نوشی بٹ کا ڈاکٹر خالد سہیل کے نام خط اور ان کا جواب/3

نوشی بٹ کا خط
جسٹن ٹروڈو کے دیس واسی درویش کو میرا آداب۔۔۔
مجھے امید ہے کہ آپ بالکل ٹھیک اور خوش باش ہوں گے۔سب سے پہلے تو اس بات پہ میرا سوا سیر خون تو یقینا ً بڑھ گیا ہو گا کہ آپ جسٹن کو میری محبت اور سلام پہنچائیں گے۔میں تو تصور ہی تصور میں آپ کو ان کے روبرو بیٹھا دیکھ رہی ہوں۔اور جسٹن کے چہرے پہ آنے والی مسکراہٹ مجھے خوشی دے رہی ہے۔کاش میں کبھی اس سے مل پاؤں۔آپ کا شکریہ کہ آپ کو میرا خط پسند آیا۔مجھے اصل میں کفایت شعاری کی عادت ہو چکی ہے۔مجھے لگتا ہے کہ ہر عورت کو شادی کے بعد کفایت شعاری کی عادت ہو جاتی ہے۔جن کو نہیں ہوتی ان کو اکیس توپوں کی سلامی،وہ بہت اچھا کرتی ہیں کفایت شعاری نہ کر کے۔بھلا یہ بھی کوئی عادت ہوئی۔امی کی ابو سے شادی بہت کم عمری میں ہوئی تھی۔عمروں اور سوچ کے فرق کی وجہ سے زیادہ دیر نہیں بن پائی۔ہم دو بہن بھائی انہی لڑائی جھگڑوں کے درمیان دنیا میں آ چکے تھے۔پھر پہلے علیحدگی ہو گئی اور بعد میں خلع۔اس کے بعد پھر سنگل پیرنٹ بن کے امی کا ہماری پرورش کرنا۔بنیادی لکھنا پڑھنا سیکھا۔سلائی سیکھی۔پارلر کا کام سیکھا۔ہماری پرورش میں نانا کا زیادہ ہاتھ ہے۔کیونکہ امی کی دوسری شادی ہو گئی تھی۔اور میرے والد نے کبھی ہمیں ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی تھی۔جب تک کہ میں نے ان کو نہیں ڈھونڈا۔شادی سے پہلے میری تعلیم مکمل نہیں تھی۔حالات کے دباؤ کی وجہ سے میں نے بھی جلدی شادی کر لی۔اب میں اپنی تعلیم مکمل کر رہی ہوں۔آج کل میرے بی ایس آنرز میں  کام ففتھ سمسٹر  فائنل ٹرم کے ایگزامز چل رہے ہیں۔جس کے باعث آپ کو بھی خط لیٹ لکھ پا رہی ہوں۔

میرے چھوٹے چھوٹے خواب ہیں جن کو مکمل کرنے کی کوشش میں لگی ہوں۔جن میں سب سے بڑا کہہ لیں یہ خواب ہے کہ مجھے بے نام نہیں مرنا۔میں کچھ نہ کچھ ایسا کرنا چاہتی ہوں کہ میں لوگوں کو یاد رہوں۔اس کے بعد اپنی ڈگری پوری کرنے کا خواب ہے۔خواب ہے کہ پی ایچ ڈی تک پہنچوں۔امید تو ہے کہ ایسا ہو جائے گا۔پھر بچوں کو کسی مقام تک پہنچتا دیکھنا چاہتی ہوں۔مجھے امید ہے کہ جس طرح آپ نے جو خواب دیکھے اور ان کی تعبیر پا لی۔میں بھی ضرور پورا کر لوں گی۔مجھے بہت بڑے بڑے لفظ بولنے نہیں آتے۔لیکن مجھے یہ پتہ ہے کہ جو میں لکھتی ہوں یہ خالص میرے دل کی آواز ہوتی ہے۔میری سوچ ہوتی ہے جو کاغذ پہ اترتی ہے۔میں بھی اپنی زندگی سے لمحہ لمحہ سیکھتی ہوں۔بیس سال پہلے کی نوشی اور آج کی نوشی میں فرق یہی ہے کہ میں نے اپنے حالات و واقعات سے سبق سیکھا۔میں نے غلطیاں کیں ان سے سیکھا۔میں رسک اٹھانے سے نہیں ڈرتی اس سے سیکھا۔غرض کہ سیکھنے کا یہ عمل جاری رہے گا جب تک میں زندہ ہوں۔

میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ انسان جب کوئی غلطی کر لیتا ہے تو پھر اس کے پچھتاوے کے احساس سے کیسے نکلے۔عام طور پہ لوگ پچھتاوے کے فیز میں چلے جاتے ہیں۔ان سے نجات کیسے حاصل کی جائے۔۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر انسان اپنی غلطیوں کو پبلک کرتا ہے یا اپنے حالات کو لکھتا ہے صرف اس نیت سے کہ دوسرے لوگ اس سے سبق حاصل کریں تو کیا وجہ ہے کہ لوگ ججمنٹل ہو جاتے ہیں۔لوگ آپ کو بلاوجہ جج کرنے لگتے ہیں یا آپ کی بات کو طعنہ بنا کے واپس آپ کے منہ پہ مار دیتے ہیں۔آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو نفسیاتی علاج کروانے کی ضرورت ہوتی ہے۔میں بھی اب چھپانے کی باتیں کئی مرتبہ چھاپ دیتی ہوں۔اس لیے کہ میری فیملی میری آئی ڈی پہ بلاک ہے۔

میرے لیے اس سے بڑھ کے قابل فخر بات اور کیا ہو گی کہ میں جن کو استاد مان رہی ہوں وہ اپنی کتاب میں میرا لکھا ہوا تبصرہ اور میرے خطوط شامل کریں۔مجھے تو رات کو خوشی کے مارے نیند ہی نہیں آنی۔میری طرف سے آپ کو پورا اختیار ہے کہ آپ میرے لکھے کو اس قابل سمجھیں کہ اسے اپنی کتاب میں جگہ دیں۔اس سے زیادہ قابل فخر اور کیا ہو گا۔یہ میری بہت بڑی حوصلہ افزائی ہو گی اور یقینا ً میرے جیسی بہت سی نوآموز خواتین کے لیے بھی ہمت و حوصلے اور کوشش کا سامان پیدا کرے گی۔یقیناً  یہ چیز مجھے لکھنے کی طرف اور مائل کرے گی۔میں اس کے لیے آپ کی شکر گزار رہوں گی۔اور ان لوگوں کو بھی یہ فخریہ بتاؤں گی جو مجھے پوچھتے ہیں کہ تمہاری پہچان کیا ہےان کو بتاؤں گی کہ یہ میری پہچان ہے۔خالصتاً  اپنے ہاتھ سے کمائی ہوئی۔میرے پاس سوال تو بہت ہیں لیکن میں آہستہ آہستہ پہلے سوالات کے جوابات کو سمجھتے ہوئے مزید سوال کروں گی۔آپ کی طرف سے دوستی کا قدم میری زندگی کا بہترین سرمایہ ہے۔آپ کی دوستی سے یقیناً  میں بہت کچھ سیکھوں گی۔
علم کی متلاشی اور دوستوں کی دوست نوشی اب اجازت چاہتی ہے
آپ کے جواب کی منتظر آپ کی دوست۔
نوشی بٹ

۲۶۔اگست۔۲۰۱۹

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خالد سہیل کا نوشی بٹ کو جواب

نوشی کو کینیڈا کے موسمِ گرما کے خوشگوار موسم سے ایک درویش کاآداب

آپ کا ارادہ ’آپ کی محنت اور زندگی میں کچھ کر دکھانے کا عزم دیکھ کر مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کے چھوٹے اور بڑے سب خواب شرمندہِ تعبیر ہوں گے۔

آپ نے نہایت دلچسپ سوال پوچھے ہیں۔۔

میرا  نقطہِ نظر یہ ہے کہ ہر انسان اپنی ذہانت اور زندگی کے تجربے کی روشنی میں زندگی کے فیصلے کرتا ہے۔ پھر وقت اسے بتاتا کہ کون سے فیصلے درست تھے اور کون سے غلط۔۔ ہم سب اپنے غلط فیصلوں سے زندگی کے بہت سے سبق سیکھتے ہیں ۔یہی دانائی کا راز ہے۔اگر انسان اس حقیقت کو قبول کر لے تو وہ مستقبل میں بہتر فیصلے کر سکتا ہے ۔

پچھتاوا ان لوگوں کو ہوتا ہے جو حال کی بجائے ماضی میں رہتے ہیں۔

جہاں تک لوگوں کے جج منٹلjudgmental ہونے کا تعلق ہے تو وہ اس شخص کی کنڈیشننگ conditioningپر منحصر ہے۔ اگر اس کی تربیت مذہبی خاندان اور معاشرے میں ہوئی ہے تو وہ گناہ و ثواب میں الجھا رہتا ہے اور انسان کے نفسیاتی اور سماجی مسائل کو مذہب کی عینک سے دیکھتا ہے۔

آپ جانتی ہیں کہ میں نے مدت ہوئی مذہب اور خدا کو خدا حافظ کہہ کر انسان دوستی کے فلسفے کو گلے لگایا ہے۔ چونکہ پاکستان کے اکثر لوگوں کا کبھی کسی دہریہ یا انسان دوست سے واسطہ نہیں پڑا اس لیے وہ انہیں بد اخلاق اور بد کردار سمجھتے ہیں۔ میں انہیں بتاتا ہوں کہ انسانیت کی اپنی اخلاقیات ہے۔

جس کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔۔

میں نے مذہب کو ماننے والے منافق بھی دیکھے ہیں اور دہریہ درویش بھی۔ ۔میرا  خیال ہے اخلاقیات کا تعلق انسان کی شخصیت سے زیادہ اور عقائد سے کم ہے۔۔

اب آپ مجھے بتائیں کہ آپ کا خدا’مذہب اور اخلاقیات کے رشتے کے بارے میں کیا موقف ہے؟

آپ کے ایک اور دلچسپ سوال کا انتظار رہے گا۔

آپ کا ادبی دوست

خالد سہیل

۲۶ اگست ۲۰۱۹!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *