اے پی ایس ہم شرمندہ ہیں

مذاہب عالم کی تعلیمات پر طائرانہ نظر ڈالتے ہی ایک بات جو تمام مذاہب میں مشترک نظر آتی ہے وہ مذاہب کی پر امن تعلیمات ۔ رائج الوقت دنیا کے بڑے زندہ مذاہب میں سے خواہ وہ سب سے قدیم مذہب ہندو مت ہو بدھ مت ہو جین مت ہو ،یہودیت ہو عیسائیت ہو اسلام ہو یا سکھ ازم ہو۔ ان کی اساس امن ومحبت اور شفقت کی تعلیم سے عبارت رہی ہے ۔بعد میں آنے والوں نے ان تعلیمات کو کس طرح بگاڑ کر تشدد کی روش اپنا لی ۔سردست یہ موضوع بحث نہیں ہے تمام بڑے مذاہب نے احترام انسانیت ہی سکھائی ہے ۔ مثلاًموجودہ بڑے مذاہب میں سے ہندو مت ہے جس کے بنیادی عقائد میں سے پہلا عقیدہ ہی مخلوق پر ستی ہے ۔اس کے بعد تناسخ کا عقیدہ ہے جس کے تحت کسی بھی گناہ کرنے والی روح کو تب تک مکتی یعنی نجات حاصل نہیں ہوتی جب تک وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے مختلف اشکال میں جانوروں کی، حتی کہ کیڑے مکوڑوں کی صورت میں بار بار جنم لے کر اپنے گناہوں کا پراشچت نہ کر لے۔
اس عقیدے کے مطابق ہر عمل چھوٹا بڑا، اچھا برُا انسانی روح پر اثر انداز ہوتا ہے اور انسان اپنے عمل (کرم) کے لحاظ سے سزا اور جزا کے عمل کا مستحق ہوتا ہے۔ یعنی کرم کے مطابق اچھا یا برُا جنم لیتا ہے۔حاصل کلام یہ کہ نجات تب تک نا ممکن ہے جب تک وہ اچھے اعمال کی بدولت اپنے گناہوں سے پاک نہ ہو جائے ۔لیکن نجات ہے کیا اور آخر کب حاصل ہو گی اس بارے میں ہندو مت خاموش ہے۔ سردست ہمارا موضوع بحث نجات نہیں بلکہ تعلیم ہے اور اس میں یہ بات عیاں ہے کہ اچھے اعمال ہی نجات کا باعث بنتے ہیں ھندو مت کے بعد ایک اور قدیم مذہب بدھ مت ہے ۔ بدھ مت کے بانی گوتم بدھا نے اپنی پر امن تعلیمات کی بدولت جلد ہی مقبولیت حاصل کی گو کہ یہ دنیا میں پھل پھول نہ سکا لیکن پھر بھی دنیا کے چند بڑے مذاہب میں بدھ مت کا شمار ہوتاہے ۔
بدھ مت کے بانی گوتم بدھا نے والدین، اولاد، استاد و شاگرد، خادم و آقا اور شوہر و بیوی کے فرائض، حقوق اور ذمہ داریاں بتائیں ہیں۔ انہوں نے والدین کو حکم دیا ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ دیں اور انہیں برائی سے بچائیں، نیز ان کے لئے ترکے کی شکل میں معاش مہیا کریں۔ اولاد کو حکم دیا کہ وہ والدین کی اطاعت اور احترام کریں۔ اس طرح دوسرے لوگوں کو شفقت، محبت، ہمدردی، احترام، وفاداری، ہنرمندی، مساوات، حسن سلوک، ادب اور تعظیم کی ہدایت کی ہے۔
گوتم بدھ نے اس وقت کے لحاظ سے تمام فطری مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش کی اپنی اس کوشش میں کس حد تک وہ کامیاب رہے یہ بھی ہمارا موضوع بحث نہیں لیکن بنیادی تعلیم وہی ہے جس کی تان پیار محنت امن رواداری پاور حسن خلق پر ٹوٹتی ہے ۔
بدھ مت اور جین میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے جین مت کے بانی وردھمان مہاویر تھے جن کا اصلی نام وردھمان اور مہاویر لوگوں سے دیا گیا لقب۔ مہاویر یعنی (مہا=عظیم، ویر=سورما) عظیم سورما کے نام سے جانا جاتاہے۔ جین مت کے پیروکار انہیں ایک دیوتا مانتے ہیں۔انہوں نے پانچ اصول وضع کیے جنہیں پنج شیل کا نام دیا
شیل (شیل=نیک) کے پانچ اصول درج ذیل ہیں
ستیہ = سچائی، صداقت
اہمسا = عدم تشدد،
آستییہ = چوری نہ کرنا، یا پرہیزگاری کے بھی معنی لی جا سکتی ہے۔
برہم چریہ = رحبانیت، مجرد، سنیاس زندگی
اپری گرہ = جتنی ضرورت ہے اتنا ہی رکھو (قناعت پسندی)
ان پانچ اصولوں کے علاوہ انہوں نے، موکش یا نِروانا (مغفرت)، کشاما (معاف کردینا)، جیسے اُصولوں کو بھی اپنی تعلیمات میں شامل کرلیا۔ان کی تعلیمات معاف کر دینے اور ہمہ وقت نیکی پر کار بند رہنے کی تلقین کرتی ہیں۔نیز جین مت ذات پات کی بھی سختی سے تردید کرتی ہے۔
اس امن پسندانہ تعلیم اور ہندو مت میں پائی جانے والی ذات پات کی سختی سے نفی کرنے کا نتیجہ تھا کہ کڑ اور متشدد ھندوؤں سے بیزار لوگ بکثرت ان تعلیمات سے متاثر ہوئے اور جین مت اپنا لیا ۔
دنیا پر ان مٹ نقوش مرتب کرنے والے دیگرمذاہب میں سے ایک مذہب یہودیت بھی ہے حضرت موسی علیہ اسلام جو اس مذہب کے بانی سمجھے جاتے ہیں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی امت کے لیے دس احکامات دیے جن میں سے پر امن تعلیم کے آئینہ دار 6 احکام درج ذیل ہیں۔
1: تواپنے باپ اور ماں کی عزت کرنا تاکہ تیری عمر اُس ملک میں جو خداوند تیرا خدا تجھے دیتا ہے، دراز ہو۔ (خروج 20:12)
2: تُو خون نہ کرنا۔ (خروج 20:13)
3: تُو زِنا نہ کرنا۔ (خروج 20:14)
4: تُو چوری نہ کرنا۔ (خروج 20:15)
5: تُو اپنے پڑوسی کے خلاف جھوٹی گواہی نہ دینا۔ (خروج 20:16)
6: تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا۔ تُو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اُس کے غلام یا اُس کی کنیز کا، نہ اُس کے بیل یا گدھے کا، اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا۔ (خروج 20:17)
ان میں روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کس قدر تاکید کے ساتھ امن اور رواداری کی تعلیم دی گئی ہے۔
پھر موجودہ زندہ مذاہب میں سے عیسائیت ہے جس کے بانی حضرت عیسی علیہ السلام مسلمانوں اور عیسائیوں میں مشترک طور پر قابل احترام بزرگ ہستی اور خدا تعالیٰ کے فرستادہ مانے جاتے ہیں ۔ اپنے دور تبلیغ میں انہوں ایک مشہور وعظ کیا جو پہاڑی وعظ کے نام سے مشہو ہے جو آپ علیہ السلام کی تعلیمات کا نچوڑ ہے جس میں آپ کے کلام کا مرکزی خیال خدمت، پاکدامنی، معافی، ایمان، "اپنی گال پھیرنا"،( یعنی اگر کو ئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی تھپڑ مانے والے کے آگے کر دے) دشمنوں سے محبت رکھنا اور حلیمی ہوناتھا۔ شریعت کے مخض دکھاوے کے لئے نفاذ کے آپ سخت مخالف تھے۔عیسائیت کی تعلیمات کس قدر امن پیار محبت اور نرمی کی تعلیم سے پر تھیں لوقا کے درج ذیل حوالوں سے عیاں ہیں۔
27: لیکن تم کو جو سن رہے ہو مَیں یہ بتاتا ہوں، اپنے دشمنوں سے محبت رکھو، اور اُن سے بھلائی کرو جو تم سے نفرت کرتے ہیں۔
28: جو تم پر لعنت کرتے ہیں اُنہیں برکت دو، اور جو تم سے بُرا سلوک کرتے ہیں اُن کے لئے دعا کرو۔
29: اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو اُسے دوسرا گال بھی پیش کر دو۔ اِسی طرح اگر کوئی تمہاری چادر چھین لے تو اُسے قمیص لینے سے بھی نہ روکو۔
30: جو بھی تم سے کچھ مانگتا ہے اُسے دو۔ اور جس نے تم سے کچھ لیا ہے اُس سے اُسے واپس دینے کا تقاضا نہ کرو۔
31: لوگوں کے ساتھ ویسا سلوک کرو جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ کریں۔
32: اگر تم صرف اُن ہی سے محبت کرو جو تم سے کرتے ہیں تو اِس میں تمہاری کیا خاص مہربانی ہو گی؟ گناہ گار بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔
33: اور اگر تم صرف اُن ہی سے بھلائی کرو جو تم سے بھلائی کرتے ہیں تو اِس میں تمہاری کیا خاص مہربانی ہو گی؟ گناہ گار بھی ایسا ہی کرتے ہیں۔
نہایت واضح صلح جو تعلیمات ہیں جن پر کسی قسم کا تبصرہ شاید حق ادا نہ کر سکے۔
اسی طرح سکھ مت جو ھندو ازم کی ہی جدید شکل ہے کی بنیادی تعلیم ہے کہ ایک ایماندارانہ زندگی گزارنا، ظلم سے باز رہنا اور نیک لوگوں کی عزت کرنا، علی ھذالقیاس۔

Advertisements
merkit.pk

اگر آپ ھندو ہیں تو آپ کے بنیادی عقیدہ کے مطابق جب مخلوق سے ہمدردی کے نتیجہ میں اپنے گناہ نہ بخشوالیں نجات نہیں پا سکتے ،
اگر آپ بدھ ہیں تو مساوات و ہمدردئی خلق آپ کی بنیا دی تعلیم ہے، اگر آپ عیسائی ہیں تو جب آپ دشمن سےبھی محبت نہ رکھیں آپ کا ایمان مکمل نہیں ہو تا ، اگر آپ سکھ ہیں تو ظلم سے باز رہنا آپ کی بنیادی تعلیم ہے ، اگر آپ یہودی ہیں تو آپ کو خون نہ کرنے جھوٹی گواہی نہ دینے کی تاکید ہے، اور اگر آپ مسلمان ہیں تو یاد رکھیں تب تک آپ مسلمان نہیں جب تک آپ کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ نہیں ۔
لیکن دورجدید میں اسلام جیسے مذھب کو جس کا نام ہی امن و سلامتی والا مذھب ہے ایک ظالم غاصب اور دھشت گرد مذہب کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تلواروں سے سر تو جدا کیے جا سکتے ہیں لیکن دلوں میں عقائد کو راسخ کیا جا سکتا ہے نہ ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
دلوں میں راسخ کرنے کے لیے اپنے عقائد کی مؤثر تبلیغ کس طرح کی جاتی ہے، کسی کو راہ راست پر لانے کے لیےپہلے خود کو صراط مستقیم پر ڈالنا ہوگا ، اس کا عملی نمونہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دکھا یا ۔
اپنے آپ کو سراپا رحمت بنا لیا کہ اشد ترین مخالف بھی آپ ﷺ کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے ،چناچہ جب مائیکل ایچ ہارٹ دنیا کی سو متاثر کن شخصیات کی فہرست مرتب کرنے بیٹھتا ہے تو عقیدہ کے تمام تر اختلاف کو ایک طرف رکھ کر میرے آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کو پہلے نمبر پر رکھتے ہوئے لکھتا ہے ۔ (حضرت) محمد ﷺ نے عاجزانہ طور پر اپنی مساعی کا آغاز کیا اور دنیا کےعظیم مذاہب میں سے ایک مذہب کی بنیاد رکھی اور اسے پھیلایا۔آج تیرہ سو سال گزرنے کے باوجود ان کے اثرات انسانوں پر ہنوز مسلم اور گہرے ہیں۔ (سو عظیم آدمی صفحہ 25)
" لا إِکْراهَ فِی الدِّینِ دین میں کوئی جبر نہیں " (البقرہ آیت 256) کہ کر جہاں اسلام نے ہر طرح کے جبر و اکراہ کی نفی کر دی وہیں شارع اسلام نے ایک مسلمان کی تعریف ہی ان الفاظ میں کی کہ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ (بخاری)
کہ (حقیقی) مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں۔
چناچہ آپ خواہ کسی بھی مذہب کے پیرو کار ہوں کسی بھی عقیدہ سے تعلق کیوں نہ رکھتے ہوں اگر کسی مقام پر آپ اپنے عقیدہ کے دفاع یا تبلیغ میں مکالمہ کو چھوڑ کر متشددانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں تو آپ اپنے عقیدہ کی اساس سے انحراف کر رہے ہیں۔ تو جان لیں کہ آپ غلطی پر ہیں اس میں آپ کے عقیدہ کا قصور نہیں بلکہ آپ اپنے عمل سے ثابت کر رہے ہیں کہ جو عقیدہ آپ نے اپنا رکھا وہ ابھی آپ میں راسخ نہیں ہو ا ۔راسخ العقیدہ شخص کبھی بھی تشدد کا راستہ نہیں اپناتا اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہتے ہیں۔اپنے عقیدہ کے نفاذ کے لیے کسی کی جان لے لینے کی کوئی بھی مذہب تعلیم نہیں دیتا ، ہر مذہب مکالمہ کی راہ اپنا نے کی تلقین کر تا ہے ، تشدد چھوڑیں ، آئیں مکالمہ کریں ۔

tripako tours pakistan
  • merkit.pk
  • merkit.pk

مدثر ظفر
فلیش فکشن رائٹر ، بلاگر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply