تلاش ایک پیر کامل کی۔۔طاہر حسین

میں شاید آٹھویں جماعت میں تھا کہ محلے میں ایک سٹیشنری شاپ پر “آنہ لائبریری” کا آغاز ہوا۔ اگر آنہ لائبریری کے ذکر سے سے آپ میری عمر کا اندازہ لگا رہے ہیں تو تصحیح کرتا چلوں کہ یہ لفظ بطور استعارہ استعمال ہوا، حقیقت میں وہاں کتابیں دو روپیہ روزانہ کے کرائے پر دی جاتی تھیں۔

ابتداء میں تو میں وہاں سے شفیق الرحمان، کرنل محمد خان اور صدیق سالک اور اشفاق احمد جیسے مصنفین کی کتابیں لیتا رہا کہ نسبتاً چھوٹے سائز کی کتاب جلدی پڑھی جاتی ہے اور کرائے میں بچت ہوجاتی ہے۔ تو دوچار کتابیں پڑھنے کے بعد میں بزعم خود ایک عالم فاضل محسوس کرنے لگا اور شدت سے خواہش ہوتی کہ بھاری بھاری الفاظ و تراکیب کے استعمال سے انٹلیکچوئل گفتگو کروں جس سے لوگوں پر میری “وسعت مطالعہ” کی کچھ تو دھاک بیٹھے، مگر مواقع محدود و مسدود تھے۔

ایسے میں جیدی بھائی نظر آئے۔ محترم بھی فارغ البال (بشمول سر کے بال) قسم کی شخصیت تھے جو سارا دن پان چباتے، سگریٹ پھونکتے سٹیشنری شاپ کے کاؤنٹر پر آلتی پالتی مارے بیٹھے مطالعہ میں غرق دکھائی دیتے۔ اب آتے جاتے  جیدی بھائی سے گفتگو رہنے لگی، میں اپنے مطالعے کے حوالے دیتا اور وہ مجھے سنجیدہ سمجھ کر مشکل مشکل الفاظ بولتے جو ظاہر ہے میرے سر کے بہت اوپر سے گزر جاتے۔

ایک روز ہماری گفتگو کسی موضوع پر جاری تھی کہ جیدی بھائی نے “ممتاز مفتی” کا حوالہ دے دیا۔ اتفاق سے ہی سامنے شوکیس میں “لبیک” پڑی نظر آئی، سائز بھی مناسب کہ ایک دو روز میں پڑھی جا سکے۔ اب یہ  بات کسی بھی شک و شبہ سے بالا ہے کہ مفتی صاحب کا اسلوب نہائیت شاندار ہے، لبیک کا موضوع بھی بہت خوبصورت تو پڑھنے میں واقعی مزا آیا۔ جیدی بھائی سے “ڈسکشن” ہوئی تو ان کی طرف سے “ علی پور کا ایلی اور الکھ نگری” پڑھنے کا مشورہ ملا۔ کتابیں دیکھیں، دونوں کو ضخیم پایا، مطلب کہ زیادہ کرایہ، تو اس کا حل یہ نکالا کہ گھر کے سودا سلف میں سے کچھ پیسے بچائے اور چند دن کے بعد علی پور کا ایلی زیر مطالعہ تھی۔

کتاب تو میں نے تین چار روز میں پڑھ لی کہ دلچسپ تھی مگر مسئلہ یہ ہوا کہ میں نے ایلی کے کردار کو فینٹسائز کرنا شروع کردیا، شہزاد کا کردار میرے حواس پر چھا گیا جس سے مجھے شدت سے محسوس ہونے لگا کہ عشق کے بغیر زندگی میں کوئی تھرل نہیں۔ اپنے مذموم عزائم کی کسی کو کانوں کان خبر دئیے بغیر مزید راہنمائی کے لئے مجھے لگا کہ اب الکھ نگری کا مطالعہ ضروری ہوچکا ہے۔ چنانچہ وہ بھی چاٹ ڈالی لیکن مسئلہ حل کیا ہوتا ، عشق کے ساتھ ساتھ “کسی مرد کامل” کی تلاش کی بھی شدت سے خواہش رہنے لگی۔ مجھے یوں لگتا کہ یوں ہی کسی روز سڑک پر چلتے چلتے کبھی کوئی مرد کامل مل جائے گا جس کے پاس میرے جملہ مسائل کا حل ہوگا۔ ایسا شخص جو مجھے ہر طرح کی “فنکاری” کا لائسنس دے کر آزاد کردے گا اور پھر ہر جگہ میرے ریسکیو کے لئے بھی موجود ہوگا۔

میں سنٹرل ماڈل میں پڑھتا تو پیر کامل کی تلاش کا دائرہ نزدیکی واقع درگاہ حضرت علی ہجویری تک وسیع کردیا۔ ان دنوں   جمعرات ہاف ڈے ہوا کرتا تھا۔ سکول سے جلدی چھٹی ہوجایا کرتی اور میں بستہ اُٹھائے سیدھا داتا دربار۔

آپ میں سے جو لوگ جمعرات کے دن داتا دربار جا چکے ہیں وہ میری بات کی تائید کریں گے،اس روز جہاں زائرین کا رش زیادہ ہوتا ہے وہیں مزار سے ملحقہ مسجد میں بہت سارے بزرگ حضرات ایک حلقہ بنائے میرے جیسے راہ سلوک کے مسافروں کی راہنمائی کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ چونکہ میں اپنی تلاش میں انتہائی سنجیدہ تھا تو اس لئے بجائے ایک ہی بزرگ پر اکتفاء کے میں نے تمام دستیاب آپشنز کو آزمانے کا عقلمندانہ فیصلہ کیا۔ کئی ہفتے کی مسلسل تلاش کے بعد بھی کوئی اچھا “پیرکامل” نہ مل سکا لیکن میں مایوس نہیں ہوا کہ میری طلب سچی تھی۔

موسم سرما کی ایک جمعرات ظہر کی  نماز کے بعد جب میں مسجد کے صحن میں نکلا تو کیا شاندار منظر دیکھا، ایک قدرے سانولی رنگت کے صاحب سیاہ عمامہ، سیاہ جبہ اور بڑا  خوبصورت عصا اپنے گھٹنے سے ٹکائے مسجد کے صحن میں آلتی پالتی مارے جلوہ افروز ہیں اور ان کے اردگرد نیاز مندوں کا ہجوم جمع  ہے۔ جو بھی شخص ان سے مصافحہ کرنے کو ہاتھ بڑھاتا، موصوف چہرے پر شفیق سی مسکراہٹ اور آنکھوں میں ایک پراسرار سی چمک  لیے ،اس کا ہاتھ دباتے اور مصافحہ کرنے والا یوں اچھلتا کہ جیسے اسے کوئی کرنٹ لگ گیا ہو۔ یہ روحانی واردات دیکھ کر میں مرعوب ہوگیا۔

حلقہ میں بیٹھے ایک صاحب سے ڈرتے ڈرتے اس  ہستی کا نام پوچھا تو پتہ چلا کہ نام تو ان کا  کچھ اور ہے لیکن یہ خود کو بلال کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ یہ بات میرے دل کو لگی، کہ اپنی سانولی رنگت کو حضرت بلال حبشی سے منسوب کردینا۔ الکھ نگری والے بابے میری نگاہوں میں گھومنے لگے۔ سبحان اللہ۔۔ میں انتہائی  عقیدت سے انکی دست بوسی کرنا چاہتا تھا لیکن کرنٹ لگنے کے خوف سے ڈرتے ڈرتے صرف مصافحہ پر اکتفاء کیا۔ لیکن تھوڑی سی مایوسی ہوئی کہ مجھے کوئی کرنٹ نہیں لگا۔ اس کی وجہ جو میری سمجھ میں آئی وہ یہی تھی کہ شاید راہ سلوک پر سفر ابھی شروع ہی ہوا ہے، کرنٹ لگنے والے مقامات شاید ابھی دور ہیں۔

قصہ مختصر، بلال صاحب کی ہفتہ وار محفلوں کا میں ریگولر ممبر بن گیا۔ پڑھائی پر اس کا اثر منفی تھا لیکن میں اس کی فکر چھوڑ چکا تھا کہ مجھے فنا فی اللہ ہونا تھا۔ بعض اوقات مجھے تھوڑی سی مایوسی ہوتی جب جوش کلام میں کوئی چھوٹی موٹی سی گالی ان کی زبان سے برآمد ہوجایا کرتی بلکہ ایک روز تو دیکھا کہ کسی بے تکلف مرید کے ساتھ میرے شیخ کی گفتگو میں زنانہ و مردانہ پوشیدہ اعضاء کا کثرت سے ذکر تھا۔ چونکہ ممتاز مفتی صاحب ملامتیہ سلسلے کے متعلق لکھ چکے تھے، لہذا میں بھی اپنے پیر کامل کو اسی کا مارجن دے کر معاف کر دیا کرتا۔ لیکن دل میں ایک گرہ سی ضرور لگنے لگی جو کمبخت وقت کے ساتھ پکی ہوتی جا رہی تھی۔

یوں ہی یہ سلسلہ چلتا رہا اور ماہ رمضان شروع ہوگیا۔ حکم ہوا کہ تمام مریدین اسی داتا دربار کی مسجد میں آخری عشرے کا اعتکاف کریں گے، حکم کی تعمیل ہوئی، گھر سے بوریا بستر لائے اور معتکف ہوگئے۔

دوران اعتکاف مرشد پاک کو ذرا قریب سے دیکھنے کا موقع  ملا۔ میری آبزرویشن یہ تھیں کہ شیخ محترم جن کی گفتگو میں فقر اور ایثار کی تلقین ہوا کرتی ،سالن کا ڈونگا سامنے رکھتے اور چیدہ چیدہ بوٹیاں اپنی پلیٹ میں نکال کر شوربا ہماری طرف روانہ کردیتے، باتھ روم کی لائن میں لگے سگریٹ پر سگریٹ پھونکتے رہتے، جن میں سے بعض اوقات بڑی مشکوک سی مہک بھی محسوس ہوئی۔ اب کیا کہوں، لیکن حقیقت یہ کہ پکا سگریٹ اپنے شیخ کے ہونٹوں سے لگا دیکھ کر میرا کمزور ایمان کچھ مزید متزلزل رہنے لگا تھا۔

ایک روز تو جیسے حد ہی ہوگئی۔ شاید ستائیسویں روزے کی افطار تھی، مخیر حضرات نے افطار کا وسیع بندوبست کررکھاتھا۔ عصر کی نماز پڑھ کر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص مسجد کے صحن میں کھڑا انتہائی اشتہا انگیز قسم کے لنچ باکس تقسیم کر رہا ہے اور ایک ہجوم جمع ہے جو ہاتھ اٹھائے اس کی توجہ کا طالب، اور مجھے بالکل حیرت نہیں ہوئی جب میرے شیخ بھی ایک ایک باکس پہلے سے ہی بغل میں دبائے دوسرا کھسکانے کے چکر میں ہیں۔ تقسیم کرنے والا شاید رش سے گھبرا گیا تھا کہ اس نے باکس ہجوم کی طرف ٹاس کرنا شروع کردئیے اور میں قدرے فاصلے پر کھڑا اپنے مرد کامل کی پرفارمنس سے محظوظ ہونے لگا، اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک لنچ باکس جو اڑتا ہوا بائیں جانب جا رہا تھا، میرے مرشد نے ڈائیو لگا کر ایک فاتحانہ قہقہے کے ساتھ ایسا شاندار طریقے سے کیچ کیا کہ جونٹی روڈز بھی شرما جائے۔ لیکن یہ کیچ میری عقیدت کے اونٹ کی پیٹھ پر   آخری تنکا ثابت ہوا۔ میں نیچے اعتکاف گاہ میں گیا اپنا بستر سمیٹا اور دوسرے کونے پر ان نوجوانوں کی منڈلی میں جا بیٹھا جو جوش میں آکر اعتکاف تو کر چکے تھے لیکن اب وقت کاٹنے کو تاش اور لڈو میں مگن رہتے تھے۔

راہ سلوک کے اس مختصر سفر سے میں نے اخذ کیا کہ مطالعہ بہت اچھی عادت ہے لیکن اس کے لئے بھی ایک سپرویژن ضروری ہے۔ جو کتابیں ہماری ذہنی سطح سے بلند ہوں ان سے فائدے کی بجائے نقصان کا اندیشہ زیادہ ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *