مکالمہ کو تیسری سالگرہ مبارک ہو۔۔۔علینا ظفر

مکالمہ میں لکھتے ہوئے مجھے تقریباً ایک سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ مکالمہ سے جڑے میرے اس قلمی سفر میں مختصر سا وقفہ بھی آیا اور تھوڑی مصروفیات کی بنا پر میں کچھ بھی لکھ نہیں پائی۔ سوشل میڈیا پہ موجود ویب سائٹ مکالمہ سے منسلک ساتھی لکھاریوں کی بدولت علم ہوا کہ اس ویب سائٹ کو آج تین سال مکمل ہو چکے ہیں۔ بلاشبہ یہ ویب سائٹ بہت سے لکھنے والوں کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔میں اس حوالے سے مکالمہ کی پوری ٹیم کو مبارکباد کے ساتھ خراجِ تحسین بھی پیش کرتی ہوں جو احسن طریقے سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے کامیابی سے اسے چلا رہی ہے۔ یقیناً آپ سب کی خدمات قابلِ فخر ہیں کہ آپ تمام لوگ آج پوری دنیا میں اردو زبان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

رفتہ رفتہ جب پرنٹ میڈیا الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہونے لگا یعنی لکھاریوں کا رجحان برقی تحریروں کی طرف مائل ہوکر سوشل میڈیا پر عام ہونے لگا تو بہت سے لوگ باتوں کی حد تک ہی مجھے بھی اس انداز کو اپنانے کا مشورہ دینے لگے۔ شروع میں چند مختلف اخبارات میں میری تحریریں اشاعت ہونے کے بعد سوشل میڈیا کے اپنے ذاتی اکاؤنٹس کی حد تک ہی مجھے پڑھا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ کوئی انتہائی انسانیت سوز واقعہ رونما ہوا جس پر میں نے سوشل میڈیا کے اپنے ایک اکاؤنٹ پر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے قلم اٹھایا تو ادب سے سرے سے ہی ناواقف گمنام سی کوئی شخصیت نمودار ہوتے ہوئےمجھ سے کہنے لگیں کہ تم اگر ایسی ہی بڑی لکھاری ہو نا تو جاؤ جا کر کسی قومی اخبار یا چینل کو جوائن کر لو یہاں خواہ مخواہ تم نے شور مچا رکھا ہے۔تب میں ان کے اس رویے کو لے کر وقتی طور پہ سہی مگر بے حد افسردہ ہو گئی تھی۔ والدین سے اس بات کا ذکر کیا جنہوں نے ہمیشہ کی طرح تب بھی مجھے زیرِ شفقت لیے رکھا اور مجھے ہر حال میں لکھنا نہ چھوڑنے کی تلقین کرتے رہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹس کے لیے تحریریں لکھ کر بھیجنے کا طریقہء کار کیا ہے محض ادھر ادھر کی باتوں کے سوا یہ بات حقیقت میں کبھی کسی نے نہیں بتائی۔ اس سارے دور میں ادب کی دنیا کا جگمگاتا نام رابعہ الربا کی محبت ہے جنہوں نے میرے کچھ بھی کہے یا بتائے بغیر ہی میرے لیے سب کچھ عملاً کیا۔ مجھے ویب سائٹ پہ تحریر لکھ کر بھیجنے کے بارے سب کچھ تفصیلاً بتایا اور سمجھایا۔ مکالمہ سے میری واقفیت پیاری بہن رابعہ الربا کی وجہ سے ہی ہوئی۔

مکالمہ میں اپنی پہلی تحریر کی اشاعت سے متعلق ایک خوبصورت سی یاد ذہن کے پردے پر اس وقت کسی فلم کی مانند چل رہی ہے۔ میرے والد صاحب نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ تم نے اپنا ای میل اکاؤنٹ چیک کیا ہے؟ میں نے کہا ، نہیں تو، کیا کوئی خاص بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ رائٹر رابعہ الربا کی ای میل آئی ہو گی لازمی چیک کر لینا۔ وہ اکثر اپنی تحریریں مجھے بھیجتی رہتی تھیں جنہیں میں بڑی دلچسپی سے پڑھتی، میں سمجھی اس بار بھی انہوں نے اپنی کوئی زبردست سی تحریر مجھے بھیجی ہو گی ۔ میں نے جوں ہی رابعہ الربا کی طرف سے موصول ہونے والی ای میل کھولی اور پہلی مرتبہ اپنی تحریر کو بمعہ نام مکالمہ میں پڑھا تو میں حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیات سے دو چار ہوگئی۔اسی واقعے کے روزباقاعدہ طور پہ بہن رابعہ الربا سے فون پر پہلا تعارف ہوا۔ رابعہ باجی نے میری قلمی صلاحیت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ انہوں نے میری اس تحریر کو ایک جگہ پڑھا تو محسوس ہوا کہ اسےضرورمزید لوگوں تک بھی پہنچنا چاہیے۔جس کے بعد انہوں نے مجھ سے کوئی تذکرہ کیے بنا ہی وہ تحریر مکالمہ میں پبلش ہونے بھیج دی جو کہ میرے لیے بہت اچھا سرپرائز تھا اور یہ سرپرائز میرے لیے زندگی کے انتہائی خوشگوار ترین سرپرائزز میں سےایک ہے۔ مجھے وہ پہلی ملاقات اب تک بہت اچھی طرح یاد ہے جب رابعہ الربا نے مکالمہ میں میری پہلی تحریر پبلش ہو جانے پر مجھے مبارکباد دیتے ہوئے مجھ سے کہا تھا کہ جب تم لکھنے لگو گی تو لوگ تمہیں جاننے لگیں گے جس سے تم اچھا فیل کرو گی، تمہارا کانفیڈنس لیول بڑھ جائے گا تو تم مزید اچھا لکھنے لگو گی یہاں تک کہ اپنا بہت بڑا نام بنا لو گی۔ اپنی قلمی پرواز میں جب بھی میں خود کو کبھی نیچے گرتا ہوا محسوس کرنے لگتی ہوں تو دھیمے سروں اور میٹھی آواز میں یہ بات کہتی رابعہ الربا کا مجھے خوداعتمادی بخشتا وہ لہجہ یاد آ جاتا ہے۔

اس کے بعد پہلی بار مکالمہ کے لیے مجھے خود سے تحریر بھیجتے ہوئے بالکل بھی خیال نہیں آیا کہ وہ پبلش بھی ہوجائے گی ۔ بہن رابعہ الرباء کے بعد مکالمہ کی ایڈیٹر اسماء مغل صاحبہ کا شکریہ جو میری تحریروں کو قابلِ اشاعت جان کر مکالمہ میں ان کو جگہ دے دیتی ہیں۔ اسماء صاحبہ آپ جیسے ہی مجھے میری تحریر پبلش ہونے کے بعد اس کا لنک بھیجتی ہیں تو اسے دیکھتے ساتھ ہی مجھ پر ذمہ داری کا احساس اور بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے کہ اگلی تحریر کو ہر صورت مزید بہتربنا کر لکھنا ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے میری قلمی آواز کو دنیا تک پہنچانے میں ویب سائٹ مکالمہ کا اہم کردار ہے۔مکالمہ کی ساری ٹیم کے لیے میری بہت سی نیک خواہشات ہیں۔ اس کے علاوہ میرے پیارے قارئین کا بھی شکریہ جو میری تحریریں پڑھتے ہیں، رائے دیتے ہیں اور شیئر بھی کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ اب تو اکثر بہت سے لوگوں کی محبتوں کا یہ عالم ہوتا ہے اگر لکھنے میں کوئی وقفہ آ جائے تو سب مجھ سے میسیجز پر خیریت اور نہ لکھنے کی وجہ پوچھنے لگتے ہیں۔ آپ سب کی محبتوں کا شکریہ ، مجھے اپنی دعاؤں میں ایسے ہی شامل رکھیں۔ابھی ابھی چند دوستوں نے مجھ سے ایک سوال کیا ہے کہ لوگوں میں اپنی تحریروں کی اتنی زیادہ پسندیدگی کا یہ احساس پا کر تمہیں کیسا لگتا ہے؟ اس بات پر میں اللہ تعالی کو حاضر و ناظر جان کر انتہائی دیانت داری سے کہتی ہوں کہ ابھی میں خود کو اس اہل سمجھتی ہی نہیں ہوں کہ مجھ سے اتنی بلندیوں تک پہنچ جانے والا یہ یا ایسا کوئی سوال کیا جا سکے کیونکہ مجھے ابھی لکھنا ہے، مزید لکھنا ہے، بہترین لکھنا ہے اور تب تک لکھتے ہی رہنا ہے جب تک اللہ کا حکم ہے اور میری سانس باقی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *