کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط13

مؤقر ادبی جریدے ”سویرا“کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معینہ تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مزکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں
بارہویں قسط کا آخری حصہ
ائیرپورٹ سے باہر آن کر پھوپھی کی نگاہوں میں مجھے دیکھتے وقت ناپ تول کا اعشاری نظام بھی میری سمجھ  میں نہ آیا۔شوکی کا اجتناب بھی ذرا انہونا ہی لگا۔پہلے تو جب کبھی بھی ملتا آپی آپی کہہ کر گلے لگ جاتا تھا۔اب رسماً ہاتھ ملا کر ،ایک مفاہمت بھری بے اعتنائی سے کار میں سامان رکھوانے میں لگ گیا۔میں بھی دیکھنے میں لگ گئی کہ ارسلان کو لینے کون آیا ہے۔ایک مرد تھا ۔اس کے ساتھ ایک عبایا اورحجاب والی عورت،قدرے جواں بدن اور رسماتی،ملائی والے گلاب جامن جیسی، مرد کی محبوبہ،بدن عبایا سے بغاوت پر آمادہ۔ مگر اس کے  لباس اور ہچکچاہٹ سے یہ باور کرنا مشکل تھا کہ یہ اوشا ہوگی۔مجھے لگا کہ شاید دفتر کی کوئی اور عورت یا کوئی سیکرٹری قسم کی ماتحت ہوگی۔

فئیونا جیسی

گڈو میاں جم کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے اور ائیر پورٹ سے باہر رواں دواں، بھاگتے بھوت جیسی عجلت پسند ٹرانسپورٹ کے جلو میں کھسک لیے۔پھوپھو کی مرضی تھی کہ ہم سیدھے شوکی کی گاڑی میں سوار ان کے گھر لاہور چلیں۔ ایک دو دن میں ان کے پاس ٹھہروں،کچھ زیور وغیرہ دیکھ لوں، شاپنگ ہوجائے ۔یہاں وہ انکل حامد خواجہ کے گھر ابو کے ساتھ ٹھہری تھیں۔

تیرھویں قسط
انکل حامد کا ڈیفنس سپلائز اور تعمیرات کا بڑا کام ہے۔ابونے بتایا کہ انہیں کسی کمیونسٹ ملک کی سفارت کار فئیونا سے عشق ہوگیا تھا۔ہماری ایجنسیوں والے کہتے تھے حسینہ چالباز کو پٹو ڈال کر رکھو۔ اس سے راز لو۔حسینہ کے ملک والے بھی شاید ہمارے طرف جیسے ہی عزائم رکھتے ہوں گے۔حامد انکل کی فوجی حلقوں میں بہت رسائی تھی۔ابو کہتے ہیں دیکھنے میں تو فیونا کوئی بہت زیادہ حسین نہیں تھی مگر ذہانت بلا کی اور مزاج بہت شانت تھا۔جانے کیا غلطی کربیٹھی کہ راتوں رات اس کے ملک والوں نے واپس بلالیا۔حامد انکل نے وہاں جاکر اس سے ملنے کی بہت کوشش کی مگر ویزہ نہ ملا۔دل ٹوٹ گیا تو شادی نہیں کی۔پیسہ بہت کمایا۔جنرل ضیا کا مارشل والا دور ابو اور انکل حامد خواجہ کے لیے اکبر اعظم کا سنہری دور تھا۔

حامد انکل تو امریکہ تھے مگر ان کی گاڑی اور گھر ہماری تحویل میں۔۔ میرا دل چاہا کہ ابو امی مجھے کچھ دن یہاں چھوڑ کر واپس کہروڑ پکا چلے جائیں۔میں اس شہر کی ہواؤں میں سانس لینا چاہتی تھی۔ یہاں میرا ارسلان رہتا ہے۔اس تعلق کے حوالے سے کچھ دور رس فیصلے کرنا چاہتی تھی۔اپنی شادی کا  باب بھی طلاق کا قفل لگا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے  یہیں بند کرنا چاہتی تھی۔آؤٹ آف کورٹ۔میرے سامان اور زیور میں سعید کو اگر کسی شے کی ضرورت تھی تو رکھ لے، اپنا دیا کچھ واپس درکار ہے تو وہ بھی لے لے۔میری جان چھوڑے۔مجھے میرا ارسلان مل گیا ہے۔میرے ابو بوڑھے ہوگئے ہیں۔میں اب ان کا سہارا بننا چاہتی ہوں۔

طاہرہ آنٹی نے شہلا پھو پھو جب اپنے کمرے میں چلی گئیں اور ابو ذرا ادھر اُدھر ہوئے تو تین دھماکے ایک ساتھ کیے۔ پہلا تو یہ کہ ابو کی طبیعت خراب رہتی ہے۔ دکھائی دے رہا تھا کہ وزن بھی بڑھ گیا تھا۔حلیے مہرے سے بھی ایسے ہوگئے تھے جیسے کہ اکبری منڈی کا کوئی دکاندار۔ ریٹائرڈ کرنل ظہیر تو لگتے ہی نہ تھے۔ افسری کے دنوں میں تو بہت dapper (چھیل چھبیلے) لگتے تھے۔ پہلا دھماکہ تو یہ تھا کہ انہیں دل کا عارضہ بھی لاحق ہوچلا تھا، دو عددstent بھی دل کی شریانوں میں ڈال دیے گئے تھے ۔کچھ دن ہسپتال میں بھی رہے تھے۔ یہ سب مجھے برمنگھم میں نہیں بتایا گیا۔ تین سال کے بعد کی ملاقات میں بھی وہ مجھے پہلی ہی نظر میں چپ چپ سے،بے لطف و بے کرم لگے۔کسی درجہ لاتعلق بھی ۔میں چونکہ گڈو کے اقرار و بوسوں کی لطافت سے, اس کی شرارت اور وعدوں کی لذت سے شرابور و سرشار تھی لہذا اس بے کیفی اور دور افتادگی پر زیادہ دھیان نہ دیا۔یوں بھی میرے ابو بہت کم گو، روایتی،قدامت پسندسے مرد ہیں۔خواتین سے جسمانی تعلق تو ان کے لیے قابل قبول ہوتا ہے مگر ان کے معاملات میں وہ جذبات کے اظہار سے اجتناب کرتے ہیں۔

برطانیہ میں مجھے کئی دفعہ خیال آیا کہ باپ اگر دوسری شادی کرلے تو اس کی توجہ اس نئی Trophy Wife کی وجہ سے پرانی مرحومہ یامطلقہ بیوی کے بچوں پر سے کم ہوجاتی ہے۔اولاد کے مسائل کی تفہیم و ادراک بھی سمجھوتوں کی نظر ہوجاتا ہے۔وہ جو اولاد کو قدم قدم پر والدین کی جذباتی امداد درکار ہوتی ہے وہ بھی دستیاب نہیں رہتی۔وہ ایک دور افتادہ خاندانی سربراہ تو ہوتا ہے مگر چھپر چھاؤں جیسا جذباتی سہارا فراہم نہیں کرپاتا۔
میری سعید سے شادی بھی اب مجھے ایسا لگتا تھا ایک پلاننگ کا حصہ تھی۔ آنٹی طاہرہ کی جانب سے۔

دوسرا دھماکہ یہ تھا کہ۔۔طاہرہ آنٹی حاملہ ہیں۔ یہ ان کا First Trimester ہے۔(تین ماہ کا دورانیہ)تیسرا دھماکہ یہ کہ شہلا پھوپھو نے ابو کی  ناک میں دم کر رکھا ہے کہ وہ شوکی کے لیے مجھے بہو بنانا چاہتی ہیں۔

پیر چیناسی،آزاد کشمیر
پیر چیناسی،آزاد کشمیر
سپر مارکیٹ
سپر مارکیٹ

بتانے لگیں کہ وہ لوزر سعید گیلانی اسلام آباد میں کہیں شوکی کو ملا تھا تمہیں طلاق دینے کے بارے میں تمام اسباب ناچاقی بتادیے۔کہہ رہا تھا کہ نیلم میرے امی۔ ابو کے ساتھ حقارت سے پیش آتی تھی ۔ تنگ بھی بہت کرتی تھی۔ روز شام کو بار میں بیٹھ کر آوارہ عورتوں کے ساتھ شراب پینا معمول بنالیا تھا۔کمیونٹی میں بہت بدنامی ہورہی تھی۔گھر کے کاروبار میں دل چسپی نہیں لیتی بس اپنے فیشن کراؤڈ کے پیچھے ٹکا ٹوکری بنی پھرتی ہے۔سعید نے یقیناً انہیں اگر نہیں بتایا تو سوائے اپنے اسباب ناکامیء بغاوت ہند کے کہ خود وہ ایک ناکام، نان۔ پرفارمانگ مرد ہے جو وظیفہ زوجیت (جس کے لیے صرف مشرق میں نکاح نامہ درکار ہوتا ہے)ادا کرنے سے قاصر ہے۔ باقی سب ہی شکایات لگائیں۔

طاہرہ آنٹی نے مجھے جتایا کہ پھوپھو کو یہ سب باتیں پلٹ کر شوکی نے بتائی ہیں۔مجھے یقین ہے یہ سب باتیں ابو سے طاہرہ آنٹی نے بھی شیئر کی ہوں گی۔یقیناً  ان کی ہمدردی اپنے سرپرست کزن فخرالزماں گیلانی یعنی میرے سسر کے ساتھ  ہوں گی۔ وہ شوکی کے کسی کشمیری ماتحت، جو ان کا قریبی عزیز تھا  کے گھر ٹھہرا تھا۔شوکی کو تمہارے حوالے سے جانتا تھا۔اپنی پوزیشن صاٖ ف رکھنے کے لیے وہ کہنے لگیں کہ شہلا پھوپھونے یہ سب کچھ تمہارے ابو کو بھی بیان کردیا ہے ان کی تجویز ہے کہ کشمیری ماتحت کو بیچ میں ڈال کر کول وے میں، کورٹ سے پرے پرے طلاق ہوجائے تو بات بند مٹھی میں رہے گی۔خاندان میں جو پرانا تال میل ہے وہ بھی قائم رہے گا۔ پھوپھو کہہ رہی تھیں ، نیلم گھر کی بچی ہے۔یہ شراب اورمزاج کی خرابیاں گھر میں نبھ جائیں گی۔ شوکی بہت اصرار کرکے اپنی باتیں منوانے والا مرد نہیں۔میرا بیٹا معصوم ٹھنڈا ٹھاڑ فرشتہ ہے۔رشتہ باہر ہوا تو مصیبت ہوگی۔

تمہارے ابو ان سب باتوں سے بہت پریشان ہیں۔ان کا خیال ہے کہ تم لندن جاکر گوریوں جیسی آوارہ اور خود سر ہوگئی ہو۔ابو کسی حد تک مان بھی گئے ہیں۔ ان کا ارادہ تو تم سے پوچھے بغیر بہن کو رشتے کے لیے ہاں کہنے کا تھا۔یہ تو میں ہوں جس نے انہیں روکا کہ نیلم جوان بچی ہے۔ہمیں حالات کا علم نہیں۔کیا پتہ پیٹ میں بچہ ہو۔ہمارے آنگن میں بھی تو دس سال بعد اللہ نے پھر سے یہ نیا پھول کھلایا ہے۔مجھے بچے والی بات پر ہنسی آئی تو طاہرہ آنٹی کو لگا کہ میں ابو کی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت پر ہنس رہی ہوں۔ اپنی مسرت اور کم عمری پر نازاں اور معمولات شبینہ کی آتش حسد میں سلگ کر کہنے لگیں وہ تو شکر ہے کہ ہمارا دونوں کا کمرہ بند ہوتا ہے اور پڑوس میں گھر نہیں۔ورنہ ہمارے پلنگ کے شور سے پڑوسی محلہ چھوڑ جاتے۔ دروازہ بند ہو تے ہی لگتا ہے لائن آف کنٹرول پر گولہ باری ہورہی ہے۔سعید تو یوں بھی جوان گھبرو کشمیری ہے صرف پیر چیناسی (مظفر آباد آزاد کشمیر کی مشہور درگاہ) ول ہاتھ کرکے دعا مانگے تو تم ماں بن سکتی ہو۔

میں نے کہا ابو اور آپ آرام کریں۔میری دوست انجم یہاں سپر مارکیٹ کے پاس رہتی ہے۔گھر ہی میں کلینک کرتی ہے۔میں اس سے مل کر آتی ہوں۔ طاہرہ آنٹی کی تاکید تھی کہ آٹھ بجے رات ملتان کی فلائیٹ ہے سو میں وقت پر آجاؤں۔

میں نے پلاننگ یہ کی کہ اپنا وہی رول آن بیگ جو قونیا اور کاپوڈوکیا کے سفر میں ساتھ تھا وہ لے لیا۔ بیگ دیکھ کر وہ جز بز ہوئیں۔ میں جب انہیں بتایا کہ میں ڈاکٹر انجم(چھوٹم) کے ساتھ  اس کی کار میں کل شام تک آجاؤں گی تو وہ اپنی کچھ سوچ میں پڑ گئیں۔
وہ پھر بھی بضد تھیں کہ میں ابو کو بتا کر اس نئے پروگرام پر عمل کروں۔کہنے لگیں کہ ایک منٹ تمہارے ابو کا کل کوئی پروگرام ہے۔کچھ مہمان آنے والے ہیں۔ابو میرا بیگ او ر میرا نیا پروگرام سن کر کچھ دل گرفتہ نظر آئے۔سچ پوچھیں تو میرے ہر معاملے میں وہ مجھے کچھ عجلت میں بھی دکھائی دیے۔بضد تھے کہ شام سات تک آجاؤں۔۔
کہنے لگے کل کرنل مسعود نے کھانے پر آنا ہے۔ میرے پاس نیا نیا لیفٹیننٹ  بن کر آیا تھا۔Still owes me few favors. Good head on the shoulderوہ کرنل صاحب پر کیے گئے احسان اور ان کے عقل مند اور بردبار ہونے کا تذکرہ لے بیٹھے تھے۔خانیوال،وہاڑی اور لودھراں کے تینوں ضلعوں کے الیکشن کے معاملات ان کے پاس ہیں۔جنرل پرویز مشرف نے نیا بلدیاتی نظام متعارف کرایا ہے۔مجھے کہہ رہا تھا کہ لودھراں کے نائب ناظم کے لیے سر میں چاہتا ہوں آپ راضی ہوجائیں۔۔میں نے کہا میری صحت بھی اچھی نہیں اور مجھ میں سیاسی سوجھ بوجھ نہیں۔میری بیٹی کل برطانیہ سے مستقل زمیندارا سنبھالنے آرہی ہے۔اس سے گپ لگا کر دیکھیں۔میرا اندازہ ہے یہ اس کے لیے بہت اچھا بریک تھرو ہوگا۔وہ کہہ رہا تھا کہ ہاں یہ بھی اچھا ہے لودھراں کچھ پسماندہ رویوں کا علاقہ ہے نیلم نائب ناظمہ بن گئی تو پاکستان کا سافٹ امیج ساری دنیا میں جائے گا۔So close to General’s image of enlightened Pakistan. Free and happy
میں نے ابو کو چھیڑا کہ ابو آپ اور یہ آپ کی خلائی مخلوق جانے کن تخیلاتی سیاروں پر رہتی ہے۔باہر کی دنیا کو نقشے پر پاکستان ڈھونڈے نہیں ملتا تو یہ آپ کا لوزر لودھراں اور اس کی نائب ناظمہ۔مائی فُٹ (میری جوتی)۔سرائیکی محاورے میں نہ کوئی تھوک مریندا نہ کھنگ( اس کی طرف منہ  کرکے نہ کوئی تھوکتا ہے نہ کھانستا ہے)

سچ پوچھیں تو میری یہ لفظی سرکشی ان کی مجھے کنٹرول کرنے والی عادت پر پہلا نفسیاتی ڈرون حملہ تھی۔جب وہ مجھے آوارہ اور خود سر سمجھتے ہیں تو کیوں نہ میں بھی اپنے لیے ان کے رویوں میں Space تخلیق کرلوں۔اس سے ابو کی جانب سے آئندہ کے بلاوجہ ڈکٹیشن کو سنبھالنا میرے لیے آسان ہوگا۔

ان سب دلچسپیوں سے الگ میں آپ کو کیا عرض کروں۔ میرے دل کا عالم پوچھیں تو ایسا تھا کہ سنجھیاں ہوجان گلیاں وچ مرزا یار پھرے۔کیا شوکی، کہاں کی مقامی سیاست۔مجھے ان میں سر دست تو ککھ بھی دل چسپی نہ تھی۔ابو کی میرے دل میں بہت عزت ہے۔وجدان کو بھی میں نے ان کے کہنے پر ٹھکرادیا تھا اور چپ چاپ سعید سے بیاہ کرکے برمنگھم چلی گئی تھی۔آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ میں فطرتاً بڑی حد تک وفادار صلح جُو عورت ہوں۔امی سے جو وعدہ تھا میں نے دوران تعلیم دل جمعی سے خوب نبھایا۔ سر وجدان کے تعلق میں بھی میں نے امی کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہ کیا۔سعید کے زمانے میں تو میرے بدن میں طلب،سپردگی،شہوت کے کیا کیا الاؤ سلگتے تھے۔ان سب کو میں نے کولڈ شاور سے ٹھنڈا کرکے،شراب کے جام سے بجھادیا۔گڈی اور ایک دوست میرے بدن کی تراوٹ اور تشنگی سے کھلواڑ کرنا چاہتی تھیں مگر مجال ہے دوستانہ بوس و کنار اور لمس آشنائی سے زیادہ کی سہولت دی ہو۔
یہاں مجھے شوکی سے شادی،سیاست اور کہروڑ پکا اپنی مرضی سے لے جانے پر جو اصرار ہے۔۔وہ میری آزادی پر حملہ ہے۔ اس سب سے بڑھ کر یہ کہ سعید سے شادی کی ناکامی کا مجھ  سے کچھ پوچھے سنے بغیر مجھے ہی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

بیداری کے اس احساس نے پہلی دفعہ مجھ میں سرکشی کے جذبات کو ہوا دی۔ایک میں ہوں کہ تعلقات کے ایک اتنے بڑے بھونچال سے گزرتی ہوئی ابھی بمشکل یہاں پہنچی ہوں۔ دوسری طرف میرے یہ ابو اور ان کے اقربا ہیں۔ کوئی وقت ضائع کیے بغیر میری شادی،میرے کیرئیر،میری آئندہ زندگی کا ہر فیصلہ بالا بالا ہی کر چکے ہیں۔ اب پاکستان میں مجھے زندگی گزانی ہے تو مجھے بصد احترام کچھ خود سری اور آزاد خیالی دکھانی ہوگی۔جس کی پہلی نشانی میرا یہ Freedom of Movement کا فیصلہ ہوگا۔آئندہ بھی اس حوالے سے اب ہر فیصلہ میں خود کروں گی۔ میری شادی ارسلان سے ہو یا کسی اور سے۔ ہر فیصلے میں پہلی رائے میری ہوگی۔

میرے ابو اور ان کی بیگم اس وقت بھی میری دوستوں سے ملاقات پر بھی اسکول گرل والی وقت کی قدغن لگانا چاہتے ہیں۔ میں نے لہجے کو ہر قسم کی تلخی سے پاک کرکے جتادیا کہ ابو آپ انہیں پرسوں اتوار کو بلالیں۔ مجھے کچھ ضروری کام ہیں۔آپ دونوں شام کو چلے جائیں۔

ابو کو میرا یوں اصرار کرنا اچھا تو نہ لگا۔اس وقت تو چپ رہے مگر جب میں کار میں سوارہورہی تھی تو دروازہ بند کرکے آہستہ سے انگریزی میں کہنے لگے کہ Our’s is a different world. You better change your ways.(ہماری دنیا مختلف ہے بہتر ہوگا اپنے طور اطور بدل لو)

میں نے بھی انگریزی میں یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کل شام سے پہلے میں کہروڑ پکا پہنچ جاؤں گی۔اپنے پروگرام میں بس ایک دن کی تاخیر برداشت کرلیں۔انجم کا کزن وکیل ہے۔ مجھے سعید سے طلاق کے حوالے سے بات کرنی ہے۔پارٹی۔از۔ اوور۔

ابو کا کہنا ہے کہ میں اس معاملے میں ابھی کورٹ،وکیل وغیرہ کی جلد بازی سے گریز کروں۔ تمہارے حوالے سے میرے پاس کچھ منصوبے ہیں۔پہلے بھی تم نے برطانیہ جانے کے چکر میں مجھے کچھ سوچنے کا موقع نہیں دیا طاہرہ کے ذریعے ضد کرکے  برطانیہ جانے کا شوق پورا کرکے اپنی بات منوالی۔میں نے جلدی سے اللہ حافظ کہا اور چل دی۔

ابو کے اس آخری الزام نے میرے ذہن میں ایک نیا دروازہ کھولا کہ میری سعید سے شادی یقیناً  ایک پلاننگ کا حصہ تھی۔ان کی جانب سے نہ سہی آنٹی طاہرہ کی جانب سے۔اپنی منصوبہ بندی کو انہوں نے ابو کے سامنے میرا شوق بنا کر پیش کیا۔ جیسے برطانیہ جانا زندگی کی سب بڑی نعمت ہو۔ میں اس کے لیے مررہی ہوں۔ وہ اپنے بیٹوں کے حوالے سے جائیداد کے تنہا حصول کی وجہ سے مجھے بیرونی ریموٹ سے چلانا چاہتی تھیِ۔بیٹوں کی موت نے ان کی کمر توڑ دی۔اب جب یہ نیا بچہ پیدا ہوگا تو پھر ایک نئی مخاصمت کا آغاز ہوگا۔

انجم جسے ہم سب چھوٹم کہتے ہیں۔وہ دراصل میری این سی اے کی  جگر جان دوست جویریہ کی بڑی جڑواں بہن تھی۔مگر تین بھائیوں کے بعد پیدا ہوئی تو گھر والے اور بھائی چھوٹم پکارتے تھے۔ یہ نام انجم پر بھاری پڑگیا۔ جویریہ کا کویت میں ایک حادثے میں انتقال ہوگیا تو چھوٹم نے مجھے اپنے اور قریب کرلیا۔کئی مریض بھی اسے ڈاکٹر چھوٹم ہی کہتے ہیں ۔ وہ ٹیرینڈ کلی نکل ہپنوتھراپسٹ بھی ہے اور جسمانی درد کے احساس کو ری لوکیٹ کرنے میں ملکہ رکھتی ہے۔سائیکو ڈائنامک تھراپی کی ماہر۔ میں آپ کی خدمت میں عرض کردوں کہ psycho dynamic therapy میں نفسیاتی  عارضے کی تشخیص، مریض کا اس کا اعتراف،اس سے سمجھوتہ، اپنے اس حوالے سے کچلے ہوئے جذبات کو بروئے کار لاکر ان کے اردگرد اپنی شخصیت کو ڈھال کر آگے بڑھنا اور اس سے وابستہ منفی جذبات پر قابو پانا ہوتا ہے۔یوں مرض کی ابتدا سے اس کے نتائج تک کے ہر پہلو کو مریض مدنظر رکھتا ہے۔اس میں بھی اس نے دو سال کی ایک خصوصی تربیت بچوں کی نفسیات پر ازدواجی بگاڑ یا حادثاتی اثرات کے حوالے سے بہت فوکس رکھا ہے۔ابھی اس کی طرف باقاعدہ کلینک کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔ حسب توقع بہت سی سجیلی ماؤں کے جھرمٹ میں بیٹھی تھی۔ مجھے یوں اپنے سامنے دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑی۔

چھوٹم کے شوق
وحید مراد،ہمارے ظہیر بھائی 

وہاں کچھ زیادہ نہیں بدلا تھا۔ حتیٰ  کہ فرنیچر بھی وہی تھا۔ میں نے ماؤں کو دیکھ کر کہا کہ سیاست دانوں کی مائیں بھی انہیں ممبر اسمبلی بننے سے پہلے علاج کے لیے لے آتیں تو ملک ایسے Psychopaths کے ہتھے نہ چڑھ گیا ہوتا۔ یہ سن کر ایک زور کی ہنسی کا فوارہ چاروں طرف بلند ہوا۔ چھوٹم کی کوٹھی کی نچلی منزل وہی کلینک اور اوپر رہائش۔ظہیر بھائی وہی   ہر مرض کی دوا۔دیکھنے میں چھوٹے سائز کا وحید مراد لگتے تھے۔طور اطوار میں بھی قدرے نسوانیت اور نازک مزاج۔بلا کے ذہین، بلا کے معاملہ فہم Mr. Fix It
ہم چھوٹم کو چھیڑتے تھے کہ آخر میں ظہیر بھائی ہی اس کے شوہر بنیں گے۔اس کے ابو انہیں کراچی سے لائے تھے۔موچی سے سینڈل بنوانے ہوں، گھر میں اے سی لگوانا ہو۔ فیملی گرلز کی دعوت ہو یا گاؤں سے علاج کے لیے آئے ہوئے عزیز کا جنازہ ۔ہر مرض کی دوا ٹھہرا ۔۔۔بجلی کا تار چھونا۔ چھوٹم کا کہنا تھا کہ خدمت اور راز داری مطلوب ہو،چھوٹی موٹی چوری اور چالاکی بری نہ لگتی ہو تو مہاجر مردوئے سے بہتر کسی خود سر،خوش حال اور خوش پوشاک پنجابی عورت کا کوئی اور سہارا نہیں۔

ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں وہ ان کے کسی عزیز کرنل کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔چھوٹم کے ابو اس کی جان چھڑا کر ایک بوڑھی ماں سمیت اسے کراچی سے لاہور لے آئے۔اب دونوں ہی ہم عمر تھے۔چھوٹم کی شادی ایک دور دراز کے تاجر رشتہ دار سے سیالکوٹ میں ہوئی تھی۔ہم دوستوں کا اس وقت بھی پختہ یقین تھا کہ اس میں گھر بسانے اور بیوی بننے سے زیادہ والدین کو ایک طفل تسلی دینا اور خود کو ایک تجربہ سے گزارنا مقصود تھا ۔۔جویریہ کہتی تھی کہ چھوٹم میں قاتل ہونے کی کوئی علامت ہو نہ ہو اسے ممنوعے بور کے اسلحہ پاس رکھنے کا بہت شوق ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *