اردو ہے میرا نام۔۔۔ایم اے صبور ملک

اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ۔۔

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے!

برصغیر پر وسط ایشیا سے حملہ آور ہونے والے مختلف لشکروں اور فاتحین کی وجہ سے یہاں مقامی طور پر ایک نئی زبان وجود میں آئی،جسے اُردو یعنی لشکر کا نام دیا گیا،اُردو کی نوک پلک ہندوستان کے صوبے یوپی میں سنواری گئی،شروع شروع میں یہ نوابوں اور امراء کی زبان کہلاتی تھی لیکن رفتہ رفتہ اُردو خواص سے نکل کر عام میں بھی نفوذ پذیر ہوگئی،اور ہندوؤں سے زیادہ مسلمانوں کے ہاں اردو کو  پذیرائی ملی،اسکی وجہ وسط ا یشیا کے مسلمان فاتحین کہہ لیں یا پھر ہندی کے مقابلے میں عربی رسم الخط،،اُردو زبان نے ادب کی دنیا میں بھی بہت مقام پیدا کیا،میر،غالب،سودا،ابراہیم ذوق،حالی،درد،داغ،علامہ اقبال،فیض احمد فیض،فراز،پروین شاکر،ادا جعفری،جیسے  شعراءہوں یا سیلمان ندوی،امتیاز علی تاج،غلا م عباس،شبلی،عصمت چغتائی،رضیہ بٹ اور منٹو جیسے نثر نگار،اُردو ادب کا دامن ایک سے بڑھ کر ایک نابغے سے بھرا پڑا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد بانی پاکستان نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے دورے میں واشگاف الفاظ میں اُردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دیا تھا،جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ملک کے دونوں صوبوں میں رہنے والوں کو اس زبان سے واقفیت کی بنا پر ایک دوسرے سے رابطے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے،لیکن بانی پاکستان کی جلد وفات اور اقتدار کی کشمکش سے یہ معاملہ سرد خانے کی نظر ہوگیا،اورملک کے دونوں صوبوں کی قومی و سرکاری زبان یکساں نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں سقوط ڈھاکہ کا دکھ جھیلنا پڑا،جس کی دیگر کئی وجوہات کے علاوہ ایک وجہ زبان بھی ہے،گو اس وقت اُردو کو پاکستان کے تمام صوبوں میں سرکاری زبان کی حیثیت حاصل ہے، اُردو اعلی ثانوی جماعتوں تک لازمی مضمون کےطور پر پڑھائی جاتی ہے، اِس نے کروڑوں اُردو بولنے والے پیدا کردئیے ہیں جن کی زبان پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، کشمیری، براہوی، چترالی وغیرہ میں سے کوئی ایک ہوتی ہے۔ اُردو پاکستان کی مُشترکہ زبان ہے،پاکستان میں کروڑوں افراد ایسے ہیں جن کی مادری زبان کوئی اَور ہے لیکن وہ اُردو کو بولتے اور سمجھ سکتے ہیں۔ پانچ ملین افغان مہاجرین، جنھوں نے پاکستان میں پچیس برس گزارے، میں سے زیادہ تر اُردو روانی سے بول سکتے ہیں۔ لیکن عملاًآج بھی تمام سرکاری اُمور انگریزی میں ہی سرانجام دئیے جاتے ہیں،جس کی وجہ سے ہماری آبادی کا ایک بہت بڑا طبقہ اس بات سے بے خبر رہتا ہے کہ سرکاری کاغذات میں کیا لکھا ہے،نہ صرف سرکاری بلکہ نجی اداروں کے معاملات بھی اُردو کی بجائے انگریزی میں سرانجام دئیے جاتے ہیں،کوئی دواء خریدیں،یا کوئی موبائل،کوئی سم خریدیں یا کوئی دوسرابجلی سے چلنے والاآلہ،اسکے ساتھ دیا گیا پرچہ ہدایات سوائے اُردو کے دنیا کی دوسری زبانوں میں ہوگا،اس کی وجہ اور کچھ نہیں،ہماری اپنی غلطی اورکوتاہی ہے جو ہم نے اُردو کو اسکا جائزمقام ابھی تک نہیں دیا،ہمارے ہاں انگریزی بولنا اعلی معیار سمجھا جاتا ہے،اگر غلطی سے کسی نجی یا سرکاری ادارے کی کسی تقریب میں یا ویسے ہی کسی کام کی وجہ سے جانا پڑے اوروہاں اُردو میں بات کی جائے تو گنوار سمجھا جاتا ہے،لیکن اگر آپ نے انگریزی میں بات کی تو پھر آپکی بات کو بغور سنا جائے گا،کتنا ظلم ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ان کی قومی زبان کی بجائے انگریزی میں تعلیم دے رہے ہیں،جس کی وجہ سے ہرسال ہزاروں بچے صرف انگریزی نہ سمجھنے کی وجہ سے تعلیمی میدان چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہی۔

اگر بات کی جائے اُردو زبان کے نفاذکی تو اس سلسلے میں حکومتی سطح پر قیام پاکستان کے بعد سب سے بڑی اور اہم ترین پیشرفت آئین پاکستان 1973میں یہ درج ہونا ہے کہ ملک سے اگلے پندرہ سالوں میں انگریزی کا بتدریج خاتمہ کرکے اُردو کو نافذ کیا جائے گا،اس حساب سے یہ کا م آج سے 31سال پہلے ہوجانا چاہیے تھا لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شد۔۔ کے مصداق اس کے لئے بھی سپریم کورٹ آف پاکستان کی مدد لینا پڑی جس نے8 ستمبر 2015 کو فوری طور پر سرکاری دفاتر میں اردو بطور سرکاری زبان کے نفاذ کے لیے متعلقہ حکام کو حکم دیا،لیکن تین سال مزید گز ر گئے ابھی تک عدالت عظمی کا یہ فیصلہ اپنے مکمل نفاذکا منتظر ہے،ہمیں انگریزی یا دوسری کسی علاقائی یا بیرونی زبان سے کوئی بیر نہیں،القرآن کے مطابق زبانیں تواللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں،لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی قومی زبان چھوڑ کر ایک ایسی زبان اپنا لیں جس پر ہمارے ہاں کی اقلیت ہی عبور رکھتی ہو اور جس کے مقابلے میں ہم اپنی زبان بولتے ہوئے شرمندگی محسوس کریں۔

زبان کے حوالے سے ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ ہرزبان کا ایک ادب ہوتا ہے جو اس زبان  پر عبور رکھنے والوں کی ذات سے جھلکتا ہے،انگریزی کو ہی لے لیں چونکہ یہ انگریزوں کی زبان ہے لہذاانگریزی دان طبقہ انگریزی ادب کو ہی پڑھے گا،اس کو ہمارے اُردو ادب سے کیالینا دینا،بعینہ اسی طرح اُردو بولنے والے کو انگریزی ادب سے کیا کام،کیونکہ زبان وادب کی کوئی بھی صنف جب تخلیق پاتی ہے تو تخلیق کار کے ذہن پر مقامی حالات وواقعات کا بھی گہر ااثر ہوتا ہے،جس کا اظہار اسکی تخلیق میں نظر آتا ہے،یہ ایک سادہ سی مثال ہے،دنیا میں کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتی جب تک وہ اپنے نظام تعلیم کو اپنی مادری زبان میں نہ ڈھالے،ہم شاید دنیا کی وہ واحد قوم اور ملک ہیں جو 72سال سے ابھی تک اس بات کا تعین ہی نہیں کرسکے کہ ہمارا نظام تعلیم کیا؟کیسا اور کس زبان میں ہو۔

اس وقت پاکستان میں انگریزی زبان کی وجہ سے دوطبقات بن چکے ہیں،ایک اعلی اوردوسراادنی،یہ خلیج دن بدن بڑھتی جارہی ہے،یہاں میں اُردو زبان کے عملاًنفاذ کے لئے اپنے دن رات ایک کیے ہوئے لوگوں اور ان تمام تحریکو ں کاذکر نہ کروں تویہ زیادتی ہو گی جو آئین پاکستان میں درج اس اہم ترین نکتے اور عدالت عظمی کے 8ستمبر 2015کے فیصلے کے لئے سعی میں مصروف ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *