• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • نوشی بٹ کا ڈاکٹر خالد سہیل کے نام خط اور ان کا جواب/چھٹی ،آخری قسط

نوشی بٹ کا ڈاکٹر خالد سہیل کے نام خط اور ان کا جواب/چھٹی ،آخری قسط

نوشی بٹ کا خالد سہیل کو آٹھواں خط

خالد سہیل کو انسان دوست نوشی کا آداب ! سلامتی کی دعاؤں کے ساتھ آپ کا شکریہ کہ آپ اتنی محبت سے خط کا جواب دیتے ہیں۔میں ان دنوں کچھ مصروف ہوں اپنے امتحان کی وجہ سے۔ اس لیے آپ کو اسی وقت جواب نہیں دے پا رہی۔مجھے خوشی ہے کہ آپ کو میرے نظریات پسند آئے۔آپ نے ٹھیک کہا کہ بچہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے ہی سیکھتا ہے۔عمومی طور پہ بچے اسی چیز کے پیروکار رہتے ہیں جو وہ بچپن سے اپنے اردگرد دیکھتے ہیں۔لیکن چند آپ کے،میرے جیسے بچے بھی ہوتے ہیں جو تنقیدی شعور کے مالک ہوتے ہیں۔جو بچپن سے اپنے اردگرد ہونے والی چیزوں پہ تنقیدی نگاہ ڈالتے ہیں۔پھر ان سوالوں کے جواب ڈھونڈتے ہیں جو ان کے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں۔بلا شبہ شعور کی بیداری زندگی کو نئے ڈھب سے گزارنے میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔

نوشی بٹ کا خالد سہیل اور رابعہ الرّباء کی کتاب درویشوں کے ڈیرے پر تبصرہ/1

آپ نے کہا کہ دنیا گھومنے کی آدھی خواہش پوری ہوئی۔لیکن ۹/۱۱ کے بعد آپ کو دنیا گھومنے میں مزہ نہیں آتا۔ایسا کیوں ہے۔؟

میں جانتی ہوں کہ ۹/۱۱ کے بعد پوری دنیا کے حالات بدل گئے۔دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے بہت سی پابندیاں و مشکلات پیدا ہوئیں۔کیا آپ کو بھی کینیڈا میں ایسے کسی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔؟

آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں کہ تعلیم اور معاشی خودمختاری عورت کے لیے بہت ضروری ہے۔اس کے بغیر عورت کی حالت سدھرنا مشکل ہے۔مجھے خوشی ہے کہ آپ انسانی ارتقاء کے سفر میں عورت کے کردار سے پُرامید ہیں۔آپ کی نانی سے بھانجی تک کے تعلیمی سفر نے متاثر کیا۔مجھے یاد ہے کہ بچپن میں میری نانی نے مجھے بتایا کہ ان کو پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا لیکن اس وقت یہ خواہش ایک ٹیبو تھی۔نانی اماں کو ان کے گھر کے سامنے کسی نے اردو قاعدہ دیا۔وہ اپنے ماموں اور والد کی غیر موجودگی میں اسے پڑھتی تھیں۔ایک بار اچانک ان کے ماموں کسی کام سے گھر آگئے۔تو انہوں نے قاعدہ بھی پھاڑا اور نانی کو بہت ڈانٹا۔وارننگ دی کہ آئندہ ان کے گھر نہیں جانا ،جنہوں نے قاعدہ دیا ،ورنہ ٹانگیں توڑ دوں گا۔ایسے ہی وہ بتاتی ہیں کہ دو چوٹیاں کرنا بھی فیشن سمجھا جاتا تھا۔ایک بار ایسے ہی انہوں نے چوٹیاں بنائیں تو پھر ماموں کے ہاتھوں درگت بنی۔یہ پاکستان بننے سے کچھ عرصہ پہلے کی باتیں ہیں۔ان کی بیٹیوں نے آٹھویں تک پڑھا کسی نے پانچویں تک۔لیکن اگلی نسل نے پڑھائی کی اہمیت سمجھی۔آج اسی خاندان کی نواسی ابھی تک تعلیم حاصل کرنے کا شوق رکھتی ہے۔اور باقی فیملی بھی پڑھ لکھ گئی ہے۔

نوشی بٹ کا ڈاکٹر خالد سہیل کے نام خط اور ان کا جواب/2

مجھے یاد ہے جب میں چھوٹی تھی تو کہانیوں کی کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔میں نے تقریبا ساڑھے چھ پونے سات سال کی عمر میں قرآن ختم کر لیا تھا۔اس کے ساتھ ہی پانچویں کلاس تک کا سلیبس بھی۔کیونکہ قرآن مجھے میرے خالو نے پڑھایا تھا۔انہوں نے ہی اردو انگلش لکھنا پڑھنا سکھایا۔جب مجھے پڑھنا آ گیا تو کوئی ایسی چیز نہیں تھی جسے میں نہ پڑھتی۔مجھے یاد ہے ہمارے بچپن میں وڈیو سینٹر ہوتے تھے۔ان پہ فلمز کے پوسٹرز پہ فلموں کے نام لکھے ہوتے تھے۔اور میں سارے نام پڑھتی تھی۔پھر عمروعیار،ٹارزن،جنوں پریوں کی کہانیوں سے لیکر کتابوں تک کا سفر خالصتا ً اپنے شوق سے پڑھا۔جو اب تک جاری ہے۔

نوشی بٹ کا ڈاکٹر خالد سہیل کے نام خط اور ان کا جواب/3

جہاں تک پاکستانی عورت کے مستقبل کے بارے میری رائے آپ نے پوچھی ہے ،تو میں سمجھتی ہوں کہ ابھی پاکستانی عورت کو بہت لمبا سفر کرنا ہے۔وہ اس طرح کہ تعلیم تو ہے لیکن اس کے ساتھ شعور کا جاگنا بہت ضروری ہے۔خالی ڈگری تو آپ کو صرف نوکری دے سکتی ہے یا لکھنا پڑھنا سکھا سکتی ہے۔لیکن تعلیم کے ساتھ ساتھ ذہنی بالیدگی کی افزائش بہت ضروری ہے۔ایک باشعور عورت ایک باشعور نسل تیار کرتی ہے۔تو میں سمجھتی ہوں کہ خواتین کو اسی طرح کھل کے جینے کے مواقع دیے جائیں جس طرح مرد کو ملتے ہیں تو تبدیلی ممکن ہے۔ہمارے یہاں بلاشبہ باشعور خواتین کی کمی نہیں اور وہ بہت کچھ کرنا چاہتی ہیں۔لیکن گھریلو ذمہ داریاں اور معاشرے کا پریشر ان کو باندھ دیتا ہے۔دوسری طرف ایسی خواتین بھی ہیں جو صرف مرد پہ ڈیپینڈڈ رہ کے بہت خوش ہوتی ہیں۔مجھ سے سیلون میں جب خواتین بات کر رہی ہوتی ہیں تو وہ بڑے فخریہ لہجے میں بتاتی ہیں کہ ان کے میاں تو انہیں جاب یا کوئی کام نہیں کرنے دیتے۔ان کے بقول کہ ہمیں کیا ضرورت ہے سردی گرمی میں باہر نکل کر کام کرنے کی جب ہماری ساری ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔تو ملے جلے رویے اور سوچ ہے۔

نوشی بٹ کا ڈاکٹر خالد سہیل کے نام خط اور ان کا جواب/4

میرا سوال یہ ہے کہ آپ نے اپنی کتاب میں محبت کے بارے کچھ باتیں تو لکھی ہیں لیکن میں جاننا چاہتی ہوں کہ آپ کے نزدیک محبت کیا ہے۔؟

آجکل پلیٹونک محبت کا بہت چرچا ہے آپ کی اس بارے کیا رائے ہے۔؟

آپ نے مشرق و مغرب کی عورت کی محبت میں کیا فرق دیکھا ہے۔؟

اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ شادی انسان کے لیے بہت ضروری ہے۔؟

نوشی بٹ کا ڈاکٹر خالد سہیل کے نام خط اور ان کا جواب/5

لگتا ہے خط کافی لمبا ہو گیا ہے۔۔آپ نے پوچھا کہ مجھے آپ کے جلدی جلدی خط لکھنے پہ حیرت نہیں ہوتی۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کے جلدی جواب دینے سے مجھے خوشی ملتی ہے۔ایک اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔کہ آپ کے نزدیک میرے خط کی ،میرے لکھے الفاظ کی اہمیت ہے تو آپ جواب دیتے ہیں۔آپ نے خطوط مکالمہ پہ دینے کا پوچھا ہے تو آپ دے سکتے ہیں۔مجھے خوشی ہو گی۔ اپنا خیال رکھیے گا۔ پاکستان کے دل لاہور سے آپ کی دوست اب اجازت چاہتی ہے۔ نوشی بٹ ۲۹۔اگست۔۲۰۱۹

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *