جواب طلب مسائل۔۔۔محسن علی

ہمارے سماج میں بہت سے مسائل ہیں مگر کچھ ایسے مسائل جن کے حل  پر شاید کسی کی نظر نہیں جاتی، وہ ہیں  ایسے لوگ جو معذور ہیں، ان کا  نوکریوں میں مسئلہ اور  شادی یا ازدواجی زندگی کے لئے وہ اپنا ساتھی  کیسے ڈھونڈیں تاکہ اپنی جنسی  ضرورت پوری کرسکے ۔معذور لوگوں کو  نوکری  دینے میں ادارے   کتراتے ہیں، ایسے شخص کی زندگی کیسے سہل ہو ؟ اُس کو کیا مشورہ دیا جاسکتا ہے ،جو کہے یار میں آپ سے سوشل میڈیا پر کافی عرصہ سے تعلق میں ہوں ۔۔بات نہیں ہوئی مگر میں معذور ہوں اور اپنی جنسی خواہش پوری نہیں کرپاتا، کیونکہ شادی کے لئے کوئی لڑکی نہیں ملتی اور میں نے اسکے لئے پیسے دے کر ایک کام کرنے والی کو کہا تو وہ پیسے زیادہ لیتی ہے، مگر جنسی خواہش کی  پوری طرح تکمیل نہیں ہوتی۔۔۔ مجھے کوئی رستہ دکھاؤ یا کوئی ایسی  لڑکی ہو ،جو مُجھ سے شادی کرسکے۔۔

میرے پاس اس کی بات کا  کوئی جواب نہیں تھا، کیونکہ اس معاشرے میں سب کچھ پیسے سے ہی ہوتا ہے،غریب کی کوئی حیثیت نہیں ،کیا آپ کےپاس اس شخص کے سوال کا کوئی جواب ہے؟

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ  ،یوں تو پنجاب و سندھ کہنے کو بلوچستان و کے پی کے سے کسی حد  تک  آگے ہیں  جبکہ سب  لوگ  گالیاں پنجاب کو دیتے ہیں، تینوں صوبوں کی عوام خاص کر پنجابی اسٹیبلشمنٹ کو مگر کل ایک پنجاب کی دوست سے معلوم ہوا، پنجاب میں صرف ستائیس سرکاری اسکول ہیں وہ بھی شہروں میں ،جہاں فیکٹری میں کام کرنے والے بچے پڑھتے ہیں۔ ہم جن جمہوری قوتوں کو ووٹ دیتے ہیں ،پنجاب ہو یا سندھ یا کے پی کے یا بلوچستان ۔۔مانا فوج کا بجٹ زیادہ ہوتا ہے مگر جو تعلیمی بجٹ کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں یا  اتنے سالوں میں کیا ہے  ، اُسکا جواب پنجاب کی آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ستائیس سرکاری اسکول مسلم لیگ کی گزشتہ کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں ۔

خان صاحب کی بھی کوئی توجہ نہیں ان مسائل پر۔۔ کل ہی بھارت کی کنہیا کی  ایک وڈیو   دیکھ رہا تھا، جس پر وہ نوجوان شکشا تربیت پر بات کررہا تھا اور دوسری طرف میرے ذہن میں خیال آیا ہماری عوام بھی اُن مسائل پر توجہ دیتی ہے جو شاید  انکے مسائل تو ہیں مگر  بنیادی مسائل میں کہیں دور جو پہلا مسئلہ عوام کو تعلیم کا ہے اُس پر عوام کی طرف سے خاموشی بتاتی ہے  کہ عوام کیا چاہتی ہے، کیونکہ اس سلسلے میں کسی بھی پارٹی کے منشور میں  اس بارے میں کچھ  شامل  نہیں ہے ،ہاں اگر ہے بھی تو شاید ووٹ لینے کے بعد بھول جاتے ہیں ۔ مگر کیا عوام نے مطالبہ کیا کسی سیاسی جماعت سے باقاعدہ؟۔۔۔
جواب درکار ہے۔۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *