دنیاکا محافظ ہار گیا؟۔۔۔۔اسلم اعوان

امریکہ اور طالبان کے درمیان اصولی طور پہ امن معاہدہ طے پا جانے کے باوجودپانچ ستمبر کی صبح کابل کے محفوظ ترین علاقہ میں کاربم دھماکہ میں چار غیر ملکیوں سمیت دس افراد کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر کی طرف سے ڈرامائی انداز میں مذاکرات کی منسوخی کے فیصلے  نے افغانستان میں قیام امن کی مساعی کو دھچکہ پہنچایا،اس سے قبل دنیا کی واحد سپرپاور کے وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے امن معاہدہ کے سرنامہ میں طالبان کی بجائے اسلامی امارت افغانستان کا لفظ لکھنے کو ناقابل قبول قرار دیکر اس معاہدہ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا،اگرچہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اب بھی کہتے ہیں کہ ہم جنگ ہار رہے ہیں،پُرامن انخلاءواحد آپشن ہوگا،مگرصلیبی تصورات کی اسیر امریکہ اسٹبلشمنٹ کو خدشہ ہے کہ دنیا افغانستان میں طالبان کی فاتحانہ واپسی کو اسلام کے ہاتھوں عیسائیت کی شکست سے تعبیر کرے گی،روشن خیالی کی علمبردار مغربی طاقتیں سیکولر رویّوں کے ساتھ تو اسلام پسندوں کی مزاحمت پہ قابو نہیں پا سکیں،کیا اب یورپ کو بھی نریندر مودی کی ہندوتوا کی مانند مسلمانوں کو دبانے کی خاطر عیسائی عصبیتوں سے توانائی حاصل کرنا پڑے گی؟

لیکن جس دن مغرب والوں نے اپنے چہرے سے سیکولرازم کا خوشنما نقاب اتار پھینکا، اسی دن مسلمانوں کی ان منتشر مزاحمتی تحریکوں کے اساسی مقاصد کی تکمیل ہو جائے گی، جو پچھلے سو برسوں سے مغرب کی تہذیبی یلغار اورسیاسی بالادستی کے خلاف برسرپیکار ہیں۔

بہرحال،امن معاہدہ کی قبولیت پہ امریکی انتظامیہ کے درمیان ابھرنے والے اختلافات نے ان تلخ حقائق سے پردہ اٹھا دیا،عالمی طاقتیں جنہیں جدید ڈپلومیسی کے طلسماتی لبادوں میں ملبوس رکھ کے دنیا اورخود کو فریب دینا چاہتی تھیں۔کل تک جو امریکی کہتے تھے،وہ آخری گولی اور آخری دشمن کے خاتمے  تک جنگ لڑیں گے،آج وہ ایک کروڑ انسانوں کو مارنے کی جنگی صلاحیت رکھنے کے باوجود رسواکن پسپائی قبول کرنے پہ تیار ہو گئے ہیں،بلکہ کسی تصفیے  کا انتظار کیے بغیر امریکہ عملاً افغانستان چھوڑ رہا ہے،امن معاہدہ کے تحت پہلے مرحلے  میں امریکہ نے جن پانچ فوجی مراکز کو خالی کرنے کی پیشکش کی،ان پانچوں فوجی اڈوں کو وہ کب کا خالی کر چکے ہیں،اگر طالبان کو علم ہوتا کہ مذاکرات کے دوران امریکی فورسیز کا انخلاءجاری ہے تو شاید امن معاہدے کےلیے انکی شرائط مختلف ہوتیں۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ طالبان کی فاتحانہ واپسی امریکہ سمیت پوری مغربی دنیاکےلئے ناگوار مرحلہ ہو گی،کیونکہ افغانستان میں امریکہ کی فوجی شکست کے نفسیاتی اثرات دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے حوصلے بڑھا دیں گے۔قرائین بتاتے ہیں،متذکرہ معاہدے کی تکمیل سے قبل ہی امریکہ نوازافغان گورنمنٹ طالبان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو گی،تاریخ گواہ ہے،جب بھی کوئی فاتح یہاں داخل ہوا کابل کی پوری فوج اسکے ساتھ مل گئی،افغان صدر اشرف غنی اس حقیقت کو جانتے ہیں،جس دن طالبان فاتح بن کے کابل میں داخل ہوئے اسی روز انکی پوری سرکاری مشنیری اورفوج طالبان کی ہمنوا ہوگی۔اس وقت بھی قندوس سمیت شمالی افغانستان کے متعدد صوبوں میں طالبان کو برتری حاصل ہے لیکن تزویری حکمت عملی کے تحت وہ صوبہ جاتی مراکز پہ قبضہ کرنے سے گریزاں ہیں ،تاکہ اپناکنٹرول قائم رکھنے کی خاطر انہیں دفاعی پوزیشن پہ نہ آنا پڑے۔۔

لیکن امریکی اتھارٹی کےلئے اس صورت حال کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ طالبان کے ساتھ امن معاہدہ دراصل دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بنیادی جوازکو باطل قرار دینے کی تاریخ ساز دستاویز ثابت ہو گا،یعنی اکتوبر دوہزار ایک میں پوری دنیا کی حمایت کے ساتھ امریکہ نے جس گروہ کو نائن الیون کا ذمہ دار اور دہشتگرد قرار دیکر عالمی امن کےلئے خطرہ باور کرایا اورمجرموں کو انصاف کے کٹہرے  میں لانے کی خاطر وسیع جنگی مہم لانچ کی تھی،اب انہی”دہشتگردوں“کے ساتھ امن معاہدہ دراصل اپنی غلطی کا اعتراف اورفوجی و اخلاقی شکست تسلیم کرنے کے متراداف ہو گا۔کیا امریکہ سمیت پورا مغرب ان مبینہ دہشتگردوں کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا جنہوں نے امریکی قوت و شکوہ کی علامت ٹوین ٹاور کو تباہ کر کے دنیا کی واحد سپر پاور کی آتش غضب کو ہوا دی تھی،اگر ایسا ہے تو،امریکن(جو خود کو Savior of the worldسمجھتے ہیں)یہ جانتے ہوئے بھی کہ جن لوگوں پہ دہشتگردی کا لیبل چسپاں کر کے اٹھارہ سالوں پہ محیط تاریخ کی طویل ترین جنگ مسلط کی انہی کے ساتھ امن معاہدہ کی توثیق عالمی بالادستی سے دستبرداری کے مترادف ہو گی اور اپنی ہی پلان کردہ جنگ سے نجات کی تمنا زوال کی طرف پیشقدمی کی علامت سمجھی جائے گی۔دنیا کی عظیم سپر پاورکا نمائندہ برملا اعتراف کرنے پہ مجبورہے کہ وہ افغانستان کوطالبان سے نجات دلانے کےلئے لڑی جانے والی جنگ ہار رہے ہیں۔۔

اگر حقیقت یہی ہے تو اب مغربی تہذیب کا تحفظ کون کرے گا؟۔کیا دنیا سے مغربی تہذیب کی بالادستی کا سورج غروب ہونے والا ہے؟۔بلاشبہ امریکہ کی مہیب جنگی ٹیکنالوجی اور مغرب کی جدید پروپیگنڈہ مشینری طالبان کی فوجی و نظریاتی تسخیرمیں ناکام رہی اور وقت کی میزان نے امریکہ کے پورے  فلسفہ جنگ اور انکی سیاست کے عالمی نظریہ کو باطل ثابت کر دیا۔دیکھیے  تاریخ کس طرح تقدیر کی مجبوریوں کو  بے نقاب کرتی ہے،امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے جس طرح دوسری جنگ عظیم میں مبینہ ہولوکاسٹ کو جواز بنا کے جرمنی سمیت جاپان،ترکی اور مڈل ایسٹ کو تہس نہس کیا اور کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا  ہوّا کھڑا کرکے عراق اور شام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی،بعینہ اسی طرح وہ دہشتگردی کی آڑ لیکر ایک کمزور ملک افغانستان پہ بھی چڑھ دوڑے تھے، لیکن طویل ترین جنگ میں لاکھوں انسانوں کی ہلاکت کے باوجود وہ طالبان کو شکست دے سکے نہ اپنے دعوے کو درست ثابت کر سکے۔

لیکن اب سوال یہ ہے کہ افغانستان سے فقط امریکی  فورسیز کا انخلاءہی اس عظیم المیے  کی تلافی کر پائے گا؟۔۔جس نے پورے جنوبی ایشیا کی معیشت،تہذیب اورامن کو تہہ و بالا کرڈالا،ہرگز نہیں! لاریب،مغربی دنیاکو ہولناک جنگ کے مضمرات کو سنبھالنے میں مدد دینا ہوگی بصورت دیگر جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہولناک انارکی چین،روس،ایران اور ترکی سمیت پورے مڈل ایسٹ کے مستقبل کو متاثر کرے گی۔امریکہ کی تحویل میں موجود ان پانچ ہزار جنگجوؤں کا کیا بنے گا جن میں سے پندرہ سو افراد کی لسٹ طالبان نے دوحہ میں زلمے خیل زاد کے حوالے کی۔ماسکو مذاکرات کے دوران طالبان نے واضح کر دیا تھا کہ وہ مُلا فضل اللہ سمیت تحریک طالبان کے کسی منحرف رکن کو پاکستان کے حوالے نہیں کریں گے،طالبان کے افغانستان میں پاکستان کے مخالف عناصر کی موجودگی دونوں پڑوسی ممالک کے باہمی تعلقات پہ کیا اثر ڈالے گی،اسی طرح پاکستانی جیلوں میں قید ان ہزاروں مبینہ دہشتگردوں کو کیسے ٹھکانے لگایا جائےگا؟

جو سرکاری تنصیبات اور فوجی پوزیشنوں پہ حملوں کے ملزم ٹھہرائے گئے،کیا انہیں طالبان حکومت کے سپرد کیا جائے گا،اگر انہیں طالبان کے حوالے کیا گیا تو ان زخم خوردہ عسکریت پسندوں کا پاکستانی اتھارٹی کے ساتھ رویہ کیا ہو گا۔طالبان،جو ہمارے لئے دہشتگرد نہیں تھے،وہ اگر خطرہ تھے تو امریکہ و یورپ کےلئے تھے لیکن ہم نے دہشتگردی کی جنگ میں امریکی اتحادی بن کر انہیں مٹانے کی مہم میں حصہ لیا،اب انہی طالبان جنگجوؤں کے ساتھ ہمارے تعلقات کی نوعیت کیا ہو گی؟کیا طالبان کی اسلامی حکومت پچاس لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کو واپس لے گی؟۔

Aslam Awan
Aslam Awan
اس وقت یبوروچیف دنیا نیوز ہوں قبل ازیں پندرہ سال تک مشرق کا بیوروچیف اور آرٹیکل رائٹر رہاں ہوں،سترہ سال سے تکبیر میں مستقل رپوٹ لکھتا ہوں اور07 اکتوبر 2001 سے بالعموم اور 16مارچ 2003 سے بالخصوص جنگ دہشتگردی کو براہ راست کور کر رہاں ہوں،تہذیب و ثقافت اور تاریخ و فلسفہ دلچسپی کے موضوعات ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *