حسین احمد شیرازی،قومی ہیرو بحیثیت مزاح نگار۔۔۔۔صفی سرحدی

معروف مزاح نگار اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مکمل کرانے میں انتہائی اہم کردار ادا کرنے والے گمنام ہیرو حسین احمد شیرازی اہم بیوروکریٹ رہے ہیں۔ 1975 میں جب پاکستان نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تو ان دنوں حسین شیرازی چکلالہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر اسسٹنٹ کسٹم کلکٹر تھے کہوٹہ ایٹمی پراجیکٹ کا ضروری سامان دنیا بھر سے ان کی موجودگی میں آتا رہتا تھا۔ حسین شیرازی اس بہت بڑے قومی اثاثے کے راز داں رہے جس کے لئے انہوں نے ہمیشہ خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ لیکن محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس گمنام ہیرو کی خدمات کا انکشاف کرکے انہیں قوم کی نظروں میں ہمیشہ کے لیے بلند کر دیا ہے۔
ایٹمی پروگرام کے حوالے سے انکی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر قدیر خان نے اپنے کالم میں لکھا ہے۔

شیرازی صاحب کو میں ایک فرض شناس کسٹم آفیسر کی حیثیت سے جانتا ہوں جنہوں نے اپنے منصب اور ذمہ داریوں کو نہایت ایمانداری اور احسن طریقہ سے انجام دیا۔ شیرازی صاحب جس طرح 1976 میں مجھے نظر آئے تھے ماشاء اللہ بالکل اسی طرح ہیں، وہ سبک بدن اور چُستی اور وہی مسکراتا چہرہ۔ میں نے 1976 میں کہوٹہ پروجیکٹ کی بنیاد ڈالی تو احساس تھا کہ ہمیں وقت کے خلاف ریس جیتنی ہے کیونکہ اگر مغربی ممالک کو اس پروگرام کی ہوا لگ جاتی تو وہ سخت پابندیاں عائد کردیتے اور ہمارے لئے اہم سامان درآمد کرنا ناممکن ہوجاتا۔ جب کسی اہم، بڑے پروجیکٹ پر کام شروع کیا جاتا ہے تو باہر سے سامان کی درآمد بہت ہی اہم کارروائی ہوتی ہے۔ میں تقریباً 15 برس یورپ میں رہا تھا اور بہت بڑی اہم کمپنی میں کام کیا تھا اور لاتعداد بڑی بڑی اہم کمپنیوں اور انکے اعلیٰ عہدیداروں سے قریبی تعلقات رہے تھے۔ ہمیں ایٹمی پروگرام کیلئے سامان کی درآمد کیلئے کسی قابل اعتبار لوگوں کی ضرورت تھی۔ ہمارا پورا سامان فنّی نوعیت کا تھا۔

اس وقت ایئر پورٹ پر کسٹم کے انچارج کلکٹر جناب حسین احمد شیرازی تھے، جو ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں۔ کام میں ماہر، ذرا سا غلط کام نہ کرنیوالے۔ میں نے چارج لیتے ہی بہت تیزی سے سامان آرڈر کرنا شروع کردیا اور کوشش یہی کی جو سامان بھی بذریعہ پی آئی اے آسکے وہ اس کے ذریعہ جلد از جلد منگوا لیا جائے۔ اس کی اجازت میں نے صدر غلام اسحاق خان مرحوم سے لے لی تھی اور وجہ بتادی تھی۔ ہمارا سامان ڈیفنس اسٹور کی آڑ میں آرہا تھا۔ چند دن بعد میرے افسر میجر صدیق نے آکر بتایا کہ ایئرپورٹ پر کسٹم آفیسر شیرازی صاحب بضد ہیں کہ سامان کھول کر چیک کریں گے یہ اس وقت غالباً اسسٹنٹ کلکٹر تھے، تیز، طرّار، اُڑتا کوّا پکڑنے اور سرپٹ گھوڑے پر کود کر سواری کے جذبات سے پُر تھے۔ کسٹم کے بارے میں مشہور ہے ہاتھی نکال دیتے ہیں اور صرف دُم پکڑ لیتے ہیں اور توپ نکل جاتی ہے لیکن پلاسٹک کا پستول پکڑ لیا جاتا ہے۔ شیرازی صاحب نے توپ کا معائنہ توپ خانے میں اور ہاتھی کا معائنہ چڑیا گھر میں خود جاکر کیا۔

ہمارا دفتر چونکہ ائیرپورٹ سے ملحقہ ہی تھا میں نے میجر صاحب سے کہا کہ ان سے درخواست کریں کہ وہ یہاں آکر سامان چیک کرلیں، حساس سامان ہے وہاں کھلوانا مناسب نہیں ہے۔ شیرازی صاحب سامان کے ساتھ آگئے اور ایک ایک بکس کھلوا کر چیک کرنے لگے۔ اس وقت صدر کے مشیر سکیورٹی برائے ایٹمی پروگرام جنرل سید علی ضامن نقوی مجھ سے ملنے آگئے اُنہوں نے شیرازی صاحب اور سامان کو دیکھ کر پوچھا یہ کیا ہورہا ہے۔ میں نے کہا کسٹم آفیسر ہیں شک ہے کہ ہم اسمگلنگ میں تو ملوث نہیں۔ جنرل نقوی کا چہرہ غصے  کا اظہار کرنے لگا اور انہوں نے شیرازی صاحب سے کہا آپ اس معاملہ سے دور رہیں اور آئندہ اس پروجیکٹ کے سامان کے بارے کچھ پوچھ گچھ نہ کریں۔

بات خوش اسلوبی سے ختم ہوگئی اور اس وقت سے شیرازی صاحب اور میں پیارے دوست ہیں۔ میں نے دیکھا کہ ان کا مزاج دوسرے افسران سے بالکل مختلف تھا بعد میں یہ عقدہ کھلا کہ جو شخص دن رات طنز و مزاح کے بارے میں مگن ہو وہ کس طرح بدمزاج ہوسکتا ہے۔ شیرازی صاحب نے کئی برس ہماری بے حد مدد کی۔ ہمارا سامان وہ جلد کلیئر کردیتے تھے۔ جب تک شیرازی صاحب اسلام آباد ایئرپورٹ پر تعینات رہے تو تمام ”اسمگلنگ“ کی ذمہ داری نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے۔

مزاح نگاری میں حسین شیرازی کا سفر کیسے شروع ہوا اور انہیں مزاح نگاری میں شناخت کیسے ملی اس بارے میں حسین شیرازی بتاتے ہیں۔

مجھے کتابیں اور رسائل پڑھنے کا شوق تو بچپن ہی سے تھا لیکن لکھنے کے حوالے سے پہلی کاوش ایک غزل تھی جو کالج کے زمانے میں کسی جریدے میں شائع ہوئی تھی۔ میں خاصا پڑھا طالبعلم تھا بی اے میں پنجاب یونیورسٹی سے گولڈ میڈل ملا اور ایل ایل بی میں پنجاب یونیورسٹی میں میری دوسری پوزیشن تھی۔ شاید اس حوالے سے میرے اُردو کے استاد پروفیسر عاشق محمد غوری مجھ پر خصوصی شفقت فرماتے تھے۔ میں نے جب اپنی غزل ان کی خدمت میں پیش کی تو انہوں نے پڑھنے والی عینک آنکھوں سے ہٹا کر ماتھے اور سر کی درمیانی سرحد پر رکھ لی۔ کچھ توقف کے بعد فرمایا’’حسین احمد غزل تو بہت اچھی ہے لیکن اس قافیہ ردیف والی شاعری سے بہتر ہے کہ تم مزاح لکھا کرو‘‘ میرے اس نئی دنیا سے ناواقفیت کے اظہار پر رہنمائی کی کہ یہ جو کلاس میں رنگ برنگی گفتگو کرتے رہتے ہو، اسے کاغذ پر منتقل کر دو، یہی طنزو مزاح ہے۔ عاشق محمد غوری صاحب نے پچھلی صدی کی تیسری دہائی میں ایم اے (اُردو) ،ایم اے (فارسی) اور ایم اے (انگریزی) کیا تھا اور وہ اردو ادب میں پیروڈی نگاری کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ ان کی تحریک پر میں نے رجب علی بیگ سرور کی مقفّٰی اور مسجّٰی اردو کی پیروڈی کے انداز میں اپنا پہلا مضمون ’’جدید قصہ چہار درویش‘‘ لکھا اور کالج کے میگزین والے ڈبّے میں ڈال دیا۔ ان دنوں ناصر زیدی اس رسالے کے مدیر تھے۔ چند دن بعد نوٹس بورڈ پر اطلاع تھی کہ اس مضمون کا مصنّف ادبی رسالے کے مدیر سے ملے۔ ناصر زیدی سے ملاقات ہوئی تو ان کا پہلا سوال تھا کہ یہ مضمون کہاں سے نقل کیا ہے کیونکہ کالج کا طالبعلم اس پائے کا مضمون نہیں لکھ سکتا۔ میں نے میز پر پڑے کاغذ کو اٹھا کر اسی وقت اسی انداز میں اپنی اس ملاقات کا احوال لکھ دیا! بہرکیف اداریے میں بڑی تعریف و توصیف کے ساتھ وہ مضمون کالج کے میگزین میں چھپ گیا بلکہ بعد ازاں مجھے پتہ چلا کہ کالج میگزین کی پچیس سالہ اشاعتی تاریخ کے انتخاب میں بھی وہ مضمون شامل تھا۔

حسین شیرازی نے مزاح نگاری میں جن اساتذہ کو پڑھا، ان میں نظیر اکبر آبادی، اکبر الہٰ آبادی، ڈپٹی نذیر احمد، رتن ناتھ سرشار، پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی، ضمیر جعفری، میرے استاد پیروڈی نگار پروفیسر عاشق محمد غوری، کنہیا لال کپور، شوکت تھانوی، ضمیر جعفری، شفیق الرحمن، مشتاق احمد یوسفی اور عطاء الحق قاسمی کے نام شامل ہیں۔

حسین شیرازی نے اپنی جاندار مزاح نگاری سے بڑے بڑے ناموں کو متاثر کیا ہے جن میں ایک بہت بڑا نام مشہور زمانہ مزاح نگار شفیق الرحمان کا ہے۔ 1983 میں آل پاکستان طنز و مزاح کانفرنس کے موقع پر حسین شیرازی نے اپنا مضمون “لوٹ کے بدھو گھر سے آئے” پڑھا۔ چائے کے وقفے کے دوران کانفرنس کے مہمان خصوصی شفیق الرحمان خود حسین شیرازی کے پاس چل کر آئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں “نیرنگ خیال” کے مدیر “سلطان رشک” کے پاس لے گئے۔ اور ان سے کہا رشک صاحب، آئندہ اپنے رسالے میں شائع کرنے کے لیے مضمون کے تقاضے کا فون مجھے کرنے کے بجائے شیرازی صاحب کو کیا کریں۔

حسین شیرازی اپنی منفرد کالم نگاری کے حوالے سے بھی مشہور ہیں۔ 1996 میں جب نامور مزاح نگار ضمیر جعفری مرحوم اسلام چھوڑ کر جا رہے تھے تو انہوں نے حسین شیرازی کو اُس اخبار میں کالم لکھنے کیلئے کہا تھا جسے وہ چھوڑ کر جا رہے تھے حسین شیرازی نے ضمیر جعفری صاحب سے کالم نگاری سے اپنی اجنبیت کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ جو پچھلے آدھے گھنٹہ سے آپ گفتگو فرما رہے ہیں، اسے کاغذ پر منتقل کر دیں، یہی اخبار کا کالم ہے!

حسین شیرازی نے ادب کی محبت میں 2006 میں ڈائیریکٹر جنرل کی حیثیت لارج ٹیکس پئیرز یونٹ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو لاہور سے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے تھی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد حسین شیرازی صاحب لاہور کارپوریٹ سیکٹر میں بطور قانون دان خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ جبکہ سرکاری ملازمت میں جانے سے پہلے بھی وہ وکالت کیا کرتے تھے۔ شیرازی صاحب نے تین کتابیں لکھیں ہیں۔ ایک اردو میں انکی مزاحیہ ادب پاروں پر مشتمل کتاب بابو نگر دور حاضر میں عمدہ مزاح کی سند کا درجہ رکھتی ہے۔ اب تک” بابو نگر” کے تین ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ جبکہ انکی دوسری کتاب Sales Tax case, Law of pakistan (2001) اور تیسری کتاب Customs Case-Law of pakistan (1998) جو کہ سات جلدوں اور 10 ہزار دو سو باسٹھ صفحات پر محیط ہے۔ جو کتاب فیڈرل بورڈ آف ریونیو اسلام آباد اور مقتدرہ قومی زبان نے شائع کی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *