کچا مکان۔۔۔ارسلان صادق

انگلیوں کا لمس محسوس کرتی سگریٹ اور اس سے نکلنے والا دھواں رات کے اندھیرے میں کہیں تحلیل ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ سٹرک سے اٹھتی ہوا کا ہر اک جھونکا سگریٹ سے گرتی راکھ کا وجود مٹانے میں مصروف تھا۔ سڑک پر آنے جانے  والی گاڑیوں کو تاحد نگاہ تک چھوڑنے والی نگاہیں شاید کسی اور ہی چہرے کی منتظر تھی کہ گلی کی طرف سے بڑھتا ہوا سایہ شان کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ دراز قد، بڑی بڑی مونچھیں اور سخت خدوخال کا مالک آدمی دلیرخان تھا جو اس کالونی کا سکیورٹی گارڈ تھا۔ اس نے شان کے قریب آتے ہی پہلے جیب سے ماچس نکالی اور سگریٹ سلگائی۔ شعلے کی روشنی میں اس کا گرد آلود چہرہ وحشت زدہ لگ رہا تھا۔ شان اپنی سگریٹ کو پاؤں کے نیچے مسلتے ہوئے بولا۔۔ ہاں! چچا لگا آئے چکر؟ دلیر خان نے ایک لمبا کش لیا۔ اور جواب دیا: ہاں پتر لگا آیا ہوں۔

شان نے لکڑی کے بنچ پر ایک طرف کھسکتے ہوئے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ دلیر خان نے بیٹھتے ہوئے پوچھا، پتر تمہارے گھر میں جو رنگ سازی کا کام رہتا تھا وہ کروا لیا؟

شان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا: نہیں چاچا ابھی کہاں۔

دلیر خان نے سوالیہ انداز میں دیکھتے ہوئے پوچھا: کیوں بھئی رنگ ہی تو بچا تھا وہ بھی کروا لیتے؟

شان بولا: چاچا آپ سے کیا چھپانا۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ مکان کو سیمنٹ سے پکا کرنے کے لیے ہم نے جو رقم کا اندازہ رکھا تھا خرچہ تو اس سے بھی دس ہزار زیادہ ہو گیا ہے اور اب گنجائش نہیں ہے۔

دلیر خان نے پھرلمبا کش لیا اور آہستہ آہستہ دو دفعہ اثبات میں سر ہلایا کہ جیسے سمجھ گیا ہو۔

شان پھر بولا: چاچا آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ پہلے ابا ہی کماتا تھا۔ اس وقت بڑی مشکل سے روٹی پوری ہوتی تھی۔ پھر پلاٹ قسطوں پر لیا۔ جس کے خود ہی گارے اور اینٹوں سے کمرے کھڑے کیے۔ گزر بسر بہت مشکل تھا۔ پھر امی نے فیکٹری میں کام شروع کر دیا اور اب میں بھی چھلیاں بیچتا ہوں اور ابا سموسوں کی ریڑھی پر ہوتا ہے۔ امی فیکٹری سے کوئی سات آٹھ ہزار کما لاتی ہیں۔ اسی طرح کمیٹیاں ڈال کر پیسے جوڑے تھے۔ اور مکان پکا کرنے کے قابل ہوئے تھے۔

دلیر خان ٹانگ پر ٹانگ دھرے شان کی طرف دیکھتا ہے اور سنجیدہ انداز میں کہتا ہے ” پتر کیا کر سکتے ہیں مہنگائی بڑی ہو گئی ہے۔ اشیاء کی قیمتیں تو اب آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہیں۔ گزارا کرنا بڑا مشکل ہے۔ اللہ ہدایت دے ہمارے حکمرانوں کو۔

پھر اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بولا: چلو خیر اللہ بہتر کرے گا۔

شان نے کو ئی تاثر نہ دیا اور خاموش اداس چہرے کے ساتھ سڑک سے گزرتی آمدورفت کو دیکھتا رہا۔

دلیر خان نے سگریٹ کا آخری کش بھرا اور بنا مسلے اسے دور پھینک دیا۔ اس نے شان کی طرف گردن گھومائی اور قہقہہ  لگا کر شان کی ران پر زور سے ہاتھ مارا اور بولا اوئے میں نے اڑتی اڑتی سنی کہ تیرا کسی لڑکی کے ساتھ چکر چل رہا ہے اور تو اس کے ساتھ شادی بھی کرنے والا ہے۔

شان نے زبردستی مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا، چل رہا تھا چچا لیکن ابا نے منع کر دیا اور میرا بھی ذہن بدل گیا۔

کیوں پتر ابا نے کیوں منع کردیا؟ دلیر خان نے حیرانگی سے پوچھا۔

شان بس چچا سب کچھ اچھا تھا لڑکی سوہنی بھی بہت تھی لیکن بس۔۔۔ ابا کا ذہن بدل گیا۔ میں نے اس کو فون کر کے جواب دے دیا۔

دلیر خان جھٹپاتے ہوئے بولا یار پتر تجھے پیار نہیں تھا اس لڑکی سے۔ تمہارے ابا کو کیا مسئلہ ہوا؟ آخر کیا وجہ بنی؟ چل چھوڑ مجھے اپنا چچا سمجھتا ہے تو ساری بات کھل کر بتا۔

چچا کیا بتاؤں اب چھوڑو ساری بات کو۔۔ شان کے بات کرتے چہرے پر الجھن صاف دکھائی دے رہی تھی۔

دلیر خان اسرار کرتے ہوئے بولا : تو بولتا ہے کہ لگاءوں تیرے کان کے نیچے؟ چچا بھی کہتا ہے اور بات بھی چھپاتا ہے۔۔

کچھ سیکنڈ کے لیے شان بے حس و حرکت کچھ سوچتا رہا اور پھر اچانک اس کے لبوں نے اپنا وصال توڑا اور وہ بولنے لگا۔۔” چچا دو مہینے پہلے کی  بات ہے۔ میں داتری ہاتھ میں لیے چھلیاں بھن رہا تھا کہ ایک بوڑھی اماں جس کا چہرہ جھریوں سے بھرا ہوا، کمر جھکی ہوئی اور بالوں میں چاندنی اتری ہوئی تھی۔ جو میرے پاس آئی اور بیس روپے نکال کر دیے اور کہا پتر دو چھلیاں دے دینا۔ میں نے دو چھلیاں بھٹی میں ڈال دیں ۔ تھوڑی دیر بعد رکشے سے اتر کر سیاہ حجاب میں ملبوس میری ہم عمر لڑکی اماں کے پاس آئی جس کے چہرے پر نقاب، بڑی بڑی کاجل سے بھری آنکھیں، دودھ جیسی سفید رنگت، پیشانی پر رخسار کے  جیسی نیم سرخی نمایاں تھی اور دیکھنے میں ایک رس سے بھری بھرپور دوشیزہ نظر آ رہی تھی جو ابھی انگوری شراب کی طرح پک کر مزید نشیلی ہونے کی عمر سے گزر رہی تھی۔ چچا مجھ پر تو جیسے اس کا کوئی جادو سا چل گیا ۔ خیر انہوں نے چھلی لی اور رکشے میں بیٹھ کر چلی گئی۔ چچا وہ رات تو جیسے عجیب رات تھی مجھے لگ رہا تھا جیسے میرے اوپر محبت اتر رہی ہو۔ میری ساری رات کروٹیں بدلتے گزری۔ بس اب دل میں ایک ہی چاہ تھی کہ کچھ بھی ہو اس لڑکی کے رخسار نقاب کی قید سے آزاد دیکھنے ہیں اور اس کے ہونٹوں کی بناوٹ کی حقیقت جاننی ہے جس کو میں اس رات اپنے تخیل کے مختلف زاویوں سے بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ چچا اگلے روز میں نہا دھو کے کام پے چلا گیا اور اس وقت کا انتظار کرنے لگا جس وقت پر وہ اماں کے ساتھ چھلیاں لے کر رکشے میں بیٹھی تھی۔ میں ٹکٹکی باندھے بار بار رکشوں کو دیکھ رہا تھا کہ اچانک ایک جانب سے وہ چاند کی مانند طلوع ہوتی نظر آئی۔ لیکن آج اس کی اماں اس کے ساتھ نہ تھی۔ مجھے موقع اچھا لگا میں کھڑا اس کی جانب دیکھتا رہا اور پھر میری ہی نظریں اس کو میری طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ ہماری آنکھوں کا ٹکراؤ  بار بار ہونے لگا۔

اس کی نظر پڑتے ہی میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ خودبخود کھل اٹھتی۔ آخر میں نے ہمت کر کے اسے فون نمبر کا اشارہ کر دیا۔ وہ کچھ دیر تو مجھے دیکھتی رہی مگر پھر اچانک پتہ نہیں کیا سوچا اور میری طرف بڑھنے لگی میری تو جیسے دھڑکن ہی رک گئی ہو۔ خیر وہ میرے پاس آ کر رک گئی۔ اس نے چھوٹے سے بٹوے سے دس کا نوٹ نکالا اور مجھے آنکھ سے اشارہ کر دیا اور کہا ایک چھلی بنا دینا۔ میں نے چھلی بناتے آہستہ سے موبائل نکالا اور پہلے دو ہندسے ڈائل کیے اور موبائل اس کی جانب بھٹی سے آگے رکھ دیا۔ اس نے تھوڑا ادھر ادھر دیکھا موبائل اٹھایا۔ اپنا نمبر ڈائل کیا ۔اور وہاں موبائل واپس رکھ کر چھلی لی اور چلی گئی۔ میں نے تو جیسے میدان مار لیا ہو اس دن سے ہماری مستقل فون پر بات ہونے لگی۔ ہم لوگوں نے ایک ہوٹل میں ملنے کا وقت طے کیا۔ ایک دوسرے کو جی بھر کے دیکھا۔ اس طرح ہماری محبت دن بدن بڑھتی گئی۔ ہمارا ملنا پارک میں بیٹھنا روز کا معمول ہونے لگا۔ اس نے اپنے بارے میں مجھے ہر بات بتائی کہ اس کا ابو ناشتہ لگاتا ہے، چار بھائی بہن ہیں۔ سلائی کڑھائی کا کام سیکھا ہوا ہے اور شہر میں ہی ایک سکول ہے جہاں وہ لڑکیوں کو سلائی کرنا سکھاتی ہے۔ وہ اس کو پانچ ہزار مہینہ دیتے ہیں۔ ہم نے کبھی کوئی بھی بات ایک دوسرے سے نہ چھپائی تھی بس ایک بات تھی جس کا ذکر کبھی نہ ہوا۔ یہ کہہ کر شان رک گیا۔

دلیر خان دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے بولا: پتر کون سی بات؟

شان نے کہا ابھی اسی طرف ہی آ رہا ہوں آپ سنتے جائیں۔ اچھا تو چچا ہم دونوں کی بات رشتے تک جا پہنچی۔ میں نے گھر بات کی۔ گھر والے مان بھی گئے۔ اس نے بھی اپنے گھر والے منا لیے۔ اس کو امی ابا سے ملوا بھی دیا تھا اور امی ابا کو وہ پسند بھی آ گئی۔ چچا اب بس گھر جا کر رشتہ پکا کرنا تھا کہ:

شان ابھی یہاں تک ہی پہنچا تھا کہ دلیر خان کو کھانسی شروع ہو گئی۔ یہ دیکھ کر شان رک گیا۔ دلیر خان نے خود کو سنبھالتے ہوئے بولا: سب کچھ تو ٹھیک تھا پھر کیا ہوا اچانک تمہارے ابا کو؟

چچا وہی بتانے لگا ہوں۔ شان بات شروع کرتے ہوئے بولا

پھر کل چچا ہم لوگ گھر سے نکلے تو اس کالونی میں پہنچے جہاں اس نے گھر کا پتہ بتایا تھا۔ میں نے وہاں سے ایک آدمی سے پوچھا: فرید ناشتے والے کا گھر کدھر ہے۔ اس آدمی نے ہمیں راستہ بتایا تو ہم اس کے گھر والی گلی میں پہنچ گئے مگر گھر کا علم نہ ہوا۔ میں نے محلے میں کھڑے اس کو کال کی۔ وہ ایک کچے اور بوسیدہ مکان کی چھت پر سے نمودار ہوئی جس کی چنائی گارے سے کی گئی تھی۔ اس نے مسکراتے چہرے کے ساتھ اندار آنے کا اشارہ کیا مگر جب میں نے ابا کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ انگارے کی طرح دھک رہا تھا۔ میری طرف غصے سے دیکھا  اور بولے تم اس طرح کے گھر میں شادی کرنا چاہتے ہو۔ ان کا تو مکان ہی کچا ہے۔ تمہیں کم از کم اپنے معیار کا تو خیال رکھنا چاہیے تھا۔ چلو واپس ہمیں کوئی رشتہ نہیں کرنا۔ پھر ہم لوگ اندر گئے بغیر گھر واپس آ گئے۔

دلیر خان پتر تم نے کوئی احتجاج نہیں کیا؟ ابا کو بتایا نہیں کہ تم آپس میں محبت کرتے ہو؟

شان لاپراہی سے بولا: چچا محبت تو اپنی جگہ اس کو بتانا تو چاہیے تھا کہ وہ کچے سے مکان میں رہتی ہے اور ہمارا گھر تو آپ نے دیکھا ہی ہے۔

دلیر خان شان کا یہ جواب سن کر خاموش ہو گیا اور اٹھ کر ٹارچ لائیٹ آن کی اور شان کو طنزیہ مسکراہٹ دی اور بولا: پتر بات تو ٹھیک ہے تم لوگ دادا پردادا کے زمانے سے پکے محلوں کے رئیس ہو تم کیسے رشتہ کر سکتے ہو؟ پھر ایک قہقہہ  لگایا اور چکر لگانے گلی کی طرف چلا گیا۔

ارسلان صادق
ارسلان صادق
میرا نام ارسلان صادق ہے۔ میں جڑانوالہ فیصل آباد کا رہائشی ہوں۔ میں گونمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد شعبہ کانون کا طالب علم ہوں۔ لکھنا میرا شوق ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *