“دعا کریں حاجی مان جائے” ۔۔۔ معاذ بن محمود

“یار دعا کریں حاجی مان جائے”

پہلی بار سنا تو کچھ شک ہوا۔ آخری بار ایک حاجی صاحب کے بیضوی خواب کے بارے میں لکھا تھا۔ رہی سہی کسر مارکیٹ میں دستیاب حاجی پوری کر دیتے ہیں۔ پشتون علاقے میں جو جتنا بڑا حاجی ہوگا اتنا ہی بڑا منشیات کا ڈیلر بھی۔ میرے ایک جاننے والے صاحب نے پہلے حج کے بعد نوادرات کی سمگلنگ کا کاروبار شروع کیا (نوادرات نادرہ کی جمع ہرگز نہیں۔۔ بلکہ ہو بھی سکتی ہے)۔ دوسرے حج کے بعد گاڑیوں کے پارٹس کی سمگلنگ کا۔ اس کے بعد میں نے ان کے کاروبار کی گنتی چھوڑ دی۔ پچھلے ہفتے اماں بتا رہی تھیں حاجی صاحب نے سات حج کر لیے ہیں۔ میرے ذہن میں سمگلنگ کی کل چار پانچ ہی اقسام ہیں۔ سوچتا ہوں مل ہی لوں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں کچھ نہیں رکھا۔

خیر۔۔ یہ بانکا حاجی کے ماننے کی دعا کر رہا ہے۔ دیکھنے میں تو ایسا ویسا نہیں لگتا۔ پھر حاجی منانے کو بیتاب کیوں ہے؟ مجھ سے بات کر کے دیکھے۔ ہمارے ایک اور سنگی ہیں، شاہ جی۔ میں ان سے بھی بات کر سکتا ہوں۔ شاہ جی شاہوں کی جملہ کرامات کے تن تنہا حامل ہیں۔ ہاتھ اٹھائیں تو سفارش کر کے بارش برسا دیں۔ موٹر سائیکل پر بیٹھیں تو مدنی تکیے کا استعمال کیے بغیر نصف شہر سے گزر جائیں۔ لاتعداد خصوصیات ہیں۔ کیا کیا گنوائیں۔ حاجی کو منوانا ہو تو شاہ جی سے بات کی جا سکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ خود پرانے حاجی ہیں۔ جن دنوں ہم ممتا گلکرنی کے پوسٹر ترچھی نگاہ سے دیکھا کرتے ان دنوں شاہ جی حج کر چکے تھے۔ معصوم بہت ہیں مگر گرم اشیاء خورد و نوش کا استعمال بہرحال خوب کرتے ہیں۔ کل ہی بکرے کے گوشت کے ساتھ اضافی کپورے اور سوڈانی دنبے کی چربی ڈلوائی۔ سید بادشاہ ہیں، سفلی پر نہیں بلکہ نوری پر یقین رکھتے ہیں لہذا کالی دال کی بجائے ماش کی دال والے وظیفے کی بابت دس سال پہلے آگاہی دے چکے تھے۔ پھر سے یاد دہانی کراتا چلوں کہ بندے بہت شریف ہیں۔ بخدا۔ پچھلے ماہ ہمارے بھرپور انکار پر بھارتی رقاصاؤں کا تھرکتا بدن دکھانے لے گئے۔ کافی دیر شرمانے کے بعد انسانی ہمدردی کے تحت رقاصاؤں پر پیسے لٹانے لگے۔ اب شاہ جی شودر سے برہمن کسٹمر بن چکے تھے۔ انتظامیہ نے درخواست کی کہ پچھلی سیٹ سے اٹھ کر آگے بیٹھ جائیے۔ بانکا بھی ساتھ تھا، کہنے لگا “شاہ جی پہلے آپ”۔ شاہ جی پلٹ کر توا ہوئے اور جلال میں آکر فرمایا “فلاں فلاں کے بچے ادھر تو شاہ جی نہ کہہ”۔ شاہ جی شریف النفس شخصیت ہیں۔۔ پھر بھی۔۔ مجھے ڈر ہے کہ حاجی کو منانے کے چکر میں خود ہی نہ مان جائیں۔

“یار دعا کریں حاجی مان جائے”

اب مجھے کوفت ہونے لگی۔ “یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے” سے لے کر “ہماری انتہائے شوق کیا ہے” تلک، طاہرہ سید سے حدیقہ کیانی سبھی چشم زدن پر پھڑپھڑانے گنگنانے لگیں۔ یہ حقیقت ہے کہ شوق کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ مان لیا۔ ٹھیک ہے۔ آپ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے۔ مگر حاجی؟

بشیرا آج کل فارغ ہے۔ تین کمروں کے مکان میں اکیلا پھرتا رہتا ہے۔ سوکھے ہوئے کپڑے سکھانے کے بہانے چھت کے چکر لگاتا رہتا ہے۔ ہر کپڑے کو بکرم بناتے بناتے تھک چکا ہے۔ اس سے بات کی جاسکتی ہے۔ اسے بھی منایا جا سکتا ہے۔ پھر سالا حاجی ہی کیوں؟ اب اچانک مجھے بشیرے پر شک ہونے لگا۔ وہ ویسے بھی گاجر کے کئی غیر معروف مصارف کا امین ہے۔ بچپن میں پانچ کلو گاجر کے جوس میں سونف ملا کر کوئی ملغوبہ بنایا تھا حکیم صاحب نے۔ اس کے بعد بشیرا سپر ہیرو بن گیا۔ دونوں آنکھوں سے بیک وقت نہیں دیکھ سکتا۔ ایک آنکھ بند کرنی پڑتی ہے۔ اور جو آنکھ کھلی ہو اس کے نیچے والی مونچھ کے پر کے بال کھینچتے ہوئے ہی دیکھ پاتا ہے۔ ایک آنکھ سے دیکھتا ہے لہذا ظاہر اور باطن دونوں بیک وقت نہیں دیکھ پاتا۔ جو سامنے ہو اس کا ظاہر دیکھتا ہے جو سامنے نہ ہو اس کا باطن پڑھ لیتا ہے۔ کمال کی خوبی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ الٹ ہی پڑھ پاتا ہے۔ بشیرے کا اپنا بینک ہے۔ کل اثاثہ جات کی مالیت کا اندازہ صرف اسی کو ہے تاہم دنیا کو دو عدد چاند سے بیٹے ہی دکھاتا ہے۔ درہم، دینار، روپیہ، ڈالر سبھی کو ٹانگ کا میل سمجھتا ہے۔ نہاتا کم ہے لہذا ہم جیسے نیک نیتوں کو یہ میل اتارنا پڑتا ہے۔ مجھ سمیت آدھا امارات اور پون پاکستان بشیرے کا قرض دار ہے۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ نہ بشیرے کو معلوم ہے کہ کس سے کتنے لینے ہیں نہ لینے والوں کو معلوم ہے کس نے کتنے دینے ہیں۔ رقم کا تقاضہ بھی نہیں کرتا۔ شاید اسی لیے اوپر والا مزید دولت اور مزید قرض دار پیدا کرتا رہتا ہے۔ میں بشیرے سے بات کرتا ہوں، شاید وہی مان جائے۔ آخر کو حاجی ہی کیوں؟

“یار دعا کریں ناں حاجی مان جائے”

اب میری بس ہوچکی تھی۔ تخیلات کے بحیرۂ ظلمات میں کتنی ایک دیر خچر دوڑا سکتا تھا؟ تنگ آ کر بانکے سے پوچھ ہی ڈالا۔

“یار کیا چاہیے حاجی سے؟”

جواب آیا “اس کی قیمتی ترین چیز”

ہم نے لاحول پڑھ کر واپس کمپیوٹر لاگ ان کیا اور واپس اپنے کام میں لگ گئے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان جانے کس ڈگر پر چل نکلا ہے۔

بہت عرصے بعد معلوم ہوا کہ معاملہ کوئی رشتے وغیرہ کا تھا۔ شکر ہے شاہ جی اور بشیرا نہیں مانے۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *