کتنا بدل گیا مسلمان ۔۔۔ سہیل حیدر

شیعہ والدین کے گھر آنکھ کھولی لہذا پیدائشی شیعه کہلائے- ماں اور پھوماں (میری بڑی پھوپی جو اصل میں بڑی ماں تھیں) نے الله ١ پنجتن ٥ امام ١٢ اور معصوم ١٤ سکھائے- مگر ان کا مطلب کیا تھا یہ کیوں سکھائے گئے تھے اس کا کچھ پتہ نہ تھا – گجرات میں ہمارا آبائی گھر تھا جس میں تایا، پھپیاں اور والدین سب ساتھ رہتے تھے- گھر میں ١٠ دن خواتین کی مجلس ہوتی مگر میں اس میں کبھی نہ بیٹھتا- ہر مجلس کے بعد ماں اور پھوماں کی لال آنکھیں اور بھیگا دوپٹہ ضرور نوٹ کرتا-

٧ محرم کے جلوس کا لائسنس دادا کے نام تھا تو جلوس ہمارے گھر کے اندر بھی آتا اور زوردار ماتم ہوتا- گھر کی دوسری منزل سے محلے کی تمام خواتین علم کی زیارت کرتیں اور ماتم دیکھتیں- علم کا پنجہ پہلی منزل کی جالی سے خواتین کی پہنچ میں اتا تو وہ اسے ہاتھ لگاتیں، چومتیں، اس میں لگے گلاب کے پھولوں کی پتیاں بطور تبرک لیتیں اور اس میں منّت کے دھاگے پروتین- باقی ٩ دن میں ایک ڈنڈے پر ماں کا دوپٹہ چڑھا کر علم بناتا اور چھوٹے بھائیوں اور محلے کے بچوں کو پیچھے لگا کر گلیوں اور گھروں میں یا حسین یا حسین کرتا پھرتا- کبھی کسی نے نہیں ٹوکا- اس وقت کچھ پتہ نہیں تھا کہ حسین کون ہیں ماتم کیوں ہوتا ہے، یہ خواتین جو دھاگے پرو رہی ہیں یا یہ محلے والے جو میرا علم دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں یا یہ بچے جو میری آواز سے آواز اور ہاتھ سے ہاتھ ملا رہے ہیں ان کا کیا عقیدہ ہے، سنی ہیں یا شیعہ-

بڑے ہو کر پتا چلا ان خواتین اور بچوں کی اکثریت سنی تھی- پہلی جماعت میں تھا جب والد صاحب کے روزگار کی وجہ سے ہمارا گھرانہ کراچی شفٹ ہو گیا- جب سے آج تک میں نے گجرات کا محرم نہیں کیا- والدہ آج بھی عشرہ محرم کے انتظامات سنبھالنے میں چھوٹی پھوپی کا ہاتھ بتانے گجرات جاتی ہیں- ماں بتاتی ہیں کہ خواتین کی مجلس میں رش بڑھ گیا ہے اہل سنّت خواتین کا آنا بہت کم ہو گیا ہے- جلوس اب بھی گھر آتا ہے، ماتم بھی ہوتا ہے- ماں سے پوچھنے کی ہمّت نہیں ہوتی کہ گلیوں اور گھروں میں علم لے کر چھوٹا سا جلوس بنائے یا حسین کرتا کوئی بچہ اب بھی پھرتا ہے یا نہیں؟

فیڈرل بی ایریا کراچی کے ایک لوئر مڈل کلاس اپارٹمنٹ کمپلیکس میں ١٤ سال رہائش رہی- دو کمروں کا فلیٹ والدین اور ہم ٤ بھائیوں (بعد میں ٥ ہو گئے) کیلئے چھوٹا تھا مگر سکون و محبّت کی فراوانی تھی- والدین پڑھنے کے شوقین تھے لہذا گھر میں نت نئ کتب اور رسائل آتے رہتے تھے- عام پاکستانی بچوں کی طرح میرے پڑھنے کا آغاز حکیم سعید کے ہمدرد نونہال ہوا- اخبار جہاں، ٹوٹ بٹوٹ اور اتوار کے DAWN سے ہوتے خواتین ڈائجسٹ تک پھنچے- اشتیاق احمد، مظہر کلیم، ابن صفی، نسیم حجازی اور پھر علامہ اقبال شعور کی مختلف منازل کے ہمسفر رہے- جو پہلی دو مذہبی کتب پڑھیں وہ علامہ راشد الخیری کی “آمنہ کا لال” اور “سیدہ کا لال” تھیں- یہ دو شخصیات سے عشق کا آغاز تھا- اس زمانے میں جمعہ کی نماز میں کتب کے stall لگتے تھے تو کی دفعہ خاص طور پر رمضان میں والد صاحب مذہبی کتب خرید کتب لاتے- ہمارے چھوٹے سے گھر کی چھوٹی سی لائبریری میں ٨٠ فیصد کتب اہل سنّت کی لکھی ہوئی ہوتیں- صحیح بخاری اور صحیح مسلم لڑکپن میں ہی پڑھ لیں مگر آج تک شیعہ حدیث کی کتاب نہیں پڑھی- والد صاحب کتب کے کیڑے ہیں، ایک آنکہ ضائع کرلی اسی چکّر میں مگر انکی ایک عادت مرے بہت کام آی- وہ قرآن سمیت ہر کتاب پڑھتے ہوے سائیڈ میں حاشیے لکھتے جاتے – میں موٹی موٹی کتب پڑنے کے بجاے صرف وہ حاشیے پڑھ لیتا- بڑا ہو کر جب کتب پوری پڑہیں تو احساس ہوا کہ وہ حاشیے بھی کافی ہی تھے-

دہلی اسکول میں تعلیم حاصل جو کہ گورنمنٹ اسکول ہونے کے باوجود نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کیلئے مشہور تھا- علیگڑھ کے فارغ التحصیل “شمسی صاحب” ہمارے پرنسپل تھے- الله بخشے ایک شاندار شخصیت اور کھرے مسلمان و پاکستانی تھے- سکول میں مسجد تھی جہاں دوپہر ظہر اور سپہر عصر کی نمازیں باجماعت ہوتیں اور ظاہر ہے امام اہلسنّت ہوتے- قیام میں ہاتھ کھولنے کے مخصوص طریقہ کی وجہ سے کبھی کبھی ہم جیسوں کا ریکارڈ لگتا مکر بالعموم بھائی چارگی کا ماحول تھا- سکول کا ماحول ایسا تھا کہ عید میلاد النبی، یوم آزادی اور اقبال ڈے باقائدگی سے منایا جاتا -میری آواز ذرا اچھی تھی لہٰذا نعتیں پڑھنے اور کلام اقبال و قومی نغمے گانے کیلئے میں اسکول کے ہر پروگرام کا لازمی حصہ ہوتا- اسکول کے اندر مقابلوں میں اکثر انعام اور سرٹیفکیٹ ملتے مگر ایک سال تمام کراچی کے بین المدارس مقابلہ نعت میں مجھے تیسرا انعام ملا- یہ “آمنہ کے لال” سے عشق کا پہلا صلہ تھا-

سارا سال ایسے ہی ہنستے کھیلتے گزرتا جب تک کے محرم نہ آ جاے- محرم سے کچھ دن پہلے والدہ تمام رنگین کپڑے اور makeup کا سامان الماری میں بند کر کے کالے کپڑے نکل لیتیں- محرم کی چاند رات کو بالیاں و چوریاں بھی اتار دیتیں- پہلے ١٠ دن گجرات اور باقی دو مہینے کراچی میں ہماری ماں اور مجلسیں- گھر میں پانچ ڈشکرے (گھر بیٹی اور بہن جیسی نعمتوں سے محروم ہی رہا)، انکے دسیوں کام، کهانا پکانا، گھرداری مگر ان شدید مصروفیات کے باوجود ٢ مجالس فی دن کا اوسط برقرار رہتا- پیدل جاییں چاہے بسوں یا رکشوں میں مگر جاننے والوں اور رشتےداروں کی کویی مجلس چھوڑتی نہیں تھیں- ان مجالس کا ہمیں گھر بیٹھے فائدہ ہوتا تھا بریانی، حلیم یا شیرمال کی صورت میں- یہ “بلیک اینڈ وائٹ” صورتحال ربیع الاول میں جاکے نارمل ہوتی- ٩ ربیع الاول کو گھر کی اکلوتی صنف نازک جب لپ سٹک لگا کے کانوں میں بالیاں و ہاتھوں میں چوریاں پہنتیں تو پوری دنیا خوبصورت لگنے لگتی- یہ منظر آج بھی میری بہترین یادوں میں سے ہے ( الله میری ماں کو صحت و تندرستی کے ساتھ طول عمر دے آمین)-

والد آزاد خیال شیعہ تھے- ان کے تمام ‘سگے’ دوست اہلسنّت بلکہ وہابی تھے (اسی سنّت پر عمل کرتے ہے ہم سب بھائیوں نے دوستیاں کرتے ہے فرقے کو کبھی معیار نہ بنایا)- نماز و روزہ و قرآن کے پابند لہذا ہم بھی مارے باندھے پڑھ ہی لیتے (اب الله کا شکر ہے کوتاہی کم ہی ہوتی ہے)- مجالس میں صرف علامہ طالب جوہری کو سنتے اور کبھی کبھی انہیں بھی نہیں- ہاں ١٠ محرم کو نشتر پارک کی مجلس لازمی تھی مگر اس کے بعد جلوس میں واجبی سی شرکت اور بس- شام غریباں بھی ٹی وی والی ہی دیکھتے- شروع شروع میں تو انہیں قمیض اتار کر پنجابی دستوں (ماتمیوں کی تنظیمیں ہوتی ہیں جنہیں انجمن یا دستہ کہا جاتا ہے. کچھ نوحہ پڑنے والے اور دسیوں یا سیکڑوں ماتم کرنے والے اس کا حصّہ ہوتے ہیں) کے ساتھ ماتم کرتے بھی دیکھا مگر جیسے جیسے وہ “وہابی شیعہ” ہوتے گئے ویسے ویسے ماتم، نذر نیاز کم اور پھر ختم ہوتے گئے. آزاد خیالی کی وجہ سے ہم بھائیوں کا محرم زیادہ سے زیادہ ١٠ دن کا ہی ہوتا تھا- ہم پی ٹی وی پر ہفتہ وار “فہم القرآن” بڑے شوق سے دیکھتے- ڈاکٹر اسرار احمد اور علامہ طاہر القادری کو اتنے ہی شوق و عقیدت سے سنتے جیسے علامہ طالب جوہری کو- محافل مسالمہ میں احمد ندیم قاسمی، احمد فراز، قتیل شفائی، منیر نیازی، پروین شاکر، افتحار عارف اور امجد اسلام امجد جیسے صف اول کے شعرا کو سنتے- طارق عزیز، طلعت حسین اور شجاعت ہاشمی کی آواز میں میر انیس اور جوش کے مرثیے سنتے -میرے ماموں صاحب ثروت تھے لہذا شہر کی کی مجالس کو سپانسر کرتے تھے- انکی سپانسرڈ مجالس میں میرا سلام لازمی ہوتا تھا- مجلس کے پمفلٹ یا اخباری اشتہار میں اپنا نام پڑھنا بہت خوشگوار تجربہ ہوتا تھا- یہ “سیدہ کے لال” سے عشق کا پہلا انعام تھا-

شاید ١٩٨٠ کے اواخر میں پاکستان کی میں ہم آہنگی کی فضا بدلنے لگی اور یہ مجھ جیسے ٹین ایجر کو بھی پتا لگنے لگا- لیاقت آباد کی مرکزی امام بارگاہ پر حملہ ہوا مرے والد اس موقع پر شاید ٢ محصور رہے- میں بڑی کلاسز اور پھر کالج میں آ گیا تو طعنہ بازی کچھ بڑھ گی- محرم میں “کھٹمل” والی پھبتی کسی جانے لگی، “تم لوگ کھانے میں تھوک تو نہیں ملاتے؟” یا “شام غریباں میں لائٹس بجھا کے کیا ہوتا ہے؟” جیسے سوالات آنے لگے، “یہ لوگ بچوں کو کاٹ کے حلیم میں ملا دیتے ہیں” یا “یہ لوگ پیسے دے کر زنجیر کا ماتم کرواتے ہیں” جیسی چہ مگوئیاں سنایی دینے لگیں- دوسرے طرف علامه عرفان حیدر عابدی اور علامه نصیر الاجتهادی کی مجلسیں سننا شروع کیں تو ہمیں بھی طعنوں کا جواب دینا اور جوابی طعنے دینا آ گیا- واجبی سا طالب علم تھا مگر “نعت کوٹہ” پر کراچی کے صف اول کے کالج میں داخلہ ملا- نوٹس بورڈ پر اپنا نام بڑھا تو ایک ناقابل بیان خوشی ملی- ایک بار پھر آقا علیہ السلام کے نام پر نوازا گیا-

پڑھائی ختم ہوئی تو روزگار شروع ہوا- نیی دوستیاں نیا ماحول اور نیی ذمہ داریاں- دنیا بدل گی- نعتیں پڑھنا سلام پڑھنا سب ختم ہو گیا- کام ہر چیز سے اوپر آ گیا – محرم بھی بدل گیا- کوالٹی سے زیادہ کوانٹٹی پر زور ہو گیا- محرم کی سادگی چکاچوند میں تبدیل ہو گی- مجالس میں علمی کونٹینٹ کم اور طعنہ بازی زیادہ ہو گی- مگر ان سب سے بڑھ کر یہ ہوا کے پورا معاشرہ خوف و دہشت میں مبتلا ہو گیا- دہشت گردی، تکفیریت اور نے پورے ملک کو متاثر کیا- آج یہ عالم ہے کہ لگتا ہے امام حسین (ع) اور کربلا صرف شیعوں سے مخصوص ہو کر رہ گئے ہیں- پچھلے ٣٥ سال کی عدم برداشت نارمل ہونے میں کی سال لگیں گے یا پتا نہیں ہوگی بھی یا نہیں-

جانے محمد (ص) اور حسین (ع) کا خدا-

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *