چڑھتے پانیوں کے مسائل۔۔۔کاشف حسین سندھو

پنجابی دوستوں سے خاص کر کسان دوستوں سے گزارش ہے ،اس مضمون کو بغور پڑھیں!

اس مضمون میں دی گئیں معلومات چڑھدے پنجاب (بھارتی پنجاب ) میں بنائی گئی ایک ڈاکیومینٹری سے لی گئی ہیں، جس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ تقسیم نے پنجابیوں ہی کو جدا نہیں کیا بلکہ پنجاب کے پانیوں پہ بھارتی اسٹبلشمنٹ کے قبضے کو بھی مستحکم کر دیا، ہم آج تک یہی سنتے آئے ہیں کہ لہندے پنجاب (پاکستانی پنجاب) کے تین دریاؤں کا پانی بھارت کو بیچا گیا، مگر ہمارے علم میں یہ نہیں ہے کہ لہندے پنجاب سے بھی بڑا دھوکا چڑھدے پنجاب کے ساتھ ہوا اور تقسیم کی وجہ سے دریائی پانی جو پنجاب کا سب سے بڑا  ذریعہ ہے، کا نقصان دونوں پنجابوں کا مشترکہ نقصان تھا ۔

ہمیں اس ڈاکیومنٹری سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہ پانی بھارت سرکار کی شکل میں ہندی اسٹبلشمنٹ نے پاکستانی پنجاب سے کھینچ کر بھارتی پنجاب کو دینے کے لیے حاصل نہیں کیا تھا بلکہ اس کا مقصد ہندی بیلٹ اور اسکی اتحادی ریاستوں کے علاقوں کو سیراب کرنا تھا وگرنہ حسب ِسابق ستلج راوی بیاس کا پانی آدھا پاکستانی پنجاب اور آدھا بھارتی پنجاب کو بدستور دیئے جانے میں کچھ قباحت نہ  تھی جبکہ ان دریاؤں کے ہیڈورکس بھی بھارت کے پاس تھے ،پنجابیوں کی بند آنکھیں کھولنے والا یہ مضمون شروع کرتا ہوں۔۔۔۔

یو این او کی ایک پرانی رپورٹ کے مطابق آئندہ جنگیں تازہ پانی کے حصول پہ لڑی جائیں گی، ناسا کی اک رپورٹ کے مطابق بھارتی پنجاب کے 135 بلاکس میں سے 111 بلاکس میں زیرِ زمین میٹھا پانی ختم ہو چکا ہے (ویسے ہم پاکستانی پنجاب والوں کو بھی ہمت کر کے ناسا سے اپنے زیرزمین پانی کے خاتمے کی تاریخ پوچھ لینی چاہیے ) یہ سب کیسے ہوا ،اسکے لیے ہمیں 70برس پیچھے جانا پڑے گا ،یہ کہانی آزادی کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے، تقسیم کی تباہی کے بعد مہاجرین ابھی صحیح طرح سے سنبھلے بھی نہ  تھے کہ بھارتی حکومت نے پنجاب کے دریائی پانی پہ جھگڑے شروع کر دیئے، تقسیم سے قبل صرف ایک نہر پنجاب کا پانی لے کر پنجاب سے باہر جاتی تھی جسے بیکانیر فیڈر کہا جاتا تھا اور یہ پانی بھی مفت نہیں جاتا تھا بلکہ پنجاب حکومت مہاراجہ بیکانیر سے اس کا مالیہ وصول کرتی تھی، مگر جونہی حکومت بھارت کے پاس آئی ،اس نے حلوائی کی دکان پہ نانا جی کی فاتحہ دلواتے ہوئے سب سے پہلے تو یہ پانی مفت بیکانیر کو دینا شروع کیا ،اسکے بعد بھارت سرکار نے پنجاب کے تینوں دریاؤں ستلج ،راوی و بیاس کو جوڑنے کا کام شروع کر دیا ،1950 میں بھارتی وزیر آبپاشی اور پلاننگ کمیشن کے نائب چیئرمین گلزاری لعل نندہ نے بھاکڑہ ننگل ڈیم کا سنگِ بنیاد رکھا ،یہ اوپر نیچے دو ڈیمز کی ایک سیریز تھی جسے ستلج اور بیاس کا پانی گووند ساگر جھیل پہ روک کر بنایا گیا تھا، بھاکڑہ اوپر اور ننگل ڈیم تھوڑا نیچے بنایا گیا ۔ اس ڈیم کے ذریعے پنجاب کا 75 لاکھ ایکڑ فٹ پانی روک لیا گیا اور نہریں نکال کر اس پانی کو راجستھان ہریانہ تک پہنچایا گیا ۔۔

نتیجہ یہ کہ ستلج اپنے بہاؤ کے حساب سے آدھا بھی نہ رہا۔ اس ڈکیتی کے بعد بھارتی ڈکیتوں نے راوی کیجانب منہ کیا اور 1953 میں بیاس راوی ایگریمنٹ کے تحت فیروز پور ہیڈورکس جہاں سے کبھی پاکستانی پنجاب کو پانی ملتا تھا اس سے اوپر کے علاقے میں ہریکا ہیڈورکس بنانا شروع کر دیا ۔اس پروجیکٹ کے مطابق راوی کا پانی لنک نہر سے بیاس میں ڈال کر راوی بیاس   اور  بچ رہے ستلج کا بچا کھچا پانی اکٹھا کر کے دو نہریں نکالیں، ایک بیکانیر فیڈر جو جیسلمیر تک جاتی ہے۔ دوسری اندرا گاندھی نہر جسے راجستھان فیڈر بھی کہتے ہیں، سے پانی لے کر بھارت نے ہریکے ہیڈورکس کا سارا پانی راجستھان پہنچانا شروع کر دیا ۔

ورلڈ بنک نے بھارتی اسٹبلشمنٹ کی ان حرکتوں کو devious کہا اور خبردار کیا کہ بھارت کا یہ عمل پنجاب کے پانی کے ذخائر اور ماحول دونوں کو برباد کر دے گا، پر بھارتی سرکار نہیں رکی، ان دو منصوبوں سے بھارت سرکار نے پنجاب کا 7.6 ملین ایکڑفٹ پانی دوسری ریاستوں تک پہنچا دیا، بھارت سرکار نے پنجاب کے دریائی پانیوں پہ قبضے کے لیے ری آرگنائزیشن بل کے ذریعے 78,79,80 کلاز کا اضافہ کیا، جس کے مطابق پنجاب ہریانہ اور ہماچل پردیش کے پانیوں کا اختیار مرکز کے پاس چلا گیا، 78 نمبر کلاز کے ذریعے پنجاب کے پانیوں کی تقسیم کا نظام مرکز کے پاس چلا گیا ،کلاز نمبر 80 کے ذریعے پنجاب میں واقع ہیڈورکس کا کنٹرول بھی مرکز کو دے دیا گیا اور کلاز نمبر 79 کے ذریعے ڈویلپمنٹ آف ریورز کا اختیار بھی مرکز نے حاصل کر لیا۔

مزے کی بات یہ بھی ہے کہ بھارت کی درجنوں ریاستوں میں سے یہ حرکت صرف پنجاب کے ساتھ کی گئی کسی اور ریاست کو نہیں چھیڑا گیا، باقی ریاستوں میں یہ سٹیٹس سبجیکٹ یا صوبوں کا داخلی معاملہ ہی گنا گیا ،اندرا بی بی نے پنجاب کے پانیوں پہ جو ڈاکے مارے ،اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب کا 75 فیصد پانی پنجاب سے باہر جانے لگا، پنجاب کے کل 17.7ملین ایکڑ فٹ دریائی پانی میں سے پنجاب کو صرف 4.22 ملین ایکڑ فٹ پانی مل رہا ہے، یعنی چوتھے حصے سے بھی کم۔۔۔ پنجاب اس پہ متفق نہ تھا لیکن جب 24 مارچ 1976 میں یہ ایوارڈ ہوا تو گیانی ذیل سنگھ وزیراعلیٰ پنجاب تھے، پنجاب کو اسکے پانی سے محروم کر کے جو لالی پاپ دیا گیا وہ یہ تھا کہ پنجاب کے پانیوں پہ بنے ڈیمز سے حاصل کی گئی بجلی پنجاب کے کسانوں کو مفت دی جائے گی ،تاکہ وہ زیرزمین پانی ٹیوب ویلز کے ذریعے نکال کر اپنی زمینیں سیراب کر سکیں ،اس وقت تو یہ بات بہت خوش کُن لگی لیکن بعد میں ہونے والے نقصانات نے پنجابی کسان کے چودہ طبق روشن کر دیئے ۔ مفت بجلی بھی سبھی کسانوں کو نہیں ملی کچھ کو پھر بھی ڈیزل سے ہی پانی نکالنا پڑا ،ڈیمز سے پیدا کی گئی بجلی بھی پنجاب تک محدود نہ  رکھی گئی، بلکہ اسے نیشنل گرڈ میں شامل کر کے انڈسٹریل اسٹیٹس کو فراہم کیا گیا جو پنجاب سے باہر تھے اور پنجاب کے بڑے صنعتکاروں کو اپنی انڈسٹری وہاں شفٹ کرنے کو کہا گیا، ان بڑے صنعتکاروں کو یہ وارے کھاتا تھا لیکن پنجاب کے دو لاکھ چھوٹے انڈسٹریل یونٹس کیا کرتے ؟ ۔۔۔۔وہ اپاہج ہو گئے، بڑے صنعتکاروں نے دلی کے قریب گڑگاؤں میں صنعتیں شفٹ کر لیں ۔

مزید ستم یہ کہ پنجاب کے کسان پہ یہ پابندی بھی ہے کہ وہ دریائی پانی استعمال کرنے پہ مالیہ دے لیکن پنجاب کا پانی جن ریاستوں کو دیا گیا ان پہ یہ پابندی بھی نہیں، وہ مفت کے مزے لوٹ رہے ہیں 20 لاکھ ٹیوب ویلز کے دن رات چلنے کا یہ نتیجہ نکلا کہ پانی کی زیرزمین سطح گرتی گئی اور جوں جوں پانی کی سطح گرتی گئی طاقتور موٹر استعمال ہونے لگی جو زیادہ بجلی لیتی ہے، اس طرح ڈیزل پہ ٹیوب ویل چلانے والے کا خرچ اور بڑھ گیا، یہ جو زیرزمین پانی کا ذخیرہ ہوتا ہے  یہ کچھ سالوں کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ قدرت کی طرف سے کروڑوں برس کے ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے، مطلب جو پانی پچاس ساٹھ برس میں زمین سے نکال کر استعمال کر لیا گیا ،یہ اب ہزاروں برس تک بھرپائی نہیں کر پائے گا ۔

پانی زیرزمین تین پرتوں میں جمع ہوتا ہے۔۔ پہلی پرت 25 سے لے کر پچاس فٹ تک کی ریتلی تہہ میں ہوتی ہے جسے subsurface unconfined aquifer کہتے ہیں یہ تہہ استعمال شروع ہونے کے بعد پہلی تین دہائیوں ہی میں ختم ہو گئی تھی ،یہ پانی ریچارج ایبل ہوتا ہے، مطلب یہ کہ زمین بارش دریائی پانی وغیرہ سے اسے دوبارہ جذب کر کے جمع کر سکتی ہے، دوسری تہہ 60 فٹ سے لیکر 110 فٹ تک ہوتی ہے، یہ ریچارج ایبل نہیں ہوتی کیونکہ یہ کنکریٹ کی ٹھوس تہوں میں جمع شدہ پانی ہے، جو پانی جذب کرنے سے قاصر ہوتی ہیں ،یہ بھی استعمال ہو چکی۔۔۔ اب تیسری اور آخری تہہ استعمال ہو رہی ہے جو 150 ,200 فٹ سے شروع ہو کر نیچے تک جا رہی ہے، اس پانی کی تہہ کی مقدار کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا لیکن بہرحال یہ بھی لامحدود نہیں ہو سکتی، اسے بھی ریچارج نہیں کیا جا سکتا ،پانی کی اوپر والی دونوں تہیں کمزور ہو جانے سے ان سے حاصل ہونے والا پانی اب پینے کے قابل بھی نہیں رہا۔۔

ایک وقت تھا جب گرین ریولوشن کے نام پہ کیمیائی کھادیں اور ان کھادوں سے پیدا ہونے والے کیڑوں کو تلف کرنے کے لیے زہر   متعارف کروائے  گئے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ کیمیکلز اور زہر  پانی کی سب سے اوپر والی تہہ تک مار کر گئے اور اسے پینے کے قابل بھی نہیں چھوڑا، یہ کھادیں اور زہر  بھی اس وجہ سے استعمال کرنی پڑیں کہ دریائی پانی اپنے ساتھ قدرتی کھاد لے کر آتا ہے،جس کی وجہ سے زمین کو زیادہ کھاد کی ضرورت نہیں ہوتی اور جو ہوتی ہے، وہ قدرتی کھاد سے پورا کر لی جاتی ہے، جبکہ ٹیوب ویل کے مسلسل استعمال نے زمینیں بھی خراب کیں ،ٹیوب ویل کا پانی کھاد سے تہی ہوتا ہے، اور زمین کو نامیاتی عناصر نہیں دے سکتا پنجاب گرین  ریولوشن اصل میں پنجاب کا جینوسائیڈ تھا ،ابھی پنجابی پرانی چوٹیں نہیں بھولے تھے کہ ایک نئی چوٹ ملی ۔ایمرجنسی کے نفاذ کے مسئلے سے نکلنے کے بعد اندرا گاندھی پہلے سے زیادہ تگڑی ہو کر ابھری تھی ،اس نے پنجاب ہریانہ اور راجستھان کے وزراء اعلیٰ کو بلا کر مارچ 1976 والا پانی کا ایوارڈ ایکارڈ یعنی مستقل معاہدے میں بدل دیا اس وقت دوارا سنگھ پنجاب کا وزیراعلیٰ تھا اندرا نے اسے دھمکی دی کہ میں تجھ سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ اور کانگریس کی صدارت دونوں چھین لونگی ،اس ڈراوے کی بنیاد پہ ستلج جمنا لنک نہر کا سنگ بنیاد رکھا گیا جس کے ذریعے ستلج کا 3.5 ملین ایکڑ فٹ پانی دریائے جمنا میں ڈالا جانا تھا ،پچھلے دھوکوں کے ستائے پنجابیوں نے پنجاب کی سیاسی جماعت اکالی دل کے ذریعے اس نہر کے سنگ بنیاد کی جگہ کپوری پہ مورچہ لگایا جسے دھکا لگا ہریانے کے بارڈر پہ یہ مورچہ لگانا مشکل کام تھا کیونکہ بھجن سنگھ کے غنڈے کچھ بھی کر سکتے تھے جس کا تجربہ پنجابیوں کو پنجابی صوبے کی تقسیم کے وقت بخوبی ہو چکا تھا۔

ہر جانب کانگریس کی وزارتیں تھیں اس لیے اکالی دل مورچہ امرتسر اٹھا لائی ستلج جمنا لنک نہر اور چندی گڑھ کی واپسی کو بھی انند پور صاحب کے مورچے کے مطالبات میں شامل کر لیا گیا کپوری کا  جھگڑا  بڑھتا بڑھتا دربار صاحب پہ اندرا کے حملے تک جا پہنچا ،اس حملے سے قبل مرکز اور اکالی دل میں چھتیس میٹنگز ہوئیں جن میں سے کوئی نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی، آخر اندرا نے ضد پکڑ لی اور اس مسئلے کو لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بنا کر دربار صاحب امرتسر پہ حملہ کر دیا، جس میں چھوٹے چھوٹے بچوں اور بزرگوں سمیت ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے اور ایک نہ ختم ہونے والا داغ دے گئے ۔جواب میں اندرا کو اسکے سکھ باڈی گارڈز نے گولیاں مار کر  قتل کر ڈالا۔ اندرا کی موت سے پھوٹنے والے فسادات میں ہزاروں سکھ مارے گئے، لہندے پنجاب سے اجڑ کر ہریانے میں جا بسنے والے سکھوں کی بستی لوک پوری میں اس طرح سے قتل و غارت ہوئی کہ جوان سکھ عورتوں کو ننگا کر کے چوک پہ بٹھا دیا گیا اور ساری رات انکے ساتھ گینگ ریپ ہوتا رہا، سگریٹ سے انکی چھاتیاں داغی گئیں اور اس بستی کا ہر سکھ قتل کر دیا گیا، ان حالات میں ستلج جمنا لنک کینال کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا لیکن ختم نہیں ہوا۔

بھارت میں چلتی شدت پسندی کی لہر نے بھی پنجاب کے پانیوں پہ حملہ کیا، جب حال ہی میں گنگا جمنا کے ساتھ شامل ہندوؤں کی تیسری مقدس ندی سرسوتی کو دوبارہ زندہ کرنے کا معاملہ اٹھایا گیا اس خشک ہوئی ندی کی پرانی گزرگاہ دریافت کی گئی اور اسے پھر سے زندہ کرنے کی منصوبہ بندی بھارتی شدت پسندوں کے دماغ میں جاگی ،یہ برصغیر کی عام روایت ہے کہ جو مسئلہ اپنے حق میں نہ  بیٹھے اسے مذہبی رنگ دے دیا جائے تو پھل مل جاتا ہے، سرسوتی ہندوؤں کی مقدس ندی ہے، اسے بحال کرنے کا فیصلہ تو ہوا لیکن پانی کہاں سے لیا جائے ؟ یہ تان بھی پنجاب کے پانیوں پہ ٹوٹی اور ہماچل پردیش جہاں پنجاب کے سبھی دریاؤں کے سوتے ہیں ،وہاں سے پانی لانے کا منصوبہ بنا، حالانکہ قانون یہ کہتا ہےuper riparian lower riparianسے پوچھے بناء اسکے دریاؤں اور ان دریاؤ ں کے معاون ندی نالوں کا رخ نہیں پھیر سکتا ۔یہ تو تھے چڑھدے پنجاب کے پانیوں کے مسائل ۔۔۔اگلی قسط میں انکا لہندے پنجاب کی زراعت دریاوں اور ماحول پہ پڑنے والے اثرات سے تقابل کیا جائے گا اور نتیجہ نکالا جائے گا۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *