ملحد کا حسین۔۔۔ انعام رانا

محرم شروع ہوتے ہی کچھ لوگ غم کرتے ہیں، کچھ ملمع تو کچھ طعن و تشنیع کو مذہبی عقیدت سے شروع کر دیتے ہیں۔ اک طعنہ اکثر شروع ہو جاتا ہے کہ سارا سال ملحد رہنے والے اب شیعہ ہو جائیں گے یا شیعہ ملحد بھی ہو جائے تو محرم میں شیعہ ہی نکلتا ہے۔ میرے کچھ دوست خصوصا ً بھائی مبشر علی زیدی اس تنقید کا نشانہ بنائے جاتے ہیں (گو مبشر قطعا ًملحد نہیں بلکہ متشکک ہیں جو ہر سوچنے والا انسان کبھی نا کبھی لازمی ہوتا ہے اور جو نہیں ہوتا انکے لیے ہی تو اللہ پاک فرماتے ہیں کہ میری آئتوں پہ گرتے نہ پڑو ،سوچو کیونکہ وہ اللہ جانتا ہے کہ تشکیک سے حاصل ہوا ایمان بہت خالص اور مستقل ہوتا ہے)۔ گو میں ملحد نہیں، شیعہ نہیں، مگر دوستوں کے برعکس سمجھتا ہوں کہ جناب حسین ع کا غم محسوس کرنے کے لیے فقط شیعہ یا مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے۔ آپ کسی بھی مذہب کے ہو کر، کسی بھی مذہب کے نہ  ہو کر بھی حسینی ہو سکتے ہیں۔

جناب حسین ع کو مذہب سے علیحدہ کر لیجیے۔ ذرا بھول جائیے کہ وہ سیدنا رسول کریم ص کے نواسے ہیں۔ انکا خروج انکی بغاوت جس حکومت کے خلاف تھی اسے بھی اسلام سے الگ کر دیجیے۔ کیا کہانی سادہ ہو جاتی ہے؟ ہر گز نہیں۔۔۔

اک بادشاہ ہے یزید، جو تخت پہ زبردستی قابض ہوا، یا ان اصول و قوانین کے خلاف تخت نشین ہوا جن پہ سماج کا اجتماع تھا۔ سماج نے طے کیا تھا کہ انتخاب ہو گا، نامزدگی نہیں ہو گی، الیکشن ہو گا سلیکشن نہیں ہو گی۔ مگر ایک والد نے اپنے اقتدار میں اپنے کپتر کو مسلط کر دیا۔ اس پہ سماج کی بنت میں خرابی آئی۔ آئندہ کےلیے ملوکیت کا دروازہ کھلتا ہوا نظر آیا، خاندانی اقتدار کی راہ ہموار ہوتی ہوئی دکھائی دی۔ لوگوں میں اس “غیر آئینی” حرکت پہ اضطراب تھا مگر جبر کے سامنے خاموشی تھی کہ عافیت کسے مطلوب نہ  تھی۔ ہاں پائے تخت سے دور بیٹھا ہوا ایک مرد خاموش نہ تھا اور صاحب اقتدار جانتا تھا کہ جب تک اس کو جھکایا نہ  گیا ،میرے اقتدار کو سند نہ  ملے گی۔ ایسے میں وہ ایک شخص ڈٹ جاتا ہے، اپنے انکار کے حق کی مانگ کرتا ہے، دباؤ بڑھتا ہے تو اپنے گھر سے علاقے سے اپنے زن و بچہ سمیت نکل جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے حق ِانکار کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔ حسین نام کے اس مرد جری کو جھکانے کےلیے مقتدر کی فوج میدان میں اتر آتی ہے۔ ہزاروں نا سہی سینکڑوں فوجیوں کا گروہ انکا گھیراؤکر لیتا ہے، سات دن نا سہی اک دن ہی کو تپتے ہوئے صحرا میں اس کے گروہ، اسکے ساتھیوں اور زن و بچہ پہ پانی بند کر دیا جاتا ہے اور مطالبہ فقط اک، کہ ایک غاصب کی حکومت کی اطاعت کرو۔

مجھے اس ساری داستان میں کوئی ایک موقع نہیں نظر آتا جب حسین نام کے اس مرد جری نے اقتدار مانگا ہو، بلکہ اس نے تو فقط انکار مانگا ہے۔ اور جب کوئی صورت نظر نہیں آتی تو وہ اپنے ساتھیوں اور گھر کے مردوں کی اک مختصر سی جماعت کے ساتھ اپنے انکار کے حق کے لیے، فریڈم آف ایکسپریشن کےلیے، فریڈم آف اپوزیشن کےلیے بغاوت کا علم بلند کرتا ہے اور جان اس نظرئیے پہ وار دیتا ہے۔۔ کہیے، کیا کہانی اب بھی سادہ ہی رہی؟

ملحد خدا کا منکر ہو سکتا ہے مگر وہ چند اصولوں کو پیار کرتا ہے۔ حقِ انکار کا اصول، آزادی کا اصول، حکومت ِ وقت کی اپوزیشن کا اصول، جبری اطاعت سے انکار کا اصول، فریڈم آف اسمبلی اور فریڈم آف سپیچ کا اصول۔۔اور حسین نام کا یہ مرد جری ان اصولوں کےلیے جدوجہد کی راہ پہ ایک ایسا بُت ہے جس کے سامنے عقیدت کے پھول رکھے بنا مزید سفر ممکن ہی نہیں۔ مسلمان کو تو بنا کسی اصول ہی جناب حسین ع پیارے ہیں کہ سیدنا نبی کریم ص کے دلارے ہیں، اہل بیت پہ ہونے والا ہر ستم غم دیتا ہے کہ اسکے نبی کریم ص کے اہل بیت ہیں۔ مگر ملحد کو تو حسین کسی مذہبی عقیدت کے بنا بھی عزیز ہیں کہ ان سی قربانی کی مثال کربلا سے قبل شاید ہی ہو اور بعد از کربلا ایسی بغاوت ،ایسی قربانی کی پریرنا ہمیشہ جناب حسین ع ہی رہے۔ اب آپ کو اگر دکھ ہو کہ تاریخ نے حسین ع ہی کو یہ مقام کیوں بخشا تو بھائی تاریخ تو ایسی ہی ہے، کوئی اک نام چنتی ہے اور مہربان ہو جاتی ہے، رتبہ بلند ہے جسے بھی عطا ہوا۔

دوست غلطی یہ کرتے ہیں کہ ملحد کو ہر اصول و قانون سے ہی فارغ سمجھ لیتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ جن اصولوں پہ جناب حسین ع نے قربانی دی وہ آفاقی ہیں اور جب تک وہ اصول برقرار ہیں، انکی طلب باقی ہے، کربلا زندہ ہے، حسین ع باقی ہیں، خواہ مسلمان کے ہوں ، متشکک کے یا ملحد کے۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *