سلام آخر۔۔۔ڈاکٹر عمران آفتاب

محرم الحرام میں اہل بیت و شہدا کربلا رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ساتھ اہل محبت اپنے اپنے طریقے سے اظہار عقیدت کرتے ہیں۔ پاکستان میں ذرائع ابلاغ پر بھی بھرپور خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اخبارات کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا پر بھی مجالس عزا ، نوحے، مرثیے اور منقبت پیش کی جاتی ہیں۔ مختلف علما، ذاکرین اور نوحہ خواں امام عالی مقام کی خدمت میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں ۔ لیکن جو مقبولیت سید ناصر جہاں کی آواز میں چھنو لال دلگیر کے نوحے “گھبرائے گی زینب ” اور سید آل رضا کے لکھے ہوئے سلام آخر کو حاصل ہوئی وہ کسی اور کلام کے حصے میں نہیں آ سکی۔

سید آل رضا 10 جون، 1896ء کو قصبہ نبوتنی، اناؤ ضلع، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔ ان کا بچپن والد کے ہمراہ مختلف شہروں میں گزرا۔ ان کے والد سید محمد رضا 1928 میں اودھ چیف کورٹ کے اولین پانچ ججوں میں شامل تھے۔
1939ء میں سید آل رضا نے پہلا مرثیہ کہا جس کا عنوان تھا “شہادت سے پہلے” ۔ دوسرا مرثیہ 1942ء میں جس کا عنوان تھا “شہادت کے بعد” ۔ یہ دونوں مرثیے 1944ء میں لکھنؤ سے ایک ساتھ شائع ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد سید آل رضا نے پاکستان کے شہر کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ 1959ء میں ان کا دوسرا مجموعہ غزل معلّیٰ کراچی سے شائع ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے بہت کم غزلیں کہیں اور تمام تر توجہ نوحہ و مرثیہ کے لیے وقف کردی جو رسول اور اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کی محبت کا عکاس ہے ۔ سید آل رضا نے قیام پاکستان کے بعد آنے والے پہلے محرم الحرام میں نور باغ میں اپنا مرثیہ شہادت سے پہلے پڑھا اور اس طرح انہیں پاکستان میں اولین مرثیہ گو ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ انہوں نے کراچی میں مجالس اور عزادری کے فروغ میں نمایا کردار ادا کیا اور 1978 میں کراچی میں ہی آسودہ خاک ہوئے۔

گھبرائے گی زینب ، ایک ہندو شاعر چھنو لال دلگیر کی شہرہ آفاق تصنیف ہے۔
کٹر اکبر حیدر کاشمیری کی کتاب ‘منظومات میاں دلگیر’ مطبوعہ 1970 انڈیا صفحہ آٹھ اور نو پر میاں دلگیر کی تاریخ پیدائش بارے ایک مدلل تحقیق موجود ہے- ان کی تحقیق کے مطابق میاں دلگیر کا سن پیدائش بمطابق ہجری تقویم کے گیارہ سو پچانوے(1195) اور شمسی تقویم کے سترہ سو اسی (1780ء) بنتا ہے جبکہ ان کی وفات پر کسی کو اختلاف نہیں ہے اور وہ شمسی تقویم کے مطابق 1848ء بنتی ہے- گویا میاں دلگیر کی جب وفات ہوئی تو ان کی عمر  (68) سال   تھی

میاں منشی دلگیر جس زمانے کے لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے، وہ زمانہ ریاست اودھ میں   بالخصوص اور لکھنؤ میں بالعموم کمپوزٹ کلچر کے عروج کا زمانہ تھا- نواب شجاع الدولہ جنھوں نے ریاست اودھ کی بنیاد رکھی وہ شیعہ مسلمان تھے لیکن انھوں نے اپنی ریاست میں کسی دوسرے مذہب کے تیوہاروں کے منائے جانے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی تھی- اور یہی روش نواب آصف الدولہ کے زمانے میں بھی رہی اور بعد کے نوابین نے بھی اسی طریق  کار کو اختیار کیے رکھا- بلکہ یہ سب نواب ہند‎ؤ مائتھالوجی سے جڑے تیوہاروں کو بھی تزک و احتشام سے منایا کرتے تھے-

سید ناصر جہاں 1927ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی تعلیم بھی لکھنؤ میں ہی حاصل کی۔ 1950ء میں پاکستان آ گئے اور ریڈیو پاکستان میں ملازمت اختیار کی۔ انہوں نے پہلے پروڈیوسر، پھر پروگرام آرگنائزر اور پھر پروگرام مینجر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ زیڈ اے بخاری کی سرپرستی میں سید ناصر جہاں کی صلاحیتوں کو مزید جلا ملی۔
سید ناصر جہان کی پرسوز آواز اگرچہ ان کے بچپن سے ہی ایامِ محرم میں سوز خوانی اور نوحہ خوانی کی زینت بنی۔ ریڈیو پاکستان پر پہلی مرتبہ 1954ء میں سید آل رضا کی نظم “شام غریباں” کو اپنے خوب صورت لحن میں پیش کیا۔ یہ نظم بعد میں “سلام آخر” کے نام سے معروف ہوئی اور اس کو ملک گیر شہرت حاصل ہوئی ۔ اس کے بعد اگست 1956ء میں جب انہوں نے مجلس شامِ غریباں اور “سلام آخر” کے درمیان چھنو لال دلگیر کا لکھا ہوا مشہور نوحہ “گھبرائے گی” زینب پہلی مرتبہ پڑھا تو اس کے بعد سے یہ نوحہ اور یہ سلام نہ ایامِ محرم میں مجلس شام غریباں کی نشریات کا لازمی جزو بن گیا۔ بعد ازاں پاکستان ٹیلی ویژن پر 1968 میں سب سے پہلے مجلس شام غریباں پیش کی گئی اور یہ سلسلہ 1990 میں سید ناصر جہاں کی وفات تک جاری رہا۔ اس کے بعد بھی کئی سالوں تک ناصر جہاں کی آواز میں ہی ریکارڈ شدہ نوحہ اور سلام آخر پاکستان ٹیلی ویژن پر پیش کیا جاتا رہا۔بیسویں صدی کے آخری برسوں میں سید ناصر جہاں کے فرزند ارجمند سید اسد جہاں نے اپنے والد مرحوم کا خلا پر کیا۔ اور تب سے آج تک پاکستان ٹیلی ویژن اور تقریباً تمام پرائیویٹ ٹی وی چینلز بھی مسلسل اس روایت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔
اس نوحے اور سلام آخر کی باپ بیٹے کی آواز میں مقبولیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج بھی دس محرم کو مجلس شام غریباں کسی بھی پاکستانی چینل پر کوئی بھی ذاکر پیش کرے، نوحہ اور سلام آخر ہمیشہ سید ناصر جہاں یا سید اسد جہاں کی آواز میں ہی نشر کیا جاتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *