مسند نشیں کتے۔۔اُسامہ اقبال خواجہ

بھلا کتے نے ہی تو کاٹا تھا پھر اتنا شور کس بات کا ہے، ہم نے تھوڑی کہا تھا کہ بچے پیدا کرو۔ نہ تم بچے پیدا کرتے، نہ بچوں کو کتا کاٹتا، نہ ہماری بدنامی ہوتی۔ اب کیا ہم تمہاری خاطر ایک ایک کتے کو پکڑیں۔ اور یہ بتاؤ ایسے کیوں پِیٹ رہے ہو جیسے یہ کتے ہم نے بھیجے تھے کہ جاؤ اور جا کر اِنہیں کاٹو۔ یہ تمہاری لاپرواہی کا نتیجہ ہے، ہم نے تو کہا  ہے کہ مکمل کپڑے پہنو، گھر میں قید رہو تاکہ ہر قسم کے کتے سے خود محفوظ رہ سکو۔ بہر حال اب اگر تمہاری لاپرواہی کی وجہ سے کتے نے کاٹ ہی لیا ہے تو صبر کرو یا جواب میں کتے کو کاٹ لو۔ مگر ہمیں کاٹنے یا ہمارے بنائے ہوئے ہسپتالوں پر طعنہ زنی  کرنے سے باز رہو۔ خود پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنتے نہیں۔ پڑھنا لکھنا تم نے ہے نہیں، بس آخر میں آجانا ہے بد دعائیں دینے۔ محنت تم کر نہیں سکتے، برداشت کر نہیں سکتے، آجاتے ہو حق مانگنے۔ سوال کرنے سے  پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرو، پھر حقوق مانگنے کے لیے بھاگتے ہوئے آنا۔ یہ تو ہماری مہربانی ہے جو ہم پچھلے پانچ برسوں میں تمہارے علاج پر اربوں روپیہ لگا چکے ہیں مگر تمہاری بیماریاں ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ جانتے ہو ایک ویکسین کتنے کی آتی ہے، ہمارے کتے کی خوراک سے بھی مہنگی۔ جرمن شیفرڈ کی خوراک سے مہنگی دوائی تمہارے بچے کو ویسے ہی لگا دیں۔ کیا اتنے مہنگے ہیں تمہارے بچے؟ اگر مہنگے ہیں تو کسی پرائیویٹ ہسپتال میں چلے جاؤ، وہاں سے علاج کراؤ۔ ہمارے پیچھے بھاگنے کی کیا ضرورت تھی۔

کبھی ہمیں دیکھا ہے یوں علاج کے لیے بھاگتے ہوئے؟ کبھی دیکھا ہے ہمیں ایڑیاں رگڑتے ہوئے؟ کبھی دیکھا ہے ہمارے کسی بچے کو کتے نے کاٹا ہو اور وہ  تڑپ تڑپ کر مر جائے۔ حالانکہ ہمارے ہر گھر میں کتا موجود ہوتا ہے، مگر وہ ہم سے وفادار رہتا ہے، ہمارے  بچوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔  کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جو ہماری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات کرے گا، اس کی آنکھیں نکال دی جائیں گی۔  کبھی دیکھا ہے ہمیں ہاتھ پھیلاتے ہوئے، ،بھیک مانگتے ہوئے،، کبھی دیکھا ہے ہمیں غلاظت کے ڈھیر سے کھانا چنتے ہوئے؟۔ نہیں دیکھا نا؟جانتے ہو کیوں؟ کیونکہ ہم محنتی ہیں۔ ہم محنت کروانا جانتے ہیں، ہم نسلوں سے محنت کرواتے چلے آ رہے ہیں۔ ہم صبح کو ایک سے منہ دھلواتے ہیں، تو دوسرا ہمیں ناشتہ کراتا ہے۔ ایک ہماری گاڑی کا دروازہ کھولے کھڑا ہوتا ہے تو دوسرا دفتر میں ہمارا منتظر۔ ہم تو نسل در نسل تم پر حکومت کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ جس وقت تم سرکاری سکول میں اپنی چٹائی بچھا رہے ہوتے ہو تو ہمارا بچہ انگلینڈ میں نرم بستر پہ سویا تم پہ حکومت کے خواب دیکھ رہا ہوتا ہے۔ خیر یہ الگ بات ہے کہ تم پر حکم چلانے کے لیے ہمیں آکسفورڈ کی سند کی بھی کوئی خاص ضرورت نہیں۔ تمہارے  بچےہماری رکھوالی کریں، اور بچیاں ہماری خواہشات پوری کریں۔ تم سے کام لینا ہمیں آتا ہے، تم سے خدمت نہ کروائیں تو ہماری راتیں کیسے گزریں۔ تمہاری پیدائش کا اور مقصد ہی کیا ہو سکتا ہے، تم تو پیدا ہی اسی کام کے لیے ہوئے ہو۔

اور یہ شور کر کے تم  کسے دکھانا چاہتے  ہو، جانتے ہو جس گلے سے تمہاری آواز نکلتی ہے، اس گردن کی زنجیر ہمارے ہاتھ میں ہے۔ جب چاہیں اسے کھینچ دیں، جب چاہیں کھلا چھوڑ دیں۔ ہم چاہیں تو تمہاری آواز تمہارے منہ سے بھی باہر نہ نکل سکے۔ ہم چاہیں تو تمہیں باندھ کر پانی میں چھوڑ دیں۔ تم اپنی اوقات کا تعین کرو، پھر خدا کے حضور اپنی فریاد کرو۔ تمہاری آوازیں، تمہاری  اچھل کودتمہارے کسی کام کی نہیں ہے۔ خدا ہمیں اپنی فیصلہ سازی میں شریک رکھتا ہے، تمہاری آہ و بکاہ میں اثر ہوتا تو اب تک ہم تخت پر موجود نہ ہوتے۔ مگر شاید زمین پر ہم طاقتور ہیں اس لیے آسمانی طاقتیں بھی یہاں ہماری قوت کی معترف ہیں۔ تمہیں اپنا حق چاہیے، تمہیں اپنا حق مانگنے کا شوق ہے تو ٹھیک ہے ہم تمہارا مطالبہ منظور کیے دیتے ہیں۔ مگر بتاؤ بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟ ہمارے شوق بھی پورے کرو، بہت عرصہ ہوا تلور کا شکار ہم نے نہیں کھیلا اپنے آنگن میں کھلی ایک کلی کو بنا سنوار کر ادھر بھیجو، تمہیں تمہارے حقوق معاوضے کے ساتھ مل جائیں گے، اور کچھ؟

Usama Iqbal Khawaja
Usama Iqbal Khawaja
صحافی بننے کی کوشش میں، بول نیوز کے ساتھ منسلک ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *