وجہء دوستی ہے تو۔۔۔محمد اقبال دیوان

مکالمہ کی تیسری سالگرہ پر محمداقبال دیوان کا مختصر سا تاثراتی مضمون
اب دو سال سے بھی اوپر ہونے کو آئے۔مکالمہ ہمیں اور ہم مکالمہ کے چاہنے والوں کو مسلسل ایک دوسرے کے قریب لے کر جارہے ہیں۔۔دنیائے اردو کا کیا گلہ۔زیور طباعت سونے سے مہنگا اور قارئین اہل اقتدار میں قابلیت اور ایمانداری کی طرح نایاب ہوچلے ہیں۔عالم یہ ہے کاغذ،چھپائی ترسیل اور فروخت،سبھی دسترس سے باہر ہوئے جاتے ہیں۔اردو بازار کراچی کے پانچ کتب فروش بتانے لگے کہ پورے دن میں مل جل کر اتنا نہیں کماتے جتنا سامنے روڈ پر دل پسند مٹھائی والا شام چار سے رات دس بجے تک سموسوں اور قلفی کی سیل سے کمالیتا ہے۔پندرہ برسوں میں کراچی میں کتابوں کی کوئی نئی دکان نہیں کھلی۔

جنرل باجوہ،اور ان کا توسیع نامہ
جنرل رانا جی لندن والے
رانا جی کی تلوار
منوہر لال کھتر۔سی ایم ہریانہ
منوہر لال کھتر۔سی ایم ہریانہ اور ان کی بکواس
ڈانڈیے
ڈانڈیا راس
ایرینا۔خاکہ مصنف

نجیلا لاسن

ایسے میں دین محمد کا یہ سپاہی، گھمسان کے رن میں اپنے ویب میگزین مکالمہ کے ذریعے اپنی صفوں میں ان مجاہدین قلم کو اپنا زور بازو دکھانے کا موقع  دے رہا  ہے جن میں کچھ نام چیں ہیں تو کچھ ہم سے فقیران راہگزر جن کے دامن میں نہ رفعت مقام ہے نہ شہرت دوام ہے۔یہ کام کم نہیں۔انعام رانا صاحب ایک فل ٹائم گوری بیگم او ر وکلا گردی کے جھگڑالوپیشے میں الجھ کر بھی علم کے یہ دیپ انٹرنیٹ کے ذریعے جگارہے ہیں تو یہ قابل تحسین عمل ہے جس کے لیے وہ اور ان کے رفقائے شوق داد و کرم کے حق دار ہیں۔مکالمہ جھٹ پٹ مضمون شائع کرکے آناً ‘فاناً   اہل مطالعہ تک دنیا بھر کے طول و عرض  میں پہنچا دیتا ہے۔

مکالمہ میں لکھنے والوں کو کثیر معاوضہ ملتا ہے۔مدیراعلی کی بے پایاں محبت کا۔جب سے جنرل باجوہ کو ملازمت میں توسیع کا پروانہ ملا ہے۔مودی بھی کچھ وائڑہ ہوگیا ہے[وائڑہ۔ممبئی کے ٹپوڑیوں اور گجراتی میمن شرفا کے ہاں ہتھے سے اکھڑ جانے کو کہتے ہیں ] انعام صاحب منتظر ہیں کہ جنرل باجوہ کی ابروئے بے خوف کی جانب سے پروانہ راہداری ملے تو کشمیر کی کنواریوں کو ہریانہ کے چربٹ چیف منسٹر کھتر [سندھی زبان میں چوتیم سلفیٹ جو ودیا بالن نے نے عشقیہ میں دل تو بچہ ہے کے  آخر میں ارشد وارثی کو کہا ہے]سبق سکھانے کشمیر پہنچ جائیں۔

رانا جی نے کسی آزمودہ کار مرے ہوئے گورے کا فوجی کوٹ پہن کر تصاویر بھی نیٹ پر وائرل کردی ہیں۔جان لیں کہ رانا جی راجپوت ہیں۔ایک دفعہ جینز پر فوجی کوٹ پہن لیں، جنرل باجوہ کا توسیع نامہ پڑھ لیں،منوہر لال کھتر کی بکواس سن لیں تو جو تلوار انہوں نے اپنی گوری بیگم سے نکاح کے وقت نکالی تھی وہ اب بھی کفار کا گلہ کاٹنے کو بے تاب ہے۔راجپوت کی تلوار ایک دفعہ آگ پکڑلے تو صرف انسانی خون کی ٹھنڈک سے بجھتی ہے اس بات کو پدماوتی جیسی راجپوتانیاں خوب جانتی تھیں۔مغلوں کے ایس ایس جی کمانڈوز راجپوت جب جنگ جیت کر گھر لوٹتے تھے تو تلوار لہرارہی ہوتی تھی۔جس طرح جہاز کے لینڈ کرنے پر انجن ایک ایک کرکے آہستہ آہستہ بند کرتے ہیں ویسے ہی منتظر راجپوتانیاں ان کے انجن بند کرنے اور انہیں سلگتے بستر کےPassenger boarding bridge (PBB) جسے ہمارے جیسے سیلانیAerobridge, اورJetbridge بھی کہتے ہیں وہاں لے جانے کے لیے  گھر واپسی کا احساس دلانے کے لیے راجپوت کمانڈوز کے ساتھ ننگی تلواروں کے ساتھ ناچتی تھیں۔ان میں سے کچھ راجپوتانیاں جب ہم ازلی بزدل میمن شہزادوں سےدھندے کے چکر میں پھنس گئیں تو میمن گجراتیوں نے کہا ہرے راما(ہائے رے رام)تلوار کا  مذاق برا۔ایک دم اسٹاک مارکیٹ کریش کرے گی۔چلو تلوار کی جگہ ڈانڈیے(چھوٹے ڈنڈے) لے کر تم لوگ کا شوق پورا کرتے ہیں۔ابھی کیا ہے کہ تم لوگ کی تلوار بہت Metallic ہوتی ہے اپن لوگ ڈانڈیوں کے نیچے چاندی کے چھوٹے گھونگروں باندھ لیتے ہیں تم بھی چھن من کرتی پائل پہن لو۔سو ہم گجراتی ان راجپوتوں کو کہاں سے اٹھا کر موسیقی کی جانب لے آئے۔

وکالت جیسے پیشے سے جڑا ہونے کے باوجود پاکستان میں ایک چھوٹی سی ٹیم کی مدد سے مکالمہ نکالنا آسان نہیں ان کی جولیا اینڈ رانا اچھی فرم ہے۔ہماری ہیومن رائٹس کی وکیل دوست لبنان سے تعلق رکھنے والی ایرینا کہتی تھی کہ کارڈف سے لندن شفٹ ہوئی تو ان کی فرم میں کام کروں گی۔ہم نے پوچھا کہ ہمارا کیا بنے گا۔ کہنے لگی برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریسا مے یورپئین یونین چھوڑنے والی ہے تمہاری پسند کا لباس ساڑھی بھی پہن لیتی ہے۔کنواری ہے۔ میں اور انعام ڈورے ڈال کر تمہاری اس سے شادی کرادیں گے۔تم بھی یہاں لندن میں ہی رہنا۔کراچی میں مکھیاں اور کچرا بہت ہے۔
ہم نے کہا شادی کا وعدہ تو ظالم تو نے خود نے کیا تھا اور شادی اس ٹریسا ظالم سے کراتی ہے۔ اس نے کہا میں تو گھر کی مرغی ہوں جب چاہے کاٹ لو مگر جان من تم ٹریسا مے کو ہلکا مت لو۔اسے مزار مت کہو یہ محل ہے پیار کا۔۔

بات مکالمہ کی ہورہی تھی اور ہم کو ان کے ایڈیٹر ان چیف نے کمانڈر ان چیف کی طرح اور طرف ہانک دیا۔
مکالمہ کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ زاویے باز نہیں۔اس کا بیانیہ Angular نہیں۔اس کے مضامین کی شدت اور ہماری نرم گفتاری کی برف ڈال کر اوسط نکالیں تو اس کا تاثر ایکModerate ذہنی افکار کی محفل کا بنتا ہے۔رانا صاحب جس ملک میں رہتے ہیں وہاں ایک بہت دھماکہ کُک نیجلا لاس ہوتی تھیں۔لارڈ لاسن کی صاحب زادی۔ان کا کہنا تھا کہ میانہ روی میں بھی میانہ روی رکھو(Moderation, even in moderation) اس توازن کا نتیجہ ہے کہ مکالمہ پر آپ کو ہر طرح کا لکھاری دکھائی دیتاہے۔

ہمارے اور انعام صاحب کے ایک مشترکہ کرم فرما اس کی ویب سائٹ کو دنیا اخبار جیسی دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں مگر وہاں مال بہت ہے اور یہاں متاع جاں کے علاوہ کچھ اور نہیں۔ اس مال و متاع کے باوجود پاکستان کے میڈیا چینل اپنے کارندوں کو وقت پر اجرت نہیں دیتے۔مکالمہ اللہ کا کام ہے اللہ کے لیے اردو کی خدمت ہے پڑھنے والوں کے لیے۔
اللہ مکالمہ اور اس کے لکھنے اور چاہنے والوں کا بول بالا کرے۔۔۔۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”وجہء دوستی ہے تو۔۔۔محمد اقبال دیوان

  1. ہمیشہ کی طرح، مضمون کا مضمون، تفریح، مزاح، موقع محل سے نکھرتے ہوئے حالاتِ حاضرہ پر چوٹیں، جیسے کوئی کرتب دکھاتی ہوئی دوشیزہ، کہ نگاہیں جمی رہ جائیں، کرتب ختم بھی ہو جائے مگر نظر نہ ہٹنے کو تیار ۔۔۔ مکالمہ اور ٹیم، لکھنے والوں، خصوصاً اقبال دیوان صاحب، کہ انہوں نے ہی مکالمہ کا تعارف کروایا، سب کو مبارکباد؛

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *