کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط16

سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مذکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں

قسط نمبر 15 کا آخری حصہ
میں نے اوشا سے پوچھا کہ ملنگی اور باپو کہاں ہیں تو کہنے لگے ملنگی تو امی کے ساتھ ترناب گیا ہے۔وہ میرے بیٹے ماہر کے ساتھ بہت فرینڈلی ہے۔باپو وہاں گارڈن میں ہے۔
ہم جب گھر سے نکل کر آئے تو مجھے خیال آیا کہ عجب رفاقت تھی نہ بہت باتیں کیں۔نہ بہت زیادہ جسمانی بے تکلفی کا مظاہرہ ہوا۔ سچ پوچھیں تو مجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اگر اپنے ارادوں کا رخ مشترکہ بے لباسی اور آگے کے مراحل پر لے جاتا تو میں اسے روک پاتی۔ اس حوالے سے مجھے اپنے بدن کی دفاعی صلاحیت پر جو ناز تھا وہ اس کے جہاز والے بوس و کنار کے سیشن سے ریزہ ریزہ ہوگیا تھا۔ ہم دونوں کے بدن کی لاگ لپٹ کے دوران مجھے لگا کہ وہ اوشا کی وجہ سے کچھ ٹھنڈا تھا ۔ممکن ہے اسے یقین ہو کہ ڈور نے پتنگ کو تھاما ہوا ہے۔جلد بازی دکھائی تو کنے کھل جائیں گے(کنے جن سے پتنگ کو کمان بنا کر ڈور سے اڑانے کے باندھا جاتا ہے۔)

قسط نمبر 16
میرا ارادہ تھا کہ میں انجم کے گھر کے پاس اتر جاؤں گی مگر جیپ جب گلی میں مڑی تو چھوٹم کسی سے گیٹ پر کھڑی بات کررہی تھی۔معلوم ہوا سندھ کے کوئی سیاست دان ہیں نوجوان، دلفریب،کچھ Macho قسم ک ے۔ چھوٹم کا مجھے پتہ ہے اسے ایسے ہی زور آور خان جی قسم کے مرد پسند ہیں۔وہ خود بھی اندرونی طور پر بہت بوہیمین ہے۔بہت لبرل، می۔ ٹو قسم کی۔ میرا بدن، میری مرضی والی، لاپروا،ہ من چلی ۔ایسے مردوں کو وہ سدھانا خوب جانتی ہے۔

سائیں سرکار کا مطالبہ تھا کہ ہم رات کا کھانا ان کے بنگلے پر کھائیں۔چھوٹم اس دوران گڈو کا جائزہ لیتی رہی۔مرد آپس میں سندھی بولنے پر اتر آئے اور ہمیں یکسر نظر انداز کیا تو انجم نے مجھ سے پوچھا A gray rhino this time.Baby (سرمئی گینڈا انگریزی زبان میں ایک بڑے ظاہر اور ممکنہ خطرے کو کہتے ہیں)۔انجم کی مرضی تھی کہ شاہ سائیں اور میں تو مہمان ہیں اور ارسلان میرا،جگر گوشہ،سو شرف میزبانی اسے بخشا جائے۔ارسلان کا اصرار تھاکہ کھانا وہ اپنے سترہ میل والے گھر پر کھلائے۔اس کے دفتر میں ایک بلوچی ُکک سجی بہت اچھی بناتا ہے۔گھر کےبکرے کی،اصلی گھی میں بنی سجی اور لوکی کا بادامی حلوہ۔

سندھی پینگو۔جھولا
فارمولا ون کی ریس

مجھے لگا کہ سائیں سرکار اور گڈو میں ایک خاموش سی  ضد لگ گئی کہ ہم دونوں کس کی دعوت قبول کرتے ہیں ۔میں نے بطور مہارانی آف چیس شریف کے حتمی ا علان کیا کہ نو پارٹی ٹو نائٹ۔ مجھے جلدی سونا ہے اور ہم دونوں نے اعلی الصبح سفر کے لیے بھی نکلنا ہے۔ مسکراتے ہوئے یہ بھی جتادیا کہ یہ ہماری hen’s night یعنی لڑکیوں کی آپس کی پارٹی کی رات ہے۔

ہم دونوں بہت عرصے کے بعد ملے ہیں۔بہت باتیں کرنی ہیں۔ چھوٹم کے دوست اس پر لہک کر کہنے لگے اللہ سائیں ہم بھی اپنی ڈاکٹر بابو سے بہت دنوں کے بعد ملے ہیں۔ hen’s night ہم کو بھی ککڑ بنا کر اس رات کی تنہائی میں آواز دے کر بلالو۔محبت میں اتنا نہ ستاؤ۔جس پر چھوٹم کہنے لگی
کراچی میں رہ کر سلیمان آپ کا سینس آف ہیومر لیاری والا ہوگیا ہے۔جس پر سائیں نے گڈ بائی کہا اور چل دیے۔

ان دونوں سے جان چھڑانے کا مقصد یہ تھا کہ میں اورچھوٹم اب یکساں کشتی کے سوار تھے۔ دونوں ہی ایک دفعہ کے مرد باختہ،گو وہ مجھ سے کہیں زیادہ آزاد خیال اور لاابالی مزاج کی اپنی مرضی سے زندگی گزارنے والی عورت تھی۔۔ہم نے سوپ اور اور سینڈوچ کاڈنر کیا۔تھوڑی بہت شراب بھی پی۔رات اس کے پینگے(جھولے) پر بیٹھ کر گپ لگائی۔ پینگا شکارپور سے سائین نے بجھوایا تھا۔۔مجھے اندازہ تھا کہ چھوٹم کو پتہ تھا میں اس کے شاہ سائیں کو دیکھ کر اتنی حیرت زدہ نہیں ہوئی ہوں گی جتنی وہ میرے گڈو بادشاہ کو دیکھ کر ہوئی۔

پوچھ بیٹھی کہ ارسلان کون ہے، کیا ہے۔جب بتایا کہ ملاقات کیوں کیسے ہوئی تو اسے بڑی حیرت ہوئی کہ میری اسپیڈ تو فارمولا ون کی ریس کار والی تھی۔اس نے جتایا بھی کہ یہ رفتار بہت زیادہ ہے۔گر بھی پڑتے ہیں بہت دوڑ کے چلنے والے۔اسے لگا کہ یہ سعید کی  طلاق کے  پیغام کا شدید ردعمل ہے۔میرا شاک ری ایکشن۔ اس کا یہ مشورہ تھا بے بی۔ کول۔ اٹ۔ ڈاؤن۔

جتانے لگی کہ شاہ سائیں کو اس نے ایک سال سے تپایا ہوا ہے۔ابھی تک بوس و کنار سے آگے بات نہیں پہنچی۔مجھے دو مرتبہ شادی کا کہہ چکا ہے۔میں جتا چکی ہوں کہ میری زندگی میں پہلے بھی مرد رہے ہیں۔وہ کہتا ہے جان میری میں بھی کسی کولڈ اسٹوریج میں  بڑا نہیں ہو ا۔گاؤں میں ایک بیوی ہے۔کراچی میں کوئی کیپ بھی تھی۔میں نے کہا میں اپنی پریکٹس اور اسلام آباد نہیں چھوڑوں گی۔سو یہ ایک طرح کی ری ورس مسیار (سعودی اور سلفی فقہ میں مسیار عربی لفظ یسر بمعنی آسانی کی روشنی میں) عموماً مالدار بیوہ یا مطلقہ عورت کی شادی،جس میں نان نفقے اور گھر کے اخراجات کی ذمہ داری شوہر پر نہیں ہوتی۔ بیوی اپنی منتخب کردہ رہائش گاہ میں رہتی ہے۔میاں کی آوک جاوک لگی رہتی ہے ہماری شادی اس قسم کی ہوگی۔ میں اسے اپنے مال میں کچھ نہیں دوں گی۔میرا
خرچہ اس پر ہوگا۔Pre Nupitals (شادی سے پہلے شرائط کا معاہدہ)۔ سائیں میری تمام شرائط لکھنے پر راضی ہے۔

Dousing

چھوٹم بتانے لگی۔ان کے خاندان میں کچھ سیاسی فیصلے ہونے ہیں۔درمیان کا بھائی ہونے کے حساب سے فیصلہ یہ ہے کہ اسے اب کی دفعہ سیاست سے باہر رہنا ہوگا۔ بڑا بھائی ایم پی اے بنے گا چھوٹا
بھائی ناظم۔سائیں نے ظہیر بھائی کے محاورے میں ایک اڑنگا (رکاوٹ ڈالنا،کشتی کا ایک داؤ)لگایا ہے کہ میری بیوی ڈاکٹر انجم کو ٹیکنیکل سیٹ پر سینٹر بناؤ۔ہمارا سندھ کے دو ضلعوں میں حلقہ انتخاب ہے دو ایم این اے اور پانچ ایم پی اے ہم نکال سکتے ہیں۔ ہم کو کچھ تو ملے۔ پارٹی اپنی بڑی لیڈر کی ہلاکت کی وجہ سے کچھ تتر بتر ہے پرانے گھاگ گھرانوں سے سیٹنگ کرنا چاہتی ہے۔پارٹی والے اسی چکر میں میٹنگ کے لیے آرہے ہیں۔

میں نے بھی وضاحت کی کہ ارسلان سے کوئی کٹمنٹ نہیں مگر ہم دونوں میں آپس میں پیار کا اظہار ضرور ہوا ہے۔میں نے اس سے اوشا سے اپنے حسد کا ذکر کرتے ہوئے جب ان دونوں کے تعلق کا پوچھا تو مجھے آگ لگ گئی۔کیوں کہ انجم کہہ رہی تھی مردوں میں جنس کا اظہار کسی ذمہ داری سے نہیں جڑا۔ یہ ان کے لیے سہولت، دستیابی کا معاملہ ہے۔ان کے ہاں اس حوالے سے کوئی جذباتی لگاوٹ نہیں ہوتی۔ایسا ہو تو سمجھ کہ فل پیکج مل گیا۔وہ عورتیں جو سماجی اور معاشی طور پر کمزور ہوں وہ مرد کو جنس میں فاتح ہونے کا احساس دلاکر اپنی سپردگی سے ایسے ڈھانپ لیتی ہیں کہ مرد کو چس آجاتی ہے۔اوشاجواں بدن ہے۔ماں اور بیٹے کو بھیج کر تخلیہ کیا۔ ائیر پورٹ لینے بھی آئی تھی تو معاملہ ملازمہ کا نہیں۔بی شیور وہ اس کی بیوی کے علاوہ سب کچھ ہے۔منتظر،مانوس،جواں بدن،سیکس آن ڈیمانڈ والی عورت سے بہتر اور کون سا ورلڈ کپ ہوگا جو گھر کے بستر کے ہوم گراؤنڈ پر برپا ہورہا ہو۔

میں نے شوکی کا بتایا۔۔کہنے لگی میں نے اسے بہت عرصے سے دیکھا نہیں۔کچھ کہنا مشکل ہے۔ساری الجھن تمہارے ابو کی ہے۔ان کی یہ چودھراہٹ نہ ہو تو معاملہ آسان ہے۔ارسلان اچھا مرد ہے۔سنجیدہ،معتبر، گڈ جاب، گڈ پوزیشن،برائیٹ فیوچر۔انکل ظہیر اپنی نہ چلائیں تو یہ شادی ایک ہفتے میں ہوسکتی ہے اور میں دسمبر میں خالہ بن جاؤں گی۔بے بی ہی وانٹس یو۔ میرے دل میں ایک ہوک سی اٹھی۔اوشا جب ہم یہ پاٹھ شالہ (ہندی میں ا کیڈیمی) کھولے بیٹھے ہیں کاتک کی کتیا( نومبر دسمبر کا مہینہ جس میں چوپایوں کے جسمانی وصال کی مانگ زوروں پر ہوتی ہے ۔ہندی میں کاتک کی کتیا بری عورت کو کہتے ہیں) اس کی بانہوں میں برہنہ کسمساتی ہوگی۔میری سلگائی ہوئی جسمانی ہوس کی آگ کو دھیمے دھیمے اپنی مسکراہٹ اور سپردگی کے چھڑکاؤ سے کسی سگھڑ نوکر کی طرح باربی کیو کے کوئلوں کی طرح بھگو بھگو کر بجھاتی ہوگی۔انگریزی میں اس عمل کو Douse کرناکہتے ہیں۔۔۔

اب آپ کی اردو میں آگ بجھانے کے لیے الفاظ نہ ملتے ہوں تو میرا کیا قصور ۔ملنگی کتا کہیں کا، ترناب میں اپنی کسی ہوتی سوتی کو سونگھتا پھر رہا ہوگا۔باپو بڈھا کمینہ کہیں اوشا کی آہیں اور سسکیوں کے صوتی اثرات یاد کرتا ہوگا۔

میں انہی  خیالات میں کچھ کھوسی گئی توچھوٹم نے آہستہ سے پوچھا Lost in Translation۔میں نے اوہوں کہہ کر اسے کہا کہ مجھے اس خیال سے بھی حسد ہورہا ہے کہ وہ اور اوشا ایک بستر میں ہوں گے۔ تو پھر ،میں نے آہستہ سے کہا انجو I Miss Him Even When I Blink (میں پلک بھی جھپکاتی ہوں تو ایسا لگتا ہے کہ میں اسے مس کررہی ہوں) انجو نے کہا تنگ کرتے ہیں۔ فون کرو۔کہو کافی پینی ہے، آجاٗؤ۔ چھوٹم کی تجویز کے برعکس میری مرضی مکمل تشدد کرنے کی تھی۔ہم وہاں جاتے۔بیڈروم میں دونوں کا مچایا ہوا غدر دیکھ کر میں ا سے بوُچھڑا(سندھی زبان میں شرمندہ یا Embrass کرنا) کرتی اور اس تعلق کے حوالے سے آئندہ کے فیصلے کرتی۔ انجم نے اس تجویز کو سختی سے رد کیا۔یہ جنرل پرویز مشرف کا دور تھا۔ اسلام آباد میں رات گئے دھان پان سے ظہیر بھائی کی رفاقت میں بارہ کہو اور نواحی آبادیوں میں ہر طرح کے افغانی اورتحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کی جابجا موجودگی میں ایک خاص مقام سے آگے جانا  موت کو دعوت دینا تھا۔

میرا دل نہیں چاہا کہ وہ یہاں آکر مجھے دیکھے اور پھر واپس جاکر اوشا کی بانہوں میں   سو جائے۔ سو میں نے اسے یہاں بلانے کی تجویز یہ کہہ کر معاف کردی کہ اسے بھی سونے دیں۔ یہ جھوٹ تھا۔ پاکستان آتے ہی میرے اندر تضادات کا ایک سمندر ٹھاٹھیں ماررہا ہے۔ ۔ میں سچ بتاتی ہوں۔اوشا کو میں نے کیسے ہینڈل کرنا ہے۔یہ فیصلہ ایک منٹ میں اسے دیکھتے ہی کرلیا تھا۔مجھ شطرنج کی مہارانی نے اسی وقت ڈان مائیکل کورلیونے گاڈ فادر والوں کی طرح فیصلہ کیا کہKeep your friends close, and your enemies closer (اپنے ددستوں کو قریب مگر اپنے دشمنوں کو قریب تر رکھو)۔برطانیہ میں ہمارے باس فرمان خوری کہتے تھے اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ صرف اپنے دشمنوں پر کڑی نگاہ رکھیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ان کا بھی ویسا ہی لحاظ کریں  جیسے اپنے
دوستوں کا کرتے ہیں تاکہ دشمنی دوستی میں بدل جائے۔میں نے سوچ لیا تھا کہ ایک دفعہ میرے دھرتی پر قدم جمے تو میں اوشا کو اور اس کے بیٹے کو اپنے پاس لے آؤں گی ،میں خود بے نظیر بن کر اسے ناہید خان بنا کر رکھوں گی۔مستقل Bridemaid ، عمران خان والی میری زنانہ نعیم الحق۔اس کی ماں اور بھائی گڈو کے پاس Hostage یرغمالی رہیں گے۔

جس تضاد کا میں ذکر رہی ہوں اس کا تعلق اس بات سے بھی تھا کہیں دور جاکر مجھے لگا میں چھوٹم کی طالبان والی وضاحت سن کر ڈر سی گئی۔گڈو کے حوالے سے مجھ میں حسد کو ایک طرف دھکا دے کر ایک مادرانہ احساس تحفظ نے سر اٹھایا۔ ہمارا وہاں جانا اگر پر خطر تھا تو اس کا ہمیں ملنے آنا اور واپس جانا اس سے بھی زیادہ بھیانک خیال تھا۔افسر ہونے کے ناطے وہ اغوا کاروں اور دہشت گردوں کے لیے ہم دونوں سے زیادہ اہم اور کار آمد تھا۔ مجھے بخوبی علم تھا کہ طالبان قبائیلی ہونے کے ناطے عورتوں پر یوں بھی ہاتھ نہیں ڈالتے تھے۔مجھے لگا کہ چھوٹم کو میرے ذہن میں برپا تلاطم کا پتہ چل گیا۔اس نے مجھ سے سعید کا پوچھا تو میں نے بہت آہستگی سے کہا اب یہ سلسلہ ختم ہے۔ ویسے بھی مجھے شادی کے نام سے ہی نفرت ہوگئی ہے۔

خفیہ تجوریاں
کہروڑ پکا
کہروڑ پکا
کہروڑ پکا
لودھراں

وہ کہنے لگی مردوں سے ایسے ہی پیار کرو، جیسے مرد عورتوں سے کرتے ہیں۔ پرابلم صرف بچہ ہے۔بچے کو پالنے میں معاشیات یا گھر آڑے آتے ہیں۔ ان دو کامناسب انتظام ہو تو Rest are details۔ یہ انجم کا پسندیدہ بیانیہ تھا۔وہ شروع سے کہتی تھی لڑکی کو تعلیم اور معاشیات کے معاملے میں سنجیدہ ہونا چاہیے۔ آپ کو سوتا چھوڑ کر کسی صبح اگر شوہر دیوار ٹاپ کر فرار بھی ہوجائے تو کیئریر صبح ایک ٹرینڈ بٹلر بن کر چائے لے کر میز کے کنارے کھڑا ہوگا۔

اس کا اعتراض یہ تھا کہ دو دن کے اس تعلق کو میں نے اپنی زندگی میں بہت جلد اپنے اندر بہت زیادہ سپیس (space)دے دیا ہے۔میں طلاق کی تلملاہٹ میں اس انتقام کی وجہ سے باؤنس بیک  اپ کرتے ہوئے بہت اوپر اُچھل گئی ہوں۔

میں نے شرارتاً کہا کہ ارسلان تو بے چارہ کو لیٹرل ڈیم ایج ہے۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ میرا شوہر نہیں بن پائے گا تو دنیا کی کسی عورت کا شوہر بھی نہیں بن پائے گا۔ میں اسے کسی کا نہیں ہونے دوں گی۔ جیسے مالدار چالاک عورتیں اپنے قیمتی زیورات سینت کر گھر کے محفوظ خفیہ فیک سیف اور بڑی تصویروں کے پیچھے رکھتی ہیں۔شوکی کا بھی میں نے بندوبست کیسے کرنا ہے وہ آپ کو بتائے دیتی ہوں۔میں دیکھوں گی ابو کا کتنا دباؤ رہتا ہے۔کچھ دن ٹالوں گی۔اس کا بی ہیوئر بھی چیک کرنا ہے۔

پینگے پر ہلکے ہلکے گھونٹ بھر کر انجم کی گود میں لیٹے لیٹے میں نے سوچا کہ یہاں پاکستان میں میرا اپنا تعلقات و مصروفیات کا برمنگھم جیسا ایک متوازی سیٹ اپ ایسا ہو جو حادثاتی یا حالات کا جبر نہ ہو بلکہ مکمل طور پر میرا اپنا انتخاب ہو۔ سعید، گڈی، فیشن کی دنیا، وہ رنگ برنگے بارز کی ایک دنیا چھوڑ رہی ہوں۔ میں چاہتی ہوں مجھے اس کا معاوضہ ایک بھرپور متوازی لائف اسٹائل کی صورت میں ملے۔میں اب ردالیوں کی سی زندگی نہیں جیوں گی۔ میں آپ کو سچ کہوں مجھے سب سے زیادہ دکھ ارسلان کا ہوگا۔اوشا بھی اس سے چھن جائے گی۔چلیں کچھ دن وہ میں اسے ادھار دے دوں گی۔سب کچھ ابھی نہیں۔چھوٹم نے مجھے اردو کا ایک شعر سنایا۔اب آپ اسے میرا مشن اسٹیٹمنٹ سمجھیں ع
جس کو تم چاہو کوئی اور نہ چاہے اس کو
اس کو کہتے ہیں محبت میں سیاست کرنا

میں جانے کب سو گئی۔انجم نے جب مجھے جگایا تو میز پر ظہیر بھائی ناشتہ لگو ارہے تھے ۔گاڑی ہم دونوں کو کہروڑ پکا لے جانے کے لیے تیار تھی۔

کہروڑ پکا۔۔ضلع لودھراں۔پنجاب۔۔۔۔
ارسلان کا پیغام بھی فون پر تھا کہ کہروڑ پکا نہ جاتی تو اچھا تھا۔لگا کچھ اداس سا تھا۔میں نے جواب نہیں دیا تو کچھ دیر بعد خود ہی وضاحت میں اپنے معمولات لکھ بھیجے۔لائف بیک ٹو اولڈ ویز ۔وہی پانچ بجے صبح کی بیداری۔نماز، ذکر، مرغے کا پیچھا اور کاتھاز۔اوشا مذکور نہ تھی۔دل تو چاہا کہ کوئی شرارتی طنز کروں۔جانے کیوں دل نہیں مانا۔ عجب مرد ہے اپنے بیٹے کے حوالے سے مجھ میں ایک مادرانہ شفقت کا طوفان انڈیل گیا ہے۔ جب تک میرا بیٹا پیدا نہ ہو چلو دل میں بٹھا کہ تمہیں تم سے  ہی پیار کیا جائے۔اس خاک آلود سفر کا جو اسلام آباد سے کہروڑ پکا کا تھا وہاں ہم براستہ خوشاب، جھنگ سے ہوتے ہوئے سات گھنٹے میں پہنچ گئے۔چھوٹم کا کہنا تھا کہ ہم راستے میں کھانے پینے سے گریز کریں۔ ظہیر بھائی نے کک سے جو سینڈ وچ بنوائے تھے ان ہی پر گزار ا ہوگیا۔

ہسار۔یوپی
ہسار۔یوپی
سمنک یا ڈھوڈے کا حلوہ
سومنات کا مندر
بامیان کے بدھا
بامیان کا بدھ مجسمہ جو برباد کردیا

ہم تین بجے کہروڑ پکا پہنچ گئے تو ابو کا پہلا سوال یہ تھا کہ کرنل مسعود کو کب بلانا ہے۔وہ خاص طور پر تمہارے لیے ملتان سے آیا ہے۔واپسی پر اس نے اسلام آباد میں آگے رپورٹ دینی ہے۔میں نے کہا چائے پر بلالیں یا رات کے کھانے پر۔ان کی ضد تھی کہ وہ لنچ پر ہی آجائے وہ یہاں بیگ گروپ کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔اس کی اہمیت جتانے کے لیے کہنے لگے کہ ملتان،لودھراں،بھاولپور اور رحیم خان سب کے سب اس کی ڈومین ہیں۔پندرہ بیس متوقع ایم این اے اس کے آگے پیچھے دم ہلاتے ہوئے گھوم رہے ہیں۔جنرل صاحب اس سے ون آن ون ہیں۔کیو لیگ اس کا ہی برین چائلڈ ہے۔ایسی باتوں کا مجھ پرککھ اثر نہیں ہوتا۔برمنگھم چھوڑا ہے تو میں اپنی دنیا کی خود ساختہ کولمبس ہوں۔سرکار کے مراتب اور ان کے زمین سے زمین اور فضا میں مار کرنے والے سازشوں کے میزائل کیوں کر چلتے ہیں۔کس نشانے کو ہٹ کرتے ہیں یہ میرا مسئلہ نہیں۔
جنس کی مستی، خود اعتمادی اور انتقام مل جائیں تو عورت کا ایک اور نیا روپ نکل آتا ہے۔

میں حالیہ ایام میں ایسی ہی عورت ہوں۔چھوٹم اسلام آباد میں رہنے اور ان افسران کی بیگمات کا کریا کرم کرنے کی وجہ سے ان کے رویوں کو خوب پہچانتی ہے۔وہ کہتی ہے یہ سرکاری ملازمین قبرستان میں لیٹتے ہوئے بھی رینک اور گریڈز نہیں بھولتے۔مسئلہ یہ کہ ان کے جنازے پڑھانے والے اور قبریں کھودنے والے رینک اور گریڈ کے حساب سے بھرتی نہیں ہوتے۔زندگی میں تو گریڈ بائیس والے کو گریڈ بائیس کے افسر ہی دفن کرتے ہیں مگر قبرستان ایک بے رحم مقام ہے۔سو اپنے چپڑاسیوں جیسے ہی گورکنوں کے ہاتھوں ہی دفن ہونا پڑتا ہے۔
ابو نے کہا کہ وہ آجائیں۔کرنل مسعود صاحب نے کہا کہ وہ کھانا تو بیگ فیملی کے ساتھ تناول فرما چکے ہیں مگر وہاں سے فارغ ہوکر ساڑھے چار بجے تک آمد ہوگی۔ معاملات کو خفیہ رکھا جائے تو بہتر ہوگا۔جب ابو کمرے میں آئے تو میں امی کی تصویر کو گلے   لگاکر روتی تھی۔چھوٹم نے بتایا کہ تین دفعہ ابو نے کمرے میں جھانکا۔میرے میوزک سسٹم پر ان کا پسندیدہ گیت؎

گھر واپس جب آؤگے تم،کون تمہیں پہچانے گا

کون کہے گا تم بن ساجن ،یہ نگری سنسان۔۔

بجتا تھا۔اسد علی خان کا یہ گیت میرا بھی پسندیدہ ہے۔۔۔۔

میں نے جلدی جلدی شاور لے کر لباس تبدیل کیا اور ایک چادر امی کی مقفل الماری کھول کر نکالی اور پہن لی۔کیسا برمنگھم، کہاں کا برمنگھم۔ویلکم ٹو کہروڑ پکا۔ ان کی آمد میں کچھ دیر باقی ہے تو میں آپ کو بتادوں کہ ہمارے لودھراں اور کہروڑ پکا کی روئی، کینو آم اورکھسے پورے پاکستان میں مشہور ہیں۔قیام پاکستان کے اولین برسوں میں یہاں ایک حکمی حلوائی ہوتے تھے۔ یہ ہسار۔ یوپی ہندوستان سے آکر بس گئے تھے۔ان کا بنایا ہوا حکمی حلوہ بہت مشہور ہواتھا۔ اب اسے ڈھوڈے کا حلوہ کہتے ہیں۔ ڈھوڈا ایک طرح کا گیہوں کا آٹا ہے۔گندم کو دھو کردھوپ میں ململ کی چادر پر پھیلا کر خشک کرلیتے ہیں۔

قلوپطرہ اور مارک انطونی
قلوپطرہ اور جولیس سیزر
جنرل پیٹریاس پاؤلا برایڈ ویل جس نے ان کی ساکھ خاک میں ملا دی
لودھراں کے درمیان سے گزرتا دریا ،ستلج
لودھراں کے درمیان سے گزرتا دریا ،ستلج

ہمارے کہروڑ پکا لودھرا ں کی طرف جو مہاجر آئے ۔ وہ بہت بیسک سے الٹرا۔ پینڈو مہاجر تھے ۔ دے مار ساڑھے چار قسم کے مہاجر ۔ لٹھ کو لاٹ صاحب ماننے والے۔ یہ حیدرآباد دکن،الہ آباد، دہلی، لکھنؤ،مراد آباد، رامپور والے مہاجرین جیسے نستعلیق نہ تھے۔ وہ سب تو بہت اربن تھے۔ امراؤ جان کی پشواز کے پھندونوں جیسے ریشمی،لچکیلے،ست رنگے۔

کراچی کے مہاجروں اور کانگریس میں راہول گاندھی کی دادی، وہ الٰہ آباد کی آنند بھون والی اندرا گاندھی کے ہاں اسے سمنک کا حلوہ کہا جاتا تھا۔ہم نے کھانا خزانہ کی فرینچائز تو لینی نہیں کہ میں یہاں اس کی ترکیب بتا تی پھروں۔بس اتنا سمجھ لیں کہ سرگودھا چکوال جھنگ والوں بالخصوص خوشاب کے پینڈو پنجابیوں کو ہم کہروڑ پکا والوں  کی تین چیزوں سے بہت حسد ہے۔ایک تو یہ ڈھوڈے کا حلوہ دوسرے ہمارے ہاں کے رانگڑوں کی بولی، تیسرے میں کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔۔

ہمارا یہ علاقہ ابتدا میں تلواڑہ کہلاتا تھا ۔محمود غزنوی نے سومنات سے پہلے ہندوؤں کی اسی بستی پر حملہ کیا تھا۔عجب بت شکن،اسلام دوست بادشاہ تھا۔ اپنے آبائی وطن غزنی سے ڈھائی سو کلو میڑ دور بامیان کے بدھ مجسمے اس کو برے نہیں لگتے تھے مگرچار ہزار کلومیٹر دور گجرات کاٹھیاواڑ میں سومنات کو برباد کرنے پہنچ گیا۔ پرانی باتوں کو چھوڑیں۔ ان میں کچھ نہیں رکھا۔یوں بھی
مجھے تاریخ سے کوئی شغف نہیں۔ میری امی کو ان کی کسی رانگڑ سہیلی کی دادی نے بتایا تھا کہ یہاں کوئی غلام حسین لدھڑ صاحب تھے۔ انہی نے 1843 میں اس علاقے کو لدھراں کا نام عطا کیا تھا۔امی کی وجہ سے میری رانگڑوں میں بہت عزت ہے۔یہ رانگڑ اور دنیا بھر کے جرنیل باہر بھلے شیر ہوں عورتوں کے آگے بلی کے بلونگڑے ہوتے ہیں۔

آپ کو پیکر ہائے جرات و مردانگی جولیس سیزر، مارک انطونی، شہنشاہ جہانگیر ،جنرل یحیی، جنرل ڈیوڈ پیٹریاس امریکہ والے یاد نہیں۔کیسے قلو پطرہ، نورجہاں،جنرل رانی اور پاؤلا براڈویل کے آگے شیر خرمے کی سوئیاں بن گئے تھے۔رانگڑوں کو بھی کو کنٹرول کرنا ہو تو ان کی عورتوں کے پیچھے اپنی عورتیں لگادیں۔کہروڑ پکا، لودھراں کی ایک تحصیل ہے۔باقی دو تحصیل دنیا پور ا ور لودھراں  ہیں ۔درمیان سے دریائے ستلج بہتا ہے۔اس کے ایک کنارے بھاولپور اور دوسری طرف لودھراں آباد ہے۔ لودھراں کی آخری بستی لال کمال ہے۔ یہاں جنرل ضیا الحق کا بقول صدر غلام اسحق خان طیارہ فضا میں پٹ گیا تھا۔،ہمار ی بستی لائل پور کے رانگڑوں کی بولی سنو تو آپ کو کہروڑ پکا سے پیار ہوجائے گا۔ان کے سربراہ ان دنوں تو مرزا ناصر بیگ ہیں جو موجودہ یوپی کی بستی ہانسی،حصار کے رانگڑ ہیں۔ان کے دادا اختر خان ہانسی کے نواب تھے۔ بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ اس نے سات خون کرے تھے۔پھانسی چڑھ گیا۔بیان نہیں بدلا۔

آپ کو بہت دل چسپی ہے نا کہ یہ میں آپ کو خود ہی پھوٹ دوں کہ میرے علاوہ ہمارے اس علاقے سے کن اور حسین خواتین کا تعلق رہا ہے۔کان کھول کر سن لیں۔مجھے تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہے۔انسان بن گئی ہے کرن ماہتاب کی۔ مجھ سے پہلے میرے علاوہ یہاں کی بستی گوگڑاں میں ایک بی بی نذیراں رہا کرتی تھی۔ اس کی دو بیٹیو ں اداکارہ انجمن اور ان کی چھوٹی ہمشیرہ اداکارہ گوری نے بڑا نام نکالا۔ یہ جو گوری ہے نا چھوٹی والی۔ بستی کے رانگڑ بتا تے ہیں کہ اس پر پنجاب کے ایک بڑے صاحب ہوش و ہواس بھلا کر فریفتہ تھے۔ آپس میں یہ کئی بھائی تھے۔ شریف صرف دو ہی نکلے۔ دونوں ہی نے نام بھی نکالا۔جیل بھی گئے۔ کسی نے ان کے فولاد بدن والد صاحب کو شکایت کی کہ یہ چھوٹے صاحبزادے ایسے ہیں کہ ان کو اگر مادہ پانڈہ بھی اچھی لگ جائے تو یہ شادی کے لیے اپنا رشتہ بھیج دیتے ہیں ۔ سادہ لوح والد صاحب کہنے لگے”وڈے بھرا توں تے چنگا ای اے گھٹو گھٹ ویاہ تے کرلیندا اے“۔ایک اور بی بی بھی ہمارے ضلع کی مشہور ہوئیں۔ یہ بھی رانگڑوں نے مجھے بتایا ۔ وہ تھیں شاعرہ نوشی گیلانی صاحبہ جو وہاں کے ڈپٹی کمشنر مرتضی برلاس سے داد سخن وصول کرتے کرتے ان کے حبالہء نکاح میں بندھ گئیں۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *