بلی تھیلے سے باہر آگئی۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

کوٹ لکھپت جیل میں قید قائد مسلم لیگ(ن) اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے ساتھ مبینہ طور پر حکومت کی جانب سے این آر او کی پیشکش کے حوالے سے جاری قیاس آرائیاں سچ ثابت ہوتی نظر آرہی ہیں،گزشتہ روز وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے جب یہ کہا کہ نواز شریف کی ضد کی وجہ سے معاملات طے نہیں ہو پارہے،جب کہ شہباز شریف کے ساتھ مذکرات کے ذریعے درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش جاری ہے۔اُدھر اخباری اطلاعات یہ بھی ہیں کہ نواز شریف نے پارٹی قیادت کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ نئے انتخابات کی تیاری کریں اور جے یو آئی کے مجوزہ آزادی مارچ کے پلیٹ فارم سے بھی نئے انتخابات کا  مطالبہ کیا جائے،کافی دن سے یہ اطلاعات ہیں کہ نواز شریف کو یہ کہا جارہا ہے کہ اگر وہ سیاست سے عملاً کنارہ کشی اختیار کرلیں اور مریم نواز کے ہمراہ جلا وطن ہو کر پارٹی قیادت شہباز شریف کو سونپ دیں،تو ان کی رہائی عمل میں لائی جاسکتی ہے،عمران خان بقول شیخ رشید کے بنا پلی بارگینگ کے کسی کو ملک سے جانے کی اجازت نہیں دیں گے،زرداری کی حد تک ان کے ساتھی پلی بارگینگ کرکے رہا ہو رہے ہیں،لیکن نواز شریف کا مقدمہ زرداری سے بالکل مختلف ہے،جو موجوہ حکومت اور اسکے حواریوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

نواز شریف پر سرکاری پیسے کی کریشن کا ایک بھی الزام نہیں،نواز شریف کو پانامہ پیپرز میں نام نہ ہونے کے باوجود سپریم کورٹ نے اقامے پر نااہل کیا اور سزا ملی تو آف شور کمپنیوں منی لانڈرنگ کے کیس میں،جب کہ زرداری پرسرکاری پیسے کی کریشن کا الزام ہے،یہی وجہ ہے کہ نواز شریف سے دوسال ہونے کے باوجود بھی حکومت ایک روپیہ برآمد نہ کرسکی،اور نواز شریف کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے سینئر راہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی نیب نے ایل این جی کیس میں گرفتار کیا لیکن جب ا یل این جی سے کچھ نہ نکلا تو سرکاری گاڑی کے استعمال پر تفتیش شروع کردی،اندھے کو بھی بخوبی نظر آرہا ہے کہ موجودہ حکومت صرف ایک سال کے اندر تما م کوششوں کے باوجود بھی ہر شعبے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے،آئی ایم ایف سے قرضہ،سعودی عرب اور یواے ای سے بیل پیکج ملنے کے بعد بھی معیشت کو سنبھالا نہ جاسکا،یہ تو درمیان میں کشمیرایشو آگیا ورنہ جو معاشی حالات عمران خان نے پیدا کردئیے ہیں ان سے نکلنے کے لئے اب کوئی معجزہ ہی رونما ہو تو ہو ورنہ سٹیٹ بنک کے بعد اب عالمی مالیتی اداروں نے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

لگ یہی رہا ہے کہ جے یو آئی کے آزادی مارچ سے قبل یا بعد ان ہاؤ س تبدیلی نہ آئی تو بھی نئے انتخابات کا بگل بج جائے گا،کیونکہ کوٹ لکھپت کا اسیر اب 90کی دہائی والا نواز شریف نہیں،اب اسکے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچا، اپنی عمر کے آخری سالوں میں شوگر،عارضہ قلب اور بلند فشار خون جیسے مہلک امراض،اپنی زندگی کی ساتھی بیگم کلثوم نواز کی موت،مشرف دور میں ناکردہ گناہ کی سزا کے طور پر جلاوطنی،میاں محمد شریف کی رحلت،تین بار مدت مکمل کیے  بنا اقتدار سے بے دخلی جیسے عوامل نے نواز شریف کو کندن بنا دیا ہے جو اس وقت ملک میں اپنی ذات کی بجائے پاکستان کی جنگ لڑ رہا ہے،پاکستانی  قوم کی جنگ لڑ رہا ہے،اور وہ جنگ ہے سول سپر میسی کی،مقتدر قوتوں نے بالکل غلط اندازہ لگایا تھا کہ جیل کاٹنا نوازشریف کے بس کی بات نہیں،لیکن اسی نواز شریف سے آج ایوان وزیر اعظم میں براجمان شخص  بھی خوف کھا رہا ہے اور اسکے حواریوں کے اعصاب پر بھی نواز شریف سوار ہے،اسی لئے کئی ہفتوں سے نواز شریف کے ساتھ ڈیل کی کوشش کی جارہی ہے،لیکن نواز شریف کا بیانیہ مختلف ہے وہ اپنے ساتھ ہونے والی زیاتیوں کو تو معاف کرنے کو تیا ر ہے لیکن جو حشر لاڈلے کو حکومت دے کر پاکستان کا کیا گیا ہے اس پر نواز شریف کوئی این آراو دینے کو تیار نہیں۔

یہ جو عمران خان اور انکے وزراء آئے دن ڈیل یا این آر او نہ دینے کی بات کرتے ہیں،یہ وہی اندر کا خوف ہے جو ان کو چین نہیں لینے دے رہا،کیونکہ جب بھی اس ملک میں بنا کسی تیسری قوت کی مداخلت کے انتخابات ہوئے تو مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کو راستہ نہیں رک سکے گا،شیخ رشید کی پریس کانفرنس نے چلو یہ تو واضح کردیا کہ اندرون خانہ کیا ہو رہا ہے،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ زرداری اور نواز شریف کو جیل بھیجنے کے بعد عمران خان پوری آزادی کے ساتھ کام کرتے اور گزشتہ 22سالوں میں جو وعدے انھوں نے پاکستان کے لوگوں سے کیے اور جو خواب وہ کئی سالوں سے دکھا رہے ہیں،انکو حقیقت کا روپ دینے کے لئے پوری تن دہی سے کام کرتے مگر ایسا ہو نہ سکا،ضدی،اکھڑ مزاج،اور منتقم مزاج عمران خان نے اپنا سارازور اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے اور ان کی ذات پر کیچڑ اُچھالنے میں صرف کردیا،اور ایک سال میں ہی پی ٹی آئی اپنی مقبولیت کھو بیٹھی اسی لئے اب نواز شریف کو این آراو دینے کا ڈول ڈالا گیا ہے تاکہ لوگوں کی توجہ اس جانب مبذول کروا کر کچھ عرصہ سکون سے گزارا جاسکے،لیکن یہ چال بھی اب ناکام ہوتی نظر آتی ہے،وگرنہ اقوام متحدہ جاتے ہوئے سعودیہ کا دورہ کرنے کی کوئی تک نہیں تھی۔صاف نظر آرہاہے کہ عمران خان این آر او دینے کے بجائے لینے کے چکر میں ہیں،ان کے وزراء اور وہ خود پوری کوشش میں ہیں کہ جے یوآئی کو آزادی مارچ نہ ہو،اسکے لئے کشمیر کا نام استعمال کیا جارہا ہے،جبکہ کشمیر کا مسئلہ تو 71سال سے حل طلب ہے،آنے والے دنوں میں کیا ہونے جارہا ہے،نواز شریف کے انکار کے بعد اب حکومت کیا لائحہ عمل اختیار کرے گی اسکے لئے چند دن کا انتظار کرنا ہوگا،ویسے میرے خیال میں بگل بجنے والا ہے اور بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *