کیا آئن سٹائن شیعہ تھا ؟۔۔۔محمد کمیل اسدی

ایک ذاکر صاحب نے کسی مجلس میں اس بات کا تذکرہ کیا تو فدایان اسلام ایسے اچھل اچھل کر اس بات کا دفاع کر رہے ہیں کہ جیسے  آئن سٹائن بطور یہودی تو قبول ہے لیکن شیعہ کسی صورت میں بھی قبول نہیں۔ اگرچہ  شیعہ ہو یا سنی اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے۔ بالفرض اس نے اسلام کی حقانیت قبول کرلی تو ہمارے لئے یہی باعث اطمینان ہونا چاہیے تھا۔
سب سے پہلے کچھ سابقہ سائنسدانوں پر بات کر لیتے ہیں اور اس کے بعد پھر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ حیرت زدہ ہونے کی ضرورت نہیں تیسری صدی سے تیرھویں صدی تک   ایک کثیرتعداد سائنسدان مسلمان اور مسلکاًَشیعہ تھے۔
1۔ غایت الدین جمشید: مشہور ماہر فلکیات اور ریاضی دان
2۔ ابو زید ال بلخی: ریاضی دان، ماہر طبیعات، نفسیات دان، سائنسدان
3۔ جابر بن حیان: امام جعفر ع کا شاگرد تاریخ کا سب سے پہلا کیمیادان اور عظیم مسلمان سائنس دان جابر بن حیان جس نے سائنسی نظریات کو دینی عقائد کی طرح اپنایا۔ دنیا آج تک اسے بابائے کیمیا کے نام سے جانتی ہے۔ اہل مغرب ’’Geber ‘‘کے نام سے جانتے ہیں۔ جابر بن حیان کو کیمیا کا بانی مانا جاتا ہے۔ وہ کیمیا کے تمام عملی تجربات سے واقف تھا۔
4 بو علی سینا: بو علی سینا کا مکمل نام علی الحسین بن عبد اللہ بن الحسن بن علی بن سینا (980ء تا 1037ء) ہے، جو دنیائے اسلام کے ممتاز طبیب اور فلسفی ہیں۔ ابن سینا یا ابی سینا فارس کے رہنے والے ایک جامع العلوم شخص تھے جنھیں اسلام کے سنہری دور کے سب سے اہم مفکرین اور ادیبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ابوعلی سینا کو مغرب میں Avicenna کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان کا لقب ’’الشیخ الرئیس‘‘ ہے۔ اسلام کے عظیم تر مفکرین میں سے تھے اور مشرق کے مشہور ترین فلسفیوں اور اطباء میں سے تھے۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے 450 کتابیں لکھیں جن میں سے قریباً240 ہی بچی ہیں، ان میں سے فلسفہ پر 150 اور ادویات پر 40 تصنیفات تھیں۔ ان کی سب سے مشہور کتابوں میں “کتاب شفایابی، جو ایک فلسفیانہ اور سائنسی انسائیکلوپیڈیا اور ’طبی قوانین جو ایک طبی انسائیکلوپیڈیا تھا، شامل تھے۔ ان میں بہت چیزیں 1650 تک قرون وسطی کی یونیورسٹیوں میں ایک معیاری طبی کتب کے  طور پر پڑھائی جاتی رہیں۔ 1973 میں، ابن سینا کی کتاب ’’طبی قوانین نیویارک میں دوبارہ شائع کی گئی۔ فلسفہ اور طب کے علاوہ، ابن سینا نے فلکیات، کیمیا، جغرافیہ اور ارضیات، نفسیات، اسلامی الہیات، منطق، ریاضی، طبیعیات اور شاعری پر بھی لکھا ہے۔ ابن سینا کو طبی دنیا کا آفتاب بھی کہا جاتا ہے۔
5۔ ال فارابی: عظیم ترین سائنسدان، موسیقار، فلسفی اور منطق کی بنیاد رکھنے والا
6- الخوارزمی: وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے علمِ حساب اور علمِ جبر کو الگ الگ کیا اور جبر کو علمی اور منطقی انداز میں پیش کیا۔
وہ نہ صرف عرب کے نمایاں سائنسدانوں میں شامل ہیں بلکہ دنیا میں سائنس کا ایک اہم نام ہیں، انہوں نے نہ صرف جدید جبر کی بنیاد رکھی، بلکہ علمِ فلک میں بھی اہم دریافتیں کیں، ان کا زیچ علمِ فلک کے طالبین کے لیے ایک طویل عرصہ تک ریفرنس رہا، خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ریاضیاتی علوم میں یورپ کبھی بھی ترقی نہ کرپاتا اگر اس کے ریاضی دان خوارزمی سے نقل نہ کرتے، ان کے بغیر آج کے زمانے کی تہذیب، تمدن اور ترقی بہت زیادہ تاخیر کا شکار ہوجاتی۔
الخوارزم (لاطینی میں جو “الگورتھم” بنا) ان کے نام سے ماخوذ ہے
7۔ ابو نصر منصور: سفیریکل سائن لاء کی دریافت کرنے والا
8۔ البیرونی: البیرونی کی ایک مشہور کتاب “قانون مسعودی” ہے جو اس نے محمود کے لڑکے سلطان مسعود کے نام پر لکھی۔ یہ علم فلکیات اور ریاضی کی بڑی اہم کتاب ہے۔ اس کی وجہ سے البیرونی کو ایک عظیم سائنس دان اور ریاضی دان سمجھا جاتا ہے۔ البیرونی نے پنجاب بھر کی سیر کی اور “کتاب الہند” تالیف کی، علم ہیئت و ریاضی میں البیرونی کو مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے ریاضی، علم ہیئت، طبیعیات، تاریخ، تمدن، مذاہب عالم، ارضیات، کیمیا اور جغرافیہ وغیرہ پر ڈیڑھ سو سے زائد کتابیں اور مقالہ جات لکھے۔ البیرونی کے کارناموں کے پیش نظر چاند کے ایک دہانے کا نام “البیرونی کریٹر” رکھا گیا ہے۔
9۔ ابن الہیثم: آپٹیکس کا بانی، روشنی کے انعکاس، انعطاف کے قوانین کی دریافت کرنے والا، تجرباتی نفسیات اور طبیعات کا بانی
10۔ احمد ابن یوسف: ریاضی دان
11۔ ابو سہل ال قہی: ریاضی دان، ماہر طبیعات، فلکیات
12۔ ابن وحشیہ: سائنسی خطوط پر زراعت کو استوار کرنے والا، کیمیا دان،
13۔ ابو الفادی ہراوی: ماہر فلکیات
14۔ ابو محمود ال خوجاندی: ماہر فلکیات، ریاضی دان
15۔ ال برجاندی: ماہر فلکیات
16۔ نصیر الدین طوسی: ماہر فلکیات، حیاتیات، کیمیا، ریاضی، فلسفہ، میڈیسن، ارتقاء کے سائنسی اصول اسلامی بنیادوں پر، لاء آف کنزرویشن آف میس( کمیت کا نا تو تباہ ہونا نہ بننا) کے مشہور و معروف طبیعاتی قانون کو دریافت کرنے والا دنیا کا پہلا شخص۔
17۔ اکسر لطفی: فزی لاجک (fuzzy logic) کی دریافت کرنے والا موجودہ زمانے کی اہم ترین دریافت کا سہرا ان کے سر بندھتا ہے۔
18۔ ملا صدرا: صدر الدین محمد بن ابراہیم قوام شیرازی معروف بہ مُلاصَدرا و صدرالمتألهین (وفات 1045ھ ق)،گیارہویں صدی ہجری کے معروف ایرانی شیعہ فلاسفر ہیں و فلسفی مکتب حکمت متعالیہ کے بانی ہیں۔
ملا صدرا نے اپنے فلسفہ میں علوم نقلی اور عقلی کے علاوہ علوم کشف وشہود کو بھی بنیاد بنایا۔ ملا صدرا نے اپنے فلسفی مکتب فکر کو اپنی معروف کتاب الحکمۃ المتعالیۃ فی الاسفار العقلیۃ الاربعۃ میں بیان کیا ہے۔ حکمت متعالیہ یعنی ایسی حکمت وعلم اور فلسفہ جس کی بنیاد حکمت الہی کے خزانوں پر رکھی گئی ہو جو عقل کی رسائی سے بالاتر ہیں۔
19-عمر خیام: عمر خیام علم ہیت اور علم ریاضی کا بہت بڑا فاضل تھا۔ ان علوم کے علاوہ شعرو سخن میں بھی اس کا پایا بہت بلند ہے اس کے علم وفضل کا اعتراف اہل ایران سے بڑھ کر اہل یورپ نے کیا۔
اگر آپ یہاں تک پہنچ گئے ہیں خوشی سے پڑھتے ہوئے تو مبارک ہو آپ جعلی یا کمرشل لبرل نہیں ہیں۔ اوپر بیان کیے گئے تمام کے تمام سائنسدان شیعہ ہیں۔ اگر یہ پڑھ کے آپ کے منہ کا ذائقہ کڑوا ہو گیا ہے تو مبارک ہو آپ ہلکی قسم کے فرقہ پرست ہیں۔ اور اگر یہ جان کر آپ حیران ہوئے ہیں تو آپ ایک عام مسلمان ہیں جسے اپنے ورثے اور مکمل تاریخ کا نہیں پتا تھا چلیں آج پتا چل گیا۔
اب ہم اصل معاملہ کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں۔ آج سے دس بارہ سال پہلے ایران کی طرف سے آئن سٹائن کے مذہب کے بارے میں معاملہ اٹھایا گیا۔ ایران کے ایک عالم دین آیتہ اللہ بروجردی جو فلسفہ اور سائنس میں کافی مہارت رکھتے تھے۔ ان کی اور آئن سٹائن کی خط و کتابت ایک طویل عرصہ تک جاری رہی۔
آئن سٹائن کے ایک معاون پروفیسر ڈاکٹر حسیبی جو ایرانی شیعہ تھے اس خط و کتابت میں مڈل مین کا کردار ادا کرتے رہے۔
ان خطوط میں مشہور نظریہ اضافت زیر بحث رہا۔ بروجردی کی طرف سے قرآن مجید اور نہج البلاغه سے کچھ حوالات بھیجے گئے اور رسول اللہ کی جسمانی معراج زیر بحث رہی۔ دعوٰی یہ کیا جاتا ہے کہ آئن سٹائن کو ان اسلامی نکات سے اپنی تھیوری فائنل کرنے میں بہت مدد ملی اور اس نے اسلام (فقہ جعفریہ) قبول کرلیا۔ لیکن اپنے مذہب کی تبدیلی کے بارے میں درخواست کی کہ اسے پبلک نہیں کیا جائے۔
جس وقت یہ معاملہ میڈیا پر آیا اسرائیل ، یہودی کمیونٹی یا امریکا کی طرف سے  نہ  تو اسے مسترد کیا گیا اور نہ  ہی اس بارے میں کوئی موقف اپنایا گیا۔ البتہ کچھ اسرائیلی اخباروں میں بہت زور و شور سے اس کا تذکرہ کیا گیا۔ چند سال  قبل میں نے میڈیا پر جو ریسرچ کی اب اکثر لنک بھی ہٹا دیے گئے ہیں۔ کچھ لنکس البتہ موجود ہیں چیک کیے جا سکتے ہیں اور معلوم نہیں کب یہ بھی بلاک کردیے جائیں۔چالیس سے زائد خطوط لندن میں سیکرٹ سیفٹی باکس میں ابھی بھی موجود ہیں۔ بقول ڈاکڈر مہدوی 300 ملین ڈالرز کی خطیر رقم خرچ کرنے کے بعد یہ خطوط انہیں دکھائے گئے اور ہینڈرائٹنگ کمپوٹرائزڈ طریقہ سے جانچنے کے بعد کلئیر ہوگیا کہ آئن سٹائن کی ہینڈ رائٹنگ اور ایران میں موجود لیٹرز کی رائٹنگ ایک جیسی ہے۔
آئن سٹائن، آیتہ اللہ بروجردی، ڈاکڈر حسیبانی میں سے کوئی بھی اس دنیا میں موجود نہیں۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس بات میں کتنی حقیقت ہے۔ حقیقت سے پردہ اسی صورت اٹھ سکتا ہے جب یہ لیٹرز جو سیکرٹ سیفٹی باکس میں موجود ہیں پبلک کیے جائیں اور ایسا شاید صیہونی طاقتیں کبھی بھی نہیں چاہیں گی۔
Einstein in 1954 in a letter to Ayatollah Al-Sayid Udzma Hossein Boroujerdi, a large Shiite Marji at the time, stated, “After 40 times to establish contact with your correspondence (Ayatollah Boroujerdi), I now accept the religion of Islam and Shiite sects 12th Imam. ” In his paper, Einstein called the description of the travels of Imam Ali Miraj Prophet bodily into heaven and nature of angels who only performed within a few seconds as the explanation of Imam Ali as the most valuable. When the Zionist media trying to prevent the increasing number of new adherents to Islam in Western societies and trying to tarnish the image of peace-loving religion and justice, it was revealed a confidential letter of Albert Einstein, German scientist inventor of the theory of relativity to show that they are adherents of Twelver Shia Islam. Based on the report site Mouood.org, Einstein in 1954 in a letter to Ayatollah Al-Sayid Udzma Hossein Boroujerdi, a large Shiite Marji at the time, stated, “After 40 times to establish contact with your correspondence (Ayatollah Boroujerdi), now I get religion 12 Shiite sect of Islam and the Imam “. Einstein in a letter that explains that Islam is more primary than all other religions and call it a religion of the most perfect and rational. Stressed, “If the whole world trying to make me upset with this sacred belief, surely they would not be able to do so even if only to whip out a speck of doubt to me.” Einstein in his last paper titled Die Erklarung (Declaration) written in 1954 in the United States in German reviewed the theory of relativity through the verses of the Quran and sayings of Imam Ali bin Abi Talib as in the book Nahjul Balaghah. In his paper, Einstein called the description of the travels of Imam Ali Miraj Prophet bodily into heaven and nature of angels who only performed within a few seconds as the explanation of Imam Ali as the most valuable. One of the traditions that became tradition rests is narrated by Allamah Majlisi about physical ascension of the Prophet. It said, “When lifted off the ground, clothes or feet of the Prophet touched a vessel of water that causes water to spill. After the Prophet returned from physical ascension, after going through various times, he saw the water still in a state spilled on the ground. “Einstein saw this tradition as a treasure of knowledge which are very expensive, because it explains the scientific capability of the Shia Imam in the relativity of time. According to Einstein, mathematical formulas bodily resurrection is inversely proportional to the famous formula “relativity of matter and energy.” E = M.C ²>> M = E: C ² This means that although our bodies turn into energy, he can return the original tangible, alive again. In his letter to Ayatollah al-Uzma Boroujerdi, as a tribute he always uses the word call “Boroujerdi Senior”, and to encouraging the spirit of Prof.. Hesabi (physicist and Einstein was the only student from Iran), he uses the word “Hesabi noble.” The original manuscript of this treatise is still stored in a secret London safety box (at the place where Prof. Ibrahim Mahdavi), for security reasons. Minutes are purchased by prof. Ibrahim Mahdavi (live in London) with the help of one member of the firm Benz carmaker worth 3 million dollars from a Jewish antiquities dealer. Einstein’s handwriting on all pages of the booklet had been checked through a computer and proved by experts manuscript.
http://www.aparat.com/v/dBZNM
http://www.azarmehr.info/…/einstein-was-shiite-muslim.html
https://www.haaretz.com/iranian-cleric-einstein-was…(Israeli newspaper link removed)
http://www.aei.org/publica…/did-einstein-convert-to-islam/
https://www.shia-news.com/fa/news/34784/ارتباط-البرت-انیشتین-با-آیت-الله-بروجردی
https://brightsblog.wordpress.com/2014/03/09/iranian-cleric-albert-einstein-was-shiite-muslim/?fbclid=IwAR0UDCg3cPqlChH0K2js4Azr3hgvE2oxg0NY4YGuNAIqt1in4tCM6at_8r8
http://mouood.org/?fbclid=IwAR28CQ6_bckKF8y9rn5ytW7eteO5g67qddtfvUu78KOiu9fqa2k_wo0WmY4

Avatar
محمد کمیل اسدی
پروفیشن کے لحاظ سے انجنیئر اور ٹیلی کام فیلڈ سے وابستہ ہوں . کچھ لکھنے لکھانے کا شغف تھا اور امید ھے مکالمہ کے پلیٹ فارم پر یہ کوشش جاری رہے گی۔ انشا ء اللہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 6 تبصرے برائے تحریر ”کیا آئن سٹائن شیعہ تھا ؟۔۔۔محمد کمیل اسدی

  1. اس میں کوئی شک نہیں کہ جب عباسی دور میں وسطی ایشیا کے کچھ علاقے فتح ہوئے اور وہاں سے مسلمانوں نے کاغذ بنانے کا فن سیکھا تو جہاں اپنی تاریخ اور احادیث کو کتابی شکل میں محفوظ کیا وہیں عباسی بادشاہ مامون الرشید نے دارالترجمہ قائم کر کے یونانی اور یندوستانی علوم کتب کی شکل میں جمع کئے۔ عقلی علوم کی پیشرفت میں شیعوں اور معتزلہ کا کردار بہت اہم رہا مگر امام غزالی کی طرف سے فلسفہ اور ریاضی کے خلاف کفر کے فتوے اور اسکے بعد آل بویہ اور خلافت فاطمیہ کے کٹر سنیوں کے ہاتھوں زوال نے یہ پیشرفت روک دی۔
    اب آئن سٹائن کو شیعہ بنانے کا مقصد اس احساس کمتری سے نکلنا ہے جو کئی صدیوں سے سائنس میں کچھ نہ کرنے اور جدید دنیا کی تعمیر میں کوئی کردار ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے شیعوں کے دامن گیر ہے۔
    یہ شوشا سب سے پہلےآیت اللہ بروجردی کے پوتے نے چھوڑا ۔ اس کے ثبوت کے طور پر وہ کوئی دستاویز نہ دکھا سکے۔ آئن سٹائن کا کوئی خط آیت اللہ کے گھر والوں نے محفوظ نہ رکھا۔ ڈاکٹر حسابی بھی کوئی نمایاں سائنسدان نہیں نہ انکی کوئی علمی حیثیت ہے۔ انکے گھر والوں نے بھی اس عظیم سائنسدان، جس کی علمی عظمت اسکے مقالوں کی وجہ سے ساری دنیا مانتی تھی، اسکے خطوط کا کوئی نسخہ حسابی میاں کے خاندان نے محفوظ نہ رکھا۔ بہانہ یہ ہے کہ شاہ نے وہ خطوط ضائع کئے، جبکہ اس ضائع کئے جانے کا کوئی ثبوت اور تاریخ اور دن وغیرہ نہیں دیئے جا سکے۔ مزے کی بات ہے کہ آیت اللہ بروجردی شاہ کے خلاف بھی نہ تھے اور علما کے سیاست میں پنگے لینے کی مخالفت کرتے تھے۔ انکا اور آیت اللہ خمینی کا اختلاف کوئی چھپی بات نہیں۔ پھر شاہ اپنے حمایتی عالم کو اس اعزاز سے کیوں محروم رکھتا کہ اس کی طرف لکھے گئے آئن سٹائن کے خطوط تاریخ سے چھپانے کی کوشش کرتا۔ شاہ تو اسکو ایران کا فخر سمجھتا اور اس بات کا ڈھنڈورا پیٹتا!!
    بہر حال اس بڑھک کو، راوی کی صحت پر اعتبار کرتے ہوئے دو مراجع تقلید، آیت اللہ گلہائگانی اور آیت اللہ سبحانی، نے بھی اپنی گفتگو میں نقل کیا۔ ان بزرگوں کویہ علم نہیں کہ آج کے زمانے میں سچ تک رسائی محض راوی کی صحت کی محتاج نہیں بلکہ سچ کے آثار بھی محفوظ رہتے ہیں۔ یہی غلطی مجلس خبرگان کے سابقہ سربراہ مرحوم آیت اللہ مہدوی کنی نے کی۔
    اگر آئن سٹائن شیعہ ہوجاتا تو مغرب کو یہ بات چھپانے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اسکے یہودی ہونے سے کتنے لوگوں نے عیسائیت ترک کر کے یہودیت اختیار کی ہے؟ علمی دنیا میں ڈاکٹر عبدالسلام کا مقام بھی بہت بڑا ہے۔ وہ خود کو مسلمان کہتے تھے۔ ان کو تیسری دنیا کا آئن سٹائن کہا جاتا ہے۔ وہ عام نوبل انعام یافتگان سے بلند مقام رکھتے ہیں جس کی وجہ انکے اعلی پائے کے مقالے ہیں۔ کیا مغرب نے انکو یہودی یا عیسائی ظاہر کرنے کی کوشش کی؟
    آئن سٹائن کے نظریات اسکی کتب اور مقالوں میں واضح لکھے ہوئے ہیں۔ وہ خدا کے یہودی تصور کو بھی نہیں مانتا تھا۔ اور اسکی تھیوری کا معراج سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ جو علما اسکی تھیوری کو معراج سے جوڑتے ہیں انکو اسکی تھیوری کی سمجھ نہیں آئی کیونکہ ریاضی اور فزکس نہیں پڑھے۔ معراج پر اگر سائنس لگائی جائے تو جو نتائج نکلتے ہیں انکو بیان کرنے والے پر توہین رسالت کا مقدمہ درج ہو جائے گا۔
    پھر آپ نے لکھا کہ کسی نے سو ملین ڈالر خرچ کر کے اس بکسے تک رسائی حاصل کی جہاں آئن سٹائن کے خطوط پڑے ہیں مگر انکی کاپی کرنے یا موبائل سے تصویر بنانے کا نہ سوچا؟ اور مزے کی بات ہے کہ ایرانیوں نے تو وہ خطوط ضائع کئے مگر امریکیوں نے انکو سو ملین ڈالر کے ٹکٹ پر محفوظ رکھا ہوا ہے؟
    ہم کب تک ہوائی قلعے تعمیر کریں گے؟

    1. سب سے پہلے شکریہ کہ آپ نے اپنی رائے سے نوازا۔ اور امید ہے کہ آئندہ بھی نوازتے رہیں گے۔
      “اب آئن سٹائن کو شیعہ بنانے کا مقصد اس احساس کمتری سے نکلنا ہے جو کئی صدیوں سے سائنس میں کچھ نہ کرنے اور جدید دنیا کی تعمیر میں کوئی کردار ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے شیعوں کے دامن گیر ہے۔”
      آپ کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔ ماضی کے اکثریت مسلمان سائنسدانوں میں اعلٰی پائے کے شیعہ سائنسدانوں کی فہرست میں نے مہیا کردی ہے۔ جس کا مطلب یہی ہے کہ ماضی میں سائنس و ٹیکنالوجی میں ایک کلیدی کردار ادا کیا گیا ہے۔
      جدید دنیا کی تعمیر میں تمام مسلمان (صرف شیعہ نہیں بشمول شیعہ وسنی و دیگر) ایک ہی کٹہرے میں کھڑے کئے جا سکتے ہیں کہ کسی کا بھی کوئی مثبت کردار نہیں رہا۔
      23 مارچ 2019 کو امریکہ نے ایران کے 31 جوہری سائنسدانوں کو بلیک لسٹ کیا ہے۔ ایران اس میدان میں کافی محنت کررہا ہے۔ صرف اس بات کو نہیں دیکھیں کہ بین الاقوامی میڈیلز کسے دئیے گئے۔ کچھ چہرے پس پردہ بھی ہیں۔
      ایک عشرہ پہلے ہی یہ بات سامنے لائی گئی ہے اب یا ان لیٹرز کے پبلک ہونے کا انتظار کیا جائے یا قدرت کی طرف سے انتظار کیا جائے کہ کب یہ گتھی سلجھائی جاتی ہے۔
      میں نے بھی حتمی رائے نہیں دی۔ ایک انفارمیشن سب تک پہنچائی ہے کہ ایک عشرہ سے معاملہ کس طرح چل رہا ہے۔
      موخرالذکر یہودی لابی اتنی سیدھی سادھی بھی نہیں ۔ یہ آپ کا خیال ہے کہ اس کے مسلمان (شیعہ) ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جب کہ میرا یہی خیال ہے کہ یہودیت کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ آنے والی نسل کے لئے اس مذہب کی طرف مائل ہونے اور تحقیق کرنے کا ایک دروازہ کھل جائے گا جو وہ کبھی بھی نہیں چاہئیں گے۔
      شکریہ

  2. Mahmoud Hessaby was an Iranian scientist, researcher and professor of University of Tehran. During the congress on “60 years of physics in Iran” the services rendered by him were deeply appreciated and he was called “the father of modern physics in Iran”.
    Hessaby was not ordinary Sceintist.

  3. آپ نے محض مخالفت برائے مخالفت کر دی اور میری گذارشات پر غور کرنا مناسب نہ سمجھا۔ لکھنے سے پہلے تحقیق کرنے کی عادت ڈالئے۔ ایسا تو ممکن نہیں کہ ساری غلط فہمیوں کو آپ لکھتے رہیں اور کوئی انکی وضاحت کرتا رہے۔
    بالکل جدید علوم میں شیعہ سنی دونوں کا کوئی حصہ نہیں۔ ماضی میں ہمارے بڑوں نے یونان اور ہندوستان میں شروع کئے گئے کام کو آگے بڑھایا تھا، لیکن اس سلسلے کے خاتمے کے بعد یہ علم مغرب کے پاس چلا گیا ہے۔
    ڈاکٹر حسابی جس زمانے میں تھے اس میں ایران سے یورپ جا کر پی ایچ ڈی کرنا اور واپس آ کر پڑھانا ایک بڑا کارنامہ ہے، لیکن سائنس کی پیشرفت میں انکا کوئی نمایاں کردار نہیں۔ اس کو جاننے کیلئے آپکو آنکے معاصر سائنسدانوں کے مقالوں کا ڈاکٹر حسابی کے مقالوں سے موازنہ کر نا اور سائنس کی کتابوں کو دیکھنا ہو گا۔ کسی بات کو ہو بہو نقل کرنے سے پہلے ٹھوس حقائق کو جاننا بہت ضروری ہوتا ہے۔
    رضا شاہ اور اسکے بیٹے محمد رضا شاہ کی شہنشاہت کے دوران ایران میں جدید تعلیمی ادارے قائم ہوئے جن کو انقلاب نے بھی باقی رکھا ہے۔ اسکے نتیجے میں اب ایران میں سائنس کے میدان میں کام ہو رہا ہے۔ نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں تو ایران پاکستان سے بھی پیچھے ہے لیکن باقی میدانوں میں اسرائیل اور ترکی کا ہم پلہ ہو چکا ہے۔ لیکن ابھی بھی سویڈن، ڈنمارک اور ناروے جیسے چھوٹے یورپی ممالک کے قریب نہیں پہنچا۔ دو ایرانی ریاضی میں فیلڈ میڈل لے چکے ہیں جو ریاضی میں نوبل پرائز جیسا اعزاز ہے۔ کسی نے انکو یہودی ظاہر کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ یہودیوں اور مسیحیوں کے پاس ہزاروں بڑے نام ہیں انکو ہماری طرح جھوٹ بول کر اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
    یہودی لابی کے بارے میں بھی آپ نے محض مذمت اور جذباتی باتیں سن رکھی ہیں۔ یہودی لابی اتنی بیوقوف نہیں بھائی، اپنے جیسا نہ سمجھیں۔ اور یہودی لابی مغرب میں اقلیت کے سیاسی مفادات کا تحفظ کرتی ہے، لیکن وہ اکثریت سے طاقتور نہیں۔ علما کو تو تحقیق اور سچ بولنے سے زیادہ پروپیگنڈے کی عادت ہے اور وہ بھی صحیح طرح نہیں کر سکتے۔ انکی باتوں پر تحقیق کے بغیر ایمان نہ لایا کریں۔ جھوٹ انکا اسلحہ ہے۔
    آئن سٹائن مذہبی آدمی نہیں تھا۔ اب بھی یہودیوں کی نوے فیصد سے زیادہ آبادی ملحد ہے۔ یہ بات کہ اسکو شیعہ ماننے سے یہودیت کی بنیادیں ہل جاتیں بھی جہالت اور ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ صیہیونزم قوم پرستی اور مذہب بیزاری کی تحریک تھی جس نے سو سال قبل ہی یہودی مذہب کی بنیادیں ہلا دی تھیں۔
    ابھی جن دو ایرانیوں کو ریاضی کا فیلڈ میڈل ملا ہے تو کیا اس سے یہودیت کی بنیادیں ہل گئیں؟
    آرام سے ان باتوں پر غور کریں۔

  4. Avicenna J Med Biotechnol. 2017 Apr-Jun; 9(2): 1.
    PMCID: PMC5410129
    PMID: 28496943
    Research in Iran: An Overview
    Shahin Akhondzadeh, Ph.D., FBPharmacolS , Editor in Chief
    Copyright and License information Disclaimer
    Islamic Iran, on the Horizon of the 2025 Outlook Document, should obtain first regional rank in economic, social, scientific, and cultural domains. Country’s noticeable growth in scientific production and dynamic movement of Iranian scientists and specialists in scientific frontiers resulted in the country earning first rank in regional scientific production, leaving behind Turkey, in the year 2011, 14 years ahead of the Horizontal Outlook prediction. In the year 2016, Iran, with publication of 51187 articles in the Scopus database, acquired 16th world-wide ranking. In the same year, citation to the Iranian articles was 28965, has achieved 18th international ranking and 1st regional ranking. Overall, Iran, in the year 2016, has been responsible for an equivalent of 1.7% of the world’s total scientific production. Certainly, preserving Iran’s scientific growth trend is an important and fundamental subject and should consistently be brought to attention and consideration of government officials and policy makers in the research arena. There is no doubt; this support should include both basic and clinical studie

  5. بھائی میں نے اوپر اس بات کا خود ذکر کیا ہے کہ ایران میں رضا شاہ کے دور سے جدید سائنسی تحقیق ہو رہی ہے۔ دنیا میں ہونے والی تحقیق میں ایران کا حصہ بھی ہے۔ آپکی طرف سے انگریزی کی خبر کو کاپی پیسٹ کرنا ایک فضول حرکت ہے۔ میں نے ایران میں سائنسی کام ہونے سے انکار نہیں کیا۔ مخالفت برائے مخالفت چھوڑ کر میرا شکریہ ادا کریں۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *