جمہوریت اور ہمارا اضطراب۔۔۔اسلم اعوان

یوم جمہوریت کے موقع  پہ جمہوریت کے متلاشی اس ملک میں کوئی تقریب منعقد ہوئی ،نہ کسی کو ڈیموکریسی کی برکات زیربحث لانے کا خیال آیا،بلاشبہ عام انسانوں کےلئے جمہوریت ہمیشہ ایک پُرکشش چیز رہی کیونکہ اس نظام میں دانا اور احمق دونوں مسرت اور طاقت میں برابر کے شریک ہوتے ہیں،تاہم مغربی مفکرین کہتے ہیں کہ جمہوریت ہمہ وقت،سیاسیات،اقتصادیات اور روح میں کشمکش برپا رکھتی ہے اور یہی طاقتور جدلیات ریاستی نظام کی استواری،سماجی نظم و ضبط کی تشکیل نو اور فکر انسانی کومسلسل ارتقاءپذیر رکھ کے انسانی معاشروں کو جمود کی نہوست سے بچاتی ہے(یہ تعریف کم از کم ہم پہ صادق آتی ہے)۔بلاشبہ ہماری مملکت میں جمہوریت و مساوات کے نعروں نے ہمیشہ جمودپرور قوتوں کولرزہ براندام رکھا لیکن ہماری کم صلاحیتی کی بدولت یہ گداز کشمکش ہمیں زندگی کی وسعتوں سے ہم آہنگ نہ کر سکی بلکہ یہی جدلیات ہرآن ہمیں سیاسی استقلال اور انتظامی استحکام سے دور کرتی گئی۔

سچ پوچھیے تو آمریت و جمہوریت دونوں ہمیں راس نہیں آئیں۔آزادی کے فوری بعد کمزورترین سیاسی پارٹیوں نے جمہوری آزادیوں کے مطالبات اٹھائے تو ایوب خان جیسے طاقتور آمر کو دوام اقتدارکی خاطر ایسے مضحکہ خیز قوانین بنانے پڑے جن سے نوآبادیاتی دور کا وہ مضبوط ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوتا گیا،جسے اگر برقرار رکھا جاتا تو وہ ادارہ جاتی نظام کے ارتقاءکا مستقل وسیلہ بنتا،پتہ نہیں ہمارے آمر اتنے بزدل کیوں واقع ہوئے،جن سے نحیف آوازیں بھی برداشت نہیں ہوتیں،اگر ان کمزور آوازوں سے گھبرا کے صدرایوب خان انگریز کے بنائے ہوئے انتظامی ضوابط اور سرکاری روایات میں بلاوجہ ردّوبدل نہ کرتے تو ریاست پہ انتظامیہ کی گرفت کبھی ڈھیلی نہ پڑتی،مشرقی بنگال میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی بغاوت اٹھتی نہ استحصالی طبقہ کے نمائندہ ذوالفقارعلی بھٹو جیسے کلاسیکی جاگیردارعوامی مقبولیت سے لطف اندوز ہو سکتے تھے کیونکہ جلاؤ گھیراؤ والی یہ انبوہی سیاست،جمہوری شعور میں کبھی ڈھل ہی نہیں سکتی تھی،۔

ہمارے سماج میں جمہوریت کی علامت سمجھے جانے والے مسٹر بھٹو کو خود جمہوریت میں یقین نہیں تھا وہ پوری زندگی پارٹی ڈکٹیٹر شپ کے قائل رہے۔اگر ہم پیچھے پلٹ کے دیکھیں توخود انگریز کے عہد میں بھی سیاسی آزادیوں اور بنیادی حقوق کے حصول کی کئی تحریکیں اٹھیں لیکن اسی طاقتور نوآبادیاتی انتظامی ڈھانچہ کی بدولت ان میں سے کوئی تحریک بھی برصغیر کے سماجی نظم و نسق کو منتشر نہ کر سکی ۔فیلڈمارشل ایوب کے جانشین جنرل یحییٰ  خان نے بھی علامتی سیاسی تحریکوں سے گھبراکے خود کو اپنے ہی بنائے ہوئے ایل ایف او کا قیدی بنا لیا،اگر وہ مجیب الرحمٰن کے مقابل البدر اور الشمس جیسی مسلح مذہبی تنظیمو ں کو صف آراءکر کے نسلی تصادم کو مہمیز نہ دیتے تو انگریز کے بنائے ہوئے انتظامی ڈھانچہ میں اتنی طاقت موجود تھی کہ وہ چھوٹی موٹی بدنظمی کو باآسانی سنبھال لیتا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے بھی 1973 کے آئین میں وزیراعظم کو طاقت کا سرچشمہ بنانے کی حرص میں بیوروکریسی کی انتظامی اتھارٹی کو کمزور کر کے اس شاخ کو ہی کاٹنے کی جسارت کی جس پہ اس کے اقتدار کا آشیانہ رکھا تھا،مگر افسوس کہ یہاں کوئی بھی مقبول سیاسی رہنما جمہوریت کی اخلاقی بنیادیں مضبوط کرنے کی خاطر بخوشی اقتدار سے دستبراری پہ تیار نہیں ہوا۔جنرل ضیا الحق نے 1973 کے آئین میں آٹھویں ترمیم شامل کر کے وزیراعظم،صدر اور جوڈیشری کے مابین تقسیم اختیارات کی متعین حدود کو متنازعہ کر کے اس کمزور سیاسی نظام کو کبھی نہ تھمنے والی آویزش کے حوالے کر دیا،سنہ 1988 سے لیکر 1999 تک ایوان صدر اور منتخب وزیراعظم کے مابین کانٹے کی تول لڑائی لڑی گئی اور اسی نامطلوب جدلیات کی کوکھ سے نوازشریف کی صورت میں تواناسیاسی قیادت نمودار ہوئی،جس سے جان چھڑانے کی خاطر مقتدرہ کو تیسرے مارشل لاءکا سہارا لینا پڑا۔روشن خیال جنرل پرویزمشرف نے بھی موجودہ انتظامی ڈھانچہ اور میسر قوانین پہ اکتفا کرنے کی بجائے غیرمحدود اختیارات کے حامل احتساب کے ادارے اور نئے بلدیاتی نظام متعارف کرانے کے علاوہ دہشتگردی کے تداراک کیلئے ایسے کالے قوانین بنائے جن سے سماج کی بنیادی آزادیاں محدود ہوتی گئیں،چینی ضرب المثل کے مطابق ہماری آمریتیں قوانین بناتے بناتے بوڑھی ہوگئیں۔جنرل مشرف نے ضلعی سطح کے بنیادی انتظامی یونٹ کو تحلیل کر کے ایسا مہمل بلدیاتی نظام متعارف کرایا جو پہلے مرحلہ میں ناکام ہو گیا جس کے بعدسربراہ حکومت کی نچلی سطح کے انتظامی دفاتر پہ گرفت ختم ہو گئی،دہشتگردی کے خوف کی آڑ میں پولیس کو مطلق العنان بنا دیا گیا اورموثر نگرانی کی عدم موجودگی نے سروسیز فراہم کرنے والے سرکاری ادارے کو بانجھ بنا ڈالا۔۔

باایں ہمہ عدم تحفط کا احساس بڑھتاگیا جس نے ریاست کے ساتھ فرد کی وفاداری کا رشتہ کمزور کر دیا۔دوسرا مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کو اکھاڑے سے باہر رکھنے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا کو پُر کرنے کےلئے سندھ میں ایم کیو ایم اور خیبر پختون خوا میں متحدہ مجلس عمل کی مذہبی قیادت کوشریک اقتدار بنا کے پاور پالیٹکیس کی راہداریوں میں نئی بدعات متعارف کرانا پڑیں،جنرل مشرف کی اسی سیاسی سکیم کے بطن سے الطاف حسین کی باغیانہ شوریدگی اور مولانا فضل الرحمٰن کی شکل میں ایک سنجیدہ سیاسی مزاحمت نمودار ہوئی جو ہرقدم اورہرمرحلہ پہ سیاسی و انتظامی اتھارٹی کو سبق پڑھانے لگی۔اب وقت گزرنے کے ساتھ جمہوری مطالبات پہ مبنی ہمہ جہت سیاسی مزاحمت نے طاقت کے مراکز کو گھیر لیا ہے،فی الوقت ملک کے کونے کونے میں انتظامی اتھارٹی کو مسلح مزاحمتی گروپوں کے علاوہ سیاستدانوں،ڈاکٹرز،وکلا،کلرکوں،اساتذہ اور ٹرانسپورٹرز کی  نرم مزاحمت کا سامنا ہے،جو ایک خاص ترتیب کے ساتھ منزل کی طرف بڑھتی نظر آتی ہے۔

تحریک انصاف کی نوزائیدہ حکومت نے گھٹن کی اس کیفیت کو تحلیل کرنے کی بجائے اپنی پوری توجہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو دبانے پہ مرکوز رکھی جس کے ردعمل میں ایک ایسی موثر سیاسی مزاحمت پروان چڑھتی دکھائی دیتی ہے جو بلآخر سویلین بالادستی اور آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے درکار پختہ کار سیاستدانوںکی فراہمی کا وسیلہ بنے گی،خاص طور پہ مسلم لیگ نواز کے لیڈر شپ جس دلیری کے ساتھ ریاستی استبدادکا سامنا کر رہی ہے،ہماری سیاسی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔پیپلزپارٹی کی قیادت اگرچہ سندھ میں اقتدار بچانے کے آشوب میں الجھی ہوئی ہے لیکن پھر بھی بلاول بھٹو زرداری،رضا ربانی،فرحت اللہ بابر اور کئی دیگر رہنما اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ملنے والی متنازعہ خود مختیاری کے تحفط کی خاطر مزاحمت پہ کمربستہ نظر آتے ہیں۔بلوچستان اور خیبر پختون خوا جیسے چھوٹے صوبوں کی ناتواں علاقائی جماعتیں اور شوریدہ سر سیاسی کارکن بھی قانون کی حکمرانی اورجمہورکی بالادستی کے علم اٹھا رہے ہیں،جس طرح سنہ دوہزار سات میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی قیادت میں ابھرنے والی عدلیہ آزادی کی تحریک میں سندھ،بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے وکلاءپیش پیش تھے،بالکل اسی طرح آج سپریم کورٹ کے دو ججز کے خلاف صدراتی ریفرنس کے دفاع میں بھی متذکرہ بالا دونوںصوبوں کی وکلاءقیادت صف اول میں نمایاں نظرآتی ہے،یہی وہ بدلتا ہوا ذہنی رجحان ہے جو بتدریج فکری وحدت میں ڈھل کے چاروں صوبوں کے جمہور پرستوں کو باہم متحدکردے گا۔

اس سے تو یہی لگتا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود یہی پیش پا افتادہ سیاستدان بہت جلد اپنے آخری نصب العین کا اظہار کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے،بلاشبہ جمہوریت زندگی کی،انہی تصورات کے ذریعے،گستاخانہ توجہی کرتی ہے اور وہ صرف اپنے عزم کے وسیلے جبریت کی طاقتوں کی تسخیر کر لیتی ہے۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *