سیب۔۔۔عنبر عابر

چہار سو رات کا ہولناک اندھیرا سرسرا رہا تھا اور فضا میں گولوں کی گھن گرج سنائی دے رہی تھی. ایک سنسان گھر کے تاریک کمرے میں نو سالہ احمد اپنی چودہ سالہ بہن رمشا سے چمٹا ہوا تھا۔رمشا اس کے بدن پر آہستگی سے ہاتھ پھیر رہی تھی لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ فقط طفل تسلی ہے۔

تھوڑی دیر بعد احمد کی آواز ابھری۔۔
“باجی! امی کب آئیگی؟“ اس کی آواز تھرا رہی تھی۔۔کمرے کے سناٹے میں یہ فقرہ جیسے گونجنے لگا تھا.شاید احمد اپنے خوف کو کم کرنے کیلئے بولا تھا لیکن رمشا جس کا اپنا دل ہول رہا تھا خدا کا شکر ادا کرنے لگی کہ کم ازکم اس مہیب خاموشی کا سحر تو ٹوٹا۔
“احمد! امی آجائیگی۔۔تم ڈرو مت۔۔میں تمہارے ساتھ ہوں“ یہ کہہ کر رمشاء تیز تیز سانسیں لینے لگی۔۔شاید اس کا شعور اسے ڈرا رہا تھا،شاید وہ کچھ جانتی تھی۔۔
احمد تھوڑا مزید اس کے نزدیک ہوا اور بولا
“باجی تم نہیں ڈرتی؟“
نزدیک ہی کسی گولے کے گرنے کی کان پھاڑ آواز سنائی دی تو رمشاء جیسے ایک جھرجھری لے کر رہ گئی۔بے اختیار اس کے منہ سے چیخ نکلی،یہ صورتحال دیکھ کر احمد بھی چیخنے لگا،شاید اپنی بہن پر اسے جو بھرم تھا وہ ٹوٹ گیا تھا،شاید وہ جان گیا کہ اس کی بہن بھی ڈرتی ہے.شاید اسے محسوس ہوا تھا کہ اس کی بہن اسے نہیں بچا سکتی۔۔رمشاء یہ بات سمجھ گئی،وہ جلدی سے احمد کو خود سے لپٹاتے ہوئے بولی۔۔
“احمد! میں نہیں ڈرتی۔۔یاد نہیں،ابو نے کیا تھا؟ انہوں نے کہا تھا صرف خدا سے ڈرتے ہیں“ یہ کہہ کر وہ ہانپنے لگی۔۔یہ اندر کا ٹکراؤ تھا جو اسے ہانپنے پر مجبور کر رہا تھا.یہ دو جذبات کا تصادم تھا…بھائی کیلئے نہ ڈرنے کا جذبہ اور فطری طور پر موت سے ڈرنے کا جذبہ.
احمد خاموش ہوگیا لیکن رمشاء کو یقین نہیں تھا کہ وہ مطمئن ہوگیا ہوگا۔

تاریک کمرے میں چند لحظے ہولناک سناٹا چھایا رہا۔پھر احمد نے ہی اس خاموشی کو توڑا۔۔وہ بولا
“باجی…خدا سے سب ڈرتے ہیں؟“
رمشاء کی آواز ابھری
“ہاں احمد…سب ڈرتے ہیں.وہ انتہائی طاقتور ہے“
“باجی! فوجی زیادہ طاقتور ہیں یا خدا؟..فوجیوں کے پاس تو بندوقیں بھی ہیں؟“
رمشاء کا دل لرزنے لگا…یہ بڑا کھٹن سوال تھا.وہ خود بھی اس سوال کا جواب نہیں جانتی تھی..
“احمد! سوجاؤ…خدا کے پاس ان کی بندوقوں سے زیادہ مہلک بندوقیں ہیں“ رمشاء نے اسے خاموش کرنا چاہا…لیکن وہ بولا..
“باجی! خدا ہمیں اپنی بندوقیں کیوں نہیں دیتا؟“
رمشاء پریشان ہوگئی تھی…اس کی امی بھی نہیں تھی جو وہ احمد کے سوالوں کے جواب دیتی…ایک دن اور ایک رات گزر گئے تھے لیکن وہ ابھی تک نہیں آئی تھی.اپنی امی کا سوچ کر اس کی آنکھوں میں نمی سی آگئی…آنسو کے چند موتی اس کے ہونٹوں تک پہنچے اور وہ اس کا نمکین ذائقہ محسوس کرنے لگی…وہ گلوگیر لہجے میں بولی..
“احمد! خدا نے اپنی بندوقیں ہمارے پاکستانی فوجیوں کو دی ہیں.وہ آرہے ہیں،تم دیکھو وہ آئیں گے…یاد نہیں ابو نے کہا تھا؟“
احمد جیسے پرسکون سا ہوگیا تھا.اس کے ننھے ذہن میں پاکستان کا پرچم لہراتے پاکستانی فوجی ابھرے.اس نے انہیں دیکھا کہ وہ اس کے گھر کے نزدیک آگئے ہیں…یکدم اس کا ہاتھ ماتھے پر سلیوٹ کے انداز میں چلا گیا..رمشاء نے اسے تھتھپایا تو وہ بولا۔۔
“باجی! ہم نے جو سیب رکھے ہیں نا.ان میں سے میں اپنے حصے کے سیب پاکستانی فوجیوں کو دونگا.وہ دور سے آئے ہونگے.. بھوکے ہونگے نا…تم بھی دوگی؟“
رمشاء سسکیاں بھرنے لگیں…ناگاہ فضا میں بھاری بوٹوں کی چاپ سنائی دی اور رمشاء کا دل دھک سے رہ گیا…یہ چند فوجی تھے جو اونچی آواز میں بول رہے تھے..ان کے اسلحے کی کھٹ پٹ صاف سنائی دے رہی تھی.احمد جو ابھی تک پاکستانی فوجیوں کے تصور میں گم تھا، تیزی سے اٹھا اور اس سے پہلے کہ رمشاء اسے روکتی وہ دروازے کی طرف دوڑتا ہوا چلایا..
“باجی! وہ آگئے…باجی وہ آگئے…“ اس کی آواز جوش سے تھرا رہی تھی
وہ تو ان فوجیوں کا استقبال کرنا چاہتا تھا..انہیں اپنے سیب دینا چاہتا تھا..لیکن شاید فوجیوں کو اس کے سیبوں کی ضرورت نہیں تھی..چند گولیاں چلیں.چند چیخیں ابھریں..اور پھر خاموشی چھا گئی…
جان لیوا خاموشی…دہشت انگیز و دہشت زدہ خاموشی.ایک ایسی خاموشی جسے رمشاء کی سسکیاں بھی توڑنے پر قادر نہ تھیں!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *