سعودی تیل کی تنصیبات پر حملہ اور نقارہ جنگ۔۔۔۔راحیلہ کوثر

21 ستمبر بروز ہفتہ سعودی عرب آئل فیلڈ (ابقیق)پر ڈرون حملے ہوئے، جس سے لگنے والی آگ کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا،البتہ سعودیہ اور رعالمی منڈی کے لیے یہ مالی طور پر  ایک بہت بڑا دھچکہ ہے۔اس حملے  کی وجہ سے سعودی حکومت کی جانب سے 57لاکھ بیرل یومیہ آئل کی رسد منقطع ہو چکی ہے ،جسکی بحالی میں کئی ہفتے درکار ہیں۔جبکہ عالمی رسد میں 5فیصد کی کمی واقع ہونے سے تیل کی قیمتیں بھی 4ماہ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہیں۔

اس ضمن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ”سعودی عرب پر حملے کے بعد تیل کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے امریکی ایندھن کے ذخائر سے تیل جاری کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، مارکیٹ میں تیل وافر مقدار میں موجود ہے”۔

دوسری جانب امریکہ کا الزام ہے کہ ان حملوں کے پیچھے ایران یا اعراق ہے۔اعراق کی بات کی جائے تو وہاں امریکہ کا اچھا خاصا  کنٹرول ہے۔جبکہ یمن سے بھی ایرانی حمایتی حوثی باغی کئی بار سعودی عرب پر میزائل حملہ کر چکے ہیں۔ ایک بڑے عالمی حلقہ کی رائے یہ بھی ہے کہ یہ حملہ امریکہ نے خود کر وایا ہے۔ بحر حال ذمہ دار کون ہے یہ جلد پتہ چل ہی جائے گا۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ وہ اس جارحیت کا بدلہ  لیں گے۔ اس حوالے سے امریکہ نے بھی ان کا ساتھ دینے کا آسرا دے رکھا ہے جس سے ایک اور جنگ چھڑنے کے امکانات بھی ہیں۔یہی آسرا امریکہ نے صدام حسین کو دے کر دس سال تک ایران سے لڑوایا تھا اور اربوں روپے کا اسلحہ بھی بیچا تھا۔

اس حوالے سے برطانوی سیکرٹری خارجہ ڈومینک۔راب کا یہ بیان بھی ایک بڑی خبر ہے (سعودی تیل تصنیبات پر حملہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے)۔

میں خیال ہے کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہو گئی،یمن معصوم بچوں کے مدارس پر بم مارنا،کشمیر میں مسلمانوں کا جینا اجیرن بنا دینا،برما میں مسلمانوں  کا قتل عام کرنا، فلسطین پر مظالم کے پہاڑ توڑنا ،کیا عالمی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے؟۔۔۔مسلم ریاستوں پر حملے کیاعین عالمی قانون ہے؟ ۔کیا اس تیل کی قیمت مسلم جانوں کی قیمت سے بڑھ کر ہے؟ کیا مسلم ریاستوں کی تباہی کوئی تباہی نہیں ہے؟۔۔ مجھے بھی اس تباہی کا افسوس ہے مگر اتنا ہی افسوس ہے جتنا کہ عربوں کو کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کے قتل عام اور ان پر ڈھائی جانے والی بربریت کا ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسلم ممالک اکٹھے ہو کر اس معاملے کو پُر امن طریقے سے حل کریں۔ورنہ اس جنگ کے نتیجے میں پورا مڈل ایسٹ امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی زد میں آجائے گا اور امتِ  مسلمہ معاشی اور معاشرتی طور پر بھی کمزور ہوکر رہ جائے گی۔

ہم بٹے ہوئے ہیں تفرقات میں
ذات پات میں ،رسومات میں
کافر نے پایا ہے سراسر فیض اس سے
کہ اس دور میں ملت بیضہ یکجان نہیں
(راحیلہ کوثر)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *