خامہ بگوش غالب۔۔۔ستیہ پال آنند

نَے گل ِ نغمہ ہوں نہ پردہِ  ساز
میں ہوں اپنی شکست کی آواز

ستیہ پال آنند
کیا عجب ہے یہ مصرعِ ثانی
بے لچک، مستقیم، فیصلہ کن
پہلے وارد ہوا تھا کیا یہ ، حضور؟

ِ مرزا غالب
ہاں، عزیزی، ہے مجھ کو یاد وہ دن
اک پیالہ جو ہاتھ سے چھوٹا
اور چھَنن کی صدا سے ٹوٹ گیا
میرے اندر سے کوئی بول اُٹھا
ٹوٹنے کی صدا ، یہ تاخ، تڑاخ
تم یہی ہو، اے میرزا غالبؔ
صرف ہنگامہ ہائے ِ قطع و ریخت

ستیہ پال آنند
دیر آید تھا مصرع ِ اولٰی
کیا نہیں تھا ، حضور؟ فرمائیں

مرزا غالب
ہاں، عزیزم، ازار بند کی گانٹھ
تب کھلی جب یہ سطر لکھی گئی
اور میں خوش ہوا کہ اب یہ شعر
اپنے انجام تک پہنچتاہے

ستیہ پال آنند
یہ نہیں دیکھا ۔۔۔آپ نے، قبلہ
اپنی امثال میں یہ دو مصرعے
یا قیافہ و سجع میں دونوں
نا موافق ہیں، غیر متقارب
کوئی ترصیع ، سجع یا تجنیس
ان کو ہم کیش کر نہیں سکتی
دونوں میں پیش پیش ہے ، قبلہ
ہوں‘‘ کہ جو ایک فعل ِ ناقص ہے
ہاں‘‘ کے معنی میں، (کلمہ ِ اعجاب)
ہوں‘‘ کے ہونے پہ’’ نصف بیت ‘‘ محیط
خود میں ہی کامل و مفصل ہے

مرزا غالب
بات تو یہ پتے کی ہے ، لیکن
میَں کہ ہوں خاکسار و ہیچمداں
انہی سطروں میں خود بنفس ِ نفیس
رونما ہے، دکھائی دیتا ہے
اور شیرازہ بند دو سطریں
خود میں ہیں غیر منقسم ، اک شعر

ستیہ پال آنند
چھوڑیئے اب بناؤ  بُنت کی بات
میں کہاں ۔۔۔اور کہاں جناب کی شان
مجھے تسلیم تو نہیں، لیکن
آپ کا حکم تھا تو مان لیا
دونوں سطریں ہیں اک مکمل شعر

مرزا غالب
بات اتنی ہی تھی، عزیز ِ من؟

ستیہ پال آنند
جی نہیں، قبلہ ، اذن دیں ، تو میں
اس حوالے سے اور عرض کروں؟

مرزاغالب
اذن ہے تم کو، آج کھل کھیلو

ستیہ پال آنند
ہے عجب چیز مصرع ٗ اولیٰ
دو عدد ہیں اضافتیں، لیکن
باہمی میل جول میں دونوں
مختلف سی ہیں اور جدا گانہ
کون سا ’’گل‘‘ ہے، کون سا ’’نغمہ‘‘؟
’’گل ِ نغمہ‘‘ کا کیا خلاصہ ہے ؟
’’پردہ ٗ ساز‘‘ سے مراد ہے کیا؟

مرزا غالب
مجھ سے کیوں پوچھتے ہو، ستیہ پال ؟
لغت، قاموس، کیا نہیں موجود؟

ستیہ پال آنند
’’گل ِ نغمہ‘‘ کی یہ عجب ترکیب
فارسی میں کہیں نہیں ملتی!
ہندوؤں کی قدیم لغتوں میں
’’گیت کا پُشپ‘‘ میں نے دیکھا نہیں
’’راگ ودیا ‘‘ سے کچھ تعلق ہے؟
جی نہیں، محترم، کوئی بھی نہیں

مرزا غالب
ایک سحر البیاں کا قصہ ہے
نغز گو قصے کے ہیں میر حسنؔ
اس کو پڑھتے تو کچھ پتہ چلتا
’’گل ِ نغمہ‘‘ ہے کس بلا کا نام

ستیہ پال آنند
جی، فقط ایک شعر ہے جس میں
ایک نجم النسا حسینہ ہے
پیڑ کے نیچے بیٹھ کر جب بھی
بیِن پر راگ چھیڑتی ہے تو
’’گل ِ نغمہ‘‘ برسنے لگتے ہیں
دوغلا سا یہ امتزاج ، حضور
ایک تجسیم سا، تمرکز سا
افتراقی حلیف لگتا ہے

مرزا غالب
بھاری بھرکم تمہارے یہ الفاظ
غیر ملصق دکھائی دیتے ہیں
سیدھی سادی زباں میں اتنا کہو
میرےمصرعے میں ربط ہے کہ نہیں

ستیہ پال آنند
جی، یقیناً، درست ہے یہ بات
مشترک اصل و بیخ ہے مشکوک
’’نغمہ‘‘ تو صوت سے عبارت ہے
اور ’’گل‘‘ بھی ہے دیکھی بھالی شئے
اپنی وحدت میں یکہ و تنہا
کیسے ہمدست ہوں کہ دونوں میں
کچھ بھی تدوین کا مرقع نہیں
آپ کا اِذن ہو ، تو بندہ نواز
’’پردہ ِ ساز‘‘ کی طرف آئیں
کیسا پردہ ؟ کہاں کا ساز، حضور؟
ساز تو خیر ایک ’’باجا‘‘ ہے
(کوئی بھی ، کیسا بھی، کہاں کا بھی)
ساز کا پردہ؟ آئیے، دیکھیں
یہ لُغت میں لکھا ہوا ہے، حضور
ساخت میں اس کی کوئی ایسا جُز
جو جھنک، گونج کی معین تان
ایک تکرار سے بجاتا ہے

مرزا غالب
کون و تکوین جان لی ہم نے
علّت و العلل بھی پہچانی
اب بتائیں تو اسے عزیزالقدر
کیا ہے اس شعر کا ضمیر الاصل ؟

ستیہ پال آنند
’’نے گل ِ نغمہ ہوں، نہ پردہٗ ساز‘‘
’’میں ہوں اپنی شکست کی آواز‘‘
مجھ سے پوچھیں تو میں کہوں گا ،حضور
ایک ہی شعر میں پروئے ہوئے
دونوں مصرعے ہیں دو الگ اشعار
دو وسیلوں سے، دو مداروں سے
کیسےاک چشمہ پھوٹ سکتا ہے ؟

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *