کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔قسط 17/محمد اقبال دیوان

سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مزکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں

کیمسٹری کے پروفیسر
عربی ساز دبکا
اسلام آباد کا ڈی چوک

قسط نمبر سولہ کا آخری حصہ

آپ کو بہت دلچسپی ہے نا کہ یہ میں آپ کو خود ہی پھوٹ دوں کہ میرے علاوہ ہمارے اس علاقے سے کن اور حسین خواتین کا تعلق رہا ہے۔کان کھول کر سن لیں۔مجھے تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہے۔انسان بن گئی ہے کرن ماہتاب کی۔ مجھ سے پہلے میرے علاوہ یہاں کی بستی گوگڑاں میں ایک بی بی نذیراں رہا کرتی تھی۔ اس کی دو بیٹیو ں اداکارہ انجمن اور ان کی چھوٹی ہم شیرہ اداکارہ گوری نے بڑا نام نکالا۔ یہ جو گوری ہے نا چھوٹی والی۔ بستی کے رانگڑ بتا تے ہیں کہ اس پر پنجاب کے ایک بڑے صاحب ہوش و ہواس بھلا کر فریفتہ تھے۔ آپس میں یہ کئی بھائی تھے۔ شریف صرف دو ہی نکلے۔ دونوں ہی نے نام بھی نکالا۔جیل بھی گئے۔ کسی نے ان کے فولاد بدن والد صاحب کو شکایت کی کہ یہ چھوٹے صاحبزادے ایسے ہیں کہ ان کو اگر مادہ پانڈہ بھی اچھی لگ جائے تو یہ شادی کے لیے اپنا رشتہ بھیج
دیتے ہیں ۔ سادہ لوح والد صاحب کہنے لگے”وڈے بھرا توں تے چنگا ای اے گھٹو گھٹ ویاہ تے کرلیندا اے“۔ایک اور بی بی بھی ہمارے ضلع کی مشہور ہوئیں۔ یہ بھی رانگڑوں نے مجھے بتایا ۔ وہ تھیں شاعرہ نوشی گیلانی صاحبہ جو وہاں کے ڈپٹی کمشنر مرتضی برلاس سے داد سخن وصول کرتے کرتے ان کے حبالہء نکاح میں بندھ گئی
.
قسط نمبر17
کرنل مسعود آئے۔مجھے تو ا چھے آدمی لگے۔سڑک پر چلے جاتے ہوں تو کیمسٹری کے ایسے پروفیسر لگتے تھے جنہیں جمناسٹک کا شوق بھی ہو۔اداس،بے لطف آنکھیں۔ کیمیائی فارمولے جیسی گنجلک اور بے کیف گفتگو،ملازمت کے پیچھے فنا، رٹے رٹائے اسباق کا دبکا پیٹ پیٹ کر اپنی پیشہ وارانہ مسافت جاری رکھنے والے۔مجھے کہتے تھے کہ صدر جنرل مشرف کا منصوبہ ہے کہ وہ بانی پاکستان محمد علی جناح کے خواب کو ایک روشن خیال پاکستان یعنی Enlightened Pakistan میں بدل دیں،جدیدیت سے معمور، دل میں آیا کہ کہہ  دوں بالکل ایسا پاکستان جو جنرل صاحب کی طرح شراب کا جام گھٹکا کر، رات کے پچھلے پہر بدکار عورتوں کے جھرمٹ میں ناچ ناچ کر راگ بھیرویں کی ٹھمری لاگی رے تو سے لاگی نجر سیاں لاگی گاتا  ہو۔اب چونکہ سرزمین پاکستان میں قیام ہے تو مجھے اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے جینا مرنا ہوگا۔ ابو کہتے ہیں خفیہ ایجنسی کے افراد  چاہے وہ سوئیلین ہی کیوں نہ ہوں انا پرست اور بد دماغ ہوتے ہیں ۔ راستے میں نظر بھی آجائیں تو ان سے بچ کر گزر جانا ہی بہتر ہے۔ ان کو لات مار کر جگانے کا کوئی فائدہ نہیں۔یہ ہی کچھ سوچ کر اپنی اس بے ہودہ حاضر جوابی سے اجتناب کیا۔ میرے ابو کہیں سے کس اپنے کسی ریٹائرڈ فوجی بڑے سے اپنے منتخب پاور گروپ کی کمانڈر کانفرنس میں جنرل ضیا الحق کی کہی گئی یہ بات سن کر آگئے تھے۔جنرل ضیا الحق کہہ رہے تھے کہ انہوں نے یہ سب کچھ جنرل رومیل سے سنا تھا کہ Power is never ridiculous.Even monkey with stars is to be respected as a commander(اقتدار کبھی بھی مضحکہ خیز نہیں ہوتا۔ بندر نے بھی اگر یونی فارم پہنی ہو تو اس کا رتبہ ستاروں کے اعتبار سے جنرل کا ہوگا)۔

طبلہ اور اس کے حصے
طبلہ اور اس کے حصے

سو میں نے دل ہی دل میں۔ نعرہ تکبیر، اللہ اکبر، اسٹیبلشمنٹ دے نعرے وجن گے۔ سوچ کر انہیں ناراض کرنے سے پہلو تہی کی۔ میری زندگی میں اب بس دو باتوں کی اہمیت ہے۔میرا گڈو، میرا ارسلان، میری سیاست،میرا پاکستان۔ پاکستانی سیاست میں جینے کا منترہ یہ ہے کہ اپنا کام پورا تو بھاڑ میں جائے نورا۔ سو میں نے ان کے نائب ناظمہ والی تجویز کو یکسر رد تو نہ کیا مگر انگلستان کی سماجی تربیت سے اس میں ایک Loose End یہ جوڑ دیا کہ میں بڑی مشکل سے برطانیہ میں اپنا چلتا ہو ملین پاؤنڈز کا فیشن مرچنڈائیزنگ کا کاروبار چھوڑ کر پاکستان اپنے ابو کی ضد پر آئی ہوں۔ زمین داری ہماری روزی روٹی ضرور ہے مگر مجھے اس مقامی بلدیاتی سیاست کے علاوہ بھی کوئی آپشن درکار ہوگا۔لودھراں سر دست اتنا ماڈرن بھی نہیں کہ میں نائب ناظمہ بنوں۔میں پاکستان واپسی کے فوراً بعد ہی اتنے ٹائٹ کونے میں آپریٹ نہیں کرسکتی۔میں پہلے اپنی زمینوں اور انکم کے ذرائع کو مضبوط اور استوار کرنا ک چاہتی ہوں۔سیاست یو۔ نو۔نا۔مہنگا شوق ہے۔ ً

بلدیاتی سیاست کے براہ راست اثرات میری زمینداری پر پڑیں گے۔یہ میرے لیے بہت مشکل ہوگا کہ میں اپنے روزگار کے دروازے پر سیاست کا کچرا جمع کروں۔ کچھ اور سوچیں،ان کو یوں ٹالنے سے پہلے میں چھوٹم کو اندر سے ساتھ لے آئی تھی۔یہ کرنل، بریگڈیئر جب آپ سے سیاست پر بات کریں تو ان بے چاروں کا فہم اور اثر کا دائرہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کوئی کسی چھوٹے سے قصبے کا کوئی نیک مولوی،لاس ویگاس کے کیسینو بزنس پر بھاشن دے رہا ہو۔فوجی حکومت کے سربراہ کی زندگی ایک جملے کا نچوڑ ہوتی ہے۔مولوی کا بیٹا ہے تو ضیا الحق نکلے گا۔ عیاش ہے تو یحیی اور بے اصول اور کرپٹ ہے تو جنر ل پرویز مشرف۔ اس کی ہوس اقتدار کے پروگرام پر عمل درآمد کے لیے جب ادارے کے نیک، ہونہار،پیشہ ور  ماہر  افسر خفیہ اداروں کے ذریعے سیاست کی بساط بچھانے پر لگا دیے جاتے ہیں تو ان کا کل پس منظر طاقت اور اقتدار سے جڑی ایک ایسی سوچ ہوتی ہے جس میں نتائج کا دار و مدار ان کے مقاصد اور سیاسی فہم سے نتھی ہوتا ہے جو بہت کٹ کاپی پیسٹ قسم کی تھیسیز ہوتی ہے۔ اس کی کی کھال کھینچ کھانچ کر اقتدار کے طبلے پر چڑھا دی جاتی ہے۔ کیا سیاہی (طبلے کے درمیان کا سیاہ دائرہ)کیسا میدان، کیا چھاٹی(کناری) کیا باندھی(ڈوریاں) کیا گجرا(وہ گول کناری جس میں میدان کی کھال کو باندھا جاتا ہے) سب حلال ہوجاتا ہے۔

چھوٹم کو میں نے بریف کردیا تھا۔ اسے کھینچ کر ان مذاکرات میں شامل کرنے کا مقصد انہیں طے شدہ بریف اور پلان سے بھٹکانا مقصود ہے۔وہ نہیں شامل ہوگی تو ہیڈکوارٹر میں کرنل صاحب کو مشن کو ناکام مانا جائے گا۔ وہ آجاتی ہے تو توازن کے لیے اس کا وجود کرنل صاحب کے اعلی افسران کو بھیجی گئی رپورٹ میں ایک خوش رنگ اور کومل کونٹیکٹ کا اضافہ سمجھا جائے گا۔یوں نئے آپشن کے حساب سے کرنل صاحب اور ان کے بڑے کچھ دن اور تسلے میں چاند دیکھ لیں گے۔

میں نے بہت ہلکے سے انہیں بتایا کہ یہ میری دوست ڈاکٹرانجم ہیں یہ سینٹ کی مخصوص خواتین کی نشست سے امیدوار ہیں۔خواتین کے جلوے صوبائی  اور مرکزی سیاست میں ضرور عام ہیں مگر بلدیاتی سیاست بہت ریٹیل کا دھندا ہے۔پاکستان میں ہمارے جیسی رشتہ دار اور چہیتی لاڈلی حسیناؤں کے لیے صوبائی قومی اسمبلی اور سینٹ کی مخصوص نشستیں ہی سیاسی عظمت کی آخری امید ہیں۔ہمارے مرد رشتہ دار،ہمارے پالن ہار،اگر طاقت،مال بنانے اور رشتہ داروں کو نوازنے کا یہ من سلوی اپنی ہوتی سوتی خواتین میں نہیں بانٹیں گے تو اس اسمبلی کے دروازے اور کرسیاں توڑ کر گیس کے بحران میں جلادیں۔

انجم چونکہ اعلی حضرت کے بریف سے باہر تھی۔اس وجہ سے ملاقات مختصر مگر بہت خوش گوار ہوگئی۔انہوں نے میرا سیل فون نمبر لیا۔ یہ انہیں شاید اچھا نہ لگا کہ چھوٹم کا نمبر بھی مانگ لیتے۔ یہ جان کر البتہ ان کی مسرت دیدنی تھی کہ چھوٹم اسلام آباد میں ہوتی ہے۔ جب چھوٹم نے انہیں اپنا بزنس کارڈ دیا تو یہ ان کے لیے تابوت سکینہ Convenant of the Ark) یہودیوں کا وہ مقدس صندوق جس میں سیدنا موسی علیہ سلام کے نوادارات محفوظ ہیں اور جو ان سے سیدنا عیسی علی سلام کی پیدائش سے ستر برس قبل رومن بادشاہ ٹائیٹس کے حملے میں گم ہوگیا تھا ۔قرآن العظیم کی سورہ البقرہ میں اس کا ذکر آیت نمبر 248 میں موجود ہے ) کی دریافت تھی۔ اس پر جملہ فون نمبر ز اور کلینک کا پتہ تھا۔ کارڈ کی تفصیلات دیکھتے ہی انہیں یاد آگیا کہ ان کی کزن کے بیٹے کو ڈس لیکسیا(سیکھنے سکھانے کی اہلیت میں رکاوٹ) شاید وہ اس سے رابطہ کریں گے۔مجھے البتہ جتادیا کہ ممکن ہے لاہور یا اسلام آباد سے مجھے الیکشن سیل کے کوئی بڑے افسررابطہ کریں گے۔ایسا ہو تو میں ان سے پہلے رابطہ کروں۔خود سے کوئی معاملات طے کرنے نہ لگ جاؤں۔میں آپ سے پس منظر شئیر کروں گا۔مزید بات چیت اس حوالے سے کرنی ہے۔میرے اصرار پر اس کو زوم ان کرکے صرف اسلام آباد تک محدود کردیا گیا۔ مجھے یقین تھا کہ مجھے لائحہ عمل طے کرنے ا میں میرے گڈو اور چھوٹم کے سائیں سرکار کی بھی مدد شامل ہوگی۔

مجھے قائل کرنا چاہتے تو ان کے پاس یقینا ً پنجاب اور سندھ سے دو اہم سیاسی خانوادوں کی (نواب شاہ اور جھنگ کی ناظمہ ) سیاست میں خواتین کی نامزدگی کا حوالہ تھامگر وہ بھی چپ رہے۔ذہین تھے چھوٹم کے سیاسی حوالے بھی کریدنے سے بھی دامن بچایا۔ یہ الگ بات ہے کہ مجھے یقین ہے،ہمارے گھر سے باہر جاتے ہی چھوٹم کے فون پر سوئچ لگ گیا ہوگا اور کوئی لانس نائیک ولایت حسین کی اس پر نگاہ رکھنے اس کی اسلام آباد کی کوٹھی کی تصویریں بنانے، پاس پڑوس کے ملازمین  سے حال احوال لینے کی ڈیوٹی لگ گئی ہوگی اور ایک دو ٹھیلے والے محلے میں پھیری لگانے کو بھیج دیے گئے ہوں
گے۔ظہیر بھائی کی آمد و رفت پر کڑی نگاہ ہوگی۔ فوجی جب سیاست کی بساط بچھاتے ہیں تو چھلنی میں گلیشئر لے کر بندے کھوجنے نکل پڑتے ہیں ۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ برف کا پہاڑ پگھلے گا تو چھلنی اس بہاؤ کو نہیں روک پائے گی۔بہت بعد میں جنرل پرویز مشرف نے دیکھ لیا کہ ان کے ساتھ ان کے جنرل اشفاق کیانی اور زرداری نے کیسا بھونڈا ہاتھ  کردیا۔فوجی کی وردی اور عورت کا لباس چھن جائے تو بے چاروں کو پاس بچتا کیا ہے۔بن دستک دروازہ گم سم اور بن آہٹ دہلیز کا سا عالم ہوجاتا ہے۔

انجم سے را ت ابو نے دو باتیں کیں وہ اس کے ذریعے مجھے سمجھانا چاہتے تھے کہ میں نے اپنی لائف برطانیہ جانے کے چکر میں پڑ کر پہلے سعید سے شادی کی ضد کرکے بہت ضائع کی ہے۔طاہرہ آنٹی کا مکر کمال تھا ابو اس کے متبادل بیانیہ سوچنے پر رضامند نہ تھے۔ان کو گمان بھی نہ تھا کہ یہ ان کی انارکلی کا منصوبہ تھا کہ مجھے سعید سے بیاہ کر برمنگھم بھیج دے اور یہاں کی جائیداد پر اپنے بیٹوں کا قبضہ پکا کرلے۔اپنی بات میں وزن ڈالنے کے لیے اور مجھے خود سر اور بے عقل ظاہر کرنے کے لیے وہ سر وجدان سے شادی کا پروپوزل بھی لے آئے۔ گویا میں دل کے ہاتھوں اتنی مجبور ہوجاتی ہوں کہ میرا دماغ تلوں میں بچھ جاتا ہے۔

ان کی گفتگو کا ماحصل یہ تھا کہ شہلا میری اکلوتی بہن ہے۔میں نے اسے ایسے ہی پالا ہے جیسے طاہرہ اور نیلم کو پالا ہے۔شوقی بہت نیک،دھیمے مزاج کا مالک اور جدید تعلیم یافتہ ہے شادی ہوجائے تو گھر کی دولت گھر میں رہے گی۔ایسا کم ہوتا ہے کہ زندگی،دوسری دفعہ سلیٹ صاف کرکے آپ کو اپنی تقدیر خود لکھنے کا موقع  دے۔ لائف میں سیکنڈ چانسز کہاں ملتے ہیں۔یہاں میرے پاس رہے۔ مجھے بھی نواسے دیکھنے کا شوق ہے۔میرے بعد ایسا لگتا ہے تقدیر نے اس گھر میں مردوں کو ہمیشہ سے باہر ہی سے بھگا دیا ہے۔شوکی سے مسیار والا سسٹم(ابو کو حیرت ناک طور پر مسیار کا پتہ تھا) رہے گا۔لودھراں کی نائب ناظمہ چھوٹا عہدہ نہیں۔
چھوٹم ذہین ہے۔اس نے ان سوالات اور اعتراضات کا یہ مختصر حل نکالا کہ ابو کو کہا اسے میرے پاس دس پندرہ دن کے لیے بھیج دیں۔اس کی عقل کا سارا  فتور نکال دوں گی۔ابو نے کہا لے جاؤ اگر یہ مشن پورا ہوجائے تو تمہارا مجھ پر احسا ن ہوگا۔میں شہلا کو کہوں گا سعید والی اسٹوری بھی کٹ شارٹ کرے۔شوکی اس کو نمٹ لے گا۔وہ بہت معاملہ فہم ہے۔طاہرہ نے بھی اس کی امی سے بات کرلی ہے۔

فرانس میں زراعتی ادارہ
ستیہ پال کی موگرا عطر ساڑھی
نیلو فر ساڑھی

ڈیوورس بس کاغذات پر دستخظ کا معاملہ ہے۔نہ وہ ہمیں برا کہیں گے نہ ہم ان کو۔ طاہرہ کے وہ قریبی عزیز ہیں ۔ سو نو بیڈ بلڈ (بری فیلنگ) ۔تم یہ سب معاملات کو اپنے گھر پر نمٹانا۔شوکی اور شہلا حامد خواجہ کے گھر رہ لیں گے۔مجھے اس پورے معاملے میں چھوٹم بہت ذہین دکھائی دی۔مزے سے دس بارہ دن بھی مل جائیں گے۔ابو سے دور رہ کر میں بھلا کس  دباؤ اپنے بارے میں تین بڑے فیصلے کرلوں گی۔ہم نے کار تو اگلے دن روانہ کردی اور لانگ ویک اینڈ کی وجہ سے اگلے دن جہاز سے اسلام آباد آگئے۔ ابو سے دس لاکھ روپے کی بات بھی پکی کرلی۔میں نے صاف اعلان کیا کہ میرے پاس کوئی رقم نہیں۔میرے سارے پیسے سعید نے خرچ کروائے۔ابو نے کہا وہ یہ رقم الگی صبح چھوٹم کے اکاؤنٹ میں بھیج دیں گے۔

لیساں (Leysin)۔سوئٹزرلینڈ
ملتان سے گڈو کو البتہ میں نے فون کردیا   کہ میں اسلام آباد آرہی ہوں۔ مجھے ایک ہفتے کے لیے برطانیہ جانا ہوگا۔ کہنے لگا اپنا سامان لینے۔بینک کے معاملات وغیرہ بھی نمٹنے تھے۔ وہ چلنا چاہے تو کہنے لگا آپ کامہمان بن کر۔ کیا مجھے گڈی کے ہاں رہنا ہوگا۔ شریر کہیں کا میری ہر بات کو Anticipate کرلیتا ہے۔میرے پا س برطانیہ اور Shenzhen visa کا ویزہ ہے۔ اگلی  بات جو اس نے مکمل کی وہ طویل ہے مگر بتائے دیتی ہوں۔کہنے لگا میرے پاس بھی یہی کچھ ہے۔ایک دعوت بھی فرانس کے ادارے Irstea – National Research Institute of Science and Technology for Environment and Agriculture (France))سے آئی ہوئی ہے۔ پانی کے استعمال پرسمینار ہے۔ہمارے ایک ڈاکٹر صاحب جن کو وہاں جانا تھا ان کی صاحبزادی کی شادی ہے۔ سیکرٹری صاحب کو جانا تھا مگر مجبوری یہ ہے کہ وہ وزیر اعظم کے ساتھ جارہے ہیں۔کہہ رہے تھے تم چلو جاؤ تمہارے پاسshenzhen visa ہے۔ اچھا ہوا میں ان کے پاس جارہا تھا سو آرڈر نکلوالیتا ہوں۔
مجھے خوشی ہوئی۔میرے نزدیک پیار کی دو نشانیاں یہ ہیں کہ ایک تو پیار کرنے والے کے لیے ایک دوسرے کے لیے وقت ہو اور دوسرے وہ ایک دوسرے کے جملے مکمل کرتے ہوں۔سفر کے پروگرام اور میری بات آپ نے دیکھا گڈو کس قدر سرعت سے مکمل کرتا تھا۔اس کے برعکس میں اس کے ٹکٹ اور قیام کے اخراجات کو آگے پیچھے کرتی رہی۔چھوٹم چونکہ باہر بہت آتی جاتی ہے اس سے پوچھ بھی لیا کہ لندن تک کس ائیر لائن کا ٹکٹ سستا ہوگا۔

اللہ یہ ہم سب عورتیں ہر وقت کیلکولیڑ کیوں کھول کر بیٹھ جاتی ہیں۔ بہترین دعوت میں (ستیہ پال  ہندوستان کے مشہور فیشن ڈیزائنر )کی من پسند چھ سو ساٹھ ڈالر کی موگرا عطر ساڑھی پہنی ہو کوئی دوسری عورت کہہ دے کہ بالکل ایسی ساڑھی تو چھ سو بیس ڈالر میں دوبئی میں عام مل رہی ہے اور اس کی کزن نے خریدی ہے۔ اتنا سن کر ہم برباد ہوجائیں گی۔ دل ہی دل میں ستیہ پال کے آؤٹ لیٹ کو اور دوبئی کے برج الخلیفہ کو آگ لگانے کے منصوبے بنا لیں گی۔
ملتان واپسی پر اسلام آباد ایر پورٹ پر حضرت لینے آئے تھے۔بضد تھے کہ سوئزر لینڈ جائیں۔ اس کی بیچ میٹ فوزیہ وہاں فرسٹ سیکرٹری ہے۔ فوجی حکومت کے آنے کے بعد وہاں سے سیاسی سفیر کے فارغ ہونے کے بعد کسی فل ٹائم سفیر کا تقرر نہیں ہوا وہ ہمیں سفارتی ٹیم برائے مشورہ کا ویزہ لیٹربھیج دے گی۔یہاں پروٹوکول والا کوئی ساتھی جاکر ویزہ لگوالائے گا۔میرے پاسپورٹ کی فوٹو کاپی کرالی۔اصرار تو اس پر بھی تھا کہ میں اس کے پاس سترہ میل والے گھر پر ٹھہروں۔
چھوٹم چالاک ہے۔مجھے خاموشی سے تکتی رہی۔میں نے وضاحت کی کہ پھوپھو بھی اسلام آباد ہیں۔ میرے ڈیوورس کے کاغذات بھی سائن ہونا ہیں۔ شوقی بھی یہاں ہے۔آپ کو چھوٹم کے گھر آنے پر کیا اعتراض ہے۔مجھے بھی اپنے ٹکٹ کی کاپی دے دیجیے گا سو میں اس مناسبت سے ٹکٹ لے لوں گی۔آپ لندن سے فرانس ریل سے چلے جانا۔مجھے آپ سے ایک ضروری مشورہ بھی کرنا ہے
میری طلاق میں رنگ اور کسی کا تو نہیں
سعید اگلے دن دوپہر کو آگیا شوقی اور پھوپھو بھی ساتھ تھے۔میں نے ان سب کو کھانے پر چھوٹم کے ہاں بلوالیا تھا۔ کاغذات پر شوقی کے ماتحت عزیز کی وجہ سے بھی مگر سب سے بڑھ کر اس کے ابو امی پر طاہرہ آنٹی کے دباؤ کی وجہ سے بلاچوں چرا کام ہوا۔میرا کریڈٹ کارڈ بھی نکال کر دے دیا اور انگوٹھی بھی۔ کہنے لگا آپ خود لینے جائیں گی تو بھی کچھ مضائقہ نہیں ، ورنہ آپ جو ذاتی سامان ہے وہ گڈی کو بتادیں کہاں رکھا ہے وہ گھر سے اٹھالے۔میں خود تو یہاں ہوں مگر امی مدد کریں گی۔وہ جاکر لے لے۔ اس کے مجھے آپ آپ کہنے پر حیرت ہوئی ،مجال ہے شب عروسی سے آج تک یہ صیغہء احترام اس کی بھمبر گزیدہ کشمیری زبان پر چڑھا ہو۔۔ مجھے ”تو“کہنے پر اعتراض نہیں۔ بشرطیکہ پکارنے والا آپ کو، آپ اسے ڈوب کر چاہتے ہوں۔ لگتا ہے۔ میرا پہلا مرد،گڈو مجھے”تو“ کہہ کر پکارے گا ۔مجھے یہ پہلی دفعہ اس کے منہ  سے سن کر کتنا Orgasmic لگے گا
اس لفظ کا اردو ترجمہ کیا ہوتا ہے۔ گڈی کہتی ہے جو ہماری طرف اکثر عورتوں کو ہوتا ہی نہ ہو اس کا لفظ کون بنائے۔
میں کہاں کھوگئی۔ سعید نے مجھ سے یہ وچن بھی لیا کہ یہ سب چونکہ سب کچھ اتنی عمدگی سے ختم ہورہا ہے لہذا ہم اپنے Shared Past پر کوئی بات نہیں کریں گے۔یہ اس کی تجویز تھی۔مجھے ہنسی آئی مگر ساتھ ہی ایک بہت تیزی سے  خیال بھی آیا۔آپ کو کاپوڈوکیا والی بڑی بی یاد ہیں جنہوں  نے مجھے دیکھ کر کہ گڈو سے پوچھا تھا:
یور وائف۔جس پر میں نے اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوٗئے زور سے ”یس“ کہا۔ انہیں اس وقت میرے پونچو کو دیکھ کر خیال آیا تو انگریزی پوچھا۔”پریگنینٹ“؟ (حاملہ ہو؟)۔اس سوال کر سن کر گڈو کا چہرہ فق ہوگیا تھا اور میں نے گڈو کی بے بسی کا لطف لینے کے لیے کہا”یس تھرڈ منتھ“(جی ہاں تیسرا مہینہ ہے)۔
میری ہنسی سے وہ کچھ پریشاں سا ہوگیا۔اسے شاید ڈر تھا کہ میں اس کی بہنوں کے حمل اور بدکاریوں اور اس کی نامردی کی تشہیر کے لیے ڈی چوک پر دھرنا دوں گی۔میرے علم میں یہ بات بھی تھی کہ اس کے یہاں قیام میں طوالت کا ایک مقصد ان بہنوں کے لیے رشتہ دار لڑکوں سے بھی ضروری تفصیلات طے کرنا ہے۔اس نے سب حاضرین کو درخواست کی کہ وہ اگر اجازت دیں تو ایک نجی بات ہے جو ہم دونوں کا دوسرے کمرے میں یعنی بیڈروم میں جاکر کرنا مناسب ہوگا۔میں نے چالاکی کی کہ چھوٹم کو بتادوں اس لیے کہ یہ اس کا گھر ہے۔ چھوٹم کو سمجھادیا کہ ایک دو منٹ کے  بعد وہ کمرے میں آجائے۔

کمرے میں آتے ہی سعید جذباتی ہوگئے۔کاندھے پر سر رکھ کر رونے لگے۔مطالبہ کررہے تھے کہ میں ماضی کے ہر حوالے کو اس دستاویز میں دفن کردوں۔ وہ بھی یہاں اپنی کزن سے شادی کررہے
ہیں۔ان کی ہونے والی بیوی کے دو بھائیوں کی شادی اس کی بہنوں حنا اور ثنا گیلانی سے ہورہی ہے۔ درخواست ہے کہ میں ان بہنوں کے گورے کالے مردوں سے تعلقات اوران کے ابارشن کا
کبھی ذکر نہ کروں۔نہ ہی میں اس کے نامرد ہونے کی کوئی بات کروں۔ اس کی ضد ہے کہ میں   اس کمزوری اور اس کے بہنوں کے تعلقات پر ایک بھاری پتھر رکھ کر ان رازوں کو ہمیشہ دفن کردوں۔ میں نے جب کہا میرا مہر ،میرا زیور۔اس خاموشی اور تم جو اتنے پاؤنڈز وہ خرچ کرتے رہے ہو اس کی کوئی قیمت ؟‘کہنے لگا یہ ایک چیک تو میں ساتھ لایا ہوں۔زیور کا ایک ایک آئٹم آپ کو واپس مل جائے گا۔اسے نہیں پتہ تھا کہ میں اپنی طرف کا سب زیور وہاں بنک کے لاکر میں رکھتی تھی کچھ فیک جیولری ضرور میری الماری میں تھی۔ میرا گال تھپکتے ہوئے کہنے لگا۔ تم تو ایک اینجل ہو مگر ہم کشمیری بہت ٹریڈیشنل لوگ ہیں، یو ۔آر۔ ڈفرنٹ۔

اتنے میں چھوٹم داخل ہوتے ہی تقریباً چیختے ہوئے کہنے لگی یہ تو سراسر زناہے۔ایک نامحرم عورت کو بغیر حلالہ گلے لگانا۔بے چار ہ ہڑبڑا سا گیا۔میں نے کہا تمہارے میرے درمیان بات ہے تو ایک شق ہاتھ لکھ کر سے بڑھا لیتے ہیں۔وہ یہ کہ جسم،مال اور شہرت و بدنامی کے حوالے سے اس طلاق کے وقوع پذیر ہونے کے بعد دونوں میں سے کسی فریق کا کوئی بھی دعویٰ  کسی لیبارٹری، ہسپتال یا عدالت میں چیلنج نہیں کیا جائے گا ایسا ہوا تو برطانیہ کے پانچ لاکھ پاؤنڈ کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔اس نے جب منظوری دی تو میں نے شوقی سے یہ شق لکھوالی اور ہم دونوں نے دستخط کردیے۔
سعید لاچار سے میرا آخری بدلہ ایسا تھا کہ اس میں پھوپھو، چھوٹم، شوقی اور اس کے عزیز سب ہی گواہ بن گئے تھا میں نے سب کے سامنے کہا۔. In case of pregnancy I give up my right of maintenance۔(حاملہ ہونے کی صورت میرا ان سے اس بچے کی نگہداشت کا خرچے کا مطالبہ نہیں ہوگا)۔ آپ سب گواہ رہیں۔ میرا بچہ صرف میرا ہوگا۔ اللہ اللہ میں
پاکستان پہنچ کر سیاست کی کمینگی کے انت پر پہنچ گئی ہوں۔ایک تیر سے میں نے چار شکار کیے۔ پہلا اپنی رقم نکلوائی ،دوسرے سعید  سب کے سامنے اعتراف بے بسی کرے۔ تیسرے ساس اور شوقی دونوں کو پتہ چل جائے کہ مجھ سے شادی کے بیگج میں یہ بچہ بھی شامل ہے۔ چوتھااگر پھوپھو اور ساس کمینگی پر اترے تو ان کے بڑے بیٹے طوقی یعنی طارق کا بھی ڈی این اے ہوسکتا ہے۔اس معاملے کو میں بہت اوپن اینڈ ایڈ رکھوں گی۔ارسلان بھی اسی طرح میرے منصوبے میں شامل رہے گا۔ وہ کس طرح۔۔ ہر بات اس مرحلے پر آپ کے ساتھ شئیر نہیں کی جاسکتی۔ آپ نے دیکھا یہ چاروں کیسے محمود و ایاز کی طرح ایک صف اہداف یعنی لائن آف فائر میں آگئے ہیں یعنی سعید، شوقی،شہلا پھوپھو اور میرا گڈو میری جان۔

یہ سب ہوگیا تو پھو پھو کی مرضی تھی ہم سب کھانے پر جائیں۔مگر میں نے بہانہ بنایا میری کچھ آئندہ کی ملاقاتیں ہیں۔وہ چاہتی تھیں میں  اور شوقی   ان کے سامنے بات کرلیں۔ایک عورت اگر دوسری عورت کو پڑھ لیتی ہے تو کوئی کمال نہیں۔ سب عورتیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔مجھے پھر بھی ایک طرف لے جاکر کہنے لگیں چھوٹم کو کہہ کر بچہ نکلوادو، ابھی تو پیٹ بھی دکھائی نہیں دیتا۔تمہارا ماں بننے کاشوق، میرے گھر میں میرا بیٹا جلدی پورا کردے گا۔میں نے انہیں باؤنسر مارا کہ ابھی میں نے شوقی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا۔میرے لندن میں بہت سے ادھورے معاملات پڑے ہیں۔ اس مہینے کی تنخواہ،بینک،سامان۔ پھر پھوپھو آپ مجھ پر پریشر نہ ڈالیں۔ہماری اگر شادی ہوگی تو میں اور شوقی ایک معاہدہ کریں گے۔

اب نئی شادیوں میں ایسے معاہدے پہلے طے ہوجاتے ہیں کہ طلاق ہوئی تو کیا ہوگا۔ میرے منہ  سے طلاق کا لفظ ادھورا ہی نکلا تھاکہ چھوٹم آگئی۔پھوپھو کہنے لگیں اس کو سمجھاؤ ابھی تو میرے بیٹے کی شادی کی انگوٹھی بھی انگلی میں نہیں آئی اور یہ ایسے اشبھ (منحوس) کلمات منہ  سے نکالتی ہے۔میرے بھائی کو کتنا دکھ ہوگا۔ہندوستانی ٹی وی ڈراموں اور فلموں کی چاٹ سے ان کی نوک زباں پر ایسے ہندی الفاظ ہر وقت موجود رہتے تھے۔چھوٹم انہیں دوسرے کمرے میں لے گئی اور کہنے لگی۔بہت ڈسٹرب ہے۔ رات بھر روتی رہی ہے۔ حلیہ نہیں دیکھا۔ نہائی نہیں۔بال بھی جیسے تیسے بنائے۔ میرے کہنے پر تین لاکھ مہر بھی نہیں مانگا فی الحال تو آپ اس کو اگنور کریں عورت کے لیے طلاق کے کاغذ پر دستخط کرنا کوئی معمولی سانحہ نہیں۔آپ اس وقت کہروڑ پکا جائیں۔ابھی بچے وغیرہ کی بات نہ کریں ورنہ ہتھے سے اکھڑ جائے گی۔میں سب کھڑکی سے لگی سن رہی تھی۔شوقی بھی نیچے موجود تھا۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *