کہروڑ پکا کی نیلماں۔۔۔۔محمد اقبال دیوان/قسط12

سویرا کے مدیر اعلیٰ سلیم الرحمان صاحب نے شمارہ نمبر سو کی اشاعت میں غیر معینہ تاخیر کے پیش نظر مصنف کو کمال شفقت سے اجازت دی کہ یہ کہانی مکالمہ میں پہلے شائع کرلیں۔۔سو پیش خدمت ہے۔۔افسر و سیاست دانوں کے معاشقوں پر مبنی ایک واردات قلبی کا احوال۔اس کے جملہ کردار، شعبہ جات،سرکاری محکمے اور واقعات خالصتاً افسانوی ہیں۔ ان کا اپنے زمان و مکان سے جڑے اصل کرداروں سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں۔ جیمز بانڈ کے خالق مصنف آئن فلیمنگ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور ہالی ووڈ پوری سی آئی اے کو اگر اپنی فلموں میں شامل کرسکتے ہیں تو جان لیں کہ مذکورہ افراد کے عہد ے،طور اطوار اور مقامات اس کہانی کے حوالے سے محض زیب داستاں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ان کا اصل افراد اور واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔

قسط نمبر گیارہ کا آخری حصہ
وہ اپنے بیٹے کی طرف جس نے اب ارسلان کے شیشے کی نے   اپنی طرف سرکالی تھی اس لیے کہ وہ جان گیا اس کی نگاہوں کی بے تکان بارش کو میں نے نوٹ کرلیا ہے اور وہ مجھے تاڑ رہا ہے۔ خاموشی اشارہ  کرکے کہنے لگی His father never say me now۔ (اس کے والد صاحب نے مجھے آج تک آئی لو  یو نہیں کہا)۔وہ بزرگوار شاید اپنی کسی مصروفیت کی وجہ سے اس گروپ میں شامل نہ تھے۔
اسی اثنا میں عشا کی اذان کی  آواز فضا میں بلند ہوئی تو بڑی بی نے ہاتھ  ڈال کر دس ڈالر کا نوٹ اور ایک چھوٹی سی ڈبیا میں بند نئیء نویلی تسبیح اپنے بڑے سے پرس میں ڈھونڈ کر نکالی اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھالیے،میں نے دوسروں کی دیکھا دیکھی ایسا ہی کیا۔شاید قبول دعا کی گھڑی تھی۔وہ اٹھتے ہوئے کہنے لگیں فور یور سن۔ دعا کے ساتھ ہی انہوں نے دس ڈالر اور تسبیح بھی مجھے پکڑادی
میں نے دس ڈالر تو شکریہ کے ساتھ  لے لیے مگر تسبیح کی طرف اشارہ کرکے کہا ”یہ باپ کو دیں، بہت برا آدمی ہے“۔وہ تو حضرت کی بڑی خالہ بنی بیٹھی تھیں۔مجال ہے جو ارسلان کے خلاف کچھ سننے کو تیار ہوں۔کہنے لگیں ”اچھا ہے تمہارے جیسی عورت کے پیٹ میں اس کا بیٹا ہے۔ ویری نوبل،ویری ڈیسنٹ“۔

تسبیح

مجھے لگا کہ میری اس گفتگو سے گڈو کے تو اوسان ہی خطا ہوگئے تھے۔ وہ سب چلے گئے، تب بھی حضرت چپ چپ تھے۔بس مجھے حیرت سے تکے جاتے تھے۔مجھے یہ سب اچھا لگ رہا تھا۔ میں اپنی اس گھڑسواری والی بزدلی پر پردہ ڈالنے کے لیے بالکل ہی دوسری انتہا پر پہنچی ہوئی تھی۔ایک ہلکا سا جھٹکا یہ کہہ کر اور دیا۔ ” Are You?”
ایک عجیب سے بے بسی کی کیفیت چہرے پرطاری کرکے پوچھ بیٹھے ” What father?“
میں نے بھی اس کا لطف لیتے ہوئے کہا”نو ویری نوبل،ویری ڈیسنٹ“۔
اس سے پہلے کہ حضرت کا جواب آتا میں نے فرمائش کی کہ مجھے کسی اور ہوٹل میں لے جاکر کھانا کھلاؤ اور ایک آدھ جام بھی پلاؤ۔۔

قسط نمبر 12
نوی شہر میں چل پہل تھی ایک جگہ کسی گلی میں گھومتے گھماتے پہنچے تو Topdeck Cave Restaurant (Göreme) نظر آگیا۔وہاں اتفاق سے ایک ٹیبل خالی تھی۔ کھانا تو اچھا تھا سروس بُری۔ یہ ہوٹل والے کمینے ہوتے ہیں۔ ایک دو افراد کا بل چھوٹا ہوتا ہے لہذا دل سے سروس نہیں کرتے۔انہیں فیملی اور گروپ پسند ہوتے ہیں۔ مشرقی ممالک میں یہ بگاڑ بہت عام ہے۔کچھ دیر میں  ہم   کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں آگئے۔کمرے میں پہنچ کر مجھے اسے تنگ کرنے کی سوجھی تو میں نے لہجہ بدل کر کہا ”گڈو یور وائف“۔۔۔
”یس“
”پریگنینٹ“؟ (حاملہ ہو؟)
”یس تھرڈ منتھ“
”بوائے،گرل“؟ ؟
”بوائے“
”لائک فادر“؟۔۔۔”یس بٹ مور بریو“

دبئی ائیر پورٹ
قونیا ائیر پورٹ

مکالمہ یہاں رُکا پھر کیا تھا۔۔ حضرت اپنی خفت اور جھینپ مٹانے کے لیے مجھے بانہوں میں سمیٹنے کے لیے آگے بڑھے تو میں نے گنگنا کر یوں ٹالا کہ نہ نہ موسیو۔۔اتنا سمپل نہیں۔اور تیزی سے باتھ روم کی طرف بڑھ گئی۔عجب عالم تھا۔۔بہت دیر تک ہنسی، کچھ دیر روئی بھی۔ خود پر نگاہ ڈالی، عریانگی فتنہ خیز، سینہ مغرور ،تناؤ بھرا، پیٹ بھی آئینہ تھا، کمر کی دونوں محرابیں اندر کٹ کر ناف کی طرف بڑھنے کو بے تاب مگردل خالی تھا۔ ایسا لگا کہ میرے بیٹے کو دنیا میں آنے کی اپنے باپ کی طرح جلدی نہ تھی۔

شب خوابی کے لیے اپنا پاجامہ سوٹ پہن کر باہر آئی تو حضرت نماز پڑھ رہے تھے، میں بستر پر دراز ہوگئی ،احتیاطاً درمیان میں ایک تکیہ رکھ لیا۔ کمرے کی روشنی کا پوچھا۔میرے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ یہ بلندی کا خوف کیسے لاحق ہوا۔دل میں آیا کہ کہہ دوں میں آج جتنی جلدی اس خوف سے باہر آئی ہوں۔وہ شاید اس کی رفاقت کا اثر تھا ۔ یہ کہتے کہتے اس لیے رک گئی کہ انہیں غیر ضروری اہمیت دینا مجھے خوف میں مبتلا کررہا تھا۔ میرا ایسا کوئی موڈ نہ تھا کہ میں یہ بڑھاوا انہیں بن طلب دوں۔چند لمحوں بعد دیکھا تو حضرت سو چکے تھے۔میری “H” is for Hawk والی کتاب کے چند ابواب باقی تھے۔باتھ روم سے واپس آن کر پردوں کو ٹھیک سے کھینچا اور لیٹ کر بہت آہستگی سے اپنی نیند کی گولی پھانکی اور تکیہ ایک طرف کردیا۔صبح میری آنکھ کھلی تو کچھ شرمندگی تھی کہ پوری ایک ٹانگ اور ایک بازو گڈو کی کمر پر تھا۔اس بوجھ کو ایک طرف کیا تو کہنے لگے کہ آپ بہت گہری نیند سورہی تھیں۔میں جاگ تو فجر سے گیا تھا۔

مرد کی ذہانت اور رکھ رکھاؤ کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنی برتری کا احساس دلا کر عورت کا پیچھا نہ کرے۔اس معاملے میں ستی کاشی کی بات ٹھیک تھی۔ارسلان ذہین تھے، پر وقار بھی۔ میں چاہوں تو اس تعریف کو ڈیسنٹ اور نوبل کے بڑے اسٹور کی آرائشی کھڑکیوں میں موم بتیاں جلا کر نمائش کے لیے سجا سکتی ہوں۔
مدتیں ہوگئیں رفیقو گھر چلو۔۔۔۔۔

ہم دونوں کا وقت مقررہ پر کونیا سے اور استنبول سے واپسی کا سفر بہت معمول کا تھا۔ دوبئی تین گھنٹے کے اسٹاپ اوور کے بعد واپسی کی فلائیٹ میں سوار ہونے سے پہلے حضرت نے جانے اس بورڈنگ پاس جاری کرنے  والی سیاہ فام خاتون کو کیا کہا کہ اس نے ہمارے استنبول ایر پورٹ پر جاری کردہ بورڈنگ پاس ساتھ کھڑے ہوئے ایک جوڑے سے بدل دیے۔ہماری سیٹ اب عقب میں تھی جہاں لوگوں کی آوک جاوک بہت کم تھی۔ذرا ہٹ کے کچن تھا اور عقب میں ایک باتھ روم۔فلائیٹوں کی کثرت کی وجہ سے پاکستان کے لیے یہ فلائیٹ یوں بھی کچھ سوئی سوئی سی تھی۔
مجھے پہلی دفعہ لگا کہ وہ اگلا موڑ جدائی کا اسے آنا ہے وہ تو آئے گا۔گڈو بھی اداس تھا۔یہ میں نے نوٹ بھی کیا اور اس کی آنکھوں میں پڑھ بھی لیا۔استنبول پہنچ کر میں نے ابو کو بتادیا تھا کہ میں کس ائیرلائن کی کس فلائٹ سے اسلام آباد پہنچ رہی ہوں۔ ہماری آمد کا وقت صبح نو بجے تھا۔جب ہماری فلائیٹ کے ٹچ ڈاؤن میں پورے پندرہ منٹ باقی تھے حضرت نے وہاں کچن میں جاکر پرسر کو جانے کیا کہا کہ وہ ہماری سیٹ کے پاس آن کر پشت کرکے یوں کھڑا ہوگیا کہ جیسے سامنے اوپر کی ریک میں سامان درست کررہا ہو۔اب میں اس کی جسارت اور اپنی اس بے محابہ سپردگی کا سوچوں تو حیرت ہوتی ہے۔
جب وہ ڈیل ڈول کا بھاری پرسر، قدم جماکر ہماری طرف پشت کرکے کھڑا ہوگیا ان لمحات میں نشستوں پر تشریف رکھنے کی اعلان والی بتیاں روشن ہوچکی تھیں۔ جس کی وجہ سے مسافروں کی آمدو رفت موقوف ہوچلی تھی۔ گڈو نے بہت پیار سے  نیل کہہ کر پکارا اور میرا چہرہ تھام کرا ٓئی لو یو کہا اس کے ساتھ ہی میرے ہونٹوں پر یوں ہونٹ رکھے کہ میں دھوپ میں رکھی آئس کریم کی مانند پگھل گئی مجھے بانہوں میں بھر بھر گلے لگایا۔ مجھے ان لمحات میں اس کا کہا اور اپنا کہا سب یاد ہے۔اس نے کہا
Be mine (میری بن جاؤ)
اور میں نے کہا All your’s and always (مکمل اور ہمیشہ کے لیے)
اس نے کہا Never leave me (مجھ سے جدا مت ہونا)
اور میں نے کہا( Never till we are alive جب تک زندہ ہوں تمہاری رہوں گی)
میرا حاصل مسافت یہ ہی بوسے، یہ ہی ہم آغوشی تھی۔مجھے اپنی پیاس کا اندازہ ہے۔آپ نے اس پہلے گھونٹ کی لذت محسوس کی ہے جو گرمیوں کے روزے میں حلق اور روح کو شاداب کرتی ہے۔یہ وہ عالم تھا۔۔۔
ٹچ ڈاؤن سے ٹیکسی اور جہاز کے واک وے برج سے لگنے تک اس بندھن کو کس کر باندھنے کے لیے گڈو نے اپنے ہاتھ سے گھڑی اتاری اور میرے ہاتھ میں یہ کہہ کرپہنا دی کہ انگوٹھی موقع  ملتے ہی پہناؤں گا۔ گھٹنوں پر بیٹھ کر تمہارا ہاتھ مانگ کر۔جب تم اس بوجھ سے نجات پالو گی جو اس وقت طلاق کی صورت میں تمہارے کاندھوں پر موجود ہے۔ تمہاری طلاق اور ہماری شادی ایک دن ہوگی۔تب تک میرا اور تمہارا دل ساتھ دھڑکے گا۔ مجھے عجب تہی دامنی کا احساس ہوا کہ میرے پرس میں ایسا کچھ نہ تھا۔کچھ جولری کے آئٹم جو اس کے کسی کام کے نہ تھے ،دوائیں۔ جب میں نے اس محرومی کا ذکر کیا تو چپ ہوگیا۔ اس بوسے کے بعد ہم نے سلیفی لی اور کہا کہ یہ ہمارا ساتھ ہے۔ ترکی میں ہم نے کئی تصاویر کھینچی تھیں۔ ان سب میں ایک اہتمام یہ رکھا گیا تھا کہ ہم کہیں ساتھ ساتھ نہ ہوں۔جب ہم سامان لے کر باہر نکل رہے  تھے تو ایک ستون کی آڑ میں مجھے گلے لگا کر شریر کہیں کا کہنے لگا
Take care of my son(میرے بیٹے کا خیال رکھنا)
میں کہاں کی پیچھے رہنے والی تھی پیٹ پر ہاتھوں کی محراب بنا کر ترنت جواب دیا:
He is with his mom. So you never ever worry about him.
(ارے وہ تو اپنی ماں کے پاس ہی ہے اس کے بارے میں فکر کرنا چھوڑ دو)
Don’t run after roosters I am always there to chase
۔(تعاقب کرنے کے لیے میں موجود ہوں سومرغوں کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دو)
You are my morning prayer answered. You are not my chase
(ارے تم تو میری قبول کردہ دعائے سحر ہو۔تم میرا تعاقب نہیں )
اس ایک جواب کو سن کر میری آنکھیں بھر آئیں ۔ہم ایک ستون کے پیچھے ہوگئے کہ باہر اگر شیشوں کے پار سے ابو دیکھ رہے ہوں۔ میں پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئی اسی اشک باری میں ہچکیاں لیتے ہوئے میں نے جتایا کہ ”مجھے اس سے  بہت پیار ہے ۔مجھے نہیں معلوم ائیر پورٹ سے باہر میرے لیے قدرت نے کیا پروگرام ترتیب دیا ہے۔ وہ میری کسی تاخیر کو بے اعتنائی نہ سمجھے۔میں صرف اس کی ہوں۔ وجدان کا ادھورا تعلق کچرے میں پھینک کر اسے جتایا کہ سعید میری مجبوری تھا ۔وہ میرا پہلا پیار ہے۔ عورت ایک دفعہ پیار کرتی ہے۔
میری آنکھوں سے بہنے والے اشکوں کو اس نے انگلی سے گال پر پھیلا کر چوما تو میں نے بھی اس کی انہی  ا نگلیوں کو چوما۔
حفظ ماتقدم کے طور پر ہم نے فیصلہ کیا کہ خوش آمدید کرنے والوں سے بے ربط،پیچیدہ، عجلت بھرے تعارف سے بہتر ہے کہ ہم اجنبی بن کر نکلیں۔ارے ہاں میں نے اس سے جہاز کی رن وے پر ٹیکسی کے دوران یہ بھی پوچھ لیا تھا کہ اس نے ایک تو دوبئی ائیرپورٹ پر بورڈنگ پاس   جاری کرنے والی کو کیا کہا کہ نشست فوری تبدیل ہوگئی۔ دوسرے پرسر کو بھی اس نے کیا کہا کہ وہ بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دیگر مسافران کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
شیطان کہیں کا کہ کہنے لگا کہ میں دوبئی ایرپورٹ پر بہت غمگین دکھائی دے رہی تھی۔قدرے نڈھال  بھی۔۔سو میں نے اس کلرک کو کہا کہ میری بیوی حاملہ ہے اور اس کا ٹوائلٹ کے قریب بیٹھنا لازم ہے۔
میں نے ایک ہلکی سی معشوقانہ دھپ رسید کی اور لگے ہاتھوں پرسر والے چمتکار کا بھی پوچھ لیا تو کہنے لگا جب آپ باتھ روم سے چادر اوڑھ کر برآمد ہورہی تھیں وہ آپ کو بہت غور سے تاڑ رہا تھا میں سمجھ گیا کہ مغربی لباس میں ملبوس ایک لڑکی کا یہ نیا روپ بہروپ اسے حیران کرگیا ہے۔میں نے اس سے درخواست کی کہ میری چھ ماہ بعد شادی ہے اور میری منگیتر گاؤں چلی جائے گی۔اب جو ملاقات ہوگی تو شادی کا دن ہوگا۔ کچھ دیر سے وہ بہت upset ہے اگر وہ شیلڈ کرے تو وہ اسے گلے لگا کر کچھ یقین دہانیاں اور وعدے وعید کرسکتا ہے۔

سچ بتائیے میں جو خود کو سعید والی بدمزگی سے اتنا جلدی آزاد کرنے میں کامیاب ہوئی تو اس کا کریڈٹ تو اس دل چسپ، ذہین، تندرست، کامیاب اور چھیل چھبیلے مرد کو ہی جاتا ہے نا۔میری جگہ اگر آپ ہوتیں تو کیا کرتیں۔

ہم بین الاقوامی آمد والی لاؤنج سے باہر نکلے تو میرے خیر مقدم کے لیے آنے والوں میں ابو،سوتیلی امی طاہرہ کا موجود ہونا عین معمول کی بات تھی مگر پھوپھو شہلا اور مجھ سے پورے تین سال چھوٹے ان کے بیٹے شارق کی موجودگی۔ یہ بات مجھے ذرا انہونی سی بات لگی۔ پھوپھو، لاہور میں رہتی ہیں۔ شارق کو گھر میں شوکی کہا جاتا ہے۔ہمیشہ کاNerd ۔ ابو کی یہ بہن یعنی میری شہلا پھوپھو بہت manipulative ہیں۔دادا کی ٹھڈا ٹھم والی خاصی زمین انہوں نے اپنی جواں سال بیوگی اور دو بیٹوں کا رونا رو رو کر اپنے نام کرالی۔امی سے ان کی بالکل نہیں بنتی تھی۔تنگ بھی بہت کیا۔ابو کی کشمیر پوسٹنگ میں ہمارے کہروڑ پکا کے گھر آن کر ڈیرے ڈال لیے تھے۔ جواز یہ تھا کہ میرے والد کا مکان ہے ۔سارا خرچہ ابو اٹھاتے تھے۔ لاہور میں اپنے گھر کا کرایہ پر چڑھا رکھا تھا۔ امی کہتی تھیں جوانی میں بھی جامے میں سمائے نہیں سماتی تھیں۔ اپنے اسکول کی وین والے ڈرائیور سے پندرہ سال کی عمر میں عشق لڑابیٹھی تھیں۔دو ہفتے گھر سے بھاگی رہیں ۔واپس آئیں تو حاملہ تھیں۔بمشکل کسی رشتے دار کو گھیر کر شادی کی گئی۔بڑا بیٹا طارق جسے یہ پیار سے طوقی کہتی تھیں وہ ان کا Love- Child تھا۔وہ ہی ان کی زمین داری سنبھالتا ہے۔شوکی کے ابو کالج کے استاد تھے۔اسی لیے وہ کچھ Nerdy ہے۔ان سے شادی بھی زیادہ دیر نہ چلی وہ بس کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔میری مرحوم والدہ کہتی تھیں ایسی عورت کے ساتھ جینے سے مرد کا مرجانا بہتر ہے۔اللہ نے یہاں اس کی مشکل آسان کی تو وہاں کوئی بہت کلاسی حور مل جائے گی۔

ملائی والے گلاب جامن

دادا والی زمینیں تو ابو نے واپس لے لیں مگر اس کے عوض انہیں اس سے اچھی اور قیمتی زمین کراچی والے پیسوں سے خرید کر جلہ آرائیں میں Trade- off یعنی بدلے میں دے دی۔ میں نے امی سے اس ڈبل بے ایمانی پر اعتراض کیا تو کہنے لگیں سرکار کی نگاہوں سے بچنے کے لیے یہ الٹ پھیر ضروری ہوتا ہے۔ابو نے مارشل لاء کی کراچی کی ڈیوٹی میں جو مال بنایا تھا اس کی گھر تک آمد کے قدموں کے نشان چھپانے کے لیے یہ ہیر پھیر لازم تھا۔

ائیرپورٹ سے باہر آن کر پھوپھی کی نگاہوں میں مجھے دیکھتے وقت ناپ تول کا اعشاری نظام Decimal System بھی میری سمجھ  میں نہ آیا۔شوکی کا اجتناب بھی ذرا انہونا ہی لگا۔پہلے تو جب کبھی بھی ملتا آپی آپی کہہ کر گلے لگ جاتا تھا۔اب رسماً ہاتھ ملا کر ،ایک مفاہمت بھری بے اعتنائی سے کار میں سامان رکھوانے میں لگ گیا۔میں بھی دیکھنے میں لگ گئی کہ ارسلان کو لینے کون آیا ہے۔ایک مرد تھا ۔اس کے ساتھ ایک عبایا اورحجاب والی عورت،قدرے جواں بدن اور رسماتی ملائی والے گلاب جامن جیسی، مرد کی محبوبہ ،بدن عبایا سے بغاوت پر آمادہ۔ مگر اس کی لباس اور ہچکچاہٹ سے یہ باور کرنا مشکل تھا کہ یہ اوشا ہوگی۔مجھے لگا کہ شاید دفتر کی کوئی اور عورت یا کوئی سیکرٹری قسم کی ماتحت ہوگی۔

گڈو میاں جم کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے اور ائیر پورٹ سے باہر رواں  دواں، بھاگتے بھوت جیسی عجلت پسند ٹرانسپورٹ کے جلو میں کھسک لیے۔پھوپھو کی مرضی تھی کہ ہم سیدھے شوکی کی گاڑی میں سوار ان کے گھر لاہور چلیں۔ ایک دو دن میں ان کے پاس ٹھہروں،کچھ زیور وغیرہ دیکھ لوں، شاپنگ ہوجائے ۔یہاں وہ انکل حامد خواجہ کے گھر ابو کے ساتھ ٹھہری تھیں۔۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *