جب پینسٹھ کی جنگ شروع ہوئی۔۔۔آصف جیلانی

گو  پچاس سال سے زیادہ گزر گئے لیکن وہ دن اب بھی ایسے یاد ہیں جیسے کل کی بات ہو کہ کس تیزی سے ہندوستان اور پاکستان، یکے بعد دیگرے واقعات اور ان سے جڑے اثرات کے نتیجہ میں، سنگین مضمرات اور نتائج سے بے خبر، زمین سخت آسمان دور کے مصداق بھر پور جنگ کی مہلک دلدل میں دھنستے جارہے تھے۔وہ لوگ جو تاریخ کے واقعات کو ایک دوسرے پر اثر انداز محرکات اور ایک دوسرے سے جڑی کڑیوں کی صورت میں دیکھتے ہیں ان کے نزدیک پچاس سال قبل اگست کے مہینہ میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں پاکستان کا جبرالٹر آپریشن دراصل ملک کو دو لخت کرنے کامحرک اوّل ثابت ہوا تھا۔

تاریخ کا اس نظر سے تجزیہ کرنے والوں کے نزدیک جبرالٹر آپریشن پاکستان کی تاریخ کا مہلک باب تھا۔
اس آپریشن کے نتیجہ میں ستمبر 1965کی جنگ کی آگ بھڑکی اور جب اس جنگ کے دوران ایک ہزار میل دور ملک کے دوسرے حصے کے عوام نے اپنے آپ کو غیر محفوظ اور غیرمتعلق محسوس کیا تو اس احساس نے بنگلہ دیش کے تحریک کے بیج بوئے اور اس کے نتیجے  میں بنگلہ دیش کے بحران اور سن 71 کی جنگ نے آخر کار ملک کو دو لخت کر دیا۔
میں اس زمانہ میں سرحد کے اس پار دلی میں جنگ گروپ کے اخبارات کے نامہ نگار کی حیثیت سےتعینات تھا۔
اگست سن 65 کے پہلے ہفتہ سے جنگ کے بادل اسی وقت سے چھانے شروع ہو گئے تھے جب ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کے نام سے چھاپہ مار کارروائی اپنے عروج پر تھی۔ حکومت پاکستان کا اصرار تھا کہ یہ کشمیری ’حریت پسندوں‘ کی کارروائی ہے لیکن ہندوستان کی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ چھاپہ مار پاکستان کے فوجی ہیں جو جنگ بندی لائین پار کر کے آرہے ہیں۔
اگست کے دوسرے ہفتہ میں دلی میں یہ کہا جا رہا تھا کہ اب آپریشن جبرالٹر کا دوسرا مرحلہ آپریشن مالٹا کے نام سے شروع ہوا ہے جس کے تحت بڑے پیمانے پر پاکستان کی فوج نے مداخلت شروع کی ہے۔
16اگست کو دائیں بازو کی ہندو قوم پرست جماعت جن سنگھ نے جس کے بطن سے موجودہ بھارتیا جنتا پارٹی نے جنم لیا ہے، دلی میں عام ہڑتال کا اہتمام کیا تھا اور ایک لاکھ سے زیادہ مظاہرین نے جو ملک کے مختلف علاقوں سے آئے تھے بقول ان کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی بودی پالیسی کے خلاف پارلیمنٹ تک جلوس نکالا۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ کشمیر میں مبینہ دراندازوں کے حملے روکنے کے لیے پاکستان پر حملہ کیا جائے۔
بلاشبہ لال بہادر شاستری کو اس وقت چو مکھی دباؤ کا سامنا تھا۔ ایک طرف ان پر سیاسی مخالفین کا دباؤ تھا دوسری طرف فوج ان پر شکنجہ کس رہی تھی۔
میں دلی میں پارلیمنٹ سے پتھر کی مار کے فاصلے پر رائے سینا ہوسٹل میں رہتا تھا۔ اس ہوسٹل میں زیادہ تر صحافی، آل انڈیا ریڈیو کے براڈکاسٹر اور اعلیٰ سرکاری افسر رہتے تھے۔ اسی ہوسٹل سے ملحق پریس کلب تھا۔
یہ 20 اگست کی بات ہے مشہور بین الاقوامی انقلابی ایم این راؤ کی تحریک کے ترجمان جریدہ ’تھاٹ‘ کے نائب مدیر این مکرجی جو غالباً کافی دیر سے پریس کلب میں بیٹھے تھے میرے کمرے میں آئے۔ وہ چہرے سے سخت الجھن میں گرفتار اور باتوں سے پریشانی کا شکار نظر  آرہے تھے۔ ۔

میں نے پوچھا خیریت تو ہے؟ کہنے لگے حالات نہایت خطرناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور اس بات کا سخت خطرہ ہے کہ فوج اقتدار پر قبضہ کر لے۔ پھر خود ہی انہوں نے بتایا کہ انہیں بے حد باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صبح کابینہ کے اجلاس میں ہندوستان کی بَری فوج کے سربراہ جنرل جے این چودھری نے شرکت کی تھی اور خبر دار کیا تھا کہ رن آف کچھ کے معرکے میں شکست کے بعد ہندوستانی فوج کے حوصلے بہت پست ہیں اور فوج کے حوصلے بڑھانے کے لیے پاکستان کے خلاف بھر پور فوجی کارروائی لازمی ہے۔ مکر جی صاحب کا کہنا تھا کہ جنرل چودھری نے صاف صاف الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر پاکستان کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو ملک کی سیاسی قیادت کے لیے اس کے نتائج خطرناک ہوں گے جس کے وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

مکر جی صاحب کا کہنا تھا کہ یہ مرحلہ ہندوستان میں جمہوریت کے لیے کٹھن آزمائش کا ہے۔اب یہ واضح ہے کہ لال بہادر شاستری چوبیس اگست کو اس نتیجہ پر پہنچ گئے تھے کہ کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کے جواب میں ہندوستان کو پاکستان کے خلاف بھر پور فوجی کارروائی کرنی ہوگی جب انہوں نے لوک سبھا میں اعلان کیا کہ کشمیر میں پاکستان کے در اندازوں کو روکنے کے لیے ہندوستانی فوج جنگ بندی لائین کے پار کارروائی سے دریغ نہیں کرے گی۔

اس اعلان کے دوسرے دن لائین آف کنٹرول کے آر پار لڑائی بھڑک اٹھی۔ یکم ستمبر کا دن میں نہیں بھول سکتا۔ رائے سینا ہوسٹل میں ایسا لگتا تھا کہ سب نے ریڈیو پاکستان لاہور لگا رکھا تھاجس پر یہ اعلان ہوا کہ ’آزاد کشمیر‘ کی فوجوں نے پاکستانی فوج کی مدد سے چھمب پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس وقت ہوسٹل اور آس پاس اراکین پارلیمنٹ کے بنگلوں اور پارلیمنٹ کے اردگرد پورے علاقہ میں ایک عجب قسم کی خاموشی چھا گئی کہ سوئی بھی زمین پر گرے تو سب اس کی آواز سن لیں۔ ریڈیو پاکستان پر قومی اور فوجی نغمے نشر ہو رہے تھے۔
اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔ اللہ اکبر۔

شام کو پرانی دلی گیا۔ ترکمان گیٹ سے جامع مسجد تک تمام گلیوں میں گھروں میں پان والوں کی دکانوں پر ریستورانوں میں، کبابوں کے ٹھیلوں پر غرض ہر جگہ ریڈیو کھلے ہوئے تھے جن پر لاہور اسٹیشن لگا ہوا تھا اور پوری فضا پاکستان کے نغموں سے گونج رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ دلی نہیں لاہور ہے۔

3ستمبر کو جب لال بہادر شاستری نے اپنی نشری تقریر میں دلی اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں بلیک آؤٹ کا اعلان کیا تو کسی کو شبہ نہیں رہا تھا کہ دونوں ملکوں میں جنگ کا بگل بج گیا ہے۔
5ستمبر کو جب یہ خبر آئی کہ پاکستانی فوج نے جوڑیاں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ اکھنور سے صرف 6 میل دور رہ گئی ہے تو اسی رات کو دیر گئے ہندوستانی فوج نے بین الاقوامی سرحد پار کر کے لاہور کی سمت پیش قدمی کی۔

6 ستمبر کو علی الصبح پاکستان ٹائمز کے نمائندے اسلم شیخ نے گھبرا کر ٹیلی فون کیا۔وہ اور ڈان کے محبوب العالم دلی کی مضافات میں ڈیفنس  کالونی میں رہتے تھے۔ دونوں لوک سبھا کے اجلاس سے پہلے میرے کمرے پر آگئے۔ اس دوران اے پی پی کے نمائندے خلیل بٹالوی بھی جو قریب پٹودی ہاؤس میں رہتے تھے آگئے۔ وہ 20 روز پہلے ہی اپنے بیوی بچوں سمیت دلی آئے تھے۔ ہم نے انہیں یہی مشورہ دیا کہ وہ فوراً بیوی بچوں کو لے کر چانکیہ پوری میں پاکستان کے ہائی کمیشن کی عمارت میں پناہ لے لیں۔

یہ اتفاق تھا کہ چند ماہ قبل پرانے قلعہ کے قریب پرانی فوجی بیرکوں میں بکھرے پاکستان ہائی کمیشن کے دفاتر چانکیہ پوری میں نئی عمارت میں جو ابھی زیر تعمیر تھی منتقل ہو گئے تھے۔
ہائی کمشنر میاں ارشد حسین کو جون سن 65 ہی میں خطرہ تھا کہ اپریل میں رن آف کچھ کے معرکہ میں ہندوستانی فوجوں کی شکست کے بعد ہندوستان، پاکستان کے خلاف انتقامی کارروائی کرے گا۔
ستمبر کی جنگ کے بعد میاں ارشد حسین نے مجھے بتایا تھا کہ در اصل لال بہادر شاستری نے 3 جولائی کو انتقامی حملےکا فیصلہ کیا تھا لیکن بعض وجوہ کی بناء پر ملتوی کر دیا تھا۔
اس ملاقات میں میاں ارشد حسین نے رازداری کے وعدے پر یہ انکشاف کیا تھا کہ نہوں نے 4ستمبر کو دلی میں ترکی کے سفارت خانہ کے توسط سے پاکستان کے دفتر خارجہ کوخبردار کردیا تھا کہ ہندوستان 6 ستمبر کو بین الاقوامی سرحد پار کر کے پاکستان پر حملہ کرنے والا ہے۔

بہرحال صبح ساڑھے دس بجے میں، اسلم شیخ اور محبوب العالم، لوک سبھا پہنچ گئے۔ مارننگ نیوز کے ٹونی مسکرہنس بھی ہانپتے کانپتے وہاں آگئے۔ ہمیں یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ ویت نام، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور سنگا پور اور نجانے کہاں کہاں سے امریکی اور دوسرے غیر ملکی صحافیوں کا سیلاب امڈ آیا ہے۔

وزیر دفاع وائی بی چوان نے لوک سبھا میں اعلان کیا کہ ہندوستانی فوج پنجاب پر پاکستان کے حملے کے خطرہ کے پیش نظر سرحد پار کرکے لاہور سیکٹر میں داخل ہو گئی ہے۔ اس اعلان پر پورے ایوان میں ہر طرف سے تالیوں کا ایسا شور اٹھا کہ جیسے ہندوستان نے جنگ جیت لی ہو۔
اس اعلان کے فوراً  بعدہم سب چانکیہ پوری میں پاکستان ہائی کمیشن کی طرف دوڑے۔ ہم میں سے ایک جہاں دیدہ صحافی نے بالکل مختلف سمت پارلیمنٹ اسٹریٹ میں اپنے بنک کی راہ لی۔ ان کا یہ
اقدام بڑا بروقت اور دانشمندانہ تھا کیونکہ اسی روز سارے پاکستانیوں کے بنک اکاؤنٹ منجمد کر دیے گئے تھے۔

جب ہم پاکستان ہائی کمیشن پہنچے تو وہاں سخت ہل چل مچی ہوئی تھی اور ریڈیو پر ایوب خان کی تقریر سننے کے انتظامات کیے جا رہے تھے۔
ایوب خان کی تقریر کے بعد میاں ارشد حسین نے سب صحافیوں سے کہا کہ اگر وہ باہر اپنی جان کو خطرہ محسوس کریں تو ہائی کمیشن میں پناہ لے سکتے ہیں۔
خلیل بٹالوی تو پہلے ہی اپنے بیوی بچوں سمیت ہائی کمیشن کی عمارت پہنچ چکے تھے۔ ٹونی مسکرہنس اور محبوب العالم نے بھی ہائی کمیشن منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اب رہ رگئے اسلم شیخ اور میں۔ ہم نے کہا کہ صحافی ہوتے ہوئے یہ مناسب بات نہیں ہوگی کہ جنگ کے پہلے ہی دن ہم چانسری کی عمارت میں چھپ کر بیٹھ جائیں۔ چنانچہ ہم ہائی کمیشن سے واپس آگئے۔

دوسرے دن جب ہم لوک سبھا گئے تو دیکھا وزیر دفاع چوان ایوان میں نہیں ہیں۔ ہندوستانی صحافی دوستوں سے پوچھا کہ چوان کہاں ہیں تو ان میں سے کچھ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ لاہور گئے ہیں جہاں وہ جنرل چودھری کے ساتھ ہندوستان کے فتح مند فوجی دستوں کی سلامی لیں گے۔
8ستمبر کی دوپہر کو جب میں اور اسلم شیخ ہائی کمیشن کی عمارت سے نکلے تو ہمیں محسوس ہوا کہ ہمارا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ ہم دو رویہ ہیج میں چھپتے چھپاتے رائے سینا ہوسٹل کے قریب پہنچے تو راستہ میں اخبارات کے ضمیمے فروخت ہو رہے تھے۔ شہہ سرخیاں تھیں ’لاہور فتح ہوگیا- – – اور ہندوستانی فوج کراچی سے پچیس میل کے فاصلے پر پہنچ گئی۔
ہم  حواس باختہ ہو گئے، اسلم شیخ نے سوالیہ انداز سے میری طرف دیکھا اور میں نے اثبات میں سر ہلایا اور ہم نے فیصلہ کرلیا کہ ہم ہائی کمیشن ہی کا رخ کریں۔ اسلم شیخ ہوسٹل میں میرے کمرے میں آئے
اور اپنے ملازم کو ٹیلیفون کیا کہ ایک بیگ میں ان کے کپڑے رکھ دے اور یہ کہہ کر نیچے ٹیکسی لے کر اپنے مکان روانہ ہوگئے۔
اسلم شیخ کے روانہ ہوئے دو منٹ بھی نہیں گزر ے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو دیکھا سی آئی ڈی کے دو افسر کھڑے ہیں انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ چلیے۔ میں نے محسنہ سے کہا کہ تم ہائی کمیشن میں پریس قونصلر انصاری صاحب کو ٹیلی فون کرکے وہاں چلی جاؤ۔

سی آئی ڈی کے افسر مجھے اپنے ساتھ انٹیلی جنس بیورو کے دفتر لے گئے۔ جہاں انہوں نے مجھے انٹرنمنٹ آڈر دیا۔ یہ آرڈر دراصل سن 62 میں چین کے ساتھ جنگ کے دوران تیار کیا گیا تھا جس کے تحت ہندوستان میں رہنے والے چینی باشندوں کو نظر بندی کیمپوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔ مجھے جو حکم دیا گیا تھا اس پر چین کا نام کاٹ کر پاکستان لکھ دیا گیا تھا۔

میں سمجھا کہ اس حکم کے تحت مجھے گھر میں نظربند کر دیا جائے گا لیکن مجھے فوراً تہاڑ جیل لے جایا گیا اور جیلر کے حوالے کر دیا گیا جس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس انٹرنمنٹ آرڈر کے تحت وہ مجھے کس کلاس میں رکھے۔ اتنے میں بلیک آؤٹ کا سائرن بجا۔ جیلر نے ہڑبڑا کر کہا کہ اسے قصوری چکیوں میں ڈال دو۔ مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ یہ قصوری چکیاں کیا ہوتی ہیں۔ جب دور جیل کے ایک کونے میں ایک دروازہ کھٹکھٹا کر مجھے ایک سینئر قیدی‘ کے حوالے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ یہ جیل میں گڑبڑ کرنے والے قیدیوں کو سزا دینے کے لیے قید تنہائی میں رکھنے کے سیلز ہیں۔ان قصوری چکیوں میں بیشتر قیدی قاتل تھے جن کے بیڑیاں لگی ہوئی تھیں او ر وہ سلاخوں کے سہارے کھڑے سو رہے تھے۔ جب مجھے ان چکیوں کی آخری چکی میں لے جایا جارہا تھا تو قصوری چکیوں کے قیدیوں میں ہل چل مچ گئی ان سب نے پوچھا کہ یہ نیا قیدی کون ہے؟ کسی کو کیا معلوم تھا البتہ ایک قیدی نے میری پشاوری چپل دیکھ کر شور مچا دیا کہ یہ پاکستانی کمانڈو ہے جو جیل کے عقب میں پالم ائیر پورٹ پر اترا تھا جہاں اسے گرفتار کر لیا گیا
ہے۔ پاکستانی کمانڈو کا قصوری چکیوں میں ایسا شو ر مچا اور ان قاتلوں میں ایسی دہشت طاری ہوئی کہ صبح کو جب انہیں ورزش کے لئے سامنے لان میں چھوڑا گیا تو ان میں سے کسی کو میرے قریب آنے کی ہمت نہیں ہوئی، میں چکی میں بندتھااور یہ خون خوار قیدی چھپ کر مجھے دیکھ رہے تھے۔بہرحال یہ طویل داستان ہے کہ میں نے قصوری چکیوں میں ان قاتلوں کے ساتھ کیسے دن گزارے اور اس کے بعد قید تنہائی کیسے کاٹی اور پھر سی کلاس ہندوستان اور پاکستان کے ایک سے ایک بڑے اسمگلر کیساتھ کیسے دن گزارے اور آخر میں بی کلاس میں ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ کی قیادت نے کیسی آؤ بھگت کی اور خاطر تواضع کی۔

50سال گزرنے کے بعد اب بھی جب میں سن 65کی جنگ کے ان دنوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو اسی نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ یہ جنگ قطعی غیرضروری، بے معنی لاحاصل تھی جس سے گریز بہت آسان تھا اگر دونوں ملکوں کی قیادت بصیرت سے کام لیتی اور حالات کی یرغمالی نہ بن جاتی۔
کیونکہ سن پینسٹھ کی جنگ سے صرف اٹھارہ مہینے قبل ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کے افق پر اچانک نہایت جو خوشگوار تبدیلی آئی تھی اور امیدوں کی دھنک ابھری تھی جب طویل 30 برس کے تعطل کے بعد مسئلہ کشمیر کے تصفیہ کے امکانات روشن ہوئے تھے۔
گو سن 63میں مسئلہ کشمیر پر بھٹو سورن سنگھ مذاکرات ناکام رہے تھے لیکن ان مذاکرات میں پہلی بار پاکستان نے استصواب رائے شماری کے علاوہ تصفیہ کے لیے دوسرے حل تلاش کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور جنگ بندی لائین میں ردوبدل کی بنیاد پر کشمیر کی تقسیم کی تجویز بھی پیش کی تھی۔امریکا کے محکمہ خارجہ کی ستائیس جنوری سن 64 کی یادداشت میں اس کی تصدیق کی گئی تھی کہ ’سن 63کے دو طرفہ مذاکرات میں پاکستان نے استصواب رائے کے علاوہ دوسری تجاویز پر غور کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی اور ہندوستان نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا تھا اور علاقائی ردوبدل پر آمادگی ظاہر کی تھی‘۔

آصف جیلانی
آصف جیلانی
آصف جیلانی معروف صحافی ہیں۔ آپ لندن میں قیام پذیر ہیں اور روزنامہ جنگ اور بی بی سی سے وابستہ رہے۔ آپ "ساغر شیشے لعل و گہر" کے مصنف ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *