مرا شہر بچا لے اے مولا ۔۔۔۔عامر عثمان عادل

گولیوں کی تڑتڑاہٹ زخمیوں کی آہ و بکا، بازاروں میں تڑپتے انسان، انسانوں کے بہتے لہو سے رنگین گلیاں، بستی پہ ہر سو وحشت اور موت کا چھایا سناٹا ۔۔۔رکیے یہ منظر کشمیر کی وادی کا نہیں یہ تصویر میرے شہر کوٹلہ کی ہے جو اتوار کی صبح تک ایک پُر امن بستی بارونق بازار ور ترقی کا نشان تھا اب تو بس ویرانی سی ویرانی ہے، گہرا سکوت ہے۔۔۔

چلیے آئیے آپ کو ایک تصویر اور دکھاتا ہوں۔۔
بازار گلیاں سونے پڑے ہیں، کرفیو کا سا سماں ہے، پورے پنجاب کی پولیس چوک چوراہوں میں دندناتی پھرتی ہے، فضا میں آنسو گیس کا دھواں ہے جس نے دماغ بھی شل کر رکھے ہیں گھروں کا کریک ڈاؤن کر کے مردوں کو جانوروں کی طرح اٹھا کے پولیس کی گاڑیوں میں پٹخا گیا، بزرگوں کو بخشا گیا نہ بچوں کو، پورے گاؤں پہ اجتماعی ایف آئی  آر کاٹی گئی ، جس سے نجانے کتنے گھرانے اجڑ گئے برباد ہو گئے ،ایک معذور نوجوان پر کلاشنکوف ڈال دی گئی ،دو سگے بھائی  سعودیہ سے چھٹی  پر آئے تھے ان پر 7 ایم ایم ڈال کر جیل بھجوایا گیا جن کے ویزے ضائع ہو گئے۔

میرے والد گرامی جو دنیا سے رخصت ہو چکے تھے ان پر بھی پرچہ درج ہوا۔۔۔
ہاں یہ مناظر بھی کشمیر کے نہیں اسی حرماں نصیب شہر کے تھے جو دشمنی کی آگ کا مرکز بنا دیا گیا۔۔ ہاں یہی کوٹلہ جس کے بازار رمضان کا پورا مہینہ بند رہے بے بسی ایسی کہ روزہ داروں کے پاس افطاری کے لئے ایک کھجور تک نہ ہوتی۔
جبر خوف اور دہشت کے اس ماحول میں کوٹلہ ٹائمز میں میرا ایک کالم چھپا جس کا عنوان یہی تھا۔۔
مرا شہر بچا لے اے مولا
گمان تک نہیں تھا کہ آج پھر یہ فریاد کرنا پڑ جائے گی

دوستو !
امن کیلئے کوٹلہ کے باسیوں نے ایک طویل مسافت طے کی ہے آگ اور خون کے دریا پار کیے ہیں گھربار چھوڑنے پر مجبور کیے گئے آپ جو ہمیں بزدلی کا طعنہ دے کر خوش ہوتے ہیں کیا جانیں کہ ہم نے اپنے پیاروں کے چھلنی لاشے اپنے ہاتھوں سے اٹھائے ہیں کیسے بھلا دوں وہ دن جب کوٹلہ سے تین جنازے ایک ساتھ اٹھے اور تینوں کڑیل جوان۔۔۔
کیسے بھول جاؤں بوڑھے والدین کا اکلوتا سہارا خالد پہلوان جس کے جسم میں 32 گولیاں اتریں جو میری چچا زاد بہن کاسہاگ تھا حضور آپ صرف باتیں کرتے ہیں ہم خود ا س آگ میں جلتے رہے ہیں
ہم نے دعاؤں میں گڑگڑا کر رب سے امن کی بھیک مانگی تھی کیونکہ دشمنی کی اس آگ نے پورے علاقے کو لپیٹ میں لے لیا تھا دونوں طرف سے سینکڑوں افراد موت کے گھاٹ اتر گئے مائیں اپنے بیٹوں سے، بیویاں اپنے سہاگ سے، بہنیں اپنے ویروں سے محروم کر دی گئیں، بچے یتیم ہوئے اور یہ علاقہ تعمیر و ترقی سے کوسوں دور پتھر کے زمانے میں چلا گیا۔

پھر رب کا کرم ہوا اس کے حبیب کے صدقے حالات نے پلٹا کھایا
میں نے اس وقت بھی آپ سب متحارب گروپوں کو مخاطب کر کے ایک تحریر لکھی
چودھریوں کے نام کھلا خط
جس میں آپ سے ہاتھ باندھ کر عرض گزاری کہ اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کر دیجیے۔۔
12 ربیع االاول کو باوضو ہو کر ایک تحریر لکھی
صلح دیوانے کا خواب
اور چشم فلک نے دشمنی کو صلح میں تبدیل ہوتے دیکھ لیا
علاقہ بربریت جہالت اور انا کے دلدل سے نکلا تو تعمیر و ترقی کی شاہراہ پر سرپٹ دوڑنے لگا۔۔
لیکن آج ایک بار پھر وہی مناظر لوٹ آئے ہیں وہی خوف دہشت بے یقینی سوگواری ہے۔

اتوار کو جو واقعہ پیش آیا ہر لحاظ سے قابل افسوس قابل مذمت ہے کاش ایسا نہ ہوا ہوتا نوبت یہاں تک نہ پہنچتی آپ دو نوں فریق مزید درگزر کر لیتے آپ کے چاہنے والوں کا لہو تو نہ بہتا۔
انتظامیہ کا کردار انتہائی مایوس کن ہے، بچے بچے کو خبر تھی کہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، یکم تاریخ کا الٹی میٹم دیا گیا ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔آخر انتظامیہ ٹس سے مس کیوں نہ ہوئی؟ کہاں تھے ڈی پی او ڈی سی؟ کیوں فریقین کو مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی تلقین نہیں کی گئی؟
اتنا بڑا سانحہ ہونے کے بعد بھی انتظامیہ کا کوئی اعلی افسر کوٹلہ آنے کی زحمت تک نہیں کر پایا۔

اور کیا اس گھڑی جب کوٹلہ کا امن داو پر لگ چکا ہے یہ شہر آتش فشاں کا روپ دھارے ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے کہاں یے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین۔
کیا ان کا فرض نہیں بنتا کہ وہ آگے بڑھیں قتل و غارت گری کو روکنے کی کوشش تو کریں ،کوئی  جرگہ تشکیل دیں جو فریقین کو مذاکرات پر قائل کرے کوئی تو اٹھے جو انسانیت کی خاطر اپنا کردار ادا کرے ،ہے کوئی  ایسا بطل رشید ؟

ابھی وقت ہے جو عارضی وقفہ ہے خاموشی کا وہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے اس سے پہلے کہ کوئی  اور کربلا بپا ہو جائے اے اہلِ  علاقہ اٹھ کھڑے ہوں
اور اگر نہ انتظامیہ بیدار ہو اور نہ ہی سول سوسائٹی تو ہمارے ذمہ دو ہی کام رہ جاتے ہیں ایک اپنے رب سے فریاد اور دوسرا ان بھائیوں کا ترلا
تو اے فرزندان کوٹلہ۔۔
آپ نے خود بھی امن کی زندگی کی بھاری قیمت چکا رکھی ہے اپنے والد بھائی  اور بہت سے قیمتی ساتھیوں کے لہو کے نذرانے دے کر یہ آرام آپ کو نصیب ہوا۔
خدارا اپنی اپنی انا کو مار ڈالیے ،قربان کر دیجیے۔
اپنے علاقے کا امن خود اپنے ہاتھوں تو برباد نہ کیجیے، غور تو کیجیے اتوار کو گولیوں سے چھلنی ہونے والے کون تھے۔۔
آپ ہی کے چاہنے والے دعا گو آپ کے ووٹر سپورٹرز۔

یہ وہی لوگ ہیں جو ہر ابتلا و آزمائش میں آپ کے ساتھ کھڑے رہے کلاشنکوف کی بوچھاڑ اور آنسو گیس کی یلغار میں آپ کے آگے دیوار بن کر کھڑے ہو گئے جو لازوال قربانیاں تھانہ ککرالی کے عوام نے آپ کے خاندان کے ساتھ وفا کا قول نبھانے کی خاطر دے رکھی ہیں ان کی مثال نہیں ملتی۔
کب مایوس کیا انہوں  نے آپ کو ؟
ووٹ مانگے تو آپ کے بیلٹ باکس بھر دئیے
جان مانگی تو اپنے جوان بیٹوں کے سر دئیے
کسے نصیب ہوتی ہے ایسی حمایت
تو خدارا بس کر دیجیے
اس ہاتھ کو پہچانئے جس کا مفاد آپ کے نفاق میں ہے
کون ہے جو میرے علاقے کے امن کا دشمن ہے
کون ہے جو آپ کو دشمنی کی راہ پر ڈال کر اپنا راستہ صاف کرنا چاہتا ہے
پورا علاقہ آپ سے اپیل کرتا ہے کہ پیچھے ہٹ جائیے ان لوگوں کی خاطر قربان کر دیجیے اپنے غصے کو علاقے کے امن کی خاطر۔
ایسا نہ ہو دیر ہو جائےاور
وقت بڑا ظالم ہے کسی کا انتظار نہیں کرتا
یہ ریت ہے جو مٹھی سے سرکتی جا رہی ہے
اور ہاں اگر آپ نے ب

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *