کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط15

سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاًافسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مذکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں

سترہ میل یا سترہ موڑ
سترہ میل یا سترہ موڑ
جھلملاتی مکیش ساڑھی
جھلملاتی مکیش ساڑھی

قسط نمبر 14 کا آخری حصہ

پوچھنے لگا “Where to?” یہ فلم ٹائٹنک کا وہ مشہور جملہ ہے جو جہاز کی بربادی سے پہلے ہیرو جیک، ہیروئین روزکو وہاں کارگو ہولڈ میں موجود ایک کار میں بٹھانے کے بعد اسٹیرنگ گھماتے ہوئے کہتا ہے۔میں نے بھی روز یعنی کیٹ ونسلیٹ کا جملہ اس طرح کہا کہ اگر اسلام آباد میں دن میں تارے نظر آسکتے ہیں تو وہیں لے جائیں۔حضرت کہنے لگے کہ میں پاکستان پہنچ کرایک دم کچھ بدل سی گئی ہوں۔میں نے کہا کہ ہاں دل چارہا ہے کہ مجھے مہارانی آف شطرنج سمجھا جائے۔جس پر ان کایہ جوابی جملہ سن کر مجھے یوں لگا کہ میرے نیچے سے فائٹر جیٹ والا کی سیٹ سے والا وہ بٹن دب گیاجو سیٹ سمیت پائلٹ کو زندہ بچانے کے لیے گولی کی رفتار سے کاک پَٹ ایک طرف کرکے ہوامیں  دونوں کو Eject کردیتا ہے۔پیراشوٹ کھل کر پائلٹ کو بحفاظت نیچے اتاردیتا ہے۔کہنے لگا جو
آپ کو  مملکت ِ دل کی مہارانی مانتا ہو اس کے ساتھ شطرنج کی بساط کیا بچھانا۔اس میں تو مات بھی ہوسکتی ہے۔ آپ سے کوئی بازی جیتنا کم از کم میرے دل کو تو گوارا نہیں۔ہم نے پہلی نگاہ میں آپ کی محبت کے پہلے خانے میں دل ِ لاچار کو رکھ دیا اب جتنے ٹکڑے ہوں وہ آپ کی ملکیت ہیں۔

میں مسکرائی۔۔ہمارے دفتر میں ایک لڑکی ہوتی تھی وہ ایک دن ہم سے کہنے لگی مردوں سے جب لکھت میں معاہدے کرو تو نان نفقہ، شطرنج کے پہلے خانے پر ایک دانے اور دوسرے پر ڈبل اور تیسرے پر اس کا ڈبل یعنی1 + 2 + 4 + 8 +… والا چکر چلایا کرو۔بے وقوف گڈی نے جب حساب لگانے کی کوشش کی تو چھ کیلکولیٹرز جواب دے گئے کیوں 64 خانوں کے حساب سے مانگا گئے خرچے کا جو ہندسہ سامنے آرہا تھا وہ بیس ہندسوں کا 18,446,744,073,709,551,615, فگر تھا۔ایسے ہندسے کو انگریزی میں Nonillionکہتے ہیں۔

اوشا جیسے لوگ
قلابازی کھاتی ہریالی
جامنی جماوٹ

قسط نمبر ۔۔ 15
حضرت نے بہت آہستگی سے کہا”آئیں آپ کو اس شہر میں آپ کا نیا گھر دکھاتے ہیں”۔
گڈو کا یہ گھر جسے اب میں  اپنا ہی کہوں گی۔ یہ اجازت میں نے خود کو دے ڈالی ہے۔آپ تو جانتے ہی ہیں ہم عورتوں اور فوج میں ایک قدر بہت مشترک ہے۔ وہ یہ کہ جب بھی موقع ملے، دوسرے کے مال پر قبضہ جمالو۔ ارسلان کا یہ گھر اسلام آباد کے جس علاقے میں واقع تھا وہ شہر میں داخل ہوتے وقت پہلا اور مری چھوڑتے وقت آخری گاؤں تھا۔اس کا نام ہے سترہ میل مری کے مقامی لوگ اس کو سترہ موڑ بھی کہتے ہیں۔مجھے مری والوں پر زیادہ بھروسہ نہیں جتنے عباسی اکیلی مری میں دستیاب ہیں اتنے توبغداد میں نہیں پائے جاتے جہاں پانچ سو آٹھ برس ان کی حکومت رہی یعنی سن 750 عیسوی سے1258 عیسوی تک۔
اونچے نیچے راستوں سے ہوکر جب ہم ایک ایسے گھر کی جانب مڑے جس کی پگڈنڈی کے نیچے ایک برساتی نالہ قل قل کرتا بہہ رہا تھا۔ دھوپ کی کرنیں اس کی بے قرار سطح پر یوں رقص کررہی تھیں گویا کسی ہلکی سرمئی اور نیلی شفون کی ساڑھی ،جس پر مکیش یعنی بادلے کی بہت نفیس جھلملاتی  کشیدہ کاری کی گئی ہو اس کے پلو پرپنڈال میں داخل ہوتے ہوئے جگمگ روشنی جھل جھل کرتی ہو۔

ہم ماڈرن کشمیری عورتوں کا ایک مسئلہ ہے۔ اپنے گورے رنگ اور بدن کی قدر نہیں کرتیں،ہر چیز Taken for Granted لیتی ہیں۔ ڈٹ کر کھاناپیدائشی حق جانتی ہیں۔ یہ بھول جاتی ہیں کہ ایک منٹ جو میٹھے کھانے کی لبوں کی لذت ہوتی ہے نا وہ عمر بھر کے لیے رانوں اور کولہوں کا روگ بن  جاتی ہے۔ دوسری عورت کا بدن متناسب،چال متوالی اور رنگت دھواں دھواں سی شام جیسی ہو تو ہمارے تن بدن میں حسد کا بھانبھڑ (الاؤ)جلنے لگتا ہے

تین سو ساٹھ ڈگری کیمرہ
کاشی یاترا وارانسی۰بنارس
کاشی یاترا وارانسی۰بنارس

جیپ جب ارسلان کیے گھر کے گیٹ پر پہنچی تووہاں کھڑی اوشا کا بھی حسن مجھے ایسا ہی لگا کہ جیسے کسی سانولی سلونی شام کو برسات نے دھو دیا ہو اور سورج کی کرنوں نے جس پر سلک کی پولی پولی ،پھوار بھری استری کردی ہو۔یہ وہی تھی جو عبایا چڑھا کر گڈو کو لینے آئی تھی۔اس کے بدن کی تراوٹ دیکھ کر مجھے لگا کہ جسم و جاں کے عذاب ارسلان کی آمد کے ساتھ ہی دھلے ہیں۔ جسم کے بھرے بھرے خطوط میں ایک جنسی اچھال، پنگ پانگ کی گیند جیسا کچکچاتا، شور مچاتا ایک باؤنس ، ایک سوئنگ تھی ۔جیسی کرکٹ کی بال کو نم تیز ہوا میں آسٹریلیا نیوزی لینڈ کی سمندری شہروں والی وکٹ پر ملتی ہے۔ ایک اپنائیت بھری آسودگی، لیونڈر کے لہلاتے کھیت کی لہلاتی جامنی جماوٹ جیسی۔ آسمان پر تیرے بادلوں جیسی لیونڈر رنگ کی سستے جارجٹ کی ساڑھی اور ویسا ہی دودھ میں کنجوسی سے ملا روح افزا جیسا پولکا ڈاٹ والا کرشڈ ریشم کا چسپاں بغیر آستین کا، شانے کے نیچے چپک کر گولائی کاٹتا بلاؤز۔ایسا لگا کہ لباس رنگین و تن آساں کا تحفہ اسے چھوٹی بہن سمجھ کر اداکارہ جوہی چاولہ یا کاجول نے دیوالی پر بھیجا ہو۔ نیل پالش بھی لگائی تھی۔نیشاپوری فیروزے کی انگوٹھی بھی پہن رکھی تھی کہ  نظر نہ لگے۔حضرت ہی کسی دورے پر ایران سے لائے ہوں گے۔چوڑیاں،آویزے۔ سہاگن نے کیا اہتمام چھوڑا تھا۔ اس پُر تمکنت، رکھ رکھاؤ اور دھیما پن بہتے جھرنوں جیسا۔اس بناؤ سنگھار اور سانولے پن میں دہکتے شعلوں کی سی دمک
۔ اس کا بیٹا کہیں دکھائی نہیں پڑتا یہاں ہوتا تو میں ایک منٹ میں جانچ لیتی کہ ارسلان کا بیٹا ہے کہ نہیں۔ اس کی سابقہ بیوی مدیحہ کا گڈو کے لچھن دیکھ کر چھوڑنے کا فیصلہ درست تھا کہ نہیں۔ مجھے   ان   لمحات میں اوشا کا وجود اس یقین دہانی کی مانند لگ رہا تھا جو کسی ایسے فر دکے پاس موجود ہو جس نے ایک قیمتی پارسل بروقت فرد مطلوبہ کو ڈیلورکیا ہو ۔ اسے وصول کرنے والے نے اس کے عوض اسے رسید کے ساتھ بھاری ٹپ بھی دی ہو ۔
مجھے لگا کہ یہ ارسلان کے یہ وہ عذاب تھے جن کی آگ میرے   رنگین وجود  نے ایمسٹرڈیم کے ہوائی اڈے سے کاپوڈوکیا، ترکی میں بھڑکائی تھی۔ جیسے ہی گھر واپس آئے ہوں گے اوشا کا لباس تار تار ہوا ہوگیا اور حضرت کے بدن نے اسے کہا ہوگا ع لاؤ اپنے حسن کی ناؤ۔۔نیناں اتریں پار۔۔۔۔

مجھے حیرت ہوئی کہ اسے ہماری آمد کا پتہ کیسے چلا۔ وہ گیٹ پر ہماری منتظر تھی۔ اس سوال کا جواب گھر کی سیر میں مجھے مل گیا۔ نیچے سامنے جو بل کھاتی سڑک ایک سست قدم پگڈنڈی پر مڑتی تھی اس سے آنے والی   کار کا پتہ  قطار در قطار لاؤنج اور کچن کی کھڑکیوں کے علاوہ کچن، لاؤنج اور بیڈروم میں لگی  کئی مانیٹرنگ اسکرینز   سے بھی چل جاتا تھا جن پر بیرونی اور چھت پر لگے تین سو ساٹھ ڈگری کے کیمرے سب نقل و حرکت ظاہر کرتے تھے۔

ایک عورت اگر دوسری عورت کو دیکھتے ہی بھانپ کر آئندہ کے باہمی تعلقات کا اندازہ کرلیتی ہے تو جان لیں میرے اور اوشا کے درمیان ایسا ہی ہوا۔مجھے لگا کہ یہ ارسلان میاں کا جنریٹر اور یو پی ایس ہے۔وحشتوں کی ساتھی۔میری سوکن۔۔۔

میز پر کھانا لگانے میں بھی وہی پیش پیش تھی۔کھانا سادہ سا تھا، چاول، چپاتی، دال، آلو کے کٹلٹس،قیمہ،اور گاجر کا حلوہ۔اوشا کا سکوت اور کم گوئی البتہ جان لیوا تھے۔ پتہ چلا اس کی مدد کے لیے گڈو کے دفتر سے ایک نائب قاصد آگیا ہے جو پارٹ ٹائم کک بھی تھا۔ مجھے یہ بھانپ لینے میں دیر لگی کہ وہ بھی ایک جائزہ مشن پر ہے کہ گڈو مجھے کہاں سے پکڑ لائے ہیں۔میں کون ہوں۔اتنا تفصیل اور اطمینان سے میرا گھر میں یوں گھومنا اور ایک  ایک  کونے پر ندیدوں کی طرح نگاہیں گھمانا۔اس کا مطلب کیا ہے۔۔کیا میں بیگم ارسلان کی صورت میں عنقریب نازل ہونے والی ہوں۔ میں گھر میں آگئی تو وہ کہاں رہے گی۔ سو مشاہدے اور تفکر کے رنگ چہرے پر ساتھ ساتھ آتے جاتے تھے۔ میں نے بلاؤز کی تعریف کی تو کہنے لگی میری امی پچھلے سال کاشی یاترا پر گئی تھیں وہاں سے جے پور بھی گئیں تھیں ساڑھی بلاؤز وہیں سے سلوا کر لائی ہیں۔ہم نے کچھ دیر باتیں کیں۔میں نہیں چاہتی تھی کہ اسے یہ تاثر دوں کہ ارسلان نے مجھے اس کے بارے میں کچھ بتایا ہے۔سچ پوچھیں کہ یہ ارسلان کی قربت والا بگ میرے دماغ میں نہ ہوتا تو وہ مجھے پہلی نگاہ میں اچھی لگی تھی۔شائستہ، خوش مزاج،بے انا، تندرست، محنتی۔

جسٹن شراب احمر
شیشہ جو دہکے
ٹیرس کا جھولا

ڈھلان سے نیچے قلابازیاں لگاتے باغیچے میں دھلی دھلی ہریالی نے اپنا سماں باندھا تھا۔میرا چسکی کا موڈ تھا مگر ارسلان نے جب بتایا کہ شراب گھر میں تو موجود نہیں تو میں نے بھی ایک کمینگی کا مظاہرہ کیا۔اسے پاکستانی معاشرے سے جڑی حرکت سمجھیں تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا۔آپ نے دیکھا ہی ہوگا کہ ہم امریکہ،یورپ اور مشرق وسطی میں کیسے مہذب اور قانون کے پاسدار ہوتے ہیں مگر پاکستان کے ائیر پورٹس پر اترتے ہی سندھی زبان میں چِتّھے(آپے سے باہر) ہوجاتے ہیں۔ایک تو میں نے ارسلان کی پہنچ اور رسائی کا جاننے کا اندازہ لگانے کے لیےdigestifs کا مطالبہ کردیا۔ ارے آپ کو نہیں پتہ digestives اس شراب کو کہتے ہیں جو کھانے کے ساتھ گھٹکائی جاتی ہے۔

حضرت نے میری فرمائش سنتے ہی کسی کو فون کیا گھر میں کوئی اور ملازم نہ ہونے کے باعث بے چاری اوشا کو ڈرائیور کے ساتھ دوڑ بھاگ کرنی پڑ ی۔گڈو نے اوشا کو کہا کہ وہ ڈرائیور کے ساتھ
جائے اس بڑے ہوٹل کے پارکنگ لاٹ میں بیٹھی رہے ۔فون پر نظر رکھے وہ جب کال کرے گا تو وہاں مینجر صاحب ایک تھیلی دیں گے وہ لے آئے۔ پیکٹ اپنے پاس ہی رکھنا ہے۔۔
۔ اوشا کی بمع بوتل واپسی تک ہم ایک دوسرے کی بانہوں میں سمائے لیٹے رہے۔یہ کہنا مشکل ہے کہ اس نے مجھے زیادہ چوما یا میں نے۔چالیس منٹ کب گزرے پتہ ہی نہ چلا۔میرے ہونٹ بھی کچھ بوجھل ہوگئے تھے اور بدن بھی۔

باپو ۔افریقین گرے پیرٹ
پتنگ کے کنے

اوشا کو لے کر گاڑی جب واپس لوٹی اور ہم نے اسے بیڈروم کے اسکرین پر دیکھا۔ حضرت نے مجھ سے علیحدگی اختیار کی۔میں نے بھی غسل خانے سے خود کا حلیہ درست کرتے ہوئے شرارتاً پوچھ لیا کہ سچ بتاؤ گڈو کیک کھانے میں زیادہ مزا آیا کہ گلاب جامن میں۔آ پ سمجھ ہی گئے ہوں گے گلاب جامن سے میری مراد اوشا تھی۔سانولی سلونی۔اسکول گرل جیسی اماں جان۔میری آج تک کی سوت۔وہ اگر سمجھ بھی گیا تو اس نے فریج میں ہاتھ  مارتے ملازم کی طرح جھینپ کر میری بات کو نظر انداز کیا۔ میں نے عورت ہونے کا یہ فائدہ اٹھایا کہ گڈو کو بھی عورت سمجھ کر ادھوری بات کی۔ایسا ہم اور گڈی اکثر کرتے تھے۔ایک دن وہ اپنی ایک ہندو دوست کو حاملہ دیکھ کر اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگی ،لگتا ہے بہت مٹھائی کھائی ہے۔وہ بے چاری ہڑبڑا گئی شوگرکنٹرول کا ذکر چھیڑ بیٹھی۔گڈی نے چلتے چلتے جو جملہ کہا وہ یہاں لکھنے کا محل نہیں۔۔

چالیس منٹ بعد اوشا اور ڈرائیور ustin Cabernet Sauvignon J سرخ شراب کی بوتل لے آئے۔ اسی دوران میری فرمائش پر اوشا نے شیشہ بھی دہکا دیا۔مجھے لگا یہ کام اس کے لیے نیا نہیں میں نے بہت آہستہ سے سوچا بستر اور شیشہ دونوں ہی گرم کرنے کی ماہر لگتی ہے، میرے صاحب کی رکھیل۔اس کا کچھ کرنا ہوگا اسے اپنی حیثیت اور مقام پر رکھنے کے لیے میں نے کوئلے لانے کا فریضہ بھی سونپا۔

مجھے لگا میری جانب سے اوشا سے خدمت کا یہ مطالبہ ارسلان کو بھی ہلکا سا ناگوار گزررہا تھا۔

ٹیرس سے باہر کا منظر کچھ دیر پہلے کی ہلکی پھوار سے مزید حسین ہوگیا تھا۔ وہاں چھت سے لٹکا ایک جھولا بھی تھا جو اکثر گجراتی اور مشرق بعید کے ممالک کے گھروں میں ہوتا ہے جہاں خواتین کو فراغت نصیب رہتی ہو۔ اوشا کی آمد کے بعد وہاں ہم نے نشست جمائی۔میری چاکری کے مطالبات پرایک ہلکی سی بے بسی اوشا کے چہرے پر بھی عیاں تھی۔میرے پوچھنے پر بتایا کہ اس کی امی اس کے بیٹے کو لے کر بھائی کے پاس سرکاری زراعتی فارم پر ترناب۔پشاور گئی ہیں۔وہ کیوں نہیں گئی۔ جواب صاحب نے آنا تھا۔مجھے آگ لگ گئی۔

ہندوستانی چینل کے ڈراموں والی عجلت بھری کمینگی کا مظاہرہ میں نے یہ کہہ کر کیا ساڑھی تو بہت جچ رہی ہے ۔ڈرائیور نصیر جو کوئلہ لے کر پاس کھڑا تھا وہ کہنے لگے ہماری دیوی جی گھر پر اکثر ساڑھی ہی پہنتی ہیں۔ اس غیر متوقع امداد سے اوشا کو یک گونہ راحت محسوس ہوئی۔بات گھمانے کے لیے کہنے لگی گھر پر بھی تو کوئی ہو۔اس کی بے بسی میں اضافے کے لیے میں نے اس سے فرمائش کی کہ وہ میرے فون سے میری اور ارسلان کی تصویر کھینچے۔اتنا اہتمام البتہ میں نے ضرور کیا کہ جام و شراب اور شیشہ فریم سے باہر کردیا اور چلتے چلتے اپنے فون سے ایک تصویر اوشا کی بھی کھینچ لی۔واپسی سے قبل جب میں بیڈ روم کا جائزہ لے رہی تھی تو ارسلان سے میں نے گلے میں لٹک کر پوچھا کہ کیا یہ میرا گھر ہے

پیٹ پر  ہاتھ  رکھ کر آہستہ سے کہنے لگا آپ کا بھی اور آپ کے بیٹے کا بھی۔میں نے جسے انگریزی میں Double Speak یعنی ذو معنی بات کہتے ہیں وہ کہی کہ میں یہاں سے کچھ تبدیلیاں کرنا چاہتی ہوں تو کہنے لگا کیوں نہیں۔ گھر کی مالکن کا اختیار ہے۔میں نے بہت آہستگی سے کہا۔۔۔One day I will remove few things from here. (ایک دن یہاں سے میں کچھ اشیا ہٹادوں گی)۔شیطان کہیں کا مجھے کہنے لگا مجھے ہی نہ فارغ کردینا۔میں محتاط رویوں کی مالک ہوں اس لیے اسے جتایا کہ اگر کسی وجہ سے ہم شادی نہ کرپائے تو۔اس نے کہا بظاہر تو میرے انکار کے علاوہ اس کی سمجھ میں کوئی وجہ نہیں آتی۔اس کی ضد تھی کہ میں ایک بہت ہی بے مخاصمت طلاق پر فوکس کروں۔

میں نے اوشا سے پوچھا کہ ملنگی اور باپو کہاں ہیں تو کہنے لگے ملنگی تو امی کے ساتھ ترناب گیا ہے۔وہ میرے بیٹے ماہر کے ساتھ بہت فرینڈلی ہے۔باپو وہاں گارڈن میں ہے۔
ہم جب گھر سے نکل کر آئے تو مجھے خیال آیا کہ عجب رفاقت تھی نہ بہت باتیں کیں۔نہ بہت زیادہ جسمانی بے تکلفی کا مظاہرہ ہوا۔ سچ پوچھیں تو مجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اگر اپنے ارادوں کا رخ مشترکہ بے لباسی اور آگے کے مراحل پر لے جاتا تو میں اسے روک پاتی۔ اس حوالے سے مجھے اپنے بدن کی دفاعی صلاحیت پر جو ناز تھا وہ اس کے جہاز والے بوس و کنار کے سیشن سے ریزہ ریزہ ہوگیا تھا۔ ہم دونوں کے بدن کی لاگ لپٹ کے دوران مجھے لگا کہ وہ اوشا کی وجہ سے کچھ ٹھنڈا تھا ۔ممکن ہے اسے یقین ہو کہ ڈور نے پتنگ کو تھاما ہوا ہے۔جلد بازی دکھائی تو کنے کھل جائیں گے(کنے جن سے پتنگ کو کمان بنا کر ڈور سے اڑانے کے لیے  باندھا جاتا ہے۔)

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *