سکول میں عبایاپہننے اور پردے کی منطق۔۔۔اے وسیم خٹک

مشیر ِتعلیم خیبر پختونخوا  نے ہزارہ کے ای ڈی او کی جانب سے گرلز سکولوں میں عبایا اور پردہ کرنے کی بات کرکے ایک نئی گفتگو کا آغاز کر لیا ہے ۔جس کے بعد خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں طالبات کے لئے عبایا اور گاؤن  پہننا لازمی قرار دےدیا گیا ہے، تاکہ ہراساں کرنے اور غیراخلاقی حرکتوں سے محفوظ رہ سکیں ۔جس پر سوشل میڈیا پر کافی اعتراضات اٹھنے کے بعد دوبارہ یوٹرن لے لیا گیا اور شوکت یوسف زئی کے بقول ایسی کوئی تجویز قابل غور نہیں ۔ جس کے بعد آخری اطلاعات کے مطابق حکومت نے یہ فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ حکومت نے اپنی طرف سے کوشش کی تھی کہ خواتین کی ہراسانی کم ہو ۔ ۔مگر جو قوانین جنسی ہراسانی کے حوالے سے بنے ہیں ،ان پر تعلیمی ادارے میں کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں ۔ قوانین سخت ترین موجود ہیں ،مگر قوانین کا اطلاق مشکل ہے جس کے باعث ایسے فیصلے کرنے کو ملتے ہیں ۔

حالانکہ دیکھا جائے تو پچھلے سال صرف خیبر پختونخوا  میں 1125 لڑکیوں اور 1150لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے،اب یہ بتائیں کہ لڑکیاں تو برقعہ پہن کر جنسی ہراسانی سے بچ جائیں گی تو لڑکوں کا کیا ہوگا کیونکہ لڑکوں کیساتھ جنسی ہراسانی کے واقعات کی تعداد اتنی ہی ہے جتنی لڑکیوں کیساتھ۔لڑکوں کو خیبر پختونخوا حکومت کیا کیا پہننے کی تاکید کرے گی تاکہ ان کیساتھ یہ واقعات نہ ہوں ؟

پتہ نہیں یہ نا اہل لوگ کیا کیا عجیب پالیسیاں بناتے ہیں۔۔ اگر دیکھا جائے تو بچیوں اور بچوں کے ساتھ ہونے والے زیادتی کے واقعات میں 70 فیصد ان کو قرآن اور پارہ پڑھانے والے مولوی ، امام مساجد اور 25 فی صدرشتہ دار ملوث پائے جاتے ہیں۔ تو ا سکی کوئی منطق نظر نہیں آتی کہ نجانے کیوں خیبر پختونخوا حکومت اس نتیجے پر پہنچی کہ جنسی ہراسانی کے پیچھے کسی شخص کی بیمار ذہنیت نہیں بلکہ بچیوں کے کپڑے ہیں ،وہ بھی معصوم کلیوں کے کپڑے، حالانکہ  جن کی عمریں تین سے چار سال   ہوتی ہیں ،وہ بھی جنسی ہراسانی کا شکار ہوجاتی ہیں ۔

اس قسم کے فیصلوں سے بہتر ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بچوں اور بچیوں کو سکھایا جائے کہ کس طرح اپنے آپ کو جنسی حملوں سے بچایا جاسکتا ہے ۔جہاں تک میرا خیال ہے اس دور میں جس کو فتنوں کا دور کہا جاتاہے اس میں اپنے بچوں کو خود تک محدود رکھیں ۔ تو ہی اس قسم کے واقعات کا تدارک ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ آج کل خونی رشتوں پر بھی اعتبار نہیں رہا ۔ نازیہ اقبال کی  بچیوں کا کیس ابھی اتنا پرانا نہیں ہے ۔باقی جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں اُس میں سکول عبایا پہن کر جانے سے یاپردہ نہ کرنے کا کوئی کیس رجسٹرڈ نہیں ہوا۔ بہتر یہی ہے کہ اس حوالے سے  آگاہی مہم چلانے پر توجہ دی جائے ۔ جس طرح پولیو کی بیماری کے سدباب کے لئے بین الاقوامی سطح پر کام ہورہا ہے ۔ اس پر بھی کام شروع کیا جائے ۔ تب ذہنی بیماری کا خاتمہ ہوسکتا ہے ۔ ورنہ اس قسم کے واقعات مزید تواتر سے پیش آتے رہیں گے اور حکومتی فیصلوں پر لوگوں کو پریشانی کا سامناکرنا پڑے گا۔

کل مشیرِ  تعلیم کے فیصلے نے بچیوں میں بھی ایک عجیب خوف کا احساس پیدا کردیا ہے کہ اُن کو سکول جاتے ہوئے عبایا نہ پہننے پر خطرہ ہے ۔ حکومت کو اس قسم کے فیصلے کرنے سے پہلے سارے پہلوؤں   کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس قسم کے فیصلوں سے حکومت کی جگ ہنسائی ہوتی ہے ۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *