• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • قادیانیت اور مسئلہ ختم نبوت : چند اہم کتب کا تعارف۔۔۔سراج الدین امجد

قادیانیت اور مسئلہ ختم نبوت : چند اہم کتب کا تعارف۔۔۔سراج الدین امجد

مملکتِ خداداد پاکستان میں مسئلہ ختم نبوت علی صاحبہا الصلاۃ والتحیہ کی اہمیت اجاگر کرنے کے حوالے سے ۷ ستمبر کے دن کی اہمیت چنداں محتاجِ بیاں نہیں۔۱۹۷۴ء میں اسی دن پارلیمنٹ میں قادیانیت کے خلاف متفقہ قرارداد پاس کر کے مسلمانانِ پاکستان نے عظیم کامیابی حاصل کی ۔عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمہ داری ، اولین تقاضائے ایمان اور روزِ آخرت باعثِ شفاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، تحفظِ ختم نبوت کے حوالے سے مختلف ادارے ، انجمنیں اور علماء و مشائخ کی تنظیمیں اپنی اپنی جگہ قابلِ قدر کام کررہی ہیں ۔جہاں ایک طرف وہ عقائد و ایمانیات کے باب میں نفسِ مسئلہ کی اہمیت واضح کرتی ہیں ،وہیں غلامانِ مصطفیٰ علیہ اطیب التحیۃ واجمل الثناء کی راہنمائی کے لیے قادیانی پروپیگنڈہ ، دجل و تلبیس اور فکری و نظری گمراہیوں کی نشاندہی کرنے میں بھی کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھتیں ۔تاہم کچھ لوگ ہردور میں تشکیک و ارتیاب کے فروغ کو حرزِ جاں بنائے رہتے ہیں اور مُسَلّمات کی بیخ کنی یا سوءِ تعبیر ہی ان کی علمیت و فضیلت کا نشان ٹھہرتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں ہوں یا سیکولر لبرل دانشوروں کی ہرزہ سرائیاں ،ان سب کے جواب میں تو اتنا کہنا کافی ہے کہ آئین پاکستان کی رو سے قادیانی کافر ہیں ۔اور یہ ترمیم پارلیمان کے فورم پر قادیانی زعماء کی تفصیلی آراء اور عقائد کی تشریح سننے اور معرضِ بحث میں آنے کے بعد منظور ہوئی ۔ نیز یہ کہ مابہ النزاع مسئلہ کی تحلیل کے لیے پارلیمان ایسے جمہوری ادارے کا انتخاب بھی قادیانی زعماء نے خود کیا تھا۔ان حقائق کے سامنے مزید کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ پھر یہ ختم نبوت کا فیضان ہی ہے کہ بین المسالک جتنے مرضی اختلافات ہوں ۔سنی شیعہ مسالک ہوں یا دیوبندی بریلوی کے مکاتب فکر ،اہلِ حدیث ہوں یا صوفیہ صافیہ کے حلقے ہر ایک طبقے نے رد قادیانیت میں اپنا حصہ ڈالا اور بیک زبان ہوکر اس فتنہ کی بیخ کنی میں جدو جہد کی ۔اسی طرح مسلکانہ وابستگیوں سے اورا اہل علم و دانش بھی جذبہ حبِ  رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کسی سے پیچھے نہ رہے ۔اور قادیانی اوہام و اباطیل کا بھرپور رَد کیا ۔

سردست معروضی تناظر اور مستشرقین کے اسلوب کے دلدادہ حضرات کو قادیانیت کی تفہیم کے لیے چند چیزیں عرض کرنا ہیں ۔کاش وہ کان دھریں اور آئے دن مسئلہ ختم نبوت کے حوالے سے شکو ک و شبہات پیدا کرکے فرزندان اسلام اور غلامان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلیجے چھلنی نہ کریں ۔اس تناظر میں عرض کروں تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جدید پڑھے لکھے حضرات میں رد قادیانیت میں سب سے وقیع کام ڈاکٹر غلام جیلانی برق ( متوفیٰ ۱۹۸۵) کا ہے ۔انہوں نے ۱۹۵۳ء میں ” حرفِ محرمانہ ” ایسی شاندار کتاب لکھی ۔ یہ کتاب تمام سنجیدہ احباب اور علومِ جدید ہ سے مس رکھنے والے حضرات کے پڑھنے کے لائق ہے ۔کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ فاضل مصنف نے مقدمہ میں لکھا کہ ان کے احباب کی خاصی تعداد احمدی ( یہی لفظ پوری کتاب میں استعمال کیا  گیا ہے ) حضرات کی ہے جن سے ان کے برادرانہ مراسم رہے اور یہ کہ انہوں نے ۵۳ء کے قادیانی مسلم فسادات کے بعد مرزا صاحب کی تصانیف کا مطالعہ کیا ۔

فاضل مصنف چونکہ کسی بھی قومی و ملی تفریق یا اسلامی فرقہ بندی کے مخالف تھے لہذا انہوں نے بڑی دلسوزی اور ہمدردی سے قلم اٹھایا ۔ان کے اپنے بقول علمبردارانِ تحریک کے ہر بیان ،ہر تحریر اور دیگر لٹریچر کا عمیق مطالعہ کیا ۔پھر نامی گرامی احمدیوں کے ساتھ تعلق کی بنا پر انہیں تمام اصلی ماخذ دستیاب تھے جو انہوں نے ، بقول ان کے ، انتہائی دیانت سے کام میں لائے اقتباسات کو نہ تو مسخ کیا نہ قطع و برید سے حسبِ منشا بنایا ۔ بلکہ مرزا صاحب کے اقوال ، بشارات اور الہامات کو اصل ماخذ سے ہو بہو نقل کیا ۔مصنف کی احمدی جماعت ( ان کے اپنے الفاظ میں ) کے ساتھ دلسوزی اور ہمدردی کتاب کے آخر تک قائم رہی اور بجائے تکفیر کے وہ ان کے عقائد کی گمراہی واضح کرنے اور سوادِ اعظم کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں ۔ یہ کتاب قادیانی عقائد کی تفہیم میں بے مثل ہے اور لکھنے والا بھی ان کا بہی خواہ ہے ،لہذا نفرت میں غلط اقتباسات دینے یا رد عمل کی نفسیات سے مغلوب کسی نیم خواندہ مولوی کی کار روائی کی تہمت بھی نہیں لگائی جا سکتی ۔ سچ پوچھیے تو یہ کتاب پڑھ کر قادیانی عقائد کی گمراہی ، ضلالت اور کفر کے بارے ذرا شک نہیں رہتا ۔ ان موضوعات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب اکسیر سے کم نہیں ۔

اسی طرح ایک اور کتاب جو اس موضوع پر لائقِ مطالعہ ہے وہ غلام احمد پرویز( متوفیٰ ۱۹۸۵) کی ” ختمِ نبوت اور تحریکِ احمدیت” ہے ۔ مسئلہ ختم نبوت کی تفہیم میں پرویز کی تحقیقات کی اہمیت کے لیے اتنا کہنا کافی ہے کہ قادیانی مسلم تنازعہ میں سب سے قدیم قانونی پیش رفت مقدمہ مرزائیہ بہاولپور ۱۹۳۵کا عدالتی فیصلہ ہے جو مسلمانوں کے حق میں ہوا ۔فاضل جج نے فیصلہ میں نبی کی تعریف کے ضمن میں مباحث میں قولِ فیصل پرویز کے مضمون کو قرار دیا اور بڑی تحسین کی ۔ لہذا یہ کتاب بھی جدید فکر کے متاثرین کے لیے غنیمت سے کم نہیں۔یہ ملحوظِ خاطر رہے کہ پرویز ایک روشن خیال مفکر ، شارح اقبال اور تجدیدِ دین کے علمبردار ایک غیر روایتی شخص تھے ۔ لہذا ان پر ابلہ مسجد کی پھبتی نہیں کسی جا سکتی ۔

تیسری اہم ترین کتاب حضرت مولانا محمد نافع ( متوفیٰ ۲۰۱۵ ) کی ” مسلکِ ختم نبوت اور سلف صالحین ” ہے ۔ ایک روایتی عالمِ دین کی کتاب کا حوالہ اس لیے معتبر ہے کہ قادیانی مبلغین اور ان کے بہی خواہ ، خواہ سیکولر لبرل دانشور ہوں یا متجددین کے پیروکار ، یہ غلط تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ مرزا صاحب نے ظِلی و بُرُوزی نبی کی جو اصطلاحات استعمال کی ہیں وہ تاریخ ملت اسلامیہ میں پہلے بھی کئی  نامور علماء و مشائخ اپنی کتب میں برت چکے ہیں ۔ لہذا اگر ان مشائخ و اکابر کی تکفیر نہیں کی گئی تو فقط مرزا نشانے پر کیوں ؟ چونکہ اسلاف سے وابستگی روایتی طبقہ علماء کے ہاں متاعِ  بیش بہا سے کم نہیں لہذا جواب بھی وہیں سے آنا مناسب تھا ۔اس تناظر میں یہ کتاب اکابر مشائخ کے حوالے سے بے جا اور لغو الزامات کی تغلیط کرتی ہے ۔شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی عبارات ہوں ،مولانا رومی کے اشعار ہوں یا ملا علی قاری کا کلام ، مصنف نے نہایت عرق ریزی سے متشابہ عبارات کو سیاق و سباق کے ساتھ نقل کیا ہے اور قادیانی تلبیسات کے تاروپود بکھیر دیے ہیں۔کتاب نہایت عالمانہ و فاضلانہ اسلوب میں لکھی گئی ہے لہذا عامۃ الناس تو شاید استفادہ نہ کر سکیں تاہم اربابِ علم و دانش کو اس کتاب کو حرزِ جاں بنانا چاہیے کہ مرزا قادیان کی صریح گمراہی و ضلالت کی تخفیف اور اس فتنہ کو ہلکا سمجھنے والوں کی بے اعتدالی اور کجی ان پر کھل جائے اور شک و ارتیاب کے بادل چھٹ جائیں۔ اور حق و باطل خوب واضح ہوجائے ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *