مکالمہ اور آزادی اظہار رائے۔۔مدثر محمود

مکالمہ اور آزادی اظہار رائے،  تہذیب یافتہ قوموں کا خاصہ اور معاشرے میں برداشت اور ترقی پسند سوچ کے رجحان کا ثبوت ہے-  آزادی اظہار رائے،کسی مذہب اور  نظریے کی طاقت اور فرار کمزوری ہے،نظریے کی کمزوری کو جبر کے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے چھپایا جاتا ہے- جبر کے ہتھکنڈوں میں سے سب سے بڑا ہتھکنڈہ  اختلاف رائے کرنے والے کو کافر یا غدّار قرار دینا ہوتا ہے- تاریخ گواہ ہے جن افراد کی آزادی اظہار رائے  سلب کر کے ان کو کافر اور وطن فروش کہاگیا  انہی کی تعلیمات نے تاریخ کا رخ بدلا۔  اظہار رائےاور مکالمہ اصلاحی عمل ہے جس سے  انحراف فرد اور ریاست کو تاریخ اور حال میں رسوا کر تا ہے- نوجوان نسل معاشرے میں قائم جمود کو توڑ کر خیالات کو تازگی و جدت بخشتی ہے لیکن اگر تعلیم یافتہ نسل ہی  اظہار رائے کرنے والوں، بات کرنے والوں کو سننے کا حوصلہ نہیں رکھتی گالیاں نکالتی ہے تو سمجھ لیجیے کہ ایسے معاشرے کو تاریخ کا کوڑا دان بننے سے کوئی نہیں بچا سکتا،خیالات کی تازگی، گفتگو اور مکالمے کی چھاننی سے گزر کر ہی آتی ہے۔آزادی اظہار رائے پر سب سے بڑی تنقید یہ ہوتی ہے کہ آزادی اظہار کی کوئی حد نہیں,پہلی بات یہ کہاظہار رائے کی آزادی کا مطلب علمی گفتگو کرنا ہوتا ہے نہ کہ بھونڈا  انداز لیکن دوسری طرف ,کسی کی گفتگو  میں غیر شائستگی اور توہین کا فیصلہ یا تشریح افراد یا گروہ نہیں کرتے  بلکہ ملک کے قانون نے کرنی ہوتی ہے ۔مکالمہ اور آزادی اظہار رائے اس لیے بھی ضروری ہے کیوں کہ  یہ ہمارے اندر چھپے جذبات کی الفاظ کے ذریعے نکاسی کرتا ہے ۔
جذبات کا بہاؤ گفتگو یا اظہار رائے کی  صورت میں ہونا  فطری عمل ہے، سماجی حدودو قیود انہیں وقتی طور پر دباتے تو ہیں- لیکن  یہ جذبات زبان نہ ملنے کی وجہ سے آتش فشاں کی مانند اندر ہی اندر ابلتے رہتے ہیں جو موقع پا کر اتنی ہی شدت سے پھوٹ بھی پڑتے ہیں- اظہار رائے پر پابندی سے  بظاہر پُر سکون رویہ مایوسی سے  شدت پسندی اور شدت پسندی سے  وحشی پن میں تبدیل ہو جاتا ہے اور ہم نے دیکھا ہے کہ گھروں میں جس کو سنا نہ جائے مرضی مسلط کی جائے وہاں باغیانہ رویے پنپتے ہیں جو خونی رشتوں کے سفید ہونے یا بعض اوقات اپنی ہی خود کشی پر  ختم ہوتے ہیں اور جہاں سنا جائے، آزادی دی جائے ،وہاں  رشتےاستوار ہو جاتے ہیں۔ ملکی سطح پر ایسے علاقے جہاں لوگوں کی اظہار رائے کو نہ سنا جائے وہاں پر ریاست کے خلاف نفرت پلتی ہے جو ریاست کے خلاف بغاوت پر اختتام پذیر ہوتی ہے جیسے سقوط ڈھاکہ کا دلخراش واقعہ،موجودہ حالات کے تناظر میں ریاست کے بڑے صوبے کے بیانیے کا مقبولیت اور حب الوطنی کی سند حاصل کرنا  چھوٹے صوبوں کی رائے کی توہین اور ان کو ریاست سے  باغی کر رہا ہے ۔پابندی کا عمل نیوٹن کے مطابق رد عمل کا ضرور سامنا کرتا ہے ،بظاہر ہمیں سب اچھا لگتا ہے لیکن کہیں نہ کہیں گھٹن ہوا چاہتی ہے ۔۔مثلاً  جنس کے موضوع پر اظہار خیال کرنا، بات کرنا  اتنا معیوب اور غیر اخلاقی بنا دیا گیا ہے کہ بقول منٹو مرد کے لیے عورت کا وجود اور عورت کے لیے مرد کا وجود ہی فحش بنا دیا گیا ہے۔عام مشاہدہ میں ہے ،کسی مولوی  سے لے
کر جنسی بے راہ رو شخص تک  اور پردہ نشین سے آزاد خیال عورت تک اگر اسے اعتماد دلا دیا جائے تو اتنی شدت اور روانی سے جنسی گفتگو کرنے لگتے ہیں جیسے گونگے کو اچانک زبان ملے اور بنگال کے فاقہ کش کو طعام ملے۔یہ سب اس لیے کہ پابندی نے تجسس کوبڑھاوا دیا تو لوگ اپنے سماجی مقام کو بھول کر ایک زبان ہی بولنے لگ گئے-
خدارا انسان کو بولنے دیجیے انسان کو انسان نطق نے بنایا ہے، اسے خاموش نہ کروائیے اسے حیوان نہ بنائیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *