تمہارے پاس اب وقت بہت کم ہے۔۔۔۔منور حیات سرگانہ

ایک بات ہمارے ملک کے نو سرباز سیاست دانوں،شاطر جرنیلوں،مکار بابوں ،فرعون صفت ججوں،درباری صحافیوں اور حریص ملاؤں کو اب اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے،کہ یہ اب وہ والی پرانی دنیا نہیں رہی،کہ جہاں سیاستداں ایک دوسرے کو چور ،چور پکار کر ،دوسرے پر کیچڑ اچھال کر اور کبھی نہ پورے ہو سکنے والے جھوٹے وعدے کر کے لوگوں کو الو بنا لیتے تھے۔جب جرنیل حضرات،سرحدوں پر خطرہ ہے،آج فلاں میزائل کا تجربہ کرلیا،آج فلاں پٹاخہ چھوڑ دیا،فلاں جہاز تیار کرلیا،ملکی دفاع اب مضبوط ہاتھوں میں ہے،دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،ہم دنیا کی نمبر ون آرمی ہیں،جیسے غبارے لے کر گھومتے تھے۔جب بابو حضرات فائلوں میں ادل بدلی کر کے سب کچھ اپنی جیبوں میں ڈال لیتے تھے۔جب جج حضرات فون کالوں پر ڈھیر ہوجاتے تھے،اور اپنے ایک ایک فیصلے کی پوری قیمت وصول کرتے تھے۔جب  صحافی حضرات دنیا جہان  کے  ٹھگوں،فراڈیوں اور نوسربازوں کی شلواروں میں اپنے قلم سے ناڑے ڈالتے رہتے تھے،اور ان کو وضو کروا کے پاکدامنی کے مصلے پر کھڑا کرتے رہتے تھے۔جب دین فروش ملا اپنی رنگ برنگی دستاروں کے ساتھ اپنے اپنے اسلام کے ٹھیلے چلاتے رہے۔

اب انفار میشن ٹیکنالوجی کا دور ہے۔سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اب گلی محلے میں دوکان چلانے والے سے لے کر کھیتوں میں ہل چلانے والے تک، آپ کی کہہ مکرنیوں،ٹھگیوں،منافقتوں،بے ایمانیوں،فریب کاریوں،بدعنوانیوں،اور سبھی سیاہ کاریوں سے پوری طرح واقف ہو چکے ہیں ۔اب آپ کے سب کالے کرتوت ان کی انگلیوں کی پوروں پر ہیں۔۔اب آپ  زیادہ دیر تک جھوٹ کی دلفریب چادر کے اندر اپنے غلیظ وجود نہیں چھپا پائیں گے۔یہ چادر اب دھیرے دھیرے سِرک رہی ہے۔آپ سر ڈھانپیں گے تو آپ کی پیٹھ ننگی ہو جائے گی اور اگر پیٹھ کو ڈھانپیں گے تو سر ننگا کر بیٹھیں گے۔ یہ ملک ڈوب رہا ہے،اور آپ سبھی نے ملکر اس کے تختے اکھاڑے ہیں ،اس کی کیلیں بیچ کھائی ہیں،اس کی رسیوں سے اپنے اسباب باندھے ہیں۔اب آپ کے پاس بھی  زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔اب آپ ز یادہ دیر تک لوگوں کی توجہ ادھر ادھر نہیں لگا سکیں گے۔آپ نے بیس کروڑ لوگوں کو جیتی جاگتی لاشوں میں تبدیل کر دیا ہے۔جیتی جاگتی لاشیں ،جنہیں نہ ہی آپ نے کبھی انسان کا درجہ دے کر جینے کا حق دیا،اور نہ ہی کبھی مرنے دیا۔آپ کی نظر میں یہ سب زومبی ہیں۔قابل نفرت۔۔جنہیں کسی بھی چیز کا حق حاصل نہیں۔تم نے انہیں پاگل کتوں کے کاٹنے سے مرنے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ان کے بچوں کو پولیو سے معذور ہونے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ان کے آگے سے سوکھی روٹی بھی اٹھا کر اپنے کتوں کو ڈال دی ہے۔تم نے ان کی دوائیں حرص کی گندی نالیوں میں انڈیل ڈالی ہیں ان کی چھتیں بھی چھین لی ہیں۔ان کی زبانیں بھی کاٹ ڈالی  ہیں۔یہ خون آلود منہ  والے،جن کے بدن پر کیڑے رینگ رہے ہیں،جو چیتھڑوں میں ملبوس ہیں،جو لنگڑاتے ہوئے جھوم جھوم کر چل رہے ہیں۔یہ سب تمہارے لئے قابل نفرت ہیں۔تمہارے خیال سے انہیں گولی سے اڑا دینا چاہیے۔ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دینے چاہئیں۔ان کو زندہ جلا دینا چاہیے۔تم اپنی سی کرتے رہو۔لیکن یاد رکھو ،یہ گرتے پڑتے دھیرے دھیرے تمہاری طرف بڑھ رہے ہیں۔یہ بلاول ہاؤس کی طرف بڑھ رہے ہیں،یہ جاتی عمرہ کی طرف چل پڑے ہیں_یہ بنی گالا کے راستے پر ہیں۔یہ جی ایچ کیو جیسے ناقابل تسخیر قلعے کی طرف بھی رواں دواں ہیں۔یہ ایک دن ضرور تم تک پہنچ جائیں گے۔تم ان پر گولیاں چلاتے رہو،تیل چھڑک کر آگ لگاتے رہو،ان کو گڑھوں میں گراتے رہو،ان پر گاڑیاں چڑھاتے رہو،لیکن یہ بہت  زیادہ ہیں،یہ ختم نہیں ہوں گے ۔تم ہانپ جاؤ  گے لیکن یہ تم تک پہنچ جائیں گے،اور تمہاری بوٹیاں اُڑا دیں گے۔

غضب ہے، ستر سال ہو گئے تم آج تک اپنے ملک کے لوگوں کے لئے کتے کے کاٹے کی ویکسین نہیں  بنا سکے۔تم اپنے لوگوں کے لئے دوائیاں تک اس دشمن سے خریدتے ہو جسے،ختم کر دینے کے تم دن رات نعرے لگاتے ہو۔تم اپنی کپڑے کی صنعت چلانے کے لئے کھیتوں میں کپاس تک پیدا نہیں کر سکتے،وہ بھی اپنے دشمن سے منگواتے ہو،تمہارے جو کسان کپاس اُگاتے ہیں،وہ اسی کپاس سے بنا ہوا کپڑا خریدنے کی سکت نہیں  رکھتے،ان کے بچے سارا سال چیتھڑے پہن کر گھومتے ہیں۔ ۔تمہارے گنا اُگانے والے غریب کاشتکار مفلوک الحال ہیں،اور تم اربوں روپے سبسڈی کے نام پر شکر سازی کرنے والے موٹی گردنوں والے سیٹھوں کی جیبوں میں ڈال دیتے ہو ۔تم دس سال سے ان کے گنے کی قیمت نہیں بڑھا پائے اور چند ماہ میں چینی کی قیمت ڈیڑھ گنا بڑھا دیتے ہو۔تم جن جانوروں کا گوشت بھون کر اپنے کھانے کی ٹیبل پر روز اڑاتے ہو،ان جانوروں کو پالنے والوں کو گوشت صرف عید قربان پر ہی دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔تمہارے بچے جو دودھ کا ایک گلاس صبح ناشتے میں پیتے ہیں،ان دودھیل جانوروں کو پالنے والوں کے بچوں کو وہ بھی نہیں ملتا۔جو سارا سال گرمی سردی کی پروا کیے بغیر تمہارے لئے اناج اگاتے ہیں۔ان کے اپنے بچوں کو پیٹ بھر روٹی نصیب نہیں ہوتی۔تم چھینک آنے پر بھی علاج کے لئے لندن اوردبئی بھاگ جاتے ہو،اور وہ ڈسپرین کی گولی حاصل کرنے کے لئے بھی در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔تم جب گھر سے نکلتے ہو تو تمہارے آگے پیچھے سرکاری اور درباری محافظوں کے جھرمٹ ہوتے ہیں۔ان کے بچوں کو عقوبت خانوں میں بجلی کے جھٹکے دے دے کر مار دیا جاتا ہے۔جب تمہارے بچے لندن اور دبئی کے اسکولوں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں،اس وقت ان لاچاروں کے بچوں کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا جا رہا ہوتا ہے۔لیکن یاد رکھو تمہارے پاس اب وقت بہت کم ہے۔تمہارا یوم حساب اب قریب ہے۔تمہارے پاس اب کوئی ایسی آڑ نہیں رہ گئی جس کے پیچھے تم اب زیادہ دیر تک چھپ سکو۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *