اور بابا چلا گیا ۔۔۔ علامہ ضیا ءحسین ضیاء/سیمیں کرن

آج سے نو برس پیشتر شاید آتی سردیوں کے دن تھے جب میرے گھر ایک بابا اپنے نوعمر بیٹے کے ہمراہ آن بیٹھا تھا۔ تب اس بابےنے پچاس کے سن کو بھی نہیں چھوا تھا لیکن اسے دیکھ کر میں نے دل میں سوچا یہ تو سچ میں بابا ہے۔عمر رسیدہ ،رنجیدہ چہرہ جس پہ فکراورتفکر کی گہری لکیریں واضح تھیں، سر بالوں سے غائب، روشن ذہین گہری آنکھیں جو ہمہ وقت جھکی رہتیں یا اِدھر اُدھر مرکوز رہتیں، سادہ سا حال حلیہ جس سے قطعی اندازہ نہ ہوتا کہ یہ کس بڑے خانوادے کا چشم و چراغ ہے۔

یہ میری علامہ ضیا ءحسین ضیا ءسے پہلی باضابطہ دو بدو ملاقات تھی جب میں نے بہت اصرار سے ان کو اپنے گھر مدعو کیاتھا میرے اصرار پہ کہنے لگے “کیا کرو گی مل کر ایک بابا سا آکر تمھارے پاس بیٹھ جائے گا۔۔”میں نے کہا سر فیصل آبادمیں آپ جیسے عالم فاضل لوگ کم ہی نظر آتے ہیں ،میری خوش بختی ہوگی جو آپ کے حلقہ احباب میں شامل رہوں۔ اس سے پہلے کتابی سلسلہ زرنگار کے حوالے سے تعارف، بات چیت فون پہ ہوچکی تھی، پہلے فون پہ ہی ایک بڑا آدمی نہ صرف آپ کی حوصلہ افزائی کرے بلکہ آپ کی فکر اور سوچ کو اہمیت بھی دے تو تاثر گہرا بنتا ہے۔ پہلی دفعہ ہی گفتگو اُن کے اور میرے مرغوب منطقو‍ ں میں خوب گردش کی،نفسیات، فلسفہ ،تصوف ،قرآن کی مختلف تفاسیر، تراجم، مسالکی منافرت بہت کچھ زیر بحث آیا اور ان کو سن کر لگا جیسے کسی قدیم گپھامیں بہت قدیم دانش باز گشت کررہی ہے۔مولانا اسماعیل دیو بندی کا یہ ہونہار فرزند مسلکی منافرت سے بہت دور تھا۔ اعلی تعلیم یافتہ تھا۔ابتدائی تعلیم مختلف دینی اداروں سے حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے اردو، عربی اور علوم اسلامیہ میں ماسٹرز ڈگری حاصل کیں۔ نومل یونیورسٹی سے فارسی ادب میں ایم اے کیا۔ جی۔ سی یونیورسٹی فیصل آباد سے عربی زبان و ادب میں ایم فل کیا۔ ایران میں تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ انہوں نے السنہ شرقیہ کے امتحانات بھی نمایاں حیثیت سے پاس کیے اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔

اور اب یہی بابا میرے اصرار پہ مجھے عزت بخشنے میرے گھر تشریف فرما تھا اور پہلی بارمیں نے ان کو سامنے بولتے دیکھا۔ ایک پیدائشی مقرر و خطیب، علم الکلام کا ماہر جو بول کر سامع کو مسحور اور خاموش کروا دینے کا ہنر جانتا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ میرے میاں جو کم ہی کسی سے متاثر ہوتے ہیں  اور ہم ادیبوں کے لیے برملا کہتے ہیں  “بس تم لوگ اپنی واہ واہ اور بلے بلے کرکے خود ہی خوش ہوتے رہتے ہو، یہ بھی کوئی بھلا کرنے کا کام ہے”۔ان کے جانے کے بعد آہستہ سے بولے” واقعی عالم اور بڑے آدمی ہیں “اور پھر میری طرف دیکھ کر گھرک کر کہا تھا “تم کہیں تو سوچ کر ،دیکھ کر بولا کرو اور سیدھا منہ پر مارنے سے گریز کیا کرو” قصہ کچھ یوں تھا کہ علامہ صاحب محرم میں کسی عالم کی اپنے بچوں کی شادی رکھنے کے عمل کو متعصب عمل قرار دے رہے تھے کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے سوائے نفرت انگیزی کے تومیں نے ترنت جواب دیا تھا “سرمیں کلی متفق ہوں آپ کی بات سے کہ اس عمل سے نفرت پھیلتی ہے مگرمیں اپنے بیٹے کی شادی محرم میں روک سکتی ہوں مگر اس کی ولادت نہیں” اور یہ بابا واقعی بڑا آدمی تھا دوسروں کو بڑا کرنا جانتا تھا میرے جواب سے نہ صرف محظوظ ہوا بلکہ داد بھی دی۔ جاتے سمے میرے سر پہ ہاتھ رکھ کر کہا “اپنی عمر سے بہت بڑی اور آگے ہو “میرے میاں اور بچوں کو کچھ نصیحتیں اور تلقین کی اور رخصت ہوا۔

یہ میری اس بابے سے پہلی ملاقات کا احوال تھامگر میری علمی پیاس، جان لینے کی لگن ،کھوج اور جستجو مجھے بار بار ان کے دروازے پہ دستک دینے پہ مجبور کرتی تھی۔ سالک سہی ،میری چشم ابھی پردہ دار سہی مگر اتنی شناخت ضرور رکھتی ہے کہ کنویں کی باس پہچان لوں اور وہ مجھے کہا بھی تو کرتے تھے “تم نے مجھ سے کھارے پانی کے کنویں سے پانی ضرور پینا ہے، جاؤ بابا کچھ نہیں میرے پاس ،بہت معمولی آدمی ہوں۔”

صاحب آپ کنواں نہ سمجھیے، نظریہ سمجھ لیجیے، نظریے کی بھی اپنی باس، اپنی خوشبو ہوتی ہے اور اسیرانِ خوشبو اپنے نظریے کے حلقےمیں ہی آرام دہ رہتے ہیں اور یہ سوچ لیا تھا ،جان لیا تھا کہ جو میری کھوج اور لگن ہے اس کی فراوانی ہے اس شخص کے پاس اور اس دروازے سے مجھے مایوس نہیں لوٹایا جائے گااور وہ اکثر مجھے بڑی شفقت سے کہتے تھے “کملی ہو تمہیں جانتا ہوں تم اپنے علمی باپ کو مجھ میں کھوجتی پھرتی ہو”۔۔۔

سو ان سے پہلے پہلے اسباق جو تھے وہ حسی علم و معرفت، فطری الحاق، حسی شیطان اور فلسفہ خیر و شر پہ تھے وہ مکالمہ جو میری  روح و دل کو معطر کرتا تھا، میری تشنگی کو کچھ پل کی تسکین دے کر مزید بھڑکا دیتا اور وہ مذاق سے کہا کرتے” تمھیں چین کیوں نہیں ہے، ناری مخلوق ہو تم”۔

مجھے یاد ہے ان کے بارے ایک دفعہ حامد سراج بھائی سے بات ہوئی تو ہنس کے کہنے لگے “سیمیں بہن میں انہیں کہتا ہوں بندہ اتنا بھی پڑھا لکھا نہ ہو ضیا ء بھائی” اور جمیل احمد عدیل ان کے بارےمیں کہتے “وہ عالم ہی نہیں عامل بھی ہیں “اور اس وقت مجھے حیرت ہوئی اور توثیق بھی کہ اپنے نظریے کی باس کو شناخت کر لیا جاتا ہے۔

مشرف عالم ذوقی صاحب نے جب ان کا میری درخواست پہ مطالعہ کیا تو سلسلہ ادب دہلی میں ان پہ گوشہ چھاپنے کا ارادہ باندھ لیا، ذمہ داری مواد اکھٹا کرنے کی میرے کاندھوں پہ آئی اور اس ضدی بابے نے مجھے کتنا ستایا، کوئی مضمون کوئی مواد کچھ بھی محفوظ نہیں تھا ،سوائے کتابوں کے فلیپس کے، ادھر ادھر ہاتھ پیر مار کر کچھ چیزیں اکھٹا کیں اور بھیج دیں۔ ذوقی صاحب نے اس وقت کہا تھا “سیمیں یہ واقعی بڑے ہیں، بہت عزت و اکرام کے مستحق ہیں، پاکستان نے ان سے انصاف نہیں کیا” دل میں سوچا یہاں انصاف کس سے ہوتا ہے، اس مرگ ناگہانی پہ ادبی برادری کی بے حسی کا رونا رویا جائے یا ان کے سرمایہ ادب کی ناقدری پہ، زمانے کی یہی روش ہے۔

سترہ کتابوں کا یہ مصنف جن میں “مابین” اور” دروازہ گل” جیسے ناول بھی شامل ہیں۔ دروازہ گل جو ایک عمرانی ساینٹسٹ کے اپنے جنسی و نفسیاتی اجتہاد کی عجب روداد ہے اور مابین جو شروع ہی میدان حشر سے ہوتا ہے اس کی ابتدا یہ تھی انتہا کا خود سوچ لیجیے، لوح غیر محفوظ، بست و کشاد، کم و کیف، تارو پود کا موضوع عرفانیات ہی ہے۔اینون کی تیمارداری افسانوی مجموعہ اور زمین کا نمک اور ریگ رواں، مابعد شعری مجموعےہیں۔ سہ ماہی زرنگار کا مدیر اعلی۔ زرنگار لوگ کے عنوان سے ممتاز ادیبوں اور شاعروں کے انٹرویوز ہیں جو خاصے کی چیز ہیں۔

اس قدر علمی سرمائے کے باوجودمیں نے انہیں ضرورت سے زیادہ فیاض اور شفیق پایا۔بے شمار ادیب اور ادیبوں کی مالی ہی نہیں ذہنی معاونت بھی بغیر کسی جھجھک کے کردینا شیوا تھا۔ بس یہ بابا مجذوب تھا جو کوئی جان لیتا کہ کیسے پتھر کھینچ کے مارنا ہے اور کیا سوغات ملے گی وہ میلہ لوٹ لیتا تھا اور مجذوب نے اپنی دولت لٹانےمیں کبھی ہاتھ نہیں کھینچا تھا۔

ان کی نثر پڑھیے تو آپ کو ابو الکلام کی یاد تازہ ہوجائے گی۔

اک چھوٹا سا ٹکڑا آپ بھی ملاحظہ کیجیے۔۔۔۔

“ارتقا۔۔۔

میری کنکریاں تو زخم دار شہادتیں ہیں جو میرے جنوں کی آئینہ دارہیں ۔

تو گھر کی دہلیز کی چوب خشک ہے ۔۔۔

تیری آرزو بھی کاٹھ کا گھوڑا ہے۔۔۔

اور تو لکڑی کے جنگلے میں قید ہے ۔۔۔

تمہارے سر سے اذیت کے درخت کی شاخیں نکل رہی ہیں ۔۔۔

اور پاؤں میں جڑوں کے جال نے تجھے جکڑا ہوا ہے ۔۔۔

میرا ساتھ تو وہ دے ۔۔۔

جس کے کاندھے پر ۔۔۔

بس ابجدی حروف کا ایندھن ہو ۔۔۔

اور وہ کائنات کے خفیف اور ثقیل

ہر مظہر کو بالمشاہدہ قلم بند کرے ۔۔۔

کچھ اس طرح کہ

لوح ِمحفوظ کے نگہبانوں کو فکر لگ جائے

کہیں یہ تقدیر کی سیڑھی نہ چڑھ آئے ۔۔۔

اور محفوظ کے حقوق میں سے۔۔۔

اپنا حصہ قبل از وقت مانگنا شروع نہ کر دے ۔۔۔

تازیانہ برس سکتا ہے تم پر ۔۔۔

شہابِ ثاقب کی بھی مار پڑ سکتی ہے ۔ ۔۔

اور یہ بھی ہے کہ

تمہاری ضیافت میں آسمان اپنی انکھیں تیری آنکھوں میں رکھ دے ۔۔۔

تم پیچھے مڑ کر دیکھو تو ایک ضیاء پوش مسکرا رہا ہو ۔۔۔

ضیاء حسین ضیاء”

یہ تھا ضیا ء حسین ضیا ء جس کے لکھنے اور بولنے کے لیے لفظ ہاتھ باندھے کھڑے رہتے۔

مزاج میں جلال کا رنگ نمایاں تھا جس کومیں نے دھوپ چھاؤں کی طرح بدلتے دیکھا ہے۔ جیب میں اکثر گولیاں ٹافیاں ہوتیں جو جب کبھی میرے گھر تشریف لاتے تو میرے بچوں کو سوغات کی طرح بانٹ دیتے۔ یہ ان کا میری ذات پہ بے انتہا اعتماد اور اعتبار تھا کہ ہمارے گھریلو مراسم بن گئے۔ ان کے بچوں اور ان کی زوجہ محترمہ انجم آپا سے ہمیشہ بہت عزت اور محبت ملی اور ان کے چھ کے چھ بچوںمیں ان کی تربیت کے رنگ نمایاں ہیں۔

رمضان میں جب قرآن کریم کا دورہ ترجمے کے ساتھ کرتی تو ان کے استفسار پہ بتانے پہ جواب میں بچوں کی سی شوخی و تعلی سے جواب ملتا “تم پڑھو ترجمے سے مجھے تو ضرورت نہیں پڑتی سب اپنی زبان کی طرح سمجھ آتا ہے” میں ہنس پڑتی۔ ایک دفعہ جانے کس موڈ میں تھے فون کیا “کہنے لگے قرآن پاک کھولو باقی باتیں بعد میں۔ سورہ کہف کا ایک رکوع پڑھایا وللہ ان کا انداز جداگانہ تھا تفکر کا۔

آنے والے حادثے کی چاپ شاید بہت پہلے سن چکے تھے وہ۔ لاہور شفٹ ہونے کے بعد نہ کوئی کتاب منظر عام پہ آئی اور زرنگار بھی ایک دفعہ ہی اشاعت کے مراحل طے کرسکا۔گوشہ نشینی اور ترک دنیا کی طرف طبیعت زیادہ مائل ہوچکی تھی حالانکہ کتابیں ڈمی کی شکل میں صرف اشاعت کی منتظر تھں۔ کسی بھی پرچے کے اصرار کے باوجود کچھ نہیں بھیجتے تھے۔میرے لڑنے کے باوجود، عجب گھمبیرتا سے کہتے “ان سب سے آگے نکل چکا” کبھی میرے جوش دلانے پہ کچھ دیر کے لیے نیا عزم و آرادہ باندھنا اور اگلے دن توڑ دینا یہی شیوہ و مشغلہ رہا۔

کئی بار مجھےامام خمینی سے اپنی براہ راست طویل خط و کتابت کے بارے بتایا جو کئی برسوں پہ محیط رہی میں نے بہت اصرار کیا کہ ان کو منظر عام پہ لا ئیں مگر یہ کہہ  کر خاموش کروا دیا کہ یہ راز کی چیزیں ہیں میرے مرنے کے بعد منظر عام پہ آئیں گی۔

ایک طرف علم و عرفان کا یہ جاہ و جلال اور دوسری طرف بچوں جیسی سادگی و معصومیت تھی۔ ان کے بچے روتے ہوئے مجھے بتاتے تھے کہ آنٹی اپنے فون کا وال پیپر خود بدلنا سیکھ لیا تو بچوں کی طرح خوش ہوکر بار بار بدل کر دکھاتے تھے۔

میرے کچھ افسانوں کو عنوان انہوں نے دیا، افسانہ لکھ لیا وفورمیں اور کبھی ہوا کہ عنوان نے پریشان کیا تو ان سے رجوع کرنا اور ان کا مرغوب جملہ “ہوں ں ں مشکل موضوع پہ ہاتھ ڈالا ہے۔ اتنا مشکل لکھ لیا ہے تو اب عنوان بھی رکھ لو” اور ان کا رکھا عنوان میرے لیے کسی نیک شگون کی طرح ہوتا۔علمی بحث میں کبھی استاد شاگرد کے رشتے کو نہیں آنے دیا، وقتی غصہ آیا بھی تو کچھ دیر بعد معذرت کر لی۔

19 اگست کی چاپ بہت پہلے سن لی تھی۔ بچے بدلتی روٹین اور رویے سے حیران تھے۔برملا کہنے لگے تھےکہ میں نے 19 کو چلے جانا ہے۔ مراقبہ موت اور موت کو کھیل کی طرح زیر بحث لے کر آنے والے اس بابے کی باتوں کو بچوں نے اتنا سنجیدہ نہیں لیا حالانکہ دھیان، گیان میں کوئی کمی نہیں کی۔ہروقت باپ کے گرد پروانہ وار گھومنا ان کی عبادت تھی مگر بظاہر بچوں کے ساتھ ہنستا ،کھیلتا، مسکراتا ان کی سب ذمہ داریاں نبھاتا اور اپنی بیماریوں سے لڑتا یہ بابا زندگی اور اس کے ہنگام سے تھک چکا تھا اور اکثرو بیشتر اونچی آوازمیں یہ شعر پڑھتا:

“بھول جانے کی  اجازت دے دو

تھک گیا ہوں مجھے رخصت دے دو”

اس کی صورت میں نے اپنا استاد ،اپنا روحانی باپ، بھائی اور سب سے عزیز دوست کھودیا جس سے ہر دکھ سکھ کی شراکت تھی جس نےمجھےہمیشہ گرتے ہوئے سنبھال لیا میرے سر پہ دست شفقت رکھا۔ جس نے قدم قدم پرمیری راہنمائی کی۔ میں تعینات کی ماری ہوئی  مجھے اس نے تعبیروں سے استفادہ کرنا سکھایا۔ مجھے بتایا کہ شریعت کی کمیت میں پورا اترنا ممکن نہیں اس کی کمی کیفیت سے پوری کرو۔ اسی نے مجھے سکھایا جب دیکھا کہ میں فنا کی سیڑھیوں پہ تیزی سے لڑھک رہی تھی کہ جان بچانے کو ہر فتوئے کو ساقط سمجھو، اپنی ذات و جان بچانے کو پہلا حق اور فرض جانو۔ سماعت کے انوکھے رازوں سے آشنا کروایا۔ مگر خود جینا بھول چکا تھا وہ۔۔۔

19 اگست کی قیامت سے محض دو دن قبل میں لاہور اپنی پوری فیملی کے ساتھ ان کے گھر ڈنر پہ مدعو تھی گرم جوش اور خوشگوار لمحوں نے کب اس قیامت کی خبر دی مجھے۔ میرے میاں سے وعدہ کیا جلد فیصل آباد آنے کا اور کہا اس دفعہ جب آپ کے ساتھ لمبی نشست ہوگی مل کر کھانا کھائیں گے۔

اور جب میں دو دن بعد ان کی میت کے سرہانے روتی بلکتی انجم آپا کے سینے لگی تو کہنے لگیں “سیمیں اٹھاؤ میرے ضیاء کو تمہیں بہت مانتا تھا تمہاری بہت مانتا تھا، بہت عزت کرتا تھا تمہاری” میرے پاس کہنے کے لیے اس کے سوا کچھ نہیں تھا میرے بابا کو رخصت کی اجازت مل گئی ہے “۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *