میں نے مندر توڑا۔۔۔ذوالفقار علی ذلفی

میں قریب گیارہ یا بارہ سال کا تھا ـ لیاری کے دوسرے سب سے بڑے مدرسے “دارلعلوم انوارلاسلام” کا طالب علم تھا ـ اسی دوران بھارت میں بابری مسجد کا واقعہ پیش آیا ،اس دن مدرسے میں ہمارے استاد نے اس سانحے پر لمبی تقریر کی، بچے تھے لیکن پھر بھی بے حد غصہ آیا ـ۔۔

مدرسے کی چھٹی کا اعلان ہوا ـ باہر نکلے تو پولیس لائن کے جوانوں کا مجمع کھڑا تھا ،پولیس لائن مدرسے کے بالکل سامنے مرکزی سڑک پر واقع ہے ـ جوانوں نے ٹائر جلا کر سڑک بند کر رکھی تھی۔

tripako tours pakistan

ہم سفید ٹوپی والے بچوں کو دیکھ کر انہوں نے ہندوؤں کے خلاف نعرے بازی شروع کردی ـایک نوجوان نے ہم سے کہا تم لوگ قرآن پڑھتے ہو، تم لوگوں کا زیادہ فرض بنتا ہے کہ ایسے مواقع پر اسلام کا تحفظ کرو۔ ـ ہم بھی ساتھ ہولیے ـ۔

انہوں نے سوزوکیوں کا بندوبست کیا، ہمیں سوار ہونے کا کہا گیا ـپوچھنے پر بتایا گیا لیمارکیٹ کے ہندوؤں کو سبق سکھانا ہے تاکہ بھارت کو پتہ چلے مسلمان کا ایمان زندہ ہے ـ مجھ سمیت مدرسے کے درجنوں بچے سوزوکیوں پر چڑھ گئے ـ ہم نعرے لگاتے چاکیواڑہ سے ہوتے ہوئے لیمارکیٹ پہنچے ـ پولیس لائن کے جوان آگے، ہم پیچھے۔۔ ـ

نیپئر تھانہ کے بالمقابل ایک گلی ہے اور گلی میں مندر ـ۔۔اس زمانے میں مجھے علاقوں کا زیادہ علم نہ تھا اور نہ ہی کبھی اس گلی سے گزر ہوا ـگلی میں ہُو کا عالم تھا،  مکمل سناٹا ـ صرف ہمارا اسلامی لشکر اور اس کے فلک شگاف نعرے ہی چھائے ہوئے تھے ـ۔

وہاں ایک پرانا مندر ہے، غالباً برطانوی دور کے  گیٹ  پر لگے تالے کو توڑا گیا ـپولیس کے جوان آگے، مدرسے کے بچے پیچھے ـمیں زندگی میں پہلی دفعہ کوئی مندر دیکھ رہا تھا ـبھگوان کی مورتی زیادہ دلچسپ تھی۔ ـ

جوانوں نے اللہ اکبر کے نعروں کے ساتھ توڑ پھوڑ شروع کردی ـ ہم نے بھی اس “کارِ خیر” میں جوشِ ایمانی کے ساتھ حصہ لینا شروع کردیا ـ ایک بندہ سوزوکی سے پٹرول لایا، مندر میں جگہ جگہ پٹرول کا چھڑکاؤ کرکے آگ لگا دی گئی ـ۔

قریب آدھے گھنٹے تک یہ کارروائی جاری رہی، اس کے بعد ہم خوش خوش گاڑیوں پر سوار ہوکر چلے گئے ـ۔

محلے میں گھستے ہی سامنے سے دادا جی آتے دکھائی دیےـ میں جو خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا، جلدی جلدی ان کے پاس پہنچا اور بڑے فخر و انبساط کے ساتھ جہاد کا قصہ سنانے لگا۔۔ ـ دادا جی “کافر” نکلے، انہوں نے مجھے ڈانٹنا شروع کردیا ـان کے مطابق میں نے نہایت ہی گھٹیا حرکت کی ہے ـوہ میرے مدرسے کے استادوں اور پولیس لائن کے جوانوں کو بھی ٹھیٹ لیاری اسٹائل بلوچی میں گالیاں دینے لگےـ بعد میں پتہ چلا صرف دادا جی ہی نہیں میرا تو پورا خاندان “ہندو پرست” ہے ـ۔۔

البتہ دوسرے دن مدرسے میں ہمارے کارنامے پر شاباشی دی گئی ـ جو بچے اس “فضیلت” سے محروم رہے تھے انہیں افسوس ہوا اور ہم جو جہادی لشکر کا حصہ تھے خوش تھےـ چھٹی کے بعد اس امید پر باہر نکلے کہ پولیس لائن کے جوان آج شاید ہمیں کسی اور جگہ جہاد پر لے جائیں گے ـ مگر وہ نہیں تھےـ میں بجھے دل کے ساتھ گھر چلا گیا ـ۔

آج جب یاد کرتا ہوں تو شرمندگی سی ہوتی ہےـ اس گلی سے جب بھی گزرتا ہوں مندر کو دیکھ کر دل ہی دل میں معافی مانگ لیتا ہوں ـ۔

 

Avatar
ذوالفقارزلفی
ذوالفقار علی زلفی کل وقتی سیاسی و صحافتی کارکن ہیں۔ تحریر ان کا پیشہ نہیں، شوق ہے۔ فلم نگاری اور بالخصوص ہندی فلم نگاری ان کی دلچسپی کا خاص موضوع ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *