اوقات یہ میری کہاں۔۔۔۔۔رضوانہ سید علی

مسجدِ نبوی میں تہجد کے بعد سب لوگ اذانِ فجر کے انتظار میں بیٹھے اپنے اپنے طور پہ رب کو یاد کرنے میں مصروف تھے ۔ جنہیں پہنچنے میں چند منٹ کی بھی تاخیر ہوئی ، انہیں مسجد سے باہر جگہ ملی تھی ۔ میں بھی انہی لوگوں میں تھی ۔ رات کے اس پہر کھلی جگہ پہ خاصی خنکی تھی ۔ بے شمار لوگوں کے چھینکنے اور کھانسنے سے عجیب سا شور پھیلا تھا ۔ اچانک قریب سے ہی آواز آئی ۔
” راتی او آپے ای آ گئے سن ۔ کمرے اچ نور جیہا پھیلیا تے مینوں ہوش آئی ۔ میں ساریاں گلاں کھول کے دس دیتیاں ۔۔۔
( رات کو وہ بذاتِ خود   کمرے میں تشریف لے آئے اور ہر طرف نور پھیل گیا ۔ میں ہوش میں آئی تو انہیں سب کچھ تفصیل سے بتا دیا ۔ )
گو کوئی بہت ہلکی آواز میں بول رہا تھا مگر سب کچھ صاف سنائی دے رہا تھا ۔ میں نے چونک کر دیکھا ۔ میرے بائیں جانب تیسرے نمبر پہ بیٹھی خاتون قدرے رخ موڑے چوتھے نمبر پہ بیٹھی خاتون سے باتیں کر رہی تھی ۔ آواز سے بالکل نوجوان معلوم ہوتی تھی ۔ اچانک مجھے احساس ہوا کہ اسکی گفتگو کا محور و مرکز آقائے دو جہاں ﷺ کی ہستی مبارک ہے ۔ جیسے کہ رات وہ نور مجسم ﷺاسکے سامنے تھے اور وہ اپنے دل کا تمام تر احوال ان کے سامنے رکھ رہی تھی اور اسکے بتانے کا انداز اتنا نارمل تھا جیسے کوئی اپنی قریب ترین ہستی جیسے کہ والد محترم کا ذکر کر رہا ہو ۔ دوسری خاتون بھی درمیان میں کچھ کہتی جا رہی تھی مگر اسکی آواز بالکل مدھم تھی ۔

میرے تو جیسے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔ میں سراپا اشتیاق بن گئی کیونکہ ہم مسلمان یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ حضور ﷺ کے حوالے سے کوئی مبالغہ آرائی کر سکتا ہے ۔ میرا جی چاہ رہا تھا کہ میں ابھی اس خاتون کے قدموں میں جا گروں ۔ اسکے ہاتھوں کو بوسہ دوں ۔ اسکے چہرے کا دیدار کروں ۔ اسکی آنکھوں میں جھانک لوں جنہوں نے اس قحط الرجال کے دور میں جلوہ مبارک دیکھا ۔

اسی وقت اذانِ فجر مدینہ کی پُر نور فضاؤں میں گونجنے لگی ۔ سب کھڑے ہوکر نماز کے لئے صفیں ترتیب دینے لگے ۔ میں کن اکھیوں سے بائیں طرف دیکھ رہی تھی پر خاتون کا چہرہ نہ دیکھ سکی ۔ خیر نماز کے بعد میں ضروراس سے ملوں گی میں نے سوچا پر افسوس سلام پھیر کر دیکھا تو دونوں خواتین غائب تھیں ۔

سارا دن وہ آواز میرے کانوں میں گونجتی رہی اور میں حیران پریشان سوچتی رہی کہ کیا واقعی کچھ لوگ اتنے خوش قسمت ہوتے ہیں ؟
پھر مجھے یاد آیا کہ بہت پہلے سیرت پاکﷺ کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے کچھ ایسے اوراد وظائف ملے جن کے ورد سے خواب میں آپﷺ کا دیدار ہو سکتا ہے ۔ کم عمری کا جوش،جذبہ اور دلیری ، میں نے نہ کسی سے مشورہ کیا نہ کسی کو بتایا اور ان اوراد کا ورد شروع کر دیا ۔
ظہر کا وقت تھا ۔ میں نماز سے فارغ ہو کر کرسی پہ بیٹھی ورد میں مصروف تھی ۔ آنکھیں بند ، دل میں خشوع و خضوع لانے کی کوشش اور یہ یقین کہ آج رات مجھے ضرور دیدار نصیب ہو گا ۔ اچانک میری امی ہنستی ہوئی کمرے میں داخل ہوئیں ۔ رضوان ! ( میرا گھر کا نام یہی تھا ) آج میں بازار سے واپس آ رہی تھی تو بہت مزے کی بات ہوئی ۔ ایک نیا محاورہ سننے کو ملا ۔ گلی کی نکڑ پہ ایک لڑکا کسی کو زور سے آواز دے کر کہہ رہا تھا۔
” آج شام مجھے چھوہارا پڑے گا ۔”
میں ہنس پڑی اور کہا لڑکے اس بات کا کیا مطلب ؟
بولا ۔ آپا جی ! اسکا مطلب ہے ۔ آج شام میرا نکاح ہے ۔
میں نے آنکھیں کس کے میچ لیں ۔ سر ادھر ادھر کیا کہ مجھے کچھ نہیں سننا مگر وہ میری امی ہی کیا جو کچھ سمجھ لیں ۔ اپنی رو میں بولتی چلی گئیں۔
آخر میں نے آنکھیں کھولیں اور چیخ کر کہا ۔ امی ! آپ نے ایک بیکار بات کی طرف مجھے متوجہ کیا اور پھر انہیں بتایا کہ میں کیا پڑھ رہی تھی ۔
امی حیران پریشان مجھے دیکھتی رہ گئیں اور پھر یہ کہہ کر چلی گئیں ۔ پگلی کی باتیں تو سنو ۔

عصر، مغرب اور عشاء کے وقت میں نے معمول کے مطابق ورد کیا اور پھر قبلہ رو ہو کر سو گئی ۔ خواب میں دیکھا کہ میں ایک چینی کا پیالہ لئے سیڑھیاں چڑھ رہی ہوں اور اس پیالے میں شفاف پانی میں ایک چھوہارا پڑا ہے ۔میری آنکھ کھل گئی اور میں نے زور زور سے رونا شروع کر دیا ۔ امی گھبرا کر اٹھ بیٹھیں اور میں نے ان سے لڑنا شروع کر دیا کہ یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے ۔ آپ نے میرا دھیان بٹایا تھا ۔ امی میری دیوانگی پہ حیران پریشان ۔ بیچاری کیا کہتیں ۔
وقت گزرتا گیا اور مجھے اپنی جہالت کا ادراک ہوتا گیا ۔ یہ سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے کہ اگر میری آرزو پوری ہو جاتی تو کیا میرا کمزور دل و دماغ برداشت کر پاتا ؟ میں ایک عام گناہ گار، خطا کار میری اوقات تو یہ بھی نہیں کہ میں سرورکائناتﷺ کے حضور ہدیہ عقیدت بھی پیش کر سکوں ۔ بس رب سے اقبال کی زبان میں یہی التجا ہے کہ روز حساب میرا نامہء سیاہ حضورﷺ سے مخفی رکھنا ۔
نعتِ نبیﷺ میں کہہ سکوں، سیرت کا مجھ سے ہو بیاں
اوقات یہ میری کہاں ، اوقات یہ میری کہاں
گلہائے درود و سلام ، گوہرِ بے بہائے اشک
مدحت کی لڑیوں میں پرو، تکتی ہوں میں سوئے فلک
ہے حسرتوں کا اک جہاں
یہ اشک نامہ بر بنیں،حالِ دل بیاں کریں
پلکیں میری ہوں  سجدہ ریز، خاکِ در سرمہ بنے
ہوں داغ ہائے دل عیاں
چوکھٹ پہ جب بھی سر جھکے ، نفس کا یہ پنچھی اڑے
خاک کا اک ڈھیر ہو ، جو در پہ بس پڑا رہے
سنبھل اے دل بس کر گماں
اوقات یہ تیری کہاں
اوقات یہ تیری کہاں

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *