کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط14

سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معمولی تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاً  افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مزکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں
قسط نمبر 13 کا آخری حصہ
ہم چھوٹم کو چھیڑتے تھے کہ آخر میں ظہیر بھائی ہی اس کے شوہر بنیں گے۔اس کے ابو انہیں کراچی سے لائے تھے۔موچی سے سینڈل بنوانے ہوں، گھر میں اے سی لگوانا ہو۔ فیملی گرلز کی دعوت ہو یا گاؤں سے علاج کے لیے آئے ہوئے عزیز کا جنازہ ۔ہر مرض کی دوا ٹھہرا بجلی کا تار چھونا۔ چھوٹم کا کہنا تھا کہ خدمت اور راز داری مطلوب ہو،چھوٹی موٹی چوری اور چالاکی بری نہ لگتی ہو تو مہاجر مردٗوئے سے بہتر کسی خود سر،خوش حال اور خوش پوشاک پنجابی عورت کا کوئی اور سہارا نہیں۔
ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں وہ ان کے کسی عزیز کرنل کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔چھوٹم کے ابو اس کی جان چھڑا کر ایک بوڑھی ماں سمیت اسے کراچی سے لاہور لے آئے۔اب دونوں ہی ہم عمر تھے۔چھوٹم کی شادی ایک دور دراز کے تاجر رشتہ دار سے سیالکوٹ میں ہوئی تھی۔ہم دوستوں کا اس وقت بھی پختہ یقین تھا کہ اس میں گھر بسانے اور بیوی بننے سے زیادہ والدین کو ایک طفل تسلی دینا اور خود کو ایک تجربہ سے گزارنا مقصود تھا ۔۔جویریہ کہتی تھی کہ چھوٹم میں قاتل ہونے کی کوئی علامت ہو نہ ہو اسے ممنوعہ  بور کا  اسلحہ پاس رکھنے کا بہت شوق ہے۔

قسط نمبر -14
ظہیر بھائی نے اظہار مسرت کرتے ہوئے مجھے گلے لگایا توچھوٹم نے چھیڑا ،ذرا زور سے بھینچو۔ آگئی میری سوتن۔ اب خوش ہو   جاؤ۔اس کی سم ڈلوانے جاؤ تو نکاح کے لیے قاضی اور اپنی ولیمے کی دیگ کا بھی کہہ آنا“۔اس پر ظہیر میاں نے اعلان کیا کہ”سم کیا ڈلوانا۔ آپ کا نوکیا فون انہیں دے دیتے ہیں۔اس کی سم چل رہی ہے۔آپ تو یوں بھی بلیک بیری استعمال کرتی ہیں“۔انجم کہنے لگی ”آگئی نا نئی والی۔ جاؤ سی ڈی اے(کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی) سے یہ گھرجائیداد بھی اس کے نام کرالو۔اب ہمیں کیوں لفٹ کراؤگے“۔جس پر ظہیر بھائی کہنے لگے۔ ”اب تک نہیں بدلیں نیلم بی بی ہماری چھوٹم صاحبہ۔اتنی بڑی ڈاکٹر ہوگئی ہیں مگر وہ جو چھوٹم نام ہے اس سے نجات نہیں ملی“۔

چھوٹم نیچے اپنا دربار علالت و شفا برپا کرنے چلی گئی تو میں لینڈ فون کی جانب لپکی۔ پرس سے گڈو کا بزنس کارڈ نکال کر اس کا فون نمبر دیکھا۔گھر کا نمبر کارڈ پر درج نہ تھا اور سیل فون کا نمبر بھی حضرت نے لکھنے سے اجتناب کیا تھا۔تب مجھے لگا کہ   وہاں اسکی پول اور استنبول کے ائیر پورٹس پر میں، کتنی مسحور ہوچلی تھی۔کوئی سوال نہ تھا۔ اس کے بارے میں تفصیلات سمیٹنے کی کوئی جلدی نہ تھی۔ یہ شاید وہ لمحات رفاقت تھے جن میں مجھے اس کا سیل فون اور گھر کا پتہ، لینڈ لائن نمبر یا سیل فون کا نمبر لینا یاد نہ رہا تھا۔

مسٹر بکس
مسٹر بکس
مسٹر بکس کی طرف
مونال
مونال

کارڈ پر صرف دفتر کا نمبر تھا۔میں نے لینڈ لائن سے فون کیا تو کوئی عجلت پسند پی۔اے قسم کی لڑکی تھی۔ارسلان آغا صاحب آج دفتر نہیں آئے۔میں نے اس پر چھاجانے کے لیے باور کرایا کہ وہ میرے ساتھ جہاز میں تھے۔ ان کی گھڑی میرے پاس رہ گئی ہے۔وہ وضو کرنے گئے تھے تو میرے پاس رکھواگئے تھے۔ میں پرس میں رکھ کر بھول گئی۔وہ لوٹا نی ہے۔ مجھے ان کے گھر اور سیل فون نمبر در کار ہیں۔ میں آج شام ملتان واپس جارہی ہوں۔
چالاکو تھی ،مجھے کہنے لگی اپنا نمبر دے دیں۔ہم ان کو ٹریس کرکے آپ سے رابطہ کرنے کی درخواست کردیں گے۔غصہ تو آیا مگر میں نے با دل ناخواستہ چھوٹم کا نمبر دے دیا۔پانچ منٹ بعد ہی حضرت فون پر ’جان میری‘ کا وظیفہ پڑھ رہے تھے۔۔میری لوکیشن پوچھ رہے تھے۔کہنے لگے کہ کھاناکھاتے ہیں۔میں اپنی اس واردات میں فی الحال چھوٹم کو شامل نہیں کرنا چاہتی تھی۔سو اسے مسٹر بکس کا پتہ دے دیا۔اب آپ عشق میں بے تاب ہوں تو گھڑیوں کا کیا شمار۔ یہ نہ سوچا کہ حضرت کہیں دور سترہ میل سے آئیں گے۔ یہاں آتے آتے کچھ وقت تو لگے گا۔
میں نے جلدی سے شاور لیا۔ جینز اور ٹرٹل نیک چڑھایا۔ چھوٹا سا کوٹ پہنا اور واک کرتی ہوئی دو تین گلیاں چھوڑ کتابوں کی اس دکان کی طرف جانے کی ٹھانی۔ اتنی دیر میں ظہیر بھائی۔انجم کا سیل فون بھی ڈھونڈ لائے تھے۔بضد تھے کہ میرے ساتھ چلیں گے۔ہوسکتا ہے مجھے راستے یاد نہ ہوں۔اکیلی لڑکی کا واک کرنا مناسب نہیں۔ انہیں ٹال کر میں اکیلی ہی چل دی۔

کتاب کی دکان میں،کسی شیلف کے پاس کھڑی تھی کہ کسی نے پشت سے میری آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا تو میں نے بھی سر کاندھے پر  پیچھے کر کے ٹکاتے ہوئے لاؤ لٹک سے گڈو کہا ۔میرا جواب سن کر جیسے اسے کرنٹ لگا اور وہ پیچھے ہٹ گیا۔یہ شوکی تھا۔اپنے دفتر سے کوئی کتاب لینے آیا تھا۔ شکر ہے میں نے گڈو کہا،ارسلان نہیں۔ اس کو یہ وضاحت دینا پڑگئی کہ ایک دوست نے ملنے آنا ہے۔کالج کے زمانے کے دوست ہیں۔۔سول سروس میں ہوتے ہیں۔انجم کے کزن ہیں۔

میرے اندر کی عورت کا ادراک جاگا ،خیال ہوا کہ آنے والے طوفان کی پیش بندی یوں بھی ہو سکتی ہے کہ ارسلان کی آمد پر شوکی کا اس سے ٹاکرا میری سرپرستی میں فی الفور ہوجائے۔ گربہ کشتن روز اوّل(بلی کو پہلے ہی دن ماردو۔کہتے ہیں ایک نک چڑھی نوابزادی کو اپنی بلی سے بہت پیار تھا۔سہاگ رات بھی گود میں لیے بیٹھی تھی۔ اسے اتارنے اور کمرے سے باہر نکالنے کا نام نہ لیتی تھی۔دولہا میاں   کو تاؤ آیا تو چالاکی سے پیار کرنے کے بہانے گود سے بلی لی اور بالائی منزل کی کھڑکی سے باہر اچھال دی)۔۔ارسلان کی شخصیت اور رکھ رکھاؤ کے حساب سے کچھ مکسڈ سگنل کی وجہ سے شاید شوق مناکحت ماند پڑجائے۔پھوپھی کو خود ہی بتادے کہ یہ شادی نہیں ہوسکتی۔

حضرت کچھ زیادہ ہی ڈھیٹ نکلے،کہنے لگے چلو تمہیں مونال میں کھانا کھلاؤں۔میں نے اسے ٹالا تو ناخوش لگے۔ مجھے ایک شائبہ یہ بھی گزرا کہ میرے بارے میں وہ کچھ بے تاب سا ہے ۔جیسے اپنے من ہی من میں کچھ منصوبے بناکر بیٹھا ہے ۔ مجھ سے شادی کا فیصلہ گویا امیر مقام کے نزدیک done- deal ہے۔ میری رضامندی کو بھی ایک قسم کا walk-over ہی سمجھ لیا ہے۔

کہنے لگا میں یہاں ایک کتاب لینے آیا تھا۔دفتر میں کچھ ناپسندیدہ لوگ موجود تھے۔سچ پوچھیں تو مجھے نہ تو یہاں اس کی آمد میں کسی قسم کی دل چسپی تھی نہ اس کے دفتر کی سیاست سے۔اپنی چھٹی حس کی روشنی میں اس کے ائیرپورٹ آمد،محتاط بے اعتنائی اور بعد میں طاہرہ آنٹی کے اس کی والدہ کے مجھے اس کی دلہن بنانے کے عزائم کا سن کر وہ مجھے برا تو نہیں لگا مگر مجھے میرے ان ایام بے یقینی میں اس کی جانب سے دخل در معقولات کی وجہ سے شدید الجھن محسوس ہوئی۔اس وقت بھی اس کی آمد کچھ ایسی ہی ناگوار گزری۔اس کے دماغ میں شاید یہ بات چل رہی تھی کہ میں سعید کا ساتھ ختم ہونے پر اس سے رشتے کی تجویز پر بہت خوش ہوں گی۔پاکستانی مرد ایسے ہی ہیں۔اپنی طرف سے اندازے جوڑنے والے۔

ہم اسی شش و پنج میں تھے کہ گڈو دروازے سے داخل ہوئے۔میرے ساتھ شوکی کو دیکھ کر کچھ اجنبی سے بنے رہے کہ میں کوئی اشارہ یا خود ہی پہل کروں ۔میں نے اشارہ کیا تو بہت وقار سے ہماری طرف آئے۔آغا صاحب میرے کزن شوکی۔یہاں ایک سرکاری ادارے کے افسر ہیں۔آغا صاحب سول سروس میں ہیں۔مجھے ارسلان کی جانب سے شوکی میں کوئی دل چسپی نظر نہ آئی اور خود شوکی بھی اس کے سول سروس والے پیشہ ورانہ پس منظرسے قدرے مرعوب سا لگا۔ مجھے اس کے سامنے ارسلان کے ساتھ بیٹھ کر کہیں جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ مناسب یہی لگا کہ ہم چھوٹم کی طرف نکل جائیں۔ میں نے پوچھ لیا کہ ڈرائیور ہے تو کہنے لگے ’جی‘ میں نے کہا’چھوٹم آپ کا انتظار کررہی ہے۔واک کرتے ہوئے چلتے ہیں۔تب تک اس کے مریض بھی جاچکے ہوں گے۔  گڈو نے بھی بات خوب نبھائی کہ ’میں پہلے وہیں گیا تھا اسی نے بتایا کہ آپ مسٹر بکس کی طرف گئی ہیں۔ سو میں یہاں چلا آیا۔ شوکی نے خود ہی بھانپ لیا کہ وہ اب سین سے آؤٹ ہوگیا ہے۔ جھینپ کرکہنے لگا کہ میں چلتا ہوں۔میں نے اللہ کا دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔ان دونوں کی ایک دوسرے سے گریزاں ہونے سے میں خود بھی کچھ بے لطف سی ہوگئی تھی۔ہم واک کرتے ہوئے چھوٹم کی طرف جانے لگے مگر میں سر دست گڈو کو چھوٹم کے سامنے نہیں لانا چاہتی تھی۔ شوکی کی خبر خلیدی طبیعت جسے انگریزی میں Nosiness کہتے ہیں، اس سے بچاؤ کے لیے باہر نکل کر گڈو کو کہا کہ جب تک شوکی گاڑی میں سوار ہوکر روانہ نہ ہوجائے اسے تاکتے رہنا مناسب ہوگا۔وہ چلا گیا تو ہم باتیں کرتے کرتے کچھ دیر ایک بڑے سے ڈرائی فروٹ کے  سٹال پر رکے اور وہاں سے گلی نمبر 14 کی طرف نکل گئے۔ چھوٹم کے گھر کی جانب گلی نمبر سترہ کے کارنر پر ارسلان نے اپنی کار منگوالی۔

عمر خیام
عمر خیام

دوران واک ہم زیادہ تر چپ ہی رہے۔ایک دوسرے کو اس سرزمین وطن میں پانے کا میرا احساس، ان مہاجرین جیسا تھا  ،جو ایک محلے میں مدتوں رہنے کے بعد اتفاقاً اپنے نئے وطن میں خوش گوار حالات میں ایک دوسرے کو ملے ہوں۔ہم واک کرتے کرتے چپ تو تھے مگر شادماں بھی۔میرا گمان ہے کہ یہ شاید اس کے لیے غیر متوقع تھا کہ میں اس قدر جلد یعنی صرف تین گھنٹے کے اندر ہی اس سے رابطہ کروں گی۔

میں آپ کو بتادوں میں یہ سب کچھ اتنا عجلت میں نہ کرتی اگر وہ تمام منصوبے جو میرے حوالے سے بنائے گئے تھے وہ مجھ پر آنٹی طاہرہ کی زبانی پہلے ہی گھنٹے میں عیاں نہ کردیے جاتے۔اپنے ابو کا میری شادی اور طلاق پر رد عمل ،آنٹی طاہرہ کا ماں بننے پر اترانا،پھوپھو شہلا اور ان کے بیٹے کا مجھ  پر یوں ریموٹ کنٹرول سے اختیار جتانا اور پھر میرے ابو کا یوں کرنل مسعود سے میری سیاست میں انٹری کی میٹنگ تک طے کر کے انہیں ملاقات پر بلالینا ۔Oh for God Sake give me a break خدا کے واسطے مجھے کچھ دیر میرے حال پر چھوڑ دیں) یہ میرے منہ  سے اچانک نکلا تو ارسلان چونک گیا۔انگریزی میں ہی پوچھنے لگا کہ کیا میں گاڑی روکنا چاہتی ہوں یا کچھ اور معاملہ ہے۔ میں نے بہت چالاکی سے بہانہ بنایا کہ وہاں سسرال میں چونکہ   دل کی باتیں  کرنے والا کوئی نہ تھا لہذا مجھے کسی فیصلہ پر پہنچنے کے لیے خود سے مکالمہ کرنا پڑتا تھا۔ وہ کہاں باز رہنے والا تھا ترنت پوچھ بیٹھا کہ اب کیا فیصلہ تھا جس پر میں پہنچنا چاہتی تھی۔مجھے ڈر تھا کہ اگر اس نے یہ اضافہ کردیا کہ میں شوکی کی وجہ سے ڈسٹرب تھی اس لیے فی الفور کار میں بھی اس کے ساتھ سوار نہیں ہوئی تو مشکل ہوجائے گی۔میں نے بہانہ بنایا کہ دماغ کہہ رہا ہے جلدی سے کوئی فاسٹ فوڈ پکڑیں ملاقات ہوگئی بس کافی کا کاغذی گلاس اور گھر کی راہ۔دل کہہ رہا ہے Something Exotic.Different Place. Different Taste and plenty of sweet nothings(کوئی بہت منفرد،کسی منفرد مقام پر، کسی منفرد ذائقے کے ساتھ جہاں بہت سی حسین بے معنی گفتگو بھی ہو)۔ مجھے بہت بھوک لگی ہے ۔حضرت نے میری بات پر کوئی گرفت یا ردعمل دینے کی بجائے بہت آہستہ سے ڈرائیور کو بلیو ایریا ایک مشہور ایرانی ریستوراں کا نام بتایا،میرا پرس گود سے لے کر سیٹ کے درمیان رکھا اور آہستہ سے میری انگلیوں میں اپنی انگلیوں  کا لاک لگادیا۔عجب سی نرم حدت،ایک گدگدی،ایک لمس،ایک تحفظ کی ملی جلی لہر میرے بدن میں دوڑنے لگی۔ایک دو منٹ تو میں اس چالباز جسارت پر مدہوش سی رہی پھر میں نے کہا No indecent haste (کوئی بے ہودہ عجلت نہیں ہوگی)۔یقینا ً میری یہ جھڑکی اسے اچھی نہ لگی۔

گڈی کہتی ہے مرد ان جھڑکیوں کا حساب رکھتے ہیں۔ اس کا بدلہ وہ سب سے پہلے بستر میں لیتے ہیں۔ ٹھنڈا ہوکر مرد بہت کمینہ ہوتا ہے۔ یہ سب گڈی کی فلاسفی ہے۔میری جانے جوتی۔میں آل اراؤنڈ ایک شریف لڑکی ہوں۔ پاکیزہ اور مشرقی روایت کی نسوانی تصویر۔گڈی کی باتیں البتہ مجھے بہت یاد رہتی ہیں ۔اسکول میں پڑھی کہانیوں کی مانند۔ گڈی کا کہنا ہے کہ مردوں سے تعلق میں یہی سب سے خوف ناک پہلو ہے۔عورت بھولتی نہیں معاف کردیتی ہے۔مرد معاف نہیں کرتا مگر بھول جاتا ہے۔بھولی ہوئی بات یاد نہ آئے ایسا ممکن نہیں۔یاد آجائے تو ردعمل کیا ہو یہ ان کا فیصلہ ہوتا ہے۔ آپ کا نہیں۔جس سرعت سے اس نے ہات کھینچا مجھے لگا کہ اس کا حساب لیا جائے گا۔کیا ہوتا اگر یہ انگلیاں ایک دوسرے سے کھیلتی رہتیں۔آج میں ہر تعلق کو Redefine کرنے پر کیوں تلی ہوں۔ہم عورتوں کو ایک دوسرے کو ٹالنے، جھڑکنے، ٹریش کرنے کی بہت عادت ہوتی ہے۔ہماری آپس میں ایک دوسرے سے نمٹتے وقت انا کا تاپ مان(ہندی میں ٹیمپریچر)بہت نیچا ہوتا ہے۔یہ بلی کی بلونگڑوں کی ایک دوسرے سے پنجہ آزمائی اور بڑھوتری کا عمل سمجھ لیں۔

ایف سکس کی سپر مارکیٹ
شطرنج پر چاول کا شمار
ٹائی ٹینک کا ظالم سین
فائر جیٹ کی ای جیکٹ سیٹ

بلیو ایریا میں اس ریستوران کے پاس پہنچ کر میرا موڈ یکسر بدل گیا۔میں نے بہانہ بنایا کہ مجھے رات کو روانہ ہونا ہے۔انجم کا کلینک ختم ہوگیا ہوگا۔ وہ میری منتظر ہوگی۔پروگرام کی اس یکسر تبدیلی پر وہ حیران تو ہوا ہوگا مگر اظہار ندارد تھا۔بس انگریزی میں اتنا پوچھا کہ آر یو شیور۔۔۔میں نے کہا بنیادی طور پر آئی ایم ون میل پرسن۔ارلی ڈنر۔۔
جی مجھے معلوم ہے مگر پھر یہ سوچ کر کہ ٹائم زون بدل گیاہے اور پھر آپ خود ہی کہہ رہی تھیں Something Exotic.Different Place. Different Taste and plenty of sweet nothings۔اس وقت بمشکل ڈیڑھ بجا تھا۔ انجم چار بجے سے پہلے فارغ ہونے والی نہ تھی۔ اس کے ہاں بچوں کو لانے والی اسلام آباد کی بیگمات جلدی بیدار ہونے والی بی بیاں نہیں۔چھوٹم خالصتاً بچوں کی ہی ماہر نفسیات نہیں۔ا نگلستان سے ٹرینڈ ایک کلینکل ہپنو تھیراپسٹ بھی ہے۔ سو بیگمات بھی اپنے اپنے مسائل لے کر پہنچتی ہیں۔
میں نے بھی سوچا کہ کاروبار اور عشق میں اگر آپ شروع کے ایام میں خطرہ مول لینے سے نہیں ڈرتے تو آپ کی کامیابی اور بربادی دونوں کے امکانات بہت روشن ہوتے ہیں۔آج مجھ میں جو بغاوت اور معرفت ذات کی اک لہر  بیدار ہوئی تھی اس وجہ سے یہ عجب سا ادراک ہوا تھا کہ میں نے اب تک خود کو دامن دامن بانٹا ہوا تھا۔اب یہ نہیں ہوگا۔سعید سے تعلق ٹوٹا تو اب ہر تعلق پیچھے رہ گیا۔گڈی کو بھی میں وہیں چھوڑ آئی تھی۔گڈو کو اگر میں اچھی لگی ہوں مجھے جو اس نے جہاز میں   چوم چوم کر کہا تھا Be Mine (میری بن جاؤ)Never leave me (مجھ سے جدا مت ہونا) تو اس کا ٹریلر دیکھ لیتے ہیں۔میں بھی تو اپنے اولین بوسوں کا رنگ مدہوشی دیکھوں۔ ایسا بھی کیا ہے۔ شوکی اگر امیدوار اور سعید بے زار تھا تو گڈو چالاک و حق دار ہے ۔

کیا ہوا قلوپطرہ بھی تو بہ یک وقت روم کے دو بڑے جرنیلوں سیزر اور مارک انطونی سے کھلواڑ کرتی تھی۔
میں واپسی پر وہیں مسٹر بکس کے ساتھ والے بلاک میں جہاں گارمنٹس کی دکانیں واقع ہیں وہاں اتر گئی۔اترتے وقت راستے کی خاموشی کا اثر زائل کرنے کے لیے اتنا ضرور کہا کہ میرے پاس سیل فون آگیا ہے اگر آپ کا من ہو تو آپ کو نمبر دیا جاسکتا ہے جس پر آپ کال کریں گے تو شاید میں اسے محفوظ بھی کرلوں گی۔

بے مقصد اس دکان سے اُس دکان میں گھومنے کے بعد میرے سامنے دو راستے تھے کہ یا تومیں چھوٹم کے گھر چلی جاؤں یا کچھ اور کروں۔ میں نے کچھ اور کیا اور گڈو کو فون کردیا۔دوسری گھنٹی پر اٹھایا۔پہلی گھنٹی مجھے یقین ہے اس طرف بے یقینی کی تھی۔میں نے بہت سنجیدگی سے کہا مجھے بھوک لگ رہی ہے۔بے چارہ معصوم عاشق جھٹ سے پوچھنے لگا کھانا لاؤں یا آپ کو کہیں لے جاؤں۔
اس کی اس prompt -service کا سن کر میں نے سوچا کہ یہ کس نے کہا پاکستان کی بیوروکریسی، بے حس،سست رفتار،زود رنج اور انتقام پسند ہے۔گڈی کہتی ہے سیاست دان ووٹ سے پہلے،آن لائن مال بیچنے والے رقم ملنے سے پہلے اور مرد آپ کے بستر میں گھسنے سے پہلے دنیا کے سب سے بااخلاق  اور مہذب انسان ہوتے ہیں۔میں نے کہا وہ پارکنگ لاٹ میں آجائے۔ گاڑی میں ہی بیٹھا رہے میں خود کال گرل کی طرح دروازہ کھول کر گاڑی میں سوار ہوجاؤں گی۔

اگر آپ میری آئندہ زندگی کے اس ایک دن کے جڑے ا جڑی عملی برق رفتاری کا جائزہ لیں تو میں نے ابو۔شوکی،طاہرہ آنٹی،ارسلان،اوشا،چھوٹم سب کو اپنے اپنے خانوں میں بساط عشق کی شطرنج پر جما کر ایسے کھڑا کردیا تھا جیسے یہ سب مجھ مہارانی آف شطرنج کےDesperado ہوں۔اردو میں انہیں جانے کیا کہتے ہیں مگر شطرنج کی انگریزی اصطلاح میں یہ اُن مہروں کو کہا جاتا ہے جن کا بڑے مقصد کے لیے مارا جانا ضروری ہو۔

اسے آنے میں پندرہ منٹ لگے مگر چونکہ میرے فون کے بعد ہی روانگی کے حوالے سے En route یعنی عازم سفر ہونے کی یقین دہانی میسج کے ذریعے موصول ہوچکی تھی۔ میں ایک ایسی دکان کے شیشے کے پار اس کی آمد کا راستہ دیکھتی رہی جہاں سے پارکنگ لاٹ کا منظر صاف دکھائی دیتا تھا۔ذرا دیر میں جب وہ دکھائی دیا تو میں دکان سے باہر آگئی۔ سفید رنگ کی سرکاری نمبر پلیٹ GP 5753 کی لینڈ کروزر جیپ تھی جسے وہ خود چلا رہا تھا۔ میں خاموشی سے اس میں سوار ہو گئی۔ پوچھنے گا “Where to?” یہ فلم ٹائٹنک کا وہ مشہور جملہ ہے جو جہاز کی بربادی سے پہلے ہیرو جیک، ہیروئین روزکو وہاں کارگو ہولڈ میں موجود ایک کار میں بٹھانے کے بعد اسٹیرئنگ گھماتے ہوئے کہتا ہے۔میں نے بھی روز یعنی کیٹ ونسلیٹ کا جملہ اس طرح کہا کہ اگر اسلام آباد میں دن میں تارے نظر آسکتے ہیں تو وہیں لے جائیں۔حضرت کہنے لگے کہ میں پاکستان پہنچ کرایک دم کچھ بدل سی گئی ہوں۔میں نے کہا کہ ہاں دل چارہا ہے کہ مجھے مہارانی آف شطرنج سمجھا جائے۔جس پر ان کایہ جوابی جملہ سن کر مجھے یوں لگا کہ میرے نیچے سے فائٹر جیٹ والا کی سیٹ سے اوپر والا وہ بٹن دب گیاجو سیٹ سمیت پائلیٹ کو زندہ بچانے کے لیے گولی کی رفتار سے کاک پکٹ ایک طرف کرکے ہوامیں  دونوں کو Eject کردیتا ہے۔پیراشوٹ کھل کر پائلٹ کو بحفاظت نیچے اتاردیتا ہے۔کہنے لگا جو  آپ  کو مملکت دل کی مہارانی مانتا ہو اس کے ساتھ شطرنج کی بساط کیا بچھانا۔اس میں تو مات بھی ہوسکتی ہے۔ آپ سے کوئی بازی جیتنا کم از کم میرے دل کو تو گوارا نہیں۔ہم نے پہلی نگاہ میں آپ کی محبت کے پہلے خانے میں دل لاچار کو رکھ دیا اب جتنے ٹکڑے ہوں وہ آپ کی ملکیت ہیں۔

میں مسکرائی۔۔ہمارے دفتر میں ایک لڑکی ہوتی تھی وہ ایک دن ہم سے کہنے لگی مردوں سے جب لکھت میں معاہدے کرو تو نان نفقہ، شطرنج کے پہلے خانے پر ایک دانے اور دوسرے پر ڈبل اور تیسرے پر اس کا ڈبل یعنی1 + 2 + 4 + 8 +۔۔ والا چکر چلایا کرو۔بے وقوف گڈی نے جب حساب لگانے کی کوشش کی تو چھ کیلکولیٹرز جواب دے گئے کیوں 64 خانوں کے حساب سے مانگے گئے خرچے کا جو ہندسہ سامنے آرہا تھا وہ بیس ہندسوں کا 18,446,744,073,709,551,615, فگر تھا۔ایسے ہندسے کو انگریزی میں Nonillionکہتے ہیں۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *