پاکستان کیا کرے۔۔۔۔طاہر علی خان

مسلم ممالک نے پہلے پاکستان کے احتجاج اور بائیکاٹ کے باوجود انڈیا کو او آئی سی اجلاس میں بٹھایا اور اب کشمیر پر پاکستان کا ساتھ دینے کے بجائے وزیراعظم مودی کو انعام سے نوازا۔

سوال یہ ہے کہ موجودہ کشمیر بحران کے دوران وہ مسلم اُمہ کے بھائی پاکستان کی جگہ غیرمسلم بھارت کے ساتھ کھڑے کیوں دکھائی دیے؟

کوئی  مانے یا نہ مانے بین الاقوامی تعلقات مذہب، اخلاقیات اور اصولوں پر نہیں بلکہ تجارتی اور سیاسی مفادات کی بنیاد پہ استوار کیے جاتے ہیں۔ ہر ملک کو جس ملک اور قوم سے بھی مفاد ہو اس ملک سے راہ و رسم بڑھانا، تجارت کرنا اور اس کے جرائم سے اغماض برتنا بلکہ ہر فورم پر اس کا ساتھ دینا اس کے حکمران اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

دنیا میں اس قوم و ملک کی قدر ہوتی ہے اور سب اس کے ساتھ تعلق رکھنا اور مضبوط کرنا چاہتے ہیں جو سیاسی، مالی، علمی، ٹیکنالوجی اور کچھ حد تک اخلاقی سطح پر برتر اور ترقی یافتہ ہو، جس سے قوموں کے مفاد پورے ہوتے ہوں اور جس سے تعلق نہ رکھنا نقصان دہ ہو۔

اگر مسلم ممالک نے پاکستان کے بجائے بھارت کا ساتھ دیا تو پاکستان اور مذہبی جماعتیں بھی چینی مسلمانوں پر چین کی ”دہری“ حکومت کے مبینہ مظالم پر خاموش رہے ہیں اور اس کی مذمت نہیں کرسکے کیوں کہ چین پر تنقید سے اُس سے تعلق اور مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پھر پاکستان کی مذہبی جماعتیں، جو فلسطین و کشمیر میں یہود و ہنود کے مظالم پر ہر وقت سخت تنقید کرتی رہتی ہیں، یمن میں سعودی عرب اور یو اے ای کی بمباری پر بھی خاموش رہی ہیں ۔

اگر اپنے ہم مذہب کی حمایت لازمی ہوتی تو پھر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ایک مسلم ملک بوسنیا کی حفاظت کے لیے عیسائی  ملک سربیا پر بمباری کیوں کرتے یا عرب ممالک مسلم عراق پر بمباری میں مغربی ممالک کا ساتھ کیوں دیتے؟۔۔

اخلاقیات اور اصول بھی تب بروئے کار آتے ہیں جب مفاد اس کے متقاضی ہوں۔

سب جانتے ہیں انسانی حقوق اور جمہوریت کے علم بردار مغربی ممالک فلسطین میں اسرائیل کے ظلم اور عرب ریاستوں میں غیر جمہوری نظام اور اقدامات کو نظرانداز کرتے ہیں۔

ہر ملک اپنی خارجہ پالیسی اپنے سیاسی و تجارتی مفادات کے تحت بناتا ہے۔ عرب ممالک نے بھارت کا ساتھ دیا کیوں کہ وہ ایک بڑا ملک اور تجارتی منڈی ہے، اس سے ان کو سستی لیبر  اور ماہرین مہیا ہوسکتے ہیں اور یہ دوسرے ملکوں سے امداد اور قرضوں کے بجائے تجارت چاہتا ہے۔

ہندوستان سعودی عرب کا چوتھا بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور ان کی  باہمی تجارت کا حجم تقریباً 28 ارب ڈالر ہے۔ اس کے برعکس پاکستان اور سعودی عرب کی  باہمی تجارت کا حجم اس دوران محض 3 سے 4 ارب ڈالر ہے۔

سوال یہ ہے عرب ممالک کے اس طرزعمل کے بعد پاکستان کو کیا کرنا چاہیے۔

پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے مسئلے پر عربوں کا ساتھ دیا اور اسرائیل کے ساتھ اب تک سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے اور ایسا کرکے اسرائیل کو خواہ مخواہ انڈیا کا اتحادی بن جانے کی طرف دھکیلا ہے۔

جب ساری دنیا کے ممالک اپنے مفادات کی بنیاد پر دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں تو کیا ہمیں اسرائیل کے ساتھ اپنی پالیسی کا ازسرنو جائزہ نہیں لینا چاہیے؟

اب ہمیں امداد اور قرضوں کے بجائے تجارت، سرمایہ کاری، باہمی مفاد اور قومی غیرت پر مشتمل خارجہ تعلقات کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔

پاکستان کو اپنے درآمدی اور برآمدی تجارت کے نقصانات، فوائد اور امکانات کا فوری اور مکمل جائزہ لے کر ہر ملک کے ساتھ تعلق و تجارت کے لیے لائحہ  عمل بنالینا چاہیے اور اندرونی استحکام، امن وامان، سرمایہ کار دوست ماحول اور پالیسیوں کو اب ترجیح اولین بنالینا چاہیے۔

یاد رکھیں کہ بہت زیادہ فریاد کرنے والے، ہر وقت امداد و خیرات کے منتظر، متلاشی الجیوب اور ہمیشہ قرضے مانگنے والے بندے کی معاشرے میں قدر ہوتی ہے نہ ایسے ملک کی دنیا میں۔

ہمیں چاہیے کہ خود کو عالم اسلام کا ٹھیکیدار سمجھنا چھوڑ دیں اور اپنے بیرونی تعلقات میں خیالی اُمت کو نہیں بلکہ ملکی مفاد کو مقدم رکھیں۔

طاہرعلی خان
طاہرعلی خان
طاہرعلی خان ایک ماہرتعلیم اورکالم نگار ہیں جو رواداری، احترام انسانیت، اعتدال اورامن کو عزیز رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *