افسانہ ۔۔۔ شاہ عالم

یہ قصہ ہے جب کا تب آتش پاگل تھا۔ یعنی ایک وقت تھا کہ ہم بھی دائجسٹوں کے اسیر تھے اور محلے کی لائبریری سے یومیہ ایک روپیہ کرائے پر ڈائجسٹ اور ناول لاکر پڑھا کرتے۔ زنانہ مردانہ ہر طرح کے ڈائجسٹ پڑھ جاتے تھے۔ ایک طرف دماغ میں جاسوسی ڈائجسٹ کے رنگ گھوم رہے ہوتے تو دوسری جانب ناول، مکمل ناول، ناولٹ، افسانہ اور افسانچہ گھوم رہے ہوتے۔ زنانہ ڈائجسٹوں میں کہانیاں ناول ناولٹ کے حساب سے تقسیم ہوا کرتی تھیں اور ہم باوجود کثیر المطالعہ ہونے کے آج تک افسانے اور افسانچے کا فرق نہیں سمجھ پائے۔ بس اپنی طرف سے فرض کرلیا کہ جس کہانی میں زیادہ  رونا دھونا پایا جاتا ہو وہ افسانہ کہلاتی ہے اور جو کہانی پیدا ہوتے ہی مرجائے وہ افسانچہ کہلاتی ہے۔

ممکن ہے ہماری بیان کردہ تعریف غلط ہو۔ وہ کیا ہے کہ ہمارا تو آج تک جتنے افسانوں سے واسطہ پڑا ہے۔ ہم نے ان میں ہیرو یا ہیروئن کو روتے ہوئے ہی پایا۔ لہذا اسی بنیاد پر یہ تعریف گھڑلی۔ کسی افسانے میں عجیب سے مشکل نام والی ہیروئن کو روینہ ٹنڈن سے بڑھ کر حسین ہونے کے باجود سچی محبت نہیں ملتی تو کسی افسانے میں بیہودہ سے نام والے ہیرو کو مخلص بیوی نہیں ملتی اور یوں ہر دو فریق روتے دھوتے اور معاشرے میں قنوطیت پھیلاتے پائے جاتے ہیں۔ جبکہ ظالم معاشرہ ان کی حالت پر مسکراتے ہوئے دودھ سوڈا بنواکر اس میں پاپے ڈبو ڈبو کر کھانے میں مشغول رہتا ہے۔ اس پر مستزاد افسانہ نگار کی منظر کشی قابلِ دید ہوتی ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ ایک ہی افسانے میں تمام ذخیرہ الفاظ سمودیا جائے۔

بطورِ نمونہ و عبرت ابتداءِ افسانہ ملاحظہ ہو: آج بھی ساون کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ تاحدِ نگاہ برفپوش پہاڑوں پر صحرائی پھول چاندنی رات میں چمکتی دھوپ کی روپہلی کرنوں کے انعکاس سے فسوں خیز نظارہ دے رہے تھے۔ “رعمیسہ مختار آفریدی” کی نگاہیں کیکٹس کی سرسبز بیلوں سے چھچھلتی ہوئی اماوس کی رات میں دور آسمان پر دمکتے ستاروں پر جاٹھہریں۔ اس کے ذہن میں دو دن قبل کی وہ رات آوارہ روح کی طرح گھومنے لگی جب وہ پہلی بار “شاہ عالم” کے ساتھ چنگ چی میں لانگ ڈرائیو کو نکلی تھی۔

وسطِ افسانہ ملاحظہ ہو: رعمیسہ کا چڑیا جیسا نازک سا دل زور زور سے دھک دھک کررہا تھا۔ ممکنہ لمحات کا تصور اس کے رگ و پے میں بہتے خون کو منجمد کیے دے رہا تھا۔ ہوا کی ہیجان خیز سرسراہٹ پر رقص کرتے پتے اس کے نامکمل وجود کے سناٹے کو چند لمحوں کے لیے تہہ وبالا ضرور کرتے مگر اس کے اندر کی ویرانیاں روح کا آزار بن کر اسے کائنات کی رنگینیوں سے غافل کیے جارہی تھی۔ شاہ عالم کے ظالمانہ الفاظ اور خونیں لہجہ اس کے من مندر کی سنگلاخ دیواروں سے ٹکراکر اس کی مضبوط اور عالیشان شخصیت کی بنیادیں ہلارہے تھے۔ جانے کیا ہونے والا تھا۔

انتہاءِ افسانہ ملاحظہ ہو: آج بھی ساون کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ سب کچھ وہی تھا۔ (یعنی برفپوش پہاڑوں پر صحرائی پھول اور چاندنی رات میں سورج کی روپہلی کرنیں اور اماوس کی رات میں جگمگاتے تارے)۔ مگر رعمیسہ کا دل شہرِ خموشاں کا منظر پیش کررہا تھا۔ تاحد نگاہ اداسی زلفیں بکھرائے نیم دراز تھی۔ غموں کا بپھرا سمندر اس کے نازک سے وجود میں طوفان اٹھائے ہوئے تھا۔ شاہ عالم آج تمام عہد و پیمان توڑ کر آزاد ویزے پر انجانے دیس کی راہ لے چکا تھا۔ اور رعمیسہ اس ہرجائی کے لفظی نشتروں سے گھائل، سالخوردہ حویلی کی ٹوٹی ہوئی ساگوان کی چوکھٹ سے ٹیک لگائے دور افق پار تک رہی تھی۔ پاگل کی بچی جانے کیا کھوج رہی تھی۔ آس کی ڈور اگرچہ اس کے ناتمام سپنوں کی طرح پارہ پارہ ہوچکی تھی۔ مگر اسے قیدِ تنہائی کاٹنی ہی تھی۔ بارش تھم گئی۔ چاند بوڑھے برگد کی اوٹ سے جھانکنے لگا۔ سورج کی شعائیں رعمیسہ کے زرد رخساروں کو مزید دہکانے لگیں۔ برفپوش پہاڑوں کی برف پگھل کر صحرا کی ریت کو بھگونے لگی۔ مگر اس کی مانگ میں ہمہ وقت دمکنے والے تارے کھوچکے تھے۔ اس نے ایک سرد آہ بھری۔ میز سے چرس کی ڈلی اٹھائی۔ اپنی نازک سی ہتھیلی پر اسے انگوٹھے کی مدد سے رگڑا۔ مارون کی سگریٹ اٹھائی اور چرس تمباکو میں “میری نیٹ” کرکے شاہ عالم کی پرآزار یادوں کو دھویں کے مرغولے میں اڑانے لگی۔

یہ کم و بیش ہر افسانے کا حال ہوتا ہے۔ جس افسانے میں ہیروئن زیادہ آنسو بہائے۔ وہ افسانہ اسی قدر کامیاب قرار پاتا ہے۔ ابتداء، وسط اور انتہاء اسی طرح کی بونگیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ درمیان کے مسالہ جات حسبِ ذائقہ بدلتے رہتے ہیں۔ کسی افسانے میں ہیروئن کو امیر اور ہیرو کو جیب کترا بنادیا جاتا ہے تو کسی افسانے میں ہیرو کو اسمگلر اور ہیروئن کو بنات کے مدرسے کی طالبہ بنادیا جاتا ہے۔ لڑکی اعلی تعلیم یافتہ ہے تو اس کی شادی کسی پولیس والے سے ہوجاتی ہے۔ لڑکا ماں باپ کا اکلوتا بیٹا اور کامیاب بزنس مین ہو تو اس کی شادی کسی پھپھے کٹنی سے کروادی جاتی ہے۔ غرضیکہ ہیرو اور ہیروئن کی محبت کو جتنا غیر منطقی اور بیہودہ بنانا ممکن ہو۔ بنادیا جائے۔ مقصد خواتین کو رلانا ہوتا ہے۔ اور خواتین انہیں پڑھ کر روتی بھی ہیں۔ خود ہماری اہلیہ جس دن کوئی دکھی سا افسانہ پڑھ لیں، ہانڈی چولہے سے کنارہ کش ہوجاتی ہیں اور ہمیں باہر سے پیٹ پوجا کرنی پڑتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *