• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • شہید کربلا! امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔پروفیسر محمد عمران ملک

شہید کربلا! امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔پروفیسر محمد عمران ملک

واقعہ کربلاکو آج کئی سو سال گزر گئے ہیں مگر یہ ایک ایسا المناک سانحہ تھا کہ پورے ملت اسلامیہ کے دل سے آج بھی محو نہ ہو سکا۔  یہ واقعہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے وابستہ ہے۔ آپ   نبی آخر الزماں ﷺ کے نواسے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ اور فاطمہ زہرہ رضی اللہ عنہا کے لخت جگر تھے۔ اسلامی تاریخ میں یہ  واقعہ  ملتِ اسلامیہ کی دینی، سیاسی اور اجتماعی تاریخ پر سب سے زیادہ اثر انداز ہواہےابوالکلام آزاد مرحوم نے لکھا ہے کہ:
“خلفائے راشدین کے عہد کے بعدجس واقعہ نے اسلام کی دینی، سیاسی اور اجتماعی تاریخ پرسب سے زیادہ اثر ڈالا ہے، وہ ان کی شہادت کا عظیم واقعہ ہے۔ بغیرکسی مبالغہ کے کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے کسی المناک حادثہ پرنسلِ انسانی نے اس قدرآنسونہ بہائے ہوں گے جس قدراس حادثہ پربہائے ہیں۔ تیرہ سوبرس کے اندر تیرہ سومحرم گزر چکے اور ہر محرم اس حادثہ کی یاد تازہ کرتا رہا۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم خونچکاں سے دشت کربلا میں جس قدر خون بہا تھا، اس کے ایک ایک قطرےکے بدلے دنیا اشک ہائے ماتم و الم کا ایک  سیلاب بہا چکی ہے۔”

لیکن کیا یہ واقعہ صرف آنسو بہانے اور گریہ و زاری کے لیے تھا یا اس میں پیغام تھا کہ دنیا کے ہر جابر اور ظالم کے سامنے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسا کردار ادا کیا جائے۔ کیوں کہ انہی حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نانا حضرت محمد ﷺ نے فرمایا تھا کہ :” جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے” یقینی طور پر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی لیے اپنا پورا خاندان کٹوا دیا تھا۔ خاموشی بھی اختیار کی جا سکتی تھی۔ کنارہ کش بھی ہوا جا سکتا تھا ، لیکن جن کی تربیت کائنات کے سب سے بڑے  راہبر نےکی ہو، وہ ایسا کیوں کرتے۔ انہیں ایسا ہی کرنا چاہیے تھا جیسا انہوں نے کیا۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت مبارکہ 5  شعبان 04   ہجری کو مدینہ طیبہ میں ہوئی۔ سرکار اقدس ﷺ نے آپ کے کان میں اذان دی ، منہ میں لعابِ دہن ڈالا اور آپ کے لئے دعافرمائی پھر ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا اور عقیقہ کیا۔  حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد اللہ ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” حضرت ہارون علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کا نام شبیر و شبر رکھا اور میں نے اپنے بیٹوں کا انہی  کےنام پر حسن اور حسین رکھا”۔  اس لئے حسنین کریمین کو شبیر اور شبر کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ  ایک کندھے پر حضرت حسن کو اور دوسرے کندھے پر حضرت حسین کو اُٹھائے ہوئے تھے یہاں تک کہ ہمارے قریب تشریف لے آئے اور فرمایا  :”یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں “۔

سید الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیدائش کے ساتھ ہی آپ کی شہادت بھی شہرتِ عام ہو گئی۔ حضرت علی ، حضرت فاطمہ زہرا، اور دیگر صحابہ ِ کبار و اہلِ بیت کے جان نثار رضی اللہ عنہما سبھی لوگ آپ کے زمانہِ شیر خوارگی ہی میں جان گئے کہ یہ فرزند ارجمند ظلم و ستم کے ہاتھوں شہید کیا جائے گا اور ان کا خون نہایت بے دردی کے ساتھ زمین کربلا میں بہایا جائے گا۔ جیسا کہ ان احادیث کریمہ سے ثابت ہے جو آپ کی شہادت کے بارے میں وارد ہیں ۔حضرت ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا یعنی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک روز حضورﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضر ہو کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ کی گود میں دیا پھر میں کیا دیکھتی ہوں کہ حضور ﷺ کی مبارک آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے ہیں ۔  میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ کیا حال ہے ؟  فرمایا میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے یہ خبر پہنچائی کہ” میری امت میرے اس فرزند کو شہید کرے گی “حضرت اُم الفضل فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ! کیا اس فرزند کو شہید کرے گی! حضور ﷺ نے فرمایا “ہاں “ابن سعد اور طبرانی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا آپ ﷺ نے فرمایا میرا بیٹا میرے بعد قتل کیا جائے گا” ۔ آپ کی فضیلت کے لئے یہ ہی کافی ہے  کہ امام الانبیا حضور ﷺ نے انہیں اسی دنیا میں نہ صرف جنَّتی ہونے  کی بشارت دی بلکہ نوجوان جنَّتیوں کا سردار قرار دیا۔

امام حسین رضی اللہ عنہ کی نسبت سے معرکہ حق و باطل جو کربلا میں رونما ہوا اس نے ساری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کیا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد  56  ہجری میں یزید ولی عہد مقرر ہوا  اس کے خلیفہ بنتے خلافت ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ افضل الجہاد کی نظیر پیش کرتے ہوئے کہ ظالم و جابر کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے اسکی عملی تصویر بن کر امام حسین رضی اللہ عنہ دین اسلام کی سر بلندی کی خاطر اُٹ

ھ کھڑے ہوئے کہ دین حق دین اسلام اس طریقہ کا داعی نہیں یہ اسلامی روح کے خلاف ہے اور یہ پیغام دیا کہ مومن حکومت و سلطنت ظلم و جبر اور طاقت و قوت کے آگے ہتھیار نہیں ڈال سکتا ہے اور یزیدگی امارت و بیعت کا انکار کرتے ہوئے اس کی اطاعت قبول نہ فرمائی اس کی بیعت کو ٹھکرا دیا۔

آپ پر یزیدی لشکر کے خطرناک عزائم کا انکشاف ہوا تو حُرمت کعبہ کی خاطر وہاں سے نکلنے کا ارادہ کیا، اسی درمیان کوفیوں کے ہزاروں عقیدت بھرے خطوط ملے مگر آپ ان پر کیسے بھروسہ کرتے چونکہ ان ہی لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی شہید کیاتھا۔ اس لئے تحقیق کی خاطر اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو وہاں بھیجا انکے ہاتھ پر اٹھارہ ہزار یا ستائیس ہزار لوگوں نے  بیعت کی ۔اس کو دیکھ کر حضرت مسلم نے حضرت امام حسین کو آنے کے لئے خط لکھ دیا۔ تو آپ کوفہ کے لئے عازمِ سفر ہوئے تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابہ و حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ودیگر صحابہ  نے آپ کو کوفہ جانے سے منع فرمایا لیکن  آپ نے دین حق کی خاطر جان کی قربانی کیلئے بھی ذرا سی لرزش نہ دکھائی، یزید کے گورنر عبید اللہ بن زیاد نے حضرت مسلم بن عقیل کیلئے زمین تنگ کر دی اور انہیں بے دردی سے شہید کر دیا۔ یہ خبر امام حسین رضی اللہ عنہ کو ملی یہ ایک اندوہناک خبر تھی آپ کو زبردست صدمہ پہنچا واپسی پر نظر ثانی  بھی کی جاسکتی تھی۔ مگر حضرت مسلم ان کے عزیز و اقارب  جو وہاں موجود تھے انہیں یہ گوارا نہیں تھا۔ اس لئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی واپسی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

یہاں یہ بات قابل ِذکر ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے خود ہی اپنے قافلے کے لوگوں کو یہ اجازت  دے دی تھی کہ جسے واپس جانا ہے وہ چلا جائے۔ یہ سن کر صرف دو حضرات چھوڑ کر چلے گئے۔ ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ حُربن یزید نے ایک لشکر جرار کے ساتھ آپ  کو محصور کر لیا  تاکہ والی عراق عبداللہ بن زیاد کے سامنے پیش کیا جائے۔  اسی دوران نماز ظہر کا وقت ہو گیا ۔ آپ نے نماز ادا فرمائی بعد نماز حضرت اما م حسین رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ کے ذریعہ حُر اور اس کے ساتھیوں کے سامنے پوری بات رکھی۔ خطوط اور قاصدوں کا حوالہ دیا۔ حُر حیران ضرور ہوا مگر اس نے خطوط کے متعلق لا علمی ظاہر کی اور اس نے آپ کے قافلے کو روک لیا۔  یہاں بھی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ دیا جو تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ “اے لوگو ! رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی بھی ایسے حاکم کو دیکھے کہ ظلم کرتا ہے ۔ خدا کی حدود کو توڑتا ہے۔ سنتِ نبوی کی مخالفت کرتاہے اور سر کشی سے حکومت کرتا ہے اور اسے دیکھنے پر بھی کوئی مخالفت نہیں کرتا ہے اور نہ اسے روکتا ہے تو ایسے آدمی کا اچھا ٹھکانہ نہیں ہے۔دیکھو ! یہ لوگ شیطان کے پیرو کار ہیں ۔ رحمٰن سے بے سروکار ہیں حدود الٰہی معطل ہے۔ حرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہرایاجارہا ہے۔ میں ان کی سر کشی کو حق اور عدل سے  بدل دینا چاہتا ہوں اور اس کے لئے میں سب سے زیادہ حقدار بھی ہوں ۔ اگر تم اپنی بیعت پر قائم رہو تو تمہارے لئے ہدایت ہے ورنہ عہد شکنی عظیم گناہ ہے۔ میں حسین ہوں ۔۔ ابن علی، ابن فاطمہ، اور رسول اللہ ﷺ کا جگر گوشہ مجھے اپنا قائد بنا لو اور مجھ سے منہ نہ موڑو، میرا راستہ نہ چھوڑو، یہ صراطِ مستقیم کا راستہ ہے اس حقیقت افروز خطبہ کا لوگوں پر کافی اثر ہوا لیکن لالچ اور خوف کی و  جہ سے چپ رہے۔  ۹ محرم الحرام رات کاوقت تھا ،آپ رات بھر عبادت میں مشغول رہے صبح دس محرم کی تاریخ آگئی دونوں اطراف میں صف آرائی ہو رہی تھی ۔ فجرکی نماز کے بعد عمرو بن سعد اپنی فوج لے کر نکلا، ادھر امام حسین رضی اللہ عنہ بھی اپنے احباب کے ساتھ تیار تھے۔  آپ کے ساتھ 72 نفوس قدسیہ جس میں بچے بوڑھے خواتین بھی شامل تھیں دوسری جانب 90 ہزار کا لشکر جرار تمام حرب و ہتھیار سے لیس تھے۔  آپ نے جس جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔  امام حسین رضی اللہ عنہ جس طرف رخ کرتے یزیدی فوج بھیڑیوں کی مانند بھاگ کھڑی ہوتی۔ معاملہ بہت طویل ہوگیا۔ معصوم اورشیر خوار بچے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے لگے، خیمے جلا دیئے گئے، بھوکے پیاسے نواسہ رسول ﷺ میدان کربلا میں صبر کا پہاڑ بن کر جمے رہے، یزیدی دور سے تیر برساتے رہے اور پھر ایک مرحلہ آیا کہ بدبخت شمر ذی الجوشن جب قریب آیا ، ادھر امام حسین رضی اللہ عنہ سجدہ میں گئے اورشمر کی تلوار نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی گردن مبارک کو تن سے جدا کر دیا وہ یومِ عاشورہ جمعہ کا دن تھا ماہِ محرم الحرام  61  ؁ ھ میں یہ واقعہ پیش آیا۔ اس وقت امام حسین کی عمر 55 سال کے قریب تھی۔

سید الشہدا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت ہمیں کئی پیغام دیتی ہے اول یہ کہ اہل ایمان اپنے خون کے آخری قطرے تک حق وصداقت پر جمے رہیں باطل کی قوت سے مرعوب نہ ہوں۔  دوسری بات یہ کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی جن خرابیوں کے باعث مخالفت کی ویسے ہی لوگوں سےآج بھی اپنے آپ کو الگ کریں اور فسق و فجور والا کام نہ کریں اور نہ ویسے لوگوں کا ساتھ دیں نیز یہ بھی پیغام ملا کہ ظاہری قوت کے آگے بسا اوقات نیک لوگ ظاہری طور پر مات کھا جاتے ہیں مگر جو حق ہے وہ سچائی ہے وہ کبھی ماند نہیں پڑتی، مات نہیں کھاتی اور وہ ایک نہ ایک دن ضرور رنگ لاتی ہے۔

یہی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلام کا سرمایہ حیات یزیدیت نہیں بلکہ حسینیت ہے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ شہادت امتِ مسلمہ کے لئے کئی پہلو سے عملی نمونہ ہے، جس پر انسان عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کو اسلامی طرز پر قائم رکھے اسلامی زندگی اسلامی رنگ و روپ کی بحالی کیلئے صداقت حقانیت جہد مسلسل اور عمل پیہم میں حسینی کردار اور حسینی جذبہ ایثار و قربانی سے سرشار ہو۔  اقتدار کی طاقت جان تو لے سکتی ہے ایمان نہیں ۔ اگر ایمانی طاقت کارفرما ہو تو اسکے عزم و استقلال کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا۔  لندن کے مشہور مفکر ’’ لارڈ ہیڈلے ‘‘ کے بقول ’’ اگر حسین رضی اللہ تعالی ٰ عنہ میں سچا اسلامی جذبہ کارفرما نہ ہوتا تو وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں رحم و کرم، صبر و استقلال اور ہمت و جوانمردی ہرگز عمل میں آ ہی نہیں سکتی تھی جوآج صفحہ ہستی پر ثبت ہے۔‘‘

پروفیسر محمد عمران ملک
پروفیسر محمد عمران ملک
پروفیسر محمد عمران ملک وزیٹنگ فیکلٹی ممبر پنجاب یونیورسٹی لاہور فیکلٹی ممبر رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی لاہور پی ایچ ڈی اسکالر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *