گھٹیا افسانہ نمبر29۔۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

ریاض کچھ بھی کرو یہ ایف آئی آر درج نہیں ہونی چاہیے”، میرا پیٹ ٹینشن کی وجہ سے درد کر رہا ہے۔ مروڑ اٹھ رہے ہیں۔
“او بھئی ذرا صبر کر مجھے دماغ لڑانے دے، پکا بندہ ڈھونڈنے دے”
“یار تو چوہدری اکبر سے بات کر”، میں نے مشورہ دیا ہے۔
“چوہدری تیرا نام سنتے ہی انکار کر دے گا، اس کو جب ووٹوں کی ضرورت تھی تو تیری نظریاتی وابستگی سامنے آگئی تھی، اب چوہدری نے کام بھی نہیں کرنااور ہم ایسے ہی بےعزتی کروا لیں گے خود کو، مجھے ذرا سوچنے دے”۔ میں خاموش ہو گیا ہوں۔ ابھی کچھ بولنے والا ہی تھا کہ ریاض بول پڑا ہے:
“ہاں ایک بندہ ہے جو یہ ایف آئی آر رکوا سکتا ہے”
“کون، چل ابھی چلتے ہیں، تو فون کر”، میں نے چونک کر کہا ہے
ریاض نے کال کی ،اور آٹھ کھڑا ہوا کہ ہاں چلو وہ گھر میں ہی ہے۔ ہم موٹرسائیکل نکال کر ایک محلے میں پہنچ چکے ہیں۔ ایک گھر کی بیٹھک میں بیٹھے ہیں۔ ایک بندہ اندر داخل ہوا ہے۔ ریاض سے بڑی خوش دلی سے ملا ہے جبکہ مجھ سےبھی ہاتھ ملایا ہے۔ ریاض بیٹھا اس کو معاملہ سمجھا رہا ہے۔ میں اسے مسلسل پہچاننے کی کوشش کر رہا ہوں۔ وہ بھی وقتاً فوقتاً مجھے دیکھ لیتا ہے۔ اچانک یاد آ گیا۔ اس بندے کے ساتھ تو میرا کمال روڈ پہ جھگڑا ہوا تھا۔ میں نے اس کے منہ پہ تھوک پھینکاتھا۔ میرا دل دھڑ دھڑ دھڑک رہا ہے۔ کہیں یہ مجھے پہچان نہ لے۔ ریاض نے سارا مسئلہ سمجھا دیا ہے۔ وہ بندہ بول رہا ہے:
“ریاض تم نہیں جانتے اس بندے نے میرے ساتھ بہت زیادتی کی ہوئی ہے، اس نے روڈ پہ مجھے گالیاں دی تھیں اور میرے منہ پہ تھوکا تھا”۔ ابھی اس نے صرف اتنا ہی بتایا ہے میں نے اٹھ کر اس کے پیر پکڑ لیے ہیں۔ “بھائی میں معافی مانگتا ہوں۔ اگر یہ ایف آئی آر ہو گئی تو میرا بھائی کم از کم پانچ سال کے لیے جیل جائے گا۔ بھائی آپ میرے منہ پہ تھوک پھینک دو بھائی مجھے ہر بات پہ معافی مانگنی ہے۔ بھائی پلیز۔ مجھے جوتے مار لو۔ میری ہیلپ کرو۔ یہ ایف آئی آر رکوا دو”۔ ریاض نے مجھے پکڑ کر اٹھایا ہے۔ وہ بندہ سکون سے بولا ہے کہ آپ کو چاہے جو نقصان پہنچے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرو‍ں گا بلکہ آپ کی مخالفت کروں گا”۔ میں نے بہت دھیمے انداز سے بات سنی اور ریاض سے اٹھنے کا کہہ کر باہر آ گیا ہوں۔ دو منٹ گزر چکے ہیں۔ ریاض ابھی باہر نہیں آیا ہے۔ میرے ہاتھ غصے سے کانپ رہے ہیں۔ میں اندر دوبارہ چلا آیا ہوں۔ میرا دماغ ابل رہا ہے۔ کہہ رہا تھا کہ ہماری مخالفت کرے گا۔ اندر داخل ہوتے ہی اس بندے کے قریب جاکر اُس کے منہ پہ تھوک پھینک کر باہر آ گیا ہوں۔ موٹرسائیکل اسٹارٹ کرکے گلی سے نکل آیا ہوں۔ مجھے معلوم ہے اب ریاض تو میرے ساتھ آنے سے رہا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ترقی کی راہ میں بہت سی چیزیں کام آتی ہیں، اگر آپ لکھنے پڑھنے کا کام کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کسی مضبوط لابی کا حصہ بننا ہو گا، یہاں لابیاں ہیں جو ایک دوسرے کو پروموٹ کرتے ہیں، لابیوں کی پروموشن کے بغیر آپ لکھ پڑھ تو سکتے ہیں، اپنا نام نہیں بنا سکتے”۔ ناصر ہمیشہ کی طرح سیدھی باتیں کرنے پہ اتر آیا ہے۔ پندرہ سے بیس لوگوں کی نشست میں ایک نوجوان لکھاری نے ناصر بٹ سے سوال داغا تھا کہ وہ پروفیشنل لکھاری بننا چاہتا ہے تو اُس کے لیے کیا کرے؟ ناصر کو تو جیسے موقع مل گیا ہے۔ وہ لتاڑ رہا ہے۔ نشست میں دو بندے ایسے بھی بیٹھے ہیں جو آن لائن میگزین  کو چَلا رہے ہیں۔ ناصر کہہ رہا ہے کہ “ہمارے ہاں کیا لکھا جا رہا ہے کوئی نہیں دیکھ رہا۔ کون لکھ رہا یہ دیکھنے کا رواج ہے۔ سیکولر لابی اُن سیکولرز کو پروموٹ کر رہی ہے جو اُن کی ناقص و اعلی دونوں تحریروں کو صرف بدلے میں پروموٹ کرتے ہیں۔ یہی حالات مولویوں کے ہیں۔ مولوی بھی ان کو پروموٹ کر رہے جو اُن کی اچھی بری دونوں کو پروموٹ کرتے ہیں۔ لابیوں کی موجودگی میں اعلی ادب کبھی کبھار نام نکال جاتا ہے لیکن اکثر اوقات آپ کی اعلی سے اعلی تخلیق بھی ردی کی ٹوکری بن جاتی ہے کیونکہ آپ کسی لابی کا حصہ نہیں ہیں۔ آپ کی بہترین تحریروں سے کوئی بھی واقف نہیں ہوتا کیونکہ کسی لابی میں آپ کو “تو میرا حاجی” کہنے والا نہیں ہے کیونکہ آپ بھی تو کسی کو “تو میرا حاجی” نہیں کہہ رہے”۔ تسکین بروہی کن اکھیوں سے میری طرف دو تین بار متوجہ ہوا ہے۔ اُس کی نگاہوں میں شکوہ ہے۔ جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ تم نے یہ سب سنوارنے کے لیے ہمیں یہاں اکٹھا کیا تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ میں کیا کروں؟ میں منتظم تو ہوں لیکن کسی کا منہ تو بند نہیں کر سکتا۔ ناصر بٹ کون سا کسی کا نام لیکر گفتگو کر رہا ہے۔ یہ تو چور کی داڑھی میں تنکے والی بات ہو گئی۔ اسی طرح قدیر سندھو کی بےچینی بھی نظر آ رہی ہے مگر وہ فنکار آدمی ہے، وہ حتی المقدور کوشش کر رہا ہے کہ وہ بےچینی کو ظاہر نہ ہونے دے، اور ساتھ ساتھ وہ انتظار میں ہے کہ کب اُسے بولنے کا موقع ملے، عین ممکن ہے وہ ناصر بٹ کو درمیان میں کاٹ دے۔ ناصر بٹ کی گفتگو جاری ہے:
“یہاں تھکڑ قسم کے مضامین کو پذیرائی ملتی ہے، کیونکہ آن لائن ادب کی لابیوں کے بڑے نام اُن مضامین کو شیئر کرکے دو لائن کا کیپشن چڑھا دیتے ہیں، اُن کے فالورز اُس تھکڑ مضامین پہ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ مثلاً ایک مارکسی آن لائن میگزین اُس کمیونسٹ کا ایک بہترین تحقیقی مضمون اس لیے نہیں چھاپتا کیونکہ وہ ٹراٹسکی کی بجائے سٹالن کو بہتر سمجھتا ہے۔ یعنی ایک سٹالنسٹ اگر سچ لکھے تو وہ ایک ٹراٹسکائیٹ اپنی ویب سائٹ پہ اُس سچ کو نہیں لکھے گا۔ کیونکہ ٹراٹسکائیٹ لابی کو سٹالنسٹ اور سٹالنسٹ لابی کو ٹراٹسکائیٹ پروموٹ نہیں کرتے۔ چاہے کوئی کیا لکھ رہا ہے، دیکھا یہ جاتا ہے کہ مصنف یا مضمون نگار ہماری تحریروں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے؟ جیسے کسی ولیمے میں شرکت سے پہلے ہم اپنے ولیمے کی کاپی اٹھاتے ہیں اور دیکھتے ہیں آج مدعو کرنے والے نے ہمیں کتنے پیسے دئیے تھے، ہم بھی اسی کے برابر پیسے لکھوا آتے ہیں۔ آن لائن میگزینوں کی لابیاں بھی یہی کام کر رہی ہیں۔ تو میرا حاجی میں تیرا حاجی والی صورتحال بنی ہوئی ہے”۔ نشست کے مہمان ناصر کی طنزیہ گفتگو کو پسند کر رہے ہیں۔ بروہی بار بار پہلو بدل رہا ہے۔ دو سگریٹ پھونک دئیے ہیں۔ ناصر نے نیا پینترا کھیلا ہے۔ وہ شاید سارے بدلے لینے پہ تلا ہوا ہے۔ “آپ طنز نگاروں سے لیکر شعراء تک سیاسی تجزیہ نگاروں سے لیکر سائنسی مصنفین تک کو دیکھ لیں، آپ مردوں اور عورتوں کو دیکھ لیں، جو لوگ کسی بھی لابی کا حصہ ہیں وہ پروموشن دیتے اور لیتے رہتے ہیں تو زندہ رہتے ہیں، اگر آپ لابی کا حصہ نہیں ہیں تو آپ تھک جاؤ گے، آپ یہ کام چھوڑ دو گے، دل کا ٹوٹنا شوق کو ختم کر دیتا ہے، لگن اور تخلیقی صلاحیتوں کا سب سے بڑا قاتل پذیرائی کا نہ ملنا ہے۔ تھپکی نہ ملے تو گائے بھینس بھی دودھ کی مقدار گھٹا دیتی ہیں۔ اسی طرح پذیرائی یا شاباش نہ ملے تو تم کس کے لیے لکھو گے؟ لہذا یہاں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے کی بجائے مضبوط لابیاں ڈھونڈ واور پھر محنت کر، لابی تری محنت کو چار چاند لگا دے گی”۔ قدیر سندھو نے دیکھا کہ ناصر پانی کا گلاس اٹھا رہا ہے تو موقع پا کر بول پڑا ہے کہ “بٹ صاحب آپ کو ہم ایڈیٹروں سے بہت گلے اور شکوے ہیں۔ کیا ہم وہ مضامین شائع نہیں کر رہے جن کو ہم شئیر نہیں کرتے۔ اب ہر مضمون کو شئیر کرنا ناممکن ہے، جو دل کو لگتا ہے جو نظروں سے گزرتا ہے ہم شئیر کر دیتے ہیں، آئندہ آپ کے مضامین کو بھی شئیر کروں گا”۔ ناصر نے پانی کا گلاس خالی کرکے میز پہ رکھا ہے اور دیکھے بغیر کہ قدیر سندھو کی بات ختم ہوئی یا نہیں ہوئی وہ بول پڑا ہے کہ “سندھو صاحب رہنے دیں۔ آپ کے میگزین پہ آپ کے چہیتے پنجابی لاہورئیے دوست نے ایک بندے پہ ایویں معمولی سا مضمون لکھا ہے اور آپ کئیوں کو ٹیگ کرکرکے، زمین آسمان کے قلابے ملا ملا کر شئیر کر رہے تھے، کیوں؟ کیونکہ اُس مضمون نگار نے آپ کے اور جاوید سلہری کے مابین جھگڑے میں آپ سے زیادہ آپ کا دفاع کرتا رہا تھا”۔ قدیر نے بھی بات کاٹ کر جواب دیا ہے کہ “وہ مضمون اس لیے شئیر کیا کیونکہ ہمارے آن لائن میگزین میں بوب مارلے پر ابھی تک کسی نے کوئی تحریر نہیں لکھی تھی، جبکہ بوب مارلے میرا بھی پسندیدہ فنکار ہے اس لیے یہ مضمون شئیر کر دیا، بٹ صاحب آج آپ بہت منفی باتیں کر رہے ہیں”۔ قدیر سندھو آسانی سے ناصر بٹ کو بات نہیں کرنے دے گا۔ ناصر بٹ نے بم پھوڑ دیا ہے کہ “جناب آن لائن ایڈیٹر صاحب آپ کے پسندیدہ فنکار بوب مارلے پہ آج سے دو سال قبل اردو میں ایک شاندار تحریر ایک سندھی مضمون نگار نے آپ کے ہی میگزین پہ لکھ کر شائع کروائی تھی۔ وہ واقعی موجودہ آپ کی شئیر کردہ یا پروموٹ شدہ تحریر سے کہیں زیادہ بہتر، متوازن اور مدلل تھی مگر اُس تحریر کو چند لوگوں نے پڑھا، آپ کو اُس تحریر بارے معلوم ہی نہیں حالانکہ وہ آپ کے ہی میگزین پہ شائع ہوئی ہے، آج بھی موجود ہے۔ لیکن اُس اعلی مضمون کو آپ نے اس لیے شئیر نہیں کیا کیونکہ اُس کا مصنف آپ کا کچھ نہیں لگتا۔ یہ لابیوں کی کارستانیاں ہیں جو مجھے سچ بولنے پہ مجبور اور آپ کو افسردہ ہونے پہ مجبور کر رہی ہیں۔ اچھا آپ شاہدہ منصور کی مثال لے لیں۔ وہ گھرداری پہ تحریریں لکھ رہی ہے۔ خدا کی قسم کوئی ذی شعور اُس کی تحریریں قابل تعریف نہیں کہے گا۔ اٌس کی باتیں متضاد اور مزاحیہ ہوتی ہیں۔ آپ اس کے اکثر مضامین شئیر کرتے ہیں یا اُس کی پوسٹس پہ زور و شور سے موجود ہوتے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ وہ اپنے اکاؤنٹ پہ چٹی چمڑی والی تصاویر لگاتی ہے، میرے جیسے تیس ہزار سے زائد ٹھرکی اُس کے فالورز ہیں۔ اس کے اکاؤنٹ پہ ہر وقت رش لگا رہتا ہے۔ وہ جناب کی اور جناب کے دوستوں کی تحریریں شئیر کرتی ہے، تعریف کرتی ہے، آپ کی اعلی شخصیت کے اعلی پَن کو برقرار رکھنے میں مددگار رہتی ہے۔ آپ بھی اس کی فضول تحریریں شئیر کرتے نظر آتے ہیں۔ حالانکہ گزشتہ چار سال سے گھرداری پہ مضامین لکھنے والی نسرین اسلام اور ردا ظریف کا نام آنجناب نے کبھی زندگی میں نہیں لیا۔ کیوں؟ کیونکہ وہ لاہور کی نہیں ہیں بلکہ وہ خانیوال کی بوڑھی عورت اور چکوال کی معمولی استانیاں ہیں جو آپ کی پروموشن میں آپ کی کوئی معاونت نہیں کر سکتی ہیں”۔ ناصر نے تو دھماچوکڑی مچا دی ہے۔ بروہی رفع حاجت کے بہانے باہر اٹھ آیاہے، مجھے معلوم ہے وہ کھانا شروع ہونے سے پہلے کمرے میں داخل نہیں ہوگا۔ لیکن سندھو کے تاثرات بتا رہے ہیں کہ وہ دنگل کے لیے تیار ہے۔ سندھو جواب دے رہا ہے کہ “کوئی مضمون کوئی تحریر شئیر کرتے ہوئے میرے دماغ میں وہ چیزیں وہ امور نہیں ہوتے جو آپ کے منہ سے سن رہا ہوں۔ نہ ہی میں حیران ہوں نہ ہی میں دکھی ہوں۔ ایسی باتیں ایسے طعنے بارہا بلکہ روز سننے کو ملتے ہیں۔ مگر میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کو اصل غصہ کس بات کا ہے، یہ ساری گفتگو آپ گھر سے ہی سوچ کر آئے ہوئے لگتے ہیں، اس غصے کابیان کردہ سبب لغو ہے، آپ اصل مدعے پہ آ جائیں”۔ ناصر بٹ نے اسی لہجے اسی انداز میں غصہ کیے بغیر بات جاری رکھی ہوئی ہے۔
“غصہ وہ کرے جسے ادراک نہ ہو۔ مجھے ادراک ہے۔ میں سارا قضیہ مکمل جانتا ہوں۔ یار میں بچے کے سوال کا جواب دے رہا تھا تم خود ہی درمیان پہ آ ٹپکے ہو تو اب برداشت کرو”۔ اچانک اقبال شاہ بیچ میں آ گیا ہے اور کھانے کے لگ جانے کی اطلاع دے رہا ہے۔ سندھو ابھی بھی گفتگو کرنا چاہ رہا ہے مگر اقبال شاہ نے بازو آرام سے سہلا کر کھانے کی طرف متوجہ کروا دیا۔
نوٹ:تمام کردار اور واقعات افسانوی ہیں، کسی قسم کی مماثلت اتفاقیہ ہو گی

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *