• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پولیس کی کارکردگی،تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیے۔۔۔۔منور حیات سرگانہ

پولیس کی کارکردگی،تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیے۔۔۔۔منور حیات سرگانہ

پولیس کی حراست میں اے ٹی ایم مشینوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے مبینہ ملزم صلاح الدین کی ہلاکت کے بعد ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا پر محکمہ پولیس کو مطعون کرنے کی دوڑ جاری ہے۔ویڈیوز پر ویڈیوز آ رہی ہیں،اور ایک طرح سے پولیس کے خلاف نفرت کی فضا پیدا کی جا رہی ہے،جو کہ مستقبل میں کسی اندوہناک المیے کو جنم دے سکتی ہے۔اگرچہ پولیس کی طرف سے لوگوں کے خلاف ہونے والی ذیادتیوں کی کسی طور بھی حمایت نہیں کی جا سکتی،لیکن ہمیں تصویر کا وہ رخ بھی ضرور دیکھنا چاہیے،جس پر عام لوگوں کی نظر بوجوہ نہیں  جا پاتی۔

اس وقت ملک میں ہدف تنقید  زیادہ تر پنجاب پولیس ہے،تو بہتر ہے اسی پر بات کر لی جائے۔تبدیلی سرکار کے انتخابی منشور میں سب سے اہم وعدہ پولیس اصلاحات اور پولیس کو حکومتی اور سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرنے  کا تھا۔بدقسمتی سے اس حکومت کے باقی وعدوں کی طرح اس وعدے کا حشر بھی مختلف نہ ہوا۔پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرنا تو دور کی بات ہے،اعلیٰ پولیس حکام کی طرف سے پورے پنجاب کے تھانوں کے ایس ایچ اوز کو باقاعدہ تحریری طور پر اس حکم کا پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنے موبائل فونز میں اپنے علاقے کے ایم این اے اور ایم پی اے کے نہ صرف نمبر محفوظ کریں،بلکہ ان کو مثبت رسپانس بھی دیں۔اس حکم کے بعد تفتیشی معاملات میں سیاسی مداخلت پہلے سے بھی  زیادہ بڑھ چکی ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اوپر سے لے کر نیچے تک تھانوں میں تعیناتیاں سو فی صد سفارش پر کی جارہی ہیں۔میرٹ جیسی چڑیا کہیں پر بھی نہی مار سکتی۔ہر کوئی اپنی مرضی کے بندے اور اپنی مرضی کے نتائج چاہتا ہے۔

اس وقت تھانوں کی صورتحال یہ ہے،کہ شہروں میں ہزاروں شہریوں کی تعداد کے لئے اور دیہات میں تیس سے چالیس کلو میٹر کے فاصلے کے لئے ایک پولیس اسٹیشن ہے۔عام طور پر ایک تھانے میں 5 سے 10 تک افسران ان میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر،سب انسپکٹر اور انسپکٹر اور 15 سے پچیس تک چھوٹے درجے کے اہلکار کانسٹیبل اور حوالدار وغیرہ تعینات ہوتے ہیں۔دو کانسٹیبل تھانے کی حفاظتی ڈیوٹی پر اور دو ایس ایچ او کے حفاظتی گارڈ کے طور پر مستقل تعینات ہوتے ہیں۔ایک محرر اورتین اس کے نائب کے فرائض سر انجام دیتے ہیں،باقی اہلکاروں کے ذمہ گشت اور دیگر سب طرح کی ڈیوٹیاں ہوتی ہیں،اب ظاہر ہے اتنے بڑے علاقے میں اتنی قلیل تعداد کہاں تک جرائم کا قلع قمع کر سکتی ہے ؟۔

زیادہ تر تھانوں میں ایک پولیس موبائل ہے(شہروں میں تین تک بھی ہیں)۔پولیس موبائل کو روزانہ کی ضرورت کے لئے 15 لیٹر تیل ملتا ہے،جس میں یہ 2200cc سے 2800ccتک کے انجن کی حامل گاڑیاں 7یا 8 کلومیٹر فی لیٹر کے حساب سےزیادہ سے زیادہ 120 کلو میٹر تک کا سفر کر سکتی ہیں۔اسی بجٹ میں رہتے ہوئےانہوں نے روزانہ چار یا پانچ جگہ وقوعے،شکایات کے ازالے،چھاپے،تعاقب اور گشت پر بھی جانا ہوتا ہے۔اور اگر اس علاقے سے کسی وی آئی پی کا گزر ہو رہا ہے،تو حدود تھانہ سے اسے اسکواڈ کرتے ہوئے بحفاظت دوسرے تھانے  کی حدود تک پہچانا بھی ہوتا ہے۔تھانوں میں اسٹیشنری کی ضروریات کے لئے صرف ایک رجسٹر کے پیسے سرکاری فنڈ سے ملتے ہیں،جبکہ بقیہ 25 اقسام کے رجسٹر ،روزنامچہ،ایف آئی آر رجسٹر،ضمنیاں اور رپورٹیں وغیرہ پورا دفتر پولیس افسران کو اپنی جیب سے چلانا پڑتا ہے۔پولیس افسران اور اہلکاروں کے لئے فوج اور دوسرے دفاعی اداروں کی طرح کسی قسم کا نہ کوئی میس موجود ہے ،نہ ہی کوئی باورچی ،حتیٰ کہ ان کو چائے یا پانی پلانے کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے،الٹا بعض صورتوں میں حوالاتیوں کے کھانے پینے کا انتظام بھی ان کو پلے سے کرنا پڑتا ہے۔ان پر لوگوں کے ڈیروں سے کھانے کھانے کا الزام لگانا بہت آسان ہے،مگر حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہے ۔بہت کم تھانوں میں پولیس اہلکاروں کے لئے رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔پولیس اہلکاروں کے لئے کوئی متعین اوقات کار نہیں ہیں،کئی بار تو انہیں مسلسل 48 گھنٹے یا 72 گھنٹے تک کی ڈیوٹیاں سرانجام دینا پڑتی ہیں،جس کی وجہ سے پولیس اہلکاروں میں چڑچڑاپن اور بد مزاجی کی شکایت عام ہو چکی ہے۔

سب سے مشکل کام تفتیشی افسران کا ہے۔انہوں نے علاقے کا گشت بھی کرنا ہوتا ہے،جرم کی تفتیش بھی،مقدمات کے ثبوت اور سیمپل ذاتی طور پر لاہور فرانزک لیبارٹری میں جمع کروانے ہوتے ہیں،یاد رہے پورے صوبے میں صرف ایک لیبارٹری ہے،اس کے بعد عدالتوں میں پیش ہونا اور پھر لوگوں کی شکایات کے ازالے کے لئے دفتر میں بھی بیٹھنا ہوتا ہے۔اس کے بعد لیبارٹری کی رپورٹ لے کر تفتیش مکمل کر کے کیس عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔یہاں عجب تماشا  ہوتا ہے۔سرکاری وکیل کی مٹھی گرم نہ کی جائے تو وہ کیس پر کوئی نہ کوئی اعتراض لگا کر کیس واپس بھیج دیتا ہے،اور چالان پاس نہیں ہونے دیتا۔اس کے بعد ایک کیس میں جب تک اپیلیں چلتی رہتی ہیں اور فیصلہ نہیں ہوجاتا،تفتیشی افسر پیشیاں بھگتتا رہتا ہے۔اب آپ صرف اتنا سا تصور کیجیے کہ ایک پولیس افسر کو اگر رحیم یار خان،راجن پور یا اٹک سے ان کیسوں کے سلسلے میں مسلسل لاہور کے چکر لگانا پڑیں تو اس پر کیا بیتتی ہو گی،جبکہ اس سب کام کے لئے اسے سرکاری طور پر ایک روپیہ بھی ادا نہ کیا جاتا ہو؟

لوگوں کی سب سے بڑی شکایت ایف آئی آر کا اندراج نہ ہونا ہے۔جرائم دو طرح کے ہوتے ہیں۔ایک قسم کے جرائم قابل دست اندازی پولیس ہوتے ہیں،جیسا کہ قتل،ڈکیتی،اغوا وغیرہ،جبکہ دوسری طرح کے جرائم جیسے کہ پیسوں کا لین دین اور جائیداد کے تنازعات وغیرہ قابل دست اندازی پولیس نہیں ہوتے،یہ سب سول کورٹس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔جب ان جیسے معاملات میں پولیس ایف آئی آر درج نہیں کرتی تو لوگوں کو شکایات ہوتی ہیں۔دوسرا تھانوں میں آنے والی زیادہ تر درخواستیں جھوٹی ہوتی ہیں،جن میں محض انا کی تسکین اور مخالف کو سبق سکھانے کی نیت کارفرما ہوتی ہے،ان سب معاملات کو بھی تفتیش کر کے دیکھنا پڑتا ہے کہ کتنےاصلی واقعات ہیں۔کئی بار لوگ اپنے کسی پیارے کو کسی جگہ چھپا کر مخالفین پر اغواء کی ایف آئی آر کٹوانا چاہتے ہیں۔کئی بار مثال کے طور پرکسی موٹر سائیکل سوار کو اگر دو بندوں نے مل کر لوٹ لیا ہے تو اس جرم پر ضابطے کے مطابق دفعہ392 لگتی ہے جس کی سزا نسبتاً کم ہے،مگر لواحقین کا اصرار ہوتا ہے کہ لوٹنے والے پانچ بندے لکھے جائیں ،جس پر دفعہ 395 کے تحت کارروائی ہوتی ہے،جس کی سزا  زیادہ ہے۔خدانخواستہ کوئی قتل ہو جائے تو لواحقین کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ مخالفین کے سارے ٹبر کو ہی پرچے میں نامزد کروا دیا جائے۔چاہے اس کے لئے جھوٹا وقوعہ ،جھوٹے گواہ،سفارش اور رشوت کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑ جائے۔سچی بات تو یہ ہے کہ یہ ہم عوام خود ہی ہیں جو پولیس کو رشوت کے ذریعے سے خریدنا بھی چاہتے ہیں،سفارش کے ذریعے سے جعلی اور ناجائز کام بھی کروانا چاہتے ہیں،اور پولیس سے ایماندار ہونے کی توقع بھی رکھتے ہیں۔

اگر واقعی ہم ایک دیانت دار اور لوگوں کی خدمت کی اہلیت رکھنے والے ادارے کی توقع رکھتے ہیں،تو سب سے پہلے تو پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کروانا ہو گا،جو موجودہ نظام میں بہت مشکل کام لگتا ہے،کیونکہ حکومت اس بارے بالکل بھی سنجیدہ نہیں۔تاہم اگر ایسا ہو جائے ،تو اس کے بعد پولیس اہلکاروں کے لئے ڈیوٹی کے اوقات کار متعین کرنے کی ضرورت ہے۔تھانوں کو چلانے کے لئے ضروری فنڈز جو کہ ڈی پی اوز کی دہلیز پار کر کے کبھی تھانوں تک نہیں پہنچ سکے،ان کو تھانوں پر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔پولیس اور عدلیہ کے نظام میں ثبوت کے حصول کے لئے برآمدگی  مال ،یا برآمدگی آلات جرم یا چشم دید گواہ ضروری ہیں،اور ان کے حصول کے لئے پولیس ملزمان پر تشدد کرنے پر مجبور ہوتی ہے،اس کی بجائے دیگر ثبوتوں اور فرانزک شواہد کی اہمیت کو بھی تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔اب تو ٹی وی کیمروں اور ریکارڈنگ ،فون سم اور انٹر نیٹ کے ریکارڈ جیسی بہت سی چیزیں دستیاب ہیں۔پولیس ملازمین کے لئے سرکاری طور پر قیام و طعام نیز سفر خرچ کی دستیابی کو یقینی بنایا جانا چاہیے،تاکہ وہ دیگر ذرائع سے روپیا پیدا کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ہر ضلع میں اگر فورنزک لیب بنانا ممکن نہیں بھی تو ہر ضلع کی سطح پر ایک عدد سیمپل کولیکشن سینٹر تو ضرور ہونا چاہیے ،تاکہ پولیس افسران کا قیمتی وقت بچ سکے ۔نچلے درجے سے لے کر ایس ایچ او سطح کے افسران کی اخلاقی تربیت کے لئے میعاری پولیس اسکولوں کی ضرورت ہے،جہاں جدید پولیسینگ کی تربیت دی جا سکے۔تاکہ شہریوں کے ساتھ پولیس کی بدسلوکی کی شکایات کم ہو سکیں۔پولیس کے محکمے میں نفری کی کمی بھی جرائم کے خاتمے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔نئی بھرتیوں کی سخت ضرورت ہے ۔مانا کہ اس محکمے میں کالی بھیڑیں بھی کثرت سے موجود ہیں،لیکن ایمان دار اور قابل افسران کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔صرف ان کو آزادانہ موقع اور ضروری سہولیات دینے کی ضرورت ہے۔

منور حیات
منور حیات
ملتان میں رہائش ہے،مختلف سماجی اور دیگر موضوعات پر بلاگ لکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *