ٹیکنالوجی اور قیامت کے دن کی جوابدہی۔۔۔۔شاہد شفیع

محترم احباب۔۔۔۔
دور کوئی بھی ہو۔معاشرہ کوئی بھی ہو مگر ،اخلاقیات و اخلاقی اقدار سے اگر خالی ہے تو بدترین معاشرہ ہے۔مفہوم و مراد یہ کہ بلند اخلاقی اقدار کی ضرورت تا قیامت رہے گی۔تاریخ اسلام کا اگر جائزہ لیا جائے تو مسلم معاشرے میں علمی اعتبار سے مختلف ادوار گزرے۔
رسولؐ اللہ کے وصال کے بعد ایک بڑی جماعت،محدثین کے نام سے وجود میں آئی جس نے حدیث و فہمِ حدیث سے متعلق مختلف علوم وضع کیے۔یوں ہی آگے چل کر ایک دور فقہاء کے نام سے منسوب ہوا کہ جنہوں نے فقہی مسائل پر اُمتِ محمدی کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔۔پھر ایک وقت ایسا بھی گزرا کہ تزکیہ نفس کے ماہرین میدان عمل میں دکھائی دئیے جنہوں نے صوفیہ کے نام سے شہرت پائی۔گویا کہ اُمت کے بدلتے ہوئے مزاج یا ضرورت کے پیشِ نظر دست غیب نے راہنمائی کی اور اُمت نے اس راہنمائی کا ادراک کرتے ہوئے اپنی علمی ،اپنی فکری تشنگی کو دور کرنے کے لئے اپنی عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا۔

محترم احباب۔۔۔
میری دانست میں اب دستِ غیب علمی اعتبار سے سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب اشارہ کر رہی ہے کہ جس سے دنیا کی کوئی قوم صرفِ نظر نہیں کر سکتی۔اور جو قوم بھی اخلاقی تنظیم کیساتھ اس میں دسترس حاصل کرے گی وہی دورِ حاضر میں قیادت و سیادت کا تاج اپنے سر پر سجائے گی۔
اسلام اپنی ہدایات و تعلیمات کے نتیجہ میں قیادت و سیادت ہی کے لئے آیا ہے، ورنہ دوسرے بہت سے مذاہب موجود تھے جن میں سکون کے بہت سے عناصر موجود تھے۔

جس طرح ہم نماز،روزہ،زکوۃ ،حج ودیگر عبادات کی روز ِ محشر جوابدہی کے لئے متفکر ہیں۔جس طرح مسجد و مدرسہ پر خرچ کرنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں۔۔تو بالکل یوں ہی بعض اوقات حالات و زمانہ کی رعایت سے جدید تعلیم و حصولِ ٹیکنالوجی پر خرچ کرنا اس کے لئے متفکر رہنا بھی مذہبی فریضہ بن جاتا ہے۔

رفقاء سفر۔۔۔
جس طرح مروجہ دینی علوم و فنون اور اخلاق و عبادات سے غفلت مسلمانوں کے ملی وجود کو ختم کر دے گی اسی طرح مروجہ دنیاوی علوم و فنون اور تنظیمی تبدیلیوں سے روگردانی مسلمانوں کو عجوبہ بنا کر رکھ دے گی۔
روز محشر ہم رسولؐ اللہ کو کیا جواب دیں گے۔۔؟
کہ اگر ہم سے یہ سوال کیا گیا۔۔۔۔۔کہ۔۔۔۔
تم میں سرمایہ دار موجود تھے۔۔۔۔
جماعت کے امیر و خانقاہ کے ریئس تھے۔۔۔
ملت کے محافظ و مذہب کے قائدین تھے۔۔۔۔
ان سب کی موجودگی میں میرے نام لیوا کیڑے مکوڑے کی طرح زندگی بسر کر رہے تھے، تم نے اِن اختیارات و صلاحیتوں کو استعمال میں لاتے ہوئے ان کا کیا انتظام کیا۔۔۔؟
وہ بچے جو تعلیم و تربیت سے محروم اور فکرِ معاش سے مجبور تھے ان کے لئے کتنے ٹیکنیکل ادارے قائم کیے تھے؟
اے سربراہان مملکت دنیا علوم و فنون کے میدان میں نت نئے تجربات سے روشناس ہو رہی تھی اور تم اُمت کی تفریق میں اپنی ساری توانائیاں صرف کر رہے تھے۔
کیا زمانے میں پنپنے کا یہی درس میں تمہیں دے کر گیا تھا۔۔۔۔؟

محترم احباب۔۔۔۔(ضمناً عرض کرتا چلوں)
انڈیا نے خلائی مشن کے ضمن میں جو تجربہ کیا اور جو کامیاب نہ ہو سکا اور جس کی ناکامی پر ہم لُڈیاں ڈال رہے ہیں۔۔۔۔ایک لمحے  کے لئے سوچیے  کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو جاتا تو عالمِ انسانیت میں اس وقت اس کا سر فخر سے کتنا بلند ہوتا؟

یہ وقت اپنے مخالف کی ناکامیوں پر شادیانے بجانے کا   نہیں ہے۔۔۔بخدا مقامِ فکر ہے کہ ہم میدانِ علم میں اُس کے مقابل آج کہاں کھڑے ہیں؟
اللہ کریم ہمیں اس بات کا فہم، اس فہم کا درست معنوں میں ادراک عطا فرمائے۔۔آمین۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *