میڈیٹیشن۔ آغاز کی طرف سفر۔۔۔۔۔ڈاکٹر اشفاق احمد

(مِیڈیٹیشن کے حوالے سے ایک مضمون کا آغاز کیا ہے۔ اس موضوع کا پورا احاطہ اس ایک تحریر میں ممکن نہیں لہذاس پراٹھنے والے سوالات کے جوابات اور مزید تفصیل آئندہ جاری رہے گی انشاءاللہ)
آپ نے میڈیٹیشن کا نام سنا ہوگا۔ آپ میں سے بیشتر نے اس کا تجربہ بھی کیا ہوگا۔ میڈیٹیشن بنیادی طور پر ارتکاز توجہ کی ایک مشق ہےجس میں بالکل خالی الذہن ہوکر کسی ایک نکتے پر مثلاً سانس پر یا ماتھے پر بنا کسی تاثر کے توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ میڈیشن دراصل ہمارے ‘خوابیدہ شعور’ کو بیدار کرنے کی ایک مشق ہے یہ عبادت ہر گز نہیں یہ دیگر جسمانی مشقوں کی طرح ذہنی بیداری کی ایک مشق ہے۔
ہمارے اندر یہ شعوری احساس خوابیدہ ہو چکا ہےاور یاد رکھیے ہمارے ہر نفسیاتی مسئلے کی جڑ اس شعوری احساس کی خوابیدگی ہی ہےاور ہمارا اصل امتحان ہی اس احساس کو زندہ کرنا ہے۔
اس پورے معمے کو سمجھنے کے لئے پہلے ‘حضرت انسان’ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو بالکل پاک اور pure consciousness کی حالت میں ہوتا ہے لیکن اس کی عقل کی نمو ابھی نہیں ہوئی ہوتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کے تجربات اس کی عقل کی نمو میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ عقلی پختگی کے مراحل طے کرتا ہے۔ یہ روزمرہ کے تجربات اس کے لئے ایسی کسوٹی بن جاتی ہے کہ جن کو سامنے رکھ کر وہ اپنے سامنے ہونے والے واقعات کو اس کسوٹی پر سے گزار کر دیکھنے لگتا ہے یا دیکھنے پر مجبور ہوتا ہے اور انہی تجربات کی روشنی میں وہ ان واقعات کو سمجھنے، نتائج اخذ کرنے اور ردعمل دینے کا پابند ہوتا ہے۔
لِیکن یہاں ایک حادثہ رونما ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ یہ تجربات ہمیشہ مثبت یا خوشگوار نہیں ہوتے بلکہ اکثر منفی یا تلخ ہوتے ہیں۔ ہمارا گھر ان تجربات کی پہلی درس گاہ ہے۔ غور کیجیے ہمارے گھروں میں بچوں کے سامنے کیسے کیسے جھوٹ بولے جاتے ہیں۔ کس قدر غیبت اور بہتان تراشی کی جاتی ہے۔ بچوں کے سامنے لڑتے ہوئے کیسے کیسے الفاظ منہ سے نکالے جاتے ہیں۔ دیگر رشتہ داروں اور عام معاشرے کے بارے میں بچوں کے ذہن میں ارادی اور غیر ارادی طور پر کیسا زہر بھرتے ہیں؟ یہ سب باتیں درحقیقت بچوں کا ‘تجربہ’ بن رہی ہوتی ہیں اور ایک لمحے کے لئے بھی اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ بچہ اس کا اثر نہیں لے رہا یا یہ باتیں بچے کے ذہن سے مٹ رہی ہیں۔ ہر گز نہیں، یہ بچے کے لاشعور میں پیوست ہو رہی ہوتی ہیں اورآگے چل کر انہی تجربات نے بچے کی عقل کی نمو میں بنیادی کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔
بڑا ہو کر جب بچہ گھر سے باہر قدم رکھتا ہے تو تجربات کی نئی اور وسیع “درسگاہ” اسکی منتظر ہوتی ہے جس کے ‘مضامین ‘ اکثر نفرت کے عنوان سے اسکے عقل کی آبیاری کرتے رہتے ہیں۔ فرقہ پرستی، تعصب، غرور و تفاخر، قتل و غارت گری، بدتہذیبی اور منافقت اسکی چند مثالیں ہیں۔
یہی بچہ جب پختہ عمر کو پہنچتا ہے تو ان حوادث کے نتائج کھل کر سامنے آجاتے ہیں اور وہ اس طرح کے عقلی تجربات کے زیر اثر آجاتی ہے۔ یقین جانیے عقل خدا تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے لیکن جب یہ عقل مذکورہ بالا منفی تجربات سے آلودہ ہو جاتی ہےتو پھر یہ عقل نہیں بلکہ کسی غالب منفی تجربے کے زیر اثر ایک جذبہ بن جاتی ہے اسکا تعلق پھر ذہن سے اتنا نہیں ہوتا جتنا جسم کی بگڑی ہوئی کیمسٹری سے ہوتا ہے۔ اسکی مثالیں آپ معاشرے میں عام دیکھ سکتے ہیں ہمارے اکثر فیصلے اور اقدامات بے بنیاد جذبات، بے بنیاد نسلی تفاخر اور نفرت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ ہم مسئلے کے حل کی جانب کبھی نہیں سوچتے بلکہ مسئلے کو بڑھاوا دینا ہمارا مشغلہ بن جاتا ہے۔
ایک اور المیہ یہ جنم لیتا ہے کہ ہم لمحہ موجود کی خوبصورتی، رعنایئوں اور حقائق کو سمجھنے سے عاری ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اندر موجود biological clock کا وقت بگڑ جاتا ہے لہذا ہم یا ماضی میں جینے لگتے ہیں یا پھر مستقبل کے تصورات میں اور زندگی جو درحقیقت حال میں موجود ہےاس کا مزہ لینے سے محروم ہو جاتے ہیں اور یہ محرومی ہماری زندگی سے شکر کے عنصر کو یکسر خارج کر دیتی ہے۔
ہماری پوری زندگی ماضی کے تجربات کو لے کر مستقبل بنانے پر صرف ہو جاتی ہے جبکہ حال بری طرح نظر انداز ہو جاتا ہےاور یہ تجربات جو عموما ًمنفی ہوتے ہیں تو ذرا تصور کیجیے ایسے منفی تجربات سے تشکیل پانے والا مستقبل کس قدر درد انگیز ہوگا؟ ویسے مستقبل بھی محض ایک واہمہ ہے جسے آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔ یہ ہمارا “حال” ہے جو لمحہ بہ لمحہ تشکیل پا رہا ہے۔ اگر آپ آج حقیقی معنوں میں مطمئن اور مسرور ہیں تو جان لیجیے کہ تلخ تجربات آپکی عقل پر حاوی نہیں ہوئے۔ اگر نہیں تو مان لیجیے کہ کہیں نا کہیں کسی نا کسی شکل میں ماضی کے تلخ تجربات آپ پر حاوی ہیں۔
آپ کے سامنے روزمرہ کا ایک واقعہ رکھتا ہوں۔ ہمارے سامنے اکثر بچوں کے بیچ لڑائی ہو جاتی ہے اگر انکونہ چھیڑا جائےتو لڑنے کے بعد مختصر وقت میں وہ اپنا مسئلہ خود ہی سلجھا کر پھر سے کھیلنے لگ جاتے ہیں لیکن تصور کیجیے کہ اگر بچوں کی اس لڑائی میں دونوں جانب کے “بڑے” بھی اپنے تمام منفی تجربات یا احساسات کے ساتھ کود گئے تو نوبت اکثر قتل و غارت، دشمنی یا پھر سالوں پر محیط ناراضگی تک پہنچ جاتی ہے۔ بچوں میں عقل پختہ نہ سہی لیکن شعور آلودہ نہیں تھا اور بڑوں میں عقل تو تھی لیکن منفی جذبات اس پر اس قدر حاوی تھے کہ خوابیدہ شعور کو سر اٹھانے کا موقع نہ ملا۔

اب دوسرا رخ ملاحظہ کیجیے ،اگر بڑے مکمل شعوری حالت میں ہوں اور منفی تجربات کی کسوٹی سے پرکھنے پر مجبور نہ ہوں تو کیا منظر نامہ ہوگا؟ پہلے بچوں کے بڑے ان بچوں کو الگ کریں گے، سمجھائیں گے پھر آپس میں گلے مل کر ایکدوسرے سے محبت کی تجدید کرینگے۔
کِیوں نہ ہم آج سے اسی مکمل شعوری حالت کی نمو کی جستجو شروع کر دیں؟

تلخ تجربات کا عقل پر حاوی ہونا ہی دراصل نفسیاتی بیماری ہے جو منفی اور مضر جذبات کا سبب بنتی ہے۔ اس حقیقت کا ادراک کر لیجیے کہ ہم کسی نا کسی حد تک نفسیاتی مرض کا شکار ہیں اور ہمارا اصل امتحان ہی اس کیفیت سے نکلنا ہے۔ جونہی ہم اس کیفیت سے نکلے اسی دن سے ہم جینا شروع کر دینگے اور اس کیفیت سے نکلنے کا واحد حل “شعور کی بیداری” ہے۔
کسی جگہ طاہرہ الطاف صاحبہ سے منسوب ایک بہت خوبصورت قول پڑھا تھا کہ “ہر چیز کی ایک روح ہوتی ہے، چراغ کی روح اسکی روشنی، ہیرے کی روح اسکی چمک، گلاب کی روح اسکی خوشبو اورانسان کی روح اس کا شعور ہے”
میڈیٹیشن دراصل اسی شعور کی بیداری کی ایک مشق ہے۔ یہ عبادت ہر گز نہیں بلکہ یہ دراصل اس نفسیاتی کیفیت سے نکلے کا ایک انتہائی موثر علاج ہے جو ہمارے لاشعور میں پیوست تلخ تجربات کو اس سطح پر لے آتی ہے جہاں یہ موجود تو رہتے ہیں مگر انکے اثرات سے ہمارا مزاج یکسر خالی ہو جاتا ہے پھر چیزیں اور حقائق جیسی کہ وہ درحقیقت ہیں نظر آنے لگتی ہیں۔ ہمارے سامنے ایک نئی دنیا آشکار ہو جاتی ہے۔
اور سب سے بڑی بات یہ کہ شعوری احساس کی بیداری کی صورت میں ہم خدا کے زندہ احساس کے ساتھ جینے لگتے ہیں اور مکمل شعوری عبادت کا لطف ملنے لگتا ہے۔
میڈیٹیشن آپکو بچہ بنا دے گی۔ ایک ایسا بچہ جو ہر چیز کو پورے ہوش و حواس اور عقل کی پختگی کے ساتھ گویا پہلی بار دیکھ رہا ہوتا ہے لیکن اس کے جذبات اور احساسات بچوں کی طرح معصوم ہوتے ہیں

دنیا میں اکثریت تجربات کے زیر اثر جذبات کے تابع زندگی گزارتی ہے یعنی جیسا موڈ ویسا رویہ لیکن میڈیٹیشن شخصیت کی سطح پر جینا سکھاتی ہے ایسی شخصیت جس کے جذبات ہر وقت اس کی مٹھی میں ہوتے ہیں۔ میڈیٹیٹر غصہ وہیں کرے گا جہاں غصے کی ضرورت ہو اور اس وقت فوراً غصہ تھوک دے گا جب غصے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ اک گلاب کے پھول کو دیکھ کر بیشتر لوگ بغیر کسی احساس کے گزر جائیں گے لیکن میڈیٹیٹر رک کر اس میں قدرت کی فنکاری کو دیر تک تکتا رہے گا۔ رنگوں اور فطرت کی رعنایوں سے پل پل مزہ اٹھائے گا۔ ۔ میڈیٹیشن دل کو unconditional love سے بھر دیتی ہے۔ اور unconditional love اللہ کی وہ صفت ہے جس کی بدولت ہم اس دنیا میں جی رہے ہیں اور قدرت کی نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اگر ہم اللہ کی اس محبت کے جواب میں خود اک بے غرض محبت شروع کر دیں تو سوچیے۔۔ دل سے سوچیے کہ جنت پھر آخر کتنی دور ہے؟۔۔ بس آنکھ بند ہونے کی دیر ہی تو ہے اور ۔۔ جنت کی بادشاہی شروع ہونے والی ہے۔ زندگی ابھی کہاں شروع ہوئی ہے زندگی تو شروع ہونے والی ہے۔ یہ زندگی تو اک سفر ہے جنت کی اس لازوال بادشاہی کی طرف۔ اور میڈیٹیشن کی صورت میں ایک بیدار شعور pure consciousnessکا کمال یہ ہے کہ یہ ہمارے اس سفر کو اتنا خوبصورت بنا دیتی ہے کہ انسان روز اس جنت کو محسوس کرنے لگتا ہے جہاں وہ جا رہا ہے۔ اگر کبھی سفر میں کچھ کھو بھی جائے تو دل ہی دل میں خود سے کہتا ہے۔۔۔ ” یار جب سب کچھ اپنی انتہائی خوبصورتی کے ساتھ پھر سے ملنے والا ہے تو ٹینشن کس بات کی؟؟” جب ہی تو کہتے ہیں کہ میڈیٹیشن کرنے والا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ہمیشہ بچہ ہی رہتا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *