر گری ہے۔میں نے کہا منہ  میں اتنا پانی کیوں بھر گیا ہے تو اس نے سگریٹ جلاکر میرے سینے پر نڈھال بوجھل لہجے میں کہا”ج چری مائی (پاگل عورت) drooling کے معنی رال ٹپکنے کے ہوتے ہیں،منہ  میں پانی بھر آنے کے نہیں“۔

کرنل صاحب ذرا سنبھلے تو میں نے گڈو والا ترپ کا پتہ چلا کہ ہمارے لودھراں کے رانگڑوں سے بہت اچھے تعلقات ہیں ،میں جنرل نشست پر انتخاب لڑلوں گی آپ اپنی پسندیدہ پارٹی سے میری وزارت کا وعدہ پکا کرلیں۔ ان کی سراسیمگی سے مجھے لگا کہ یہ واقعی ان کے مینڈیٹ سے باہر کی بات ہے۔ان کو مزید ہراساں کرنے کے لیے میں نے یہ بھی جتادیا کہ میں ایک ماہ کے لیے ملک سے باہر موجودہوں گی۔وہ چاہتے ہیں کہ آج کی ملاقات نتیجہ خیز رہے تو مجھے اپنے بڑوں سے ملوادیں تاکہ ہم اس ں مسئلے کے ایک طرف ہوجائیں۔

کرنل صاحب نے انگریزی میں کہا کہ دیکھتا ہوں اگر بریگیڈئیر ہدایت موجود ہیں۔مجھے یقین ہے، وہ اس پر رضامند نہیں ہوں گے۔ایک ایک سیٹ ق لیگ کے بڑوں اور جنرل صاحب نے شطرنج کی بازی کی طرح لے آؤٹ کی ہے۔آپ اس میں اپنی پسند ٹھونسنا چاہتی ہیں۔ بٹ لیٹ می ٹرائی۔یہ بہت سیریس کام ہے اس کی ہر منظوری اوپر سے ہوتی ہے۔میں نے انہیں Trash کرتے ہوئے کہا۔چھوڑیں نا جب معین قریشی وزیر اعظم بنے تھے تو اسلام آباد کے وزیر اعظم ہاؤس والے بھی ان کے وجود سے ناواقف تھے۔آپ میرے ابو کا حوالہ بھی دیتے ہیں اور صوبائی اسمبلی کی ایک مخصوص نشست بھی نہیں نکال سکتے جب کہ ابو کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب کے 15 ضلعوں میں کوئی چوہا بھی آپ کی مرضی کے بغیر پر نہیں مارسکتا۔ قومی کی 105 اور پنجاب سے عورتوں کی 66 سیٹوں میں میرے لیے جگہ نہیں تو مجھے قومی اسمبلی کی 35 مخصوص نشستوں میں سے ایک دے دیں۔میرے اس رکیک حملے کا ان کے بے رحم، بے لطف چہرے پر ناگوار اثر ہوا مگر پی گئے۔چند منٹ بعد کمرے میں  واپس آن کر مجھے بریگیڈئر ہدایت کے مرکز تجلیات کی جانب لے گئے اور خود رسمی سے تعارف کے بعد وہاں سے کسی کام کا بہانہ بنا کر شارٹ ہوگئے۔

بریگیڈئر صاحب بہت ہینڈ سم تھے۔کمرہ بھی کشادہ۔وہاں پہنچ کر جب میں  نے اجازت مانگی کہ ارسلان کو بھی بلالیں تو انہوں نے فوراً اپنی رضامندی ظاہر کردی۔میری کرنل مسعود سے اب تک کی تمام گفتگو کا انہیں علم تھا۔ وہ اوپر کے حساب کتاب میں لگے ہیں۔ ذہن میں تجزیہ کی دیگ بھی چڑھالی ہے جس کے اندر سیاست کی بریانی پک رہی ہے ۔ بہت آہستہ سے کہنے لگے مسعود نے مجھے سب کچھ بتایا ہے۔ہمارا ایک مینڈیٹ ہوتا ہے۔ اس سے باہر نکلیں تو پھر فیصلے کئی لوگوں کی مشاورت سے ہوتے ہیں۔ پاکستان کو ایک جدید، خوشحال ملک بنانا ہے۔ دو تین دن لگ جائیں گے۔ میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنا بیرونی دورہ مختصر رکھیں زیادہ سے زیادہ  دس دن کا۔شاید کچھ او ر بھی ملاقاتیں کرنی پڑیں۔ میں نے بہانہ بنایا کہ کرنل صاحب کو علم ہے کہ میں یہاں ابو کی وجہ سے بہت جلدی میں آئی۔ان کی ہمشیرہ کو مجھے اپنے مالیاتی معاملات کا نگران بنانا ہے۔انگلینڈ میں سب چیزوں کا بہت دھیان رکھنا پڑتا ہے۔یہاں تو آپ کے میجر صاحب بھی الہ دین کے جن کو دھول چٹادیتے ہیں جب کہ وہاں ہمارے وزیر اعظم جان میجر کو بھی معمولی سی خطا پر دھول چاٹنی پڑتی ہے۔وہاں میرے بہت سے کام ادھورے پڑے ہیں۔
ہم جب لندن کے لیے روانہ ہورہے تھے ۔بریگیڈیئر ہدایت کا فون پر میسج آیا

Bon Voyage

Punjab Okayed after much haggling.(سفر مبارک۔ پنجاب بہت ردوکد کے بعد منظور ہوگیا)

With a mentor like you I never doubted when I left the nursery( آپ جیسے اتالیق اور مربی کی موجودگی میں مجھے اس بات پر لمحے بھر کو بھی شک نہ تھا۔)

ارے میں یہ تو آپ کو یہ بتانا بھول گئی کہ بھارہ کہو کے سیف ہاؤس والی ملاقات میں کچھ دیر کے بعد انہوں نے ارسلان سے ایک تخلیے کی اجازت مانگی۔یہ بمشکل دس منٹ کی ملاقات تھی۔ ہر عورت یہ جانتی ہے کہ مرد سے فائدہ اٹھانا ہوتو خود کو کمزور اور غیر محفوظ ظاہر کرنے سے بہتر کوئی اور حربہ نہیں۔ہر مرد میں ایک محمد بن قاسم موجود ہوتا ہے۔

مجھے بھی لگا کہ بریگیڈیئر صاحب کے سامنے میرا اپنے آپ کو اصول پرست، طاقت ور، انگلستان پلٹ، جاگیردارنی کے روپ میں ظاہر ہونا بھینسے کے سامنے لال کپڑے کا لہرانا ہوگا۔ کرنل مسعود تو والد کی وجہ سے بہت ڈارئی کلین ہوکر آئے تھے۔یہ حضرت تو سر تا پا  طاقت، مردانہ وجاہت، خود اعتمادی، اور فیصلہ سازی کے بالا مدارج پر فائز دکھائی دیتے ہیں۔ سو میں نے بھی نسوانی حکمت عملی کا نیا سوانگ رچایا۔ انہیں بتایا کہ ہمارے لیے کہروڑ پکا کی مقامی بلدیاتی سیاست میں رہنا دریا میں رہ کر بیر کرنا کتنا مشکل ہوگا۔ یہ سب ہمارے سرگودھے کے جنرل محمد یوسف خان (Vice Chief of Army Staff (VCOAS) کی برادری کے ہیں۔مجھے آپ کم از کم صوبائی اسمبلی میں لے جائیں اور وہاں سے پھر قومی اسمبلی میں

I am a big picture girl.
۔ Please don’t waste me in mom-and-pop store

mom-and-pop store(بہت چھوٹا کاروبار)

اب آپ کو کیا بتاؤں انہوں نے کیسی کیسی تعریف کی کہ پاکستان ہم جیسی حسیناؤں اور روشن خیال خواتین کے دم سے آباد ہے ورنہ یہ مذہبی انتہا پسند تو اس کو دسمبر میں قبرستان کی رات جیسا بنانا چاہتے ہیں۔ Here is my first vote کہہ کرانہوں نے اپنا دست مصافحہ آگے بڑھا دیا۔ میرا اور چھوٹم کا خیال ہے کہ پاکستان میں یہ مردوں کا مخصوص حربہ ہے جس سے وہ اندازے لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ عورت جسمانی طور پر اپنے بدن کے بارے میں کتنی حساس ہے۔ اس ناچیز، کنیز بے دام نے ان کو ایک خوش سلیقگی سے ٹالتے ہوئے ہنستے ہنستے وضاحت کی کہ انگلستان میں گورے بھی بے چارے ہاتھ جب بڑھاتے تھے تو ہندوستانی اور عرب عورتیں تو ملا لیتی تھیں مگر میں گریز کرتی تھی۔ آپ کی اجازت ہو تو میں آپ کو ویسا ہی جواب دوں جیسے ان معززین کو دیتی تھی۔ انہوں نے اپنے وار کی ناکامی کی خفت مٹانے کے لیے جب وائی ناٹ کہا تو میں نے بھی شان کونری کی سی اداکاری اور لہجے میں کہا
”نیلم،مائی نیم ازناٹ نیلم بانڈ۔۔ اے فیو کال می نیلماں۔ اینڈ آئی ایم اوریجنلی فروم کہروڑ پکا ڈسٹرکٹ۔لودھراں۔پاکستانی پنجاب“
آپ کو یاد ہے نا میں نے ارسلان کو اسکی پول ایئرپورٹ پر پہلی دفعہ اسی طرح ٹالا تھا۔ بریگیڈیر صاحب نے میرا نمبر لے لیا تھا َجب ان کی ایسی ہی ایک کسی اور نجی ادارے کی وین نے ہمیں اسکول کے سامنے اتارا، واپسی پر جب اپنے مرد گڈو کو اس ملاقات کا بریف دیا تو وہ کہنے لگا ” ناؤ کرنل مسعود از آؤٹ۔ آپ اب اپ گریڈ ہوگئی ہیں۔آپ اسمبلی میں آرہی ہیں“۔
لندن کے ہیتھرو ائیر پورٹ پر گڈی ہم دونوں کو لینے آئی تھی مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہاں ملاقات بمشکل تین گھنٹے کی رہی۔ہم نے کافی پی۔

مائی نیم از بونڈ
ہیتھرو
بے کس بار-برمنگھم
بوٹیگا ریستوراں برمنگھم

ارسلان کی پیرس کی ٹرین اور وہاں سے آگے سمینار میں شرکت کے لیے Montpellier کی روانگی کے  ٹکٹ بک تھے سو ان میں ردوبدل کا کچھ فائدہ نہ تھا۔ہماری تین دن بعد پیرس کے ریلوے اسٹیشن Gare du Nord پر ملاقات اور سوئزرلینڈ کی ٹرین پکڑنے کا پروگرام طے تھا۔گڈی کو میں  نے برمنگھم جاتے ہوئے سمجھایا کہ میرے کپڑے اور بہت سا نجی سامان تین سوٹ کیس میں آجائے گا۔ سو ہم نے پہلا کام تو لندن سے جاتے ہی کرنا ہے۔
شوقی سے لے کر گڈو تک کی میری مردانہ الجھن کا سن کر کہنے لگی گڈو کا مسئلہ یہ ہے کہ نیلو سالی موتی چور کا لڈو ہے کھائے گی تو بھی پچھتائے گی نہیں کھائے گی تو زیادہ پچھتائے گی۔کھانے سے تو آپ سمجھ گئے ہوں گے گڈی کی مراد کیا تھی۔ وہ اس مختصر سی ملاقات میں  گڈو سے بہت متاثر ہوئی تھی۔کہنے لگی یہ ہندوستان پاکستان کے سارے لوزرز سالے منہ  اٹھا کے یوکے کیوں آگئے ہیں۔ واہگور کی سوگند ایک اس جیسا مرد نہیں ملا جو بستر اور دماغ دونوں چھاؤنیوں میں ایک ساتھ دھماکے کردے۔

میں نے برمنگھم پہنچ کر شوقی کو فون کیا کہ سعید کو کہیں کہ جو چیک مجھے مہر کا اس نے دیا تھا وہ تو رقم کا ایک چوتھائی بھی نہیں۔ڈرپوک کہیں کا خود بات کرنے کی بجائے کہنے لگا اتفاق سے وہ دفتر میں ہی آیا ہوا ہے۔ میں بات کراتا ہوں۔

میں نے پچیس ہزار پاؤنڈ مانگے تو اچھل گیا۔انکاری ہوا تو میں نے کہا میں پھر گڈی کے انکل بیرسٹر سردار ترلوک سنگھ کے ذریعے یہاں قانونی کاروائی کا آغاز کرتی ہوں۔ سوچ لو تمہاری دونوں بہنیں حنا، ثنا اور تم تینوں لائن آف فائر میں آؤگے۔ تمہاری بہن حنا کو میں ہی اسقاط حمل کے کلینک لے کر گئی تھی۔تمہاری امی تو بدنامی اور برادری کے ڈر سے کشمیر دوڑ گئی تھی۔ میرے پاس سب رسیدیں ہیں۔ تم اگر کہتے ہو کہ میرے پیٹ میں تمہارا بچہ نہیں تو سوچو تمہاری منگیتر کیا تمہارے جیسے ایک نامرد سے شادی کرے گی۔مجھے پتہ تھا وہ آخری دھمکی معاہدے کی لاکھ پاؤنڈ ہرجانے کی شرط والی دے گا۔ میں  نے جب جتایا کہ بیرسٹر صاحب سے میں نے پوچھ لیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ایسے چیتھڑے جیسے معاہدے کی برطانیہ میں کوئی حیثیت نہیں یہ decree- absolute نہیں۔ (برطانیہ قانون میں طلاق کا حتمی تصدیق نامہ جو decree -nisi یعنی اعلان طلاق سے چھ ہفتے ایک دن بعد جاری ہوتا ہے)۔میرے منہ  سے اتنی قانونی اصطلاح سن کر اس کے اوسان خطا ہوگئے۔ اسے لگا کہ یہ گفتگو میں واقعی ان بیرسٹر صاحب کے دفتر کے باہر بیٹھ کرہی کررہی ہوں۔

آپ دیکھ رہے ہیں  کہ سیاست میں دھکیلے جانے کے بعد آہستہ آہستہ خود غرضی، بے حسی،حرص اور کمینگی کا سفر کس خوبی اور بے رحمی سے طے کررہی ہوں۔ میں یعنی مہارانی آف شطرنج،گڈو کی محبوبہ نے یہ سبق سیکھا ہے کہ بھاگتے بھوت اور طلاق کے وقت میاں کی لنگوٹ سے پہلے بھی بہت کچھ اتروایا کریں۔شادی اگر ایک مہنگا شوق ہے تو طلاق کا کھڑاک اس سے بھی مہنگا ہونا چاہیے۔کسی مرد کو کیا پتہ کہ طلاق کی پہلی دھمکی کے بعد عورت کیسی ٹوٹتی ہے۔اسے اپنے وجود میں کتنے بڑے نقصان کا احساس ہوتا ہے۔وہ کتنا سونا پن اور اجڑا ہوا محسوس کرتی ہے۔اس کی عزت نفس اور دکھاو ا دنیا کے سامنے کیسے کرچی کرچی ہوتا ہے۔

میں نے کہا گڈی جارہی ہے تمہارے گھر جو تم نے گھر پر نیوز اسٹینڈ کی کمائی کا کیش Stash(ٹھونس) کر رکھا ہے۔ اس میں سے میری ایک لاکھ پونڈ کی رقم اپنے ابو سے بات کرکے میرے حوالے کرو۔ ورنہ تم جانتے ہو کہ یہ dark money ہے میں
Her Majesty’s Revenue and Customs (HMRC)
کو ایک درخواست دوں گی تو اسکا ٹ لینڈ یارڈ کے ٹیکس والے شرطے آدھا گھنٹے میں تمہارے گھر بھیج دے گی ۔بمشکل تیس ہزار پاؤنڈ پر رضامند ہوا مگر مجھ سے میری مرحوم امی کی قسم لی کہ اس
کے بعد میں اس حوالے سے کبھی زبان نہیں کھولوں گی۔حنا کو اعتبار نہ تھا لہذا سامان اور کیش دینے وہ خود آئی۔ میں نے گڈی کو ایک اچھا سا پینڈنٹ بطور نشانی کے دیا اور اسے کھانے پر Bottega Restaurant جس کا شمار برمنگھم کے بہت عمدہ ریستورانٹس میں ہوتا ہے۔وہاں لے گئی۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *